1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جمع عثمانی﷜ اور مستشرقین

'علم القراءات' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏اپریل 02، 2012۔

  1. ‏اپریل 02، 2012 #71
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    مصحف عثمان﷜ کے بارے میں ایک ابہام یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابو بکر﷜ نے سبعہ احرف کے اختلاف کی جو تشریح فرمائی ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سات حروف مصاحف عثمان﷜میں شامل نہیں ہوسکے۔ حضرت ابو بکرۃ﷜ کی روایت کے الفاظ یہ ہیں:
    إنَّ جبریل قال: ’’یَا مُحَمَّدُ! اِقْرَأ الْقُرْاٰنَ عَلـٰی حَرْفٍ‘‘۔ قال میکائیل: استزدہ۔ حتّٰی بلغ سبعۃ أحرف۔ قال: ’’کُلٌّ شَافٍ کَافٍ، مَا لَمْ تَخْلِطْ آیَۃَ عَذَابٍ بِرَحْمَۃٍ أَوْ رَحْمَۃً بِعَذَابٍ‘‘۔ نحو قولک تعالی: أقبل وھلُمَّ واذھب وأسرع وعجل۔
    ’’حضرت جبریل ، نبی کریمﷺ کو پاس آئے اور کہا پڑھئے ایک حرف پر ۔ میکائیل﷤ نے کہا ان کے لیے اضافہ کیجئے تو کہا پڑھئے دو حرفوں پر۔ میکائیل﷤ نے پھر کہا ان کے لیے اضافہ کریں توا ضافہ کردیا گیا۔ یہاں تک کہ سات حروف کے اضافے تک پہنچ گئے اور کہا کہ ان پر پڑھئے ہر ایک حرف ان کے لیے کافی و شافی ہے بجز اس کے کہ کوئی آیت رحمت میں مخلوط ہو جائے ۔ مثلاً تعال ھلمَّ اور أقبل (کہ یہ الفاظ متعدد ہیں لیکن معنی سب کا ایک ہے ) اور مثلاً اذھب اسرع اور عجل (کہ ان کا معنی بھی ایک ہی ہے)‘‘
     
  2. ‏اپریل 02، 2012 #72
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    امام طحاوی﷫ نے ابو بکرۃ﷜ کی روایت کے بعد مزید تفصیل بیان کی ہے
    ورقا بن ابی نجیع ابن عباس﷜ سے بیان کرتے ہیں کہ اُبی ابن کعب﷜ آیت ’’ لِلَّذِیْنَ ئَامَنُوا انْظُرُوْنَا ‘‘(الحدید: ۱۳) کو ’امھلونا‘ کو ’أخّرونا‘ جیسے لفظوں سے پرھنے کی اجازت دے دیا کرتے تھے اور ان تینوں کے معانی ’مہلت دو‘ ہیں ۔ امام طحاوی فرماتے ہیں کہ ان مختلف لغات پر پڑھنے کی اجازت محض ابتدائی دور میں تھی کیونکہ بعض لوگوں کے لئے لغت قریش کا تلفظ ممکن نہ تھا۔ مثلاً ہذیل والوں کے لیے یمن کی لغت دشوار تھی۔ مگر الفاظ کی یہ وسعت صرف اسی حد تک تھی کہ متحدو یکساں ہی رہیں۔ یہ ایک رخصت تھی جس کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہا تاآنکہ لوگوں کے باہمی میل جول اور روابط کے بڑھنے سے ایک قبیلہ دوسرے قبیلے کی لغات پر قادر ہوگیا حتی کہ تمام لغات کا مرجع و مدار نبی کریمﷺ کی لغت بن گئی تو باقی منسوخ کر دیا گیا کیونکہ اب اس کی ضرورت باقی نہ رہی تھی ابتداء میں جن عاجز افراد کو عذر و مجبوری کی بناء پر دوسری لغت میں پڑھنے کی اجازت دی گئی تھی وہ بھی ختم کر دی گئی۔
    قرآن مجید کے حقیقی متن کا ایک لفظ بھی ایسا نہیں ہے جسے حضورﷺیا آپﷺکے بعد قرآن مجید سے خارج کیا گیا ہو۔ جو چیز چھوڑ دی گئی تھی وہ قرآن مجید کا متن نہ تھی۔
    مصحف عثمان غنی﷜ پر ایک اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ کے سامنے جب ان کا لکھوایا ہوا مصحف پیش کیا گیا تو آپ﷜ نے فرمایا کہ’’إن في القرآن لحناً سنقیمہ العرب بألسنتھم۔‘‘
     
  3. ‏اپریل 02، 2012 #73
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    اس اعتراض اور حضرت عثمان غنی﷜ کے ان الفاظ کے بارے میں علامہ آلوسی فرماتے ہیں:
    لم یصح عن عثمان أصلاً یعنی یہ روایت حضرت عثمان غنی﷜ سے بالکل بھی ثابت نہیں ہے۔
    اس سلسلے میں دوسرا جواب یہ ہے کہ
    مصحف عثمان﷜ پر صحابہ کرام﷢ کا اجماع تھا ۔ رسم عثمانی﷜ وحی سے بھی ثابت ہے۔ غلطی پر اجماع (حدیث نبویﷺ کی رو سے) ہو ہی نہیں سکتا۔
    اس روایت کے آغاز میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜نے جمع قرآن کمیٹی کے ارکان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’أحسنتم وأجملتم‘ (تم نے اچھا اور عمدہ کام کیا) ۔ اس مجموعہ میں اگرغلطی ہوتی تو آپ غلطی کی تحسین کس طرح کرسکتے تھے۔
    ابو عبیدہ نے عبدالرحمن بن ہانی سے نقل کیا ہے کہ میں حضرت عثمان غنی﷜ کے پاس تھا کہ کاتبان مصاحف پیش کرتے تھے تو اس میں ’لم یتسنَّ‘ لاتبدیل للخلق اور وأمھل الکافرین لکھا ہوا تھا آپ نے قلم دوات منگوا کر تینوں جگہوں کی غلطی کی اصلاح کر دی۔ اس روایت سے لحن والی روایت کی نفی ہوجاتی ہے کہ آپ نے نہایت احتیاط سے کام لیا اور کتابت کی معمولی غلطی کو بھی رہنے نہیں دیا۔
     
  4. ‏اپریل 02، 2012 #74
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    اس اعتراض کا ایک جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہاں ’لحن‘ سے مراد غلطی نہیں بلکہ قرآن کے وہ صحیح الفاظ مراد ہیں جو عرب کی زبان پر چڑھے ہوئے نہ تھے اور ان کی طرزِ گفتار کے مطابق نہ تھے۔ ایسے الفاظ کے بارے میں فرمایا کہ قرآن مجید میں ایسے انداز کے الفاظ ہیں جن کو عرب بار بار پڑھنے سے قابو پالیں گے۔ اور ان کی زبان رفتہ رفتہ اس طرز کے عادی بن جائیں گے۔ اس میں شک نہیں کہ لفظ لحن دومعنوں میں مشترک ہے۔ ایک معنی غلطی ہے اور دوسرا معنی طرز کلام ہے۔ درحقیقت اس روایت میں دوسرا معنی مراد ہے یہی معنی امام راغب نے مفردات القرآن میں بیان کیا ہے کہ اسے ’لحن محمود‘ کہا جاتا ہے۔
    اس کے متعلق شاعر کہتا ہے کہ ’خَیرُ الحَدِیثِ مَاکَانَ لَحناً‘ (اچھی بات وہ ہے جو خاص طرز سے کہی جائے) یہی معنی خود قرآن مجید کی آیت مبارکہ ’’ وَلَتَعْرِفَنَّھُمْ فِی لَحْنِِ الْقَوْلِِ ‘‘ (محمد: ۳۰) میں استعمال کیا گیا ہے۔
     
  5. ‏اپریل 02، 2012 #75
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    بخاری شریف میں موجود حضورﷺکا ایک بیان مبارک بھی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا۔’’لعل بعضکم ألحن بحجتہ‘‘جس کا مطلب یہ ہے کہ فریقین مقدمہ میں سے کبھی ایک فصیح طرزِ کلام کا ماہر ہوتا ہے۔ میں اس کی بات سن کر فیصلہ کرتا ہوں ۔ لہٰذا اگر وہ حقیقت میں اس شخص کا حق نہ ہو تو یہ ڈگری اس کے حق میں آگ کا ایک ٹکڑا ہے۔ اس وضاحت سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ لحن کا معنی غلطی نہیں بلکہ ایک خاص طرز تلفظ ہے۔
    ایک وضاحت یہ بھی یہ کہ گئی ہے کہ لحن سے رسم الخط کا لحن مراد ہو کہ رسم مصحف عثمانیt میں بعض جگہ ملفوظ اور مکتوب الفاظ موافق نہیں لیکن عرب اہل لسان اپنی زبان سے اس کو درست پڑھ لیں گے۔ جیسے کہ انگریزی زبان میں مکتوب اور ملفوظ الفاظ میں فرق ہوتا ہے لیکن اہلِ زبان انہیں پڑھتے درست ہی ہیں۔
    محمود آلوسی اپنی تفسیر روح المعانی میں اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں۔
     
  6. ‏اپریل 02، 2012 #76
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    اس روایت کی سند منقطع اور مضطرب ہے اور اس کے راوی ضعیف ہیں۔
    حضرت عثمان غنی﷜ کے مصحف پر اعتراضات کے جواب کے سلسلے میں آخر میں ہم ولیم میور کا ایک اقتباس نقل کرتے ہیں جس میں وہ لکھتا ہے کہ ’قرآن کی ترتیب خود اس کی شاہد ہے کہ جامعین نے اس میں پوری دقت نظر کا لحاظ رکھا‘ اس کی مختلف سورتیں اس سادگی سے ایک دوسری کے ساتھ مربوط کر دی گئیں جن کی ترتیب دیکھ کر کسی تضیفاتی تکلف کا شائبہ تک نہیں رہتا۔ جو اس امر کا بین ثبوت ہے کہ جامعین قرآن میں تصنیف کی شوخی سے زیادہ ایمان وا خلاص کا جذبہ کار فرما تھا او اسی ایمان کے ولولہ میں وہ صرف سورتوں بلکہ آیات کی ترتیب میں بھی تصنع سے اپنا دامن بچاتے ہوئے نکل گئے۔
     
  7. ‏اپریل 02، 2012 #77
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ولیم میور آخر میں نتائج اخذ کرتے ہوئے لکھتا ہے:
    ہم پورے شرح صدر کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ عہد عثمان﷜ میں حضرت زید بن ثابت﷜ نے قرآن کی جس صورت میں نظر ثانی کی وہ نہ صرف حرفاً حرفاً صحیح ہے بلکہ اس کے جمع کرنے کے موقع پر جو اتفاقات یک جا ہوتے گئے ان کی رو سے بھی یہ نسخہ اس قدر صحیح ہے کہ نہ تو اس میں کوئی آیت وحی میں سے اوجھل ہوسکی۔ اور نہ جا نبین نے از خود کسی آیت کو قلم انداز کیا۔
    پس! یہی قرآن ہے جسے حضرت محمدﷺ نے پوری دیانت و امانت کے ساتھ دوسروں کو سنایا۔
     
  8. ‏اپریل 02، 2012 #78
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    کیاابن مسعود رضی اللہ عنہما ، حضرت عثمان﷜ کے مصحف سے متفق نہ تھے؟
    اس سلسلے میں ترمذی شریف کی ایک روایت ہے جس میں امام زہری﷫ سے منقول ہے کہ حضرت عبداﷲ ابن مسعود﷜ کو شکایت تھی کہ کتابت قرآن کا کام ان کے سپرد کیوں نہیں کیا گیا جبکہ انہوں نے حضرت زید بن ثابت﷜ کے مقابلے میں زیادہ طویل عرصے تک حضورﷺ کی صحبت سے فیض حاصل کیا تھا۔ اس سلسلے میں حافظ ابن حجر عسقلانی﷫ نے فتح الباری میں اس نقطہ نگاہ کا ردّ کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان غنی﷜ کا موقف یہ تھا کہ انہوں نے یہ کام مدینہ طیبہ میں شروع کیا تھا اور ابن مسعود﷜ اس وقت کوفہ میں تھے اور حضرت عثمانی غنی﷜ ان کے انتظار میں اس کام کو مؤخر نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اس کے علاوہ حضرت ابو بکر صدیق﷜ نے بھی حضرت زید بن ثابت﷜ ہی کو یہ کام سونپا تھا۔ لہٰذا انہوں نے یہی مناسب سمجھا کہ یہ مرحلہ بھی انہی کے ہاتھ سے تکمیل کو پہنچے۔
     
  9. ‏اپریل 02، 2012 #79
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    حافظ ابن حجر﷫ کی اس توجیہہ کی علاوہ اس نقطہ نگاہ کا ردّ یوں بھی کیا جاسکتا ہے کہ حضرت عثمان غنی﷜ کو اس وقت جو مسئلہ در پیش تھا اس میں صحابہ﷢ کے علمی مقام و مرتبے کو عمل دخل کم تھا بلکہ اس کے مقابلے میں اس مسئلے کا تعلق تجربے سے تھا۔ حضورﷺ نے جن صحابہ﷢ کے نام علمائے قرآن اور قراء قرآن کے بارے میں ارشاد فرمائے ہوئے تھے۔ ان میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہما بھی تھے لیکن عہد عثمانی﷜ کا مسئلہ کچھ اس سے مختلف تھا۔ کیا حضرت زید بن ثابت﷜ کے لیے یہ اعزاز کچھ کم تھا کہ حضرت ابن مسعود﷜ سے فوقیت رکھنے والے حضرات ، حضرت ابوبکر صدیق﷜ اور حضرت عمر فاروق﷜ نے حضرت عثمان غنی﷜سے پہلے ’جمع القران‘ کے کام پر زید بن ثابت﷜ ہی کو مامور فرمایا تھا۔ جب حضرت زید بن ثابت﷜ کو حضرت عثمان غنی﷜ نے مصحف کی تیاری پر مامور فرمایا اس وقت تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما مدینہ طیبہ کے اندر موجود نہ تھے اور ان کی عدم موجودگی کی وجہ سے اس کام کے لیے حضرت زید بن ثابت﷜ کو منتخب کیا گیا تھا۔ لیکن جب حضرات شیخین نے حضرت زید﷜ کو اس کام پر مامور فرمایا تھا اس وقت تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما مدینہ طیبہ میں موجود تھے۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ حضرت زید بن ثابت﷜ کو مصحف کی تیاری پر کوئی پہلی مرتبہ متعین نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس سے پہلے عہد شیخین میں بھی ان کو اس کام کے لیے موزوں ترین قرار دیا گیا تھا ۔ حضرت عثمان غنی﷜ نے اپنے متقدمین ہی کی اقتداء میں انہیں تعینات کیا تھا۔ دونوں مواقع پر انہی کا انتخاب اس سبب سے تھا کہ عرضۂ اخیرہ میں وہ حضورﷺکے ساتھ تھے۔
     
  10. ‏اپریل 02، 2012 #80
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    اس لئے حضرات ، ابن مسعود﷜ اور زید بن ثابت﷜ کے منصب میں موازنہ کرتے ہوئے ہمیں ان مذکورہ بالا حقائق کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔
    احراق مصاحف کے بارے میں ولیم میور کہتا ہے کہ یہ ایک ناانصافی کہی جاسکتی ہے کہ انہوں نے مجمع علیہ نسخے کے علاوہ تمام مصاحف تلف کروا دیئے ۔ لیکن میور لکھتے ہیں کہ اس کا جواب یہ ہے کہ اس دور میں کسی نے حضرت عثمان غنی﷜ پر الزام نہیں لگایا کہ انہوں نے قرآن میں تحریف و تصحیف کی ہے۔ اگرحقیقت میں حضرت عثمان غنی﷜ ایسے ہی کرتے تو یہ راز ضرور آشکار ہو کر رہتا مگر حضرت عثمان غنی﷜ پر یہ اتہام متاخرین شیعہ نے اپنے اغراض کے لیے وضع کر لیا۔
    ٭_____٭_____٭
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں