1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جمہوریت اور ووٹینگ کا رائج سسٹم

'بدعت' میں موضوعات آغاز کردہ از سلف الصالحین کا منہج, ‏جنوری 01، 2015۔

  1. ‏جنوری 01، 2015 #1
    سلف الصالحین کا منہج

    سلف الصالحین کا منہج مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 25، 2014
    پیغامات:
    31
    موصول شکریہ جات:
    19
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ




    جمہوریت اور ووٹینگ کے رائج سسٹم میں اکثریت کے فیصلہ کی راۓ کو حق جانا جاتا ہے، چاہے اصلا وہ راۓ حق پر ہو یا باطل پر. كیا اکثریت حق کی دلیل ہے؟ آۓ دیکھتے ہیں کہ اس سلسلہ میں اللہ عزوجل ہم سے قرآن میں کیا فرماتا ہے، قرآن کی آیات اور ان کا مفہوم:

    وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ‌ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ

    "اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے"

    (سورۃ حود:17)


    وَإِنَّ كَثِيرً‌ا مِّنَ النَّاسِ عَنْ آيَاتِنَا لَغَافِلُونَ

    "اکثر لوگ ہماری آیات سے غافل ہیں"

    (سورۃ یونس 92)


    لَا يُخْلِفُ اللَّـهُ وَعْدَهُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ‌ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

    "اکثر لوگ علم نہیں رکھتے

    (سورۃ روم:6)


    وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ‌ النَّاسِ لَا يَشْكُرُ‌ونَ

    "اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

    (سورۃ یوسف:38)



    وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ‌هُمْ يَجْهَلُونَ

    "اکثر لوگ جاہل ھیں"

    (سورۃ انعام 111)



    وَإِن وَجَدْنَا أَكْثَرَ‌هُمْ لَفَاسِقِينَ

    "اکثر لوگ نافرمان ہیں"

    (سورۃ اعراف:102)



    وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ‌ مَن فِي الْأَرْ‌ضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّـهِ

    "اگر آپ نے اکثر (گمراہ) لوگوں کی بات مان لی تو وہ آپ کو اللہ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے"

    (سورۃ انعام 116)



    لحاظہ ان آیات سے ثابت ہوا کہ کثرت میں ہونا ہمیشہ حق کی دلیل نہیں ھوا کرتا.

    الشیخ محمد امان الجامی رحمہ اللہ جمہوریت کی تاریخ کو اسطرح بتلاتے ہیں، مفہوم:

    جمہوریت کا تعلق اسلام سے نہیں بلکۂ یہ اسلام سے اجنبی طریقہ ہے بلکہ یہ تو یورپ کے کفار کا طریقہ ہے. جمہوریت کا مطلب ہے عوام کے ذریعہ عوام پر حکومت. عیسائی لوگ ایسے وقت میں رہے جب ان پر انکے چرچ، حکام اور بادشاہوں نے ظلم کیا تو انہوں نے بغاوت کی جیسا کہ ہمارے فیلسطینی بھائیوں نے یہودیوں کے خلاف کیا. تو انہوں نے بغاوت کی اور بادشاہوں اور گرجا کا حکم ماننے سے انکار کر دیا. انہوں نے بغاوت کی ظلم سے مگر کس طرف بغاوت کی؟ انہوں نے آدمی کی حکومت سے آدمی کی حکومت کی طرف بغاوت کی، جیسا کہ گرم زمین کی مدد لی جاۓ، آگ کے مقابلہ میں. تو انہوں نے کہا کہ لوگ اپنے اوپر خود حکومت کریں گے اور مکمل آزادی سے بہر مند ہوں گے، یعنی انہوں نے اللہ عزوجل اور اللہ عزوجل کے قانون کو لاگو کرنے کی طرف بغاوت نہیں کی، بلکہ انہوں نے ظلم سے خروج کیا اپنے ہی انسانوں کے بناۓ ہوۓ قانون کی طرف. انسان جو کہ جہل اور ظلم کا مرکب ہے الا یہ کہ وہ جس کو اللہ عزوجل نے ان صفات سے محفوظ رکھا ہو. تو جمہوریت اپنی بنیاد، خصوصیات و قواعد سے مسلمانوں سے نہیں نکلی، کیونکہ یہ اللہ عزوجل پر ایمان کو نظر انداز کرتی ہے، کیونکہ اللہ عزوجل پر ایمان کا مطلب ہے اللہ عزوجل کے قانون اور احکام پر ایمان، پس جمہوریت اللہ عزوجل کے دین سے نہیں، نہ ہی اسکا تعلق انصاف سے ہے.

    بلکہ جمہوریت تو ایک طریقہ کار ہے اور بے ترتیبی (کی وجہ). کیونکہ اسکا عمومی اطلاق ہر فرد کی آزادی پر ہے، اس آزادی میں مذہب کی آزادی بھی ہے، یعنی اسمیں کوئ شخص مسلمان یہودی، عسیائ ہو کر رہ سکتا ہے یا کچھ عرصے بعد اپنا مذہب بدل لے، اسپر مرتد ہونے کا فتوی نہیں لگے گا. (گویا) جمہوریت قول کی آزادی، مذہب کی آزادی، سفر کی آزادی، تمام وہ آزادیاں جو بے ترتیبی متعین کرتی ہیں ماسوائے اسلام کی دی ہوئ آزادی کے جمہوریت کی مزید تفصیل اور الشیخ محمد امان الجامی رحمہ اللہ کے مزید قول کا عربی متن سننے کے لیے اس ویب سائیٹ پر جائیں:






    سعودی عرب کے جلیل القدر عالم، الشیخ صالح بن فوزان بن عبداللہ الفوزان حفظہ اللہ سے پوچھا گیا، مفہوم:

    کیا ایسے انتخبات میں شمولیت اور ووٹ دیا جاسکتا ہے جو (مغربی) جمہوریت پر مشتمل ہوں اور جس سے انسانی قوانین لاگو ہوں؟

    آپ حفظہ اللہ نے فرمایا، مفہوم:

    یہ طریقہ اور عمل مسلمانوں کا نہیں، مسلمانوں کا طریقہ تو یہ ہے کہ اہل علم علماء اس شخص کو منتخب کریں جو حاکم بننے کا اہل ہو اور اس طرح وہ حاکم بنے. اور پھر لوگ(عام عوام) علماء کے فیصلے کا ساتھ دیں جو اہل علم اور قاضیوں نے کیا ہو، اور (عوام) اتباع کریں (یعنی اس حاکم کی بیعت کر لیں) یہ ضروری نہیں کہ ہر کسی کا ووٹ ہو، یہ تو غربی (مغرب کا) طریقہ ہے، اسلام کا نہیں. شیخنا (حفظہ اللہ) کے قول کا عربی متن سنیے:





    علامہ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ سے ووٹ ڈالنے کی بابت پوچھا گیا آپ نے فرمایا:

    "نہیں ڈالنا چاہیے."




    اسی طرح الشیخ عبید ابن عبداللہ الجابری حفظہ اللہ کی راۓ دیکھیں:






    الشیخ البانی، الشیخ احمد ابن یحیی النجمی رحمہما اللہ ،الشیخ عبدالعزیر البرائ وغیرہ کے نزدیک بھی عصر حاضر کا جمہوری ووٹ ڈالنا صحیح نہیں، واللہ اعلم. گویا معلوم ہوا کہ جب جمہوریت قرآن والسنۃ اور فہم علماء کے مطابق اصلا صحیح نہیں تو ایسی جمہوریت کے لیے لانگ مارچ کرنا سنامی مارچ کرنا یا کسی اور طرح کا کے مارچ کرنے سے کچھ حاصل نہیں بلکہ وقت اور انرجی کا ظیاع ہے. بلکہ اس سورت حال سے دیشت گرد عناصر فائدہ اٹھا کر عوام کے جم غفیر میں دہشت گردی بھی کر سکتے ہیں. اللہ عزوجل ایسے عناصر سے ہمیں محفوظ رکھے، آمین.
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 02، 2015 #2
    عبدالقیوم

    عبدالقیوم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2013
    پیغامات:
    825
    موصول شکریہ جات:
    408
    تمغے کے پوائنٹ:
    128

    یہ ملت روایات میں کھو گئی
    حقیقت خرافات میں کھو گئی
     
  3. ‏جنوری 02، 2015 #3
    عبدالقیوم

    عبدالقیوم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2013
    پیغامات:
    825
    موصول شکریہ جات:
    408
    تمغے کے پوائنٹ:
    128

    شکوہ ظلمت شب سے کہیں بہتر تھا
    اپنے حصے کے چراغ جلاتے جاتے
     
  4. ‏جنوری 02، 2015 #4
    عبدالقیوم

    عبدالقیوم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2013
    پیغامات:
    825
    موصول شکریہ جات:
    408
    تمغے کے پوائنٹ:
    128

    شب گریزاں ہوگی آخر جلوہ خورشید سے
    یہ چمن معمور ہو گا نغمہ توحید سے
     
  5. ‏جنوری 02، 2015 #5
    عبدالقیوم

    عبدالقیوم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2013
    پیغامات:
    825
    موصول شکریہ جات:
    408
    تمغے کے پوائنٹ:
    128

    ہمارا نظام ایسا ہے کہ ایک فٹ پاتھ پر بیٹھنے والاجاہل ایک عالم فاضل برابر ہیں
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 02، 2015 #6
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اور اس سے بھی بڑھ کر افسوسناک بات یہ ہے کہ کچھ لوگ اس نظام کو عین اسلام ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں لاحول ولا قوۃ الا باللہ
     
  7. ‏جنوری 02، 2015 #7
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,987
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    جزاک الله -

    بلکل صحیح فرمایا آپ نے ارسلان بھائی -
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں