1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جمہوریت کی تعریف

'جمہوریت' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالحسن علوی, ‏ستمبر 18، 2014۔

  1. ‏ستمبر 18، 2014 #1
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    آج کل لوگ جمہوریت کو بہت رگیدتے ہیں اور مجھے بھی جمہوریت سے کوئی ہمدردی نہیں ہے لیکن لوگوں کی جمہوریت پر تنقید دیکھ کر یہ احساس ضرور پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں اب تنقید کا معیار بہت گر گیا ہے۔ بعض اوقات ہمیں مصطلحات کے معانی، پس منظر، ارتقاء، مترادفات اور مروجہ استعمالات سے واقفیت نہیں ہوتی لیکن اس ناواقفیت کے باوجود ہم ان اصطلاحات کو بنیاد بناتے ہوئے لوگوں پر فتوے لگا رہے ہوتے ہیں۔ اس تھریڈ کے لگانے کا صرف مقصد یہ ہے کہ جب ہم جمہوریت کے حوالہ سے کسی پر فتوی لگائیں تو ہمیں جمہوریت کا معنی ومفہوم بھی ذہن میں ہو۔

    جمہوریت تو خیر کوئی اصطلاح سرے سے ہے ہی نہیں بلکہ یہ اردو ترجمہ ہے ڈیموکریسی کا۔ اور میری رائے میں یہ غلط ترجمہ ہے کیونکہ اس ترجمے میں ڈیموکریسی کی مغربی یا انگریزی اصطلاح کا اصل مفہوم ادا نہیں ہوتا ہے۔ اردو زبان میں جمہوریت کا لفظ جمہور سے بنا ہے جو اکثر کے معنی میں ہے اور جمہوریت سے سادہ الفاظ میں اکثریتی رائے مراد لی جاتی ہے۔ اپنے لغوی معنی کے اعتبار سے جمہوریت بمعنی اکثریتی رائے کوئی مذموم چیز نہیں ہے۔ ہم علم فقہ میں اکثر یہ پڑھتے ہیں کہ جمہور کی رائے یہ ہے یعنی اکثر فقہاء کی اس مسئلے میں یہ رائے یہ ہے اور ایسا ہونا قابل مذمت نہیں ہے، چاہے یہ اکثریتی رائے وقت کے گزرنے سے وجود میں آئی ہو یا ایک مجلس میں ہی قائم ہوئی ہو جسے ہم اجتماعی اجتہاد کہتے ہیں۔

    جو چیز در اصل کفر ہے وہ ڈیموکریسی ہے جو کہ ایک مغربی اصطلاح ہے اور اس اصطلاح کا جوہر عوام کا اقتدار اعلی ہے۔ ڈیموکریسی، اکثریت کی رائے کا نام نہیں ہے بلکہ ڈیموکریسی سے مراد عوام کسی ریاست میں سپریم پاور ہیں یعنی فائنل اتھارٹی ہیں۔ یہ کفریہ اور شرکیہ نقطہ نظر ہے اور اس کے ماننے والے دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

    لیکن ہمارے ہاں پاکستان میں جو سیاسی نظام رائج ہے یہ ڈیموکریسی نہیں ہے کیونکہ اس میں سپریم پاور یا مقتدر اعلی یا فائنل اتھارٹی عوام نہیں بلکہ اللہ عزوجل کی ذات ہے۔ جیسا کہ پاکستانی آئین میں یہ بات درج ہے:
    1. Sovereignty belongs to Allah alone but He has delegated it to the state of Pakistan through its people for ​
    2. being exercised within the limits prescribed by Him as a sacred trust.​
    ہمارے ہاں پاکستان میں جو سیاسی نظام رائج ہے، وہ ڈیموکریسی تو نہیں البتہ ارسٹوکریسی سے کسی قدر مماثلت رکھتا ہے۔ لیکن یہ خالص ارسٹوکریسی بھی نہیں ہے۔

    پاکستانی سیاسی نظام اگر ڈیموکریسی نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ اسلامی نظام ہے۔ بات ابھی صرف یہ ہے کہ یہ ڈیموکریسی ہے یا نہیں ہے۔ اگر ہے تو ڈیموکریسی کی جو عالمی تعریف ہے، یہ نظام اس پر پورا اترتا ہے؟ اور اگر نہیں تو پاکستان کے سیاسی نظام کو عالمی سیاسی نظاموں کی فہرست میں سے کیا ٹائٹل دیا جا سکتا ہے۔ دنیا میں کئی ایک سیاسی نظام معروف ہیں وہ ڈیموکریسی، ارسٹو کریسی، مونارکی، آٹوکریسی وغیرہ ہیں۔
     
    • زبردست زبردست x 2
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 18، 2014 #2
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    @ابوالحسن علوی صاحب اسلامی جمہوریت کی اصطلاح کے متعلق آپ کی کیا راے ہے؟
     
  3. ‏ستمبر 19، 2014 #3
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    میری رائے میں اسلامک ڈیموکریسی نہیں ہو سکتی، اسلامی جمہوریت تو ہو سکتی ہے۔ لیکن میں یہ بھی واضح کروں گا کہ جمہوریت سے میری مراد، ڈیموکریسی نہیں ہے بلکہ جمہور کی رائے یعنی اکثریتی رائے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان قوم کے بعض فیصلے اکثریتی رائے کا اعتبار کرتے ہوئے کیے ہیں جیسا کہ غزوہ احد کے موقع پر مدینہ سے باہر نکل کر جنگ لڑنے کا فیصلہ، اگرچہ آپ کی رائے اکثریتی رائے کے برعکس تھی لیکن آپ نے اکثریتی رائے کا اعتبار کیا۔ جب آپ نے اکثریتی رائے کا اعتبار کیا تو گویا اکثریتی رائے کا اعتبار کرنے کا جواز پیدا ہو گیا بلکہ میں تو شاید یہاں جواز سے بڑھ کر اس کے مستحسن ہونے کی بات کروں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو نبی اور رسول ہیں، نے اپنی ذاتی رائے پر اسے ترجیح دی اگرچہ آپ کے لیے یہ بالکل جائز تھا کہ آپ اکثریتی رائے کا اعتبار نہ کرتے۔ ڈیموکریسی کا صحیح ترجمہ جمہوریت نہیں عوام کا اقتدار اعلی ہے۔

    جہاں تک قوموں کے بارے اجتماعی فیصلوں کی بات ہے تو اس کا حق، قوم کو ہی حاصل ہے نہ کسی فرد واحد یعنی خلیفہ کو۔ آپ پوری قوم کو جنگ میں جھونکنے کی بات کر رہے ہوں، تو تن من دھن تو قوم کا لگے گا، خون قوم کا بہنا ہے، ماتم ان کے گھروں میں ہوں گے، مال واسباب ان کے تباہ وبرباد ہوں گے۔ ایک فرد واحد پوری قوم کو جنگ میں جھونک دے یا اس کے ہاتھ میں قوم کا مستقبل تھما دیا جائے؟ یہ کوئی شریعت کا تقاضا نہیں ہے، یہ سیاست شرعیہ میں اندھی تقلید کی بدترین صورت ہے۔ یہ مقام نبی اور رسول کو حاصل تھا لیکن اس کے حاصل ہونے کے باوجود انہوں نے استعمال نہ کیا۔

    یہ واضح رہے کہ ہماری اردو زبان میں جمہوریت کا لفظ اکثریت کی رائے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے یا کیا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ لوگ جمہوریت کا لفظ بول کر اس سے مراد جمہور کا اقتدار اعلی لیتے ہوں۔ پاکستان میں لوگوں کے عقائد ابھی اتنے خراب نہیں ہیں۔
     
    Last edited: ‏ستمبر 19، 2014
    • زبردست زبردست x 2
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏ستمبر 19، 2014 #4
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    اگر ایک کافرانہ نظام ،سوشلزم کے ساتھ اسلام کا لفظ لگانے سے وہ نظام کفر ہی رہتا ہے تو پھر ایک دوسرے کافرانہ نظام جمہوریت کے ساتھ اسلامی کا لفظ لگانے سے کیسے وہ مشرف بہ اسلام ہو جائے گا؟یہ فلسفہ ہماری ناقص عقل سے بالاتر ہے ہمارے نزدیک اسلامی جمہوریت کے غیر اسلامی ہونے کے دلائل صد فیصد وہی ہیں جو اسلامی سوشلزم کے غیر اسلامی ہونے کے ہیں۔کل کلاں اگر کوئی شاطر اسلامی سرمایہ داری یا اسلامی یہودیت یا اسلامی عیسائیت وغیرہ کا فلسفہ ایجاد کر ڈالے تو کیا اسے بھی قبول کر لیا جائے گا؟آخر اسلامی تاریخ میں پہلے سے استعمال کی گئی کتاب و سنت سے ثابت شدہ اصطلاحات نظام خلافت ،نظام شورائیت سے پہلو تہی کرنے کی وجہ کیا ہے؟کیا ہمارے مسلم دانشور اور مفکرین اس نکتہ پر سنجیدگی سے غور کرنا پسند فرمائیں گے؟

    اقتباس
    از: توحید کے مسائل
    محمد اقبال کیلانی حفظہ اللہ
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  5. ‏ستمبر 19، 2014 #5
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    بات جمہوریت کی تعریف کی ہو رہی ہے، اور تھریڈ کا عنوان بھی یہی ہے۔ اس لیے ارسلان بھائی، پہلے جمہوریت کی تعریف کریں کہ جمہوریت کا معنی کیا ہے۔ پھر اس کے حکم پر بھی بات کر لیں گے۔ جمہوریت، اردو کی اصطلاح ہے۔ یہ مغربی اصطلاح نہیں ہے۔ مغربی اصطلاح ڈیموکریسی ہے۔ جب یہ ہماری زبان کا لفظ ہے تو کم از کم ہمیں اس کا معنی تو معلوم ہونا چاہیے۔
     
    • متفق متفق x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏ستمبر 19، 2014 #6
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    اصل میں بہت سے لوگ جمہوریت اور ڈیموکریسی کو ایک ہی ”چیز“ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ جیسا کہ آپ نے اوپر لکھا ہے، دونوں کی روح الگ الگ ہے۔
     
  7. ‏ستمبر 19، 2014 #7
    123456789

    123456789 رکن
    جگہ:
    زمین
    شمولیت:
    ‏اپریل 17، 2014
    پیغامات:
    215
    موصول شکریہ جات:
    87
    تمغے کے پوائنٹ:
    43

    ابوالحسن بھائی نے جمہوریت کے حوالے سے جو باتیں لکھیں ان میں سے بیشتر باتوں سےاتفاق کرتے ہوئے ہم اپنی بات کا اضافہ کرنا چاہتے ہیں جمہوریت کاروبار حکومت چلانے کا ایک نظام ہے مغرب جس کو ڈیموکریسی کہتے ہیں۔اسکی بہت سی قسمیں اور انواع ہیں جمہوریت یا ڈیموکریسی ایک ہی چیز ہے جمہوری اقدار میں آزادی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اسی قدر نے مغرب میں جمہور یعنی عوام کو اپنے قوانین وضع کرنےمیں اختیار اور آزادی دی ہے ہم نے کاروبار حکومت چلانے کا یہ نظام مغرب سے مستعار تو لیا ہے لیکن ان کی اس گھناؤنی شق کو جس میں قانون سازی کا اختیار بندوں کے پاس ہوتا ہے ان سے مستعار نہیں لیا بلکہ اسکی جگہ اللہ پاک کی حاکمیت اعلیٰ تسلیم کرتے ہوئے قانون سازی میں قرآن وسنت کی بالادستی تسلیم کی ہے۔ پاکستان میں جمہوری نظام کے کفر ہونے کی سب سے بڑی وجہ وضعی قوانین میں انسانوں کی آزادی بتائی جاتی ہے۔ مقام حیرت یہ ہے کہ جب وضعی قوانین کے حوالے سے مذکورہ مغربی صورت یہاں پایا ہی نہیں جاتا تو اب اس نظام کے کفر ہونے کے فتوے کس بنیاد پر لگائے جاتے ہیں ؟
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  8. ‏ستمبر 19، 2014 #8
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    اصل بات یہ ہے کہ کلام کا مفہوم محض لغت سے طے ہو گا یا اس میں عرف کو بھی اہمیت حاصل ہے؟علوی صاحب لغت پر زور دے رہے ہیں حالاں کہ از روے لغت چاہے ڈیموکریسی کا ترجمہ جمہوریت درست نہ بھی ہو عرف میں بہ ہر حال یہی مفہوم مراد لیا جاتا ہے اور اسی لیے اس کے ساتھ اسلامی کا سابقہ بھی لگایا جاتا ہے۔اور عرف ہی کی بنا پر اسے کفر بھی نہیں قرار دیا جاتا کیوں کہ عموماً اس سے خدا کے بالمقابل عوام کی حاکمیت مقصود نہیں ہوتی۔
     
    Last edited: ‏ستمبر 19، 2014
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏ستمبر 19، 2014 #9
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    باقی رہا یہ مسئلہ کہ اجتماعی فیصلوں کا حق کسے حاصل ہے تو اس ضمن میں علما نے یہ بحثیں کی ہیں کہ شوریٰ سے مشاورت کے بعد امیر و خلیفہ پر شوریٰ کی راے یا اکثریتی راے کی پابندی لازم ہے یا نہیں؟محترم علوی صاحب سے گزارش ہے کہ وہ اس بات پر شرعی دلائل پیش فرمائیں کہ فیصلہ پوری قوم کرے گی اور خلیفہ پر اکثریت کی پیروی ضرووری ہے ؛نیز اس پر بھی روشنی ڈالیں کہ پوری قوم سے مشاورت کا طریق کار کیا ہوگا اور اہل حل و عقد میں کیا ساری قوم آتی ہے یا چند لوگ؟؟
    جہاں تک غزوۂ احد کے واقعے سے اکثریت کی پیروی کے استحباب پر استدلال ہے تو اس حوالے سے محدث کے ایک خاص نمبر ’’اسلام اور جمہوریت ‘‘ پر گفت گو کی گئی ہے جو ویب سائٹ پر موجود ہے؛غالباً 1980 کا شمارہ ہے جسے انور طاہر صاحب نے مرتب کیا تھا؛وہ ٹائپ بھی ہو چکا ہو گا @عبد الرشید بھائی سے گزارش ہے کہ وہ متعلقہ مواد یہاں پیش کر دیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏ستمبر 20، 2014 #10
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    جمہوریت کے معنی میں میری مراد لغوی اور عرفی دونوں بحثیں تھیں۔ لغوی طور تو واضح ہے کہ جمہوریت، ڈیموکریسی کا ترجمہ نہیں ہے بلکہ اکثریتی رائے کو کہتے ہیں اور اس اردو لفظ کا روٹ ورڈ عربی لفظ جمہور ہے جبکہ خود عربی میں ڈیموکریسی کا ترجمہ دیمقراطیہ ہے۔

    دوسرا یہ کہ ڈیموکریسی کا اصل معنی، اگر اس کے جوہر کو سامنے رکھیں، تو وہ اردو زبان میں عوام کا اقتدار اعلی ہے۔ اس معنی میں جمہوریت کا لفظ ہمارے ہاں عرف میں استعمال نہیں ہوتا۔ یہ بات بھی پہلے عرض ہو چکی ہے۔ اگر کسی بھائی کے پاس اس کے شواہد ہوں کہ ہمارے پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا میں جمہوریت کا لفظ عوام کے اقتدار اعلی کے معنی میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے تو اس کے شواہد پیش کر دیں۔ میری رائے میں ہمارے ہاں عرف میں جمہوریت کا جو لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو اس کا جوہر اکثریت ہے یعنی میجیریٹی نہ کہ اقتدار اعلی یعنی فائنل اتھارٹی۔
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں