1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جمہوریت کی تعریف

'جمہوریت' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالحسن علوی, ‏ستمبر 18، 2014۔

  1. ‏ستمبر 20، 2014 #11
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    ایک اصطلاح جب متعین ہو جاتی ہے تو اب ا س کا لغوی حوالے سے پیچھا کرتے رہنا قیل و قال کے سوا چنداں مفید نہیں ۔ علوی صاحب لفظ جمہور کے ساتھ اسے مکس اپ تو کر رہے ہیں لیکن یہ بات ملحوظ خاطر رہنی چاہیے کہ جمہور کی اصطلاح اصلا عربی ہے اور جمہوریت کا لفظ اردو میں استعمال ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔ کتنی ہی مثالیں عربی سے اردو میں الفاظ کے استعمال کے بالکل مختلف ہونے کی مل جائیں گی ،حتیٰ کہ بسا اوقات تو لفظ ایک ہی ہوتا ہے لیکن معنی مفہوم اور مراد لیا جاتا ہے دونوں زبانوں میں، لیکن اس سے کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کہ اصل چونکہ اس اصطلاح کی فلاں زبان میں کچھ اور ہے اس لیے اس کا دوسری زبان میں استعمال بھی اپنےاصل روٹ کے مطابق ہونا چاہیے یا نہیں وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ سو یہآں بھی یہی معاملہ ہے !

    ہمارے ہاں جمہوریت کیا اللہ کے اقتداراعلیٰ کے معنوں میں استعمال ہوتی ہے ؟؟ ٹی وی سے لیکر اخبارات اورپارلیمنٹ سے لیکر دھرنوں تک جس جمہوریت کی بالادستی اور "بچانے" کی باتیںہوتی ہین کیا وہ اللہ کا اقتدار اعلیٰ ہے ؟؟؟ اصل سوال تویہ بنتا ہے کہ جس کسی کے پاس اس بات کے شواہد ہوں کہ جمہوریت مملکت خداداد پاکستان میں کہیں اللہ کے اقتدار اعلیٰ کے معنوں میں استعمال ہو رہا ہے تو آگاہ فرمائے ۔۔۔۔۔۔
     
  2. ‏ستمبر 20، 2014 #12
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    ہمیں یہ دیکھنا چاہئےکہ ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کا آئین (جو ایک مستند ریاستی دستاویز ہے ، جمہوری پارلیمانٹ کا منظور شدہ ہے، اور تمام ارکان اسمبلی اسی آئین کے تحت حلف اٹھاتے ہیں) وہ اس ”جمہوریت“ کی کیا تعریف کرتا ہے۔
    پاکستان کی ”جمہوریت“ کے معاملہ میں یہی تعریف ”حرف آخر“ سمجھی جائے گی، ۔ خواہ لغت، عرف یا کوئی اور اتھارٹی اس لفظ کی کچھ بھی تعریف کرتے پھریں۔
    1. کیا آئین پاکستان اللہ تبارک تعالیٰ کی ”حاکمیت اعلیٰ“ کا اقرار کرتا ہے؟
    2. یا آئین پاکستان جمہور کی رائے کو، عوام کے منتخب نمائندوں کی اکثریتی رائے کو ”حاکمیت اعلیٰ“
     
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 20، 2014 #13
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    ISLAMIC PROVISIONS OF 1973 CONSTITUTION

    Islamic Republic of Pakistan
    Pakistan shall be known as Islamic Republic of Pakistan

    State Religion
    Islam shall be the state religion of Pakistan

    Sovereignty Belongs to Allah
    Sovereignty over the entire Universe belongs to Almighty Allah and the authority bestowed by him on men is a sacred trust which the people of Pakistan will exercise with the limits prescribed by Quran and Sunnah.

    Definition of a Muslim
    The constitution also gives the definition of a Muslim.A person who believes in Tauheed or Oneness of Allah,and in the prophet hood of Hazrat Mohammad (P.B.U.H) as the last prophet of Allah has described as aMuslim

    A Muslim to be a President and Prime Minister
    The constitution laid down that only Muslims shall be elected president and Prime Minister of Pakistan.Non non-Muslim could hold these offices

    Islamic way of life
    Steps shall be given to enable the Muslims of Pakistan to order their lives in accordance with the fundamental principles and basic concepts of Islam

    Promotion of Social Justice and Eradication of Social Evils
    The State shall take necessary steps for prosecution of social justice and eradication of social evils and shall prevent prostitution,gambling and taking of injurious drugs,printing,publication,circulation and display of obscene literature and advertisements

    Teachings of Holy Quran
    The state shall try to make the teachings of Holy Quran and Islamiat compulsory to encourage and facilitate the learning of Arabic language

    Strengthing Bond,with Muslim World
    The state shall endeavour to strengthen fraternal relations among Muslim countries in order to promote Islamic unity

    Council of Islamic Ideology
    There is a councel of Islamic Ideology which shall guide the government in respect of Islamic teachings,their implementation and propagation.Its chairman and members are appointed by President.Although its advice is not binding on the government yet it is not easy for any government to ignore or over rule its suggestion or opinion regarding any law

    Error Free Publication of Quran
    The government shall endeavour to secure correct and exact printing and publishing of the Holy Quran

    Oath to Project and Promote Islamic Ideology
    The federal and Provincial Ministers,the Speaker and Deputy Speaker of the National and Provincial Assemblies,the chairman of the Senate and the Governors and Chief Ministers of the Provinces also take oath to preserve and protect the Islamic Ideology

    Ahmadi's A Non Muslim Minority
    According to the second amendment of 1973 constitution,the Qadiani group or the Lahori group who call themselves "Ahmadi's " were declared as Non-Muslim minority
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏ستمبر 20، 2014 #14
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    میرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اردو میں ڈیموکریسی کا ترجمہ جمہوریت کیا جاتا ہے؛عرف یہی ہے؛یہ ترجمہ غلط ہے یا صحیح ،یہ ایک علاحدہ نکتہ ہے؛محترم علوی صاحب یہ فرمائیں کہ ہمارے یہاں ڈیموکریسی کا ترجمہ کیا ہے عرف میں؟؟
     
  5. ‏ستمبر 20، 2014 #15
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    یہاں دیکھیے ،الطاف احمد اعظمی نے بھی ڈیموکریسی ہی کو جمہوریت سمجھا ہے؛اردو زبان میں یہ بات طے شدہ ہے کہ ڈیمو کریسی کا ترجمہ جمہوریت ہی ہے اور عرف میں بھی یہی رائج ہے؛البتہ جناب علوی صاحب نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ یہ ترجمہ موزوں نہیں تو اس پر بحث ہو سکتی ہے۔
    اصل بات یہ ہے کہ بعض اوقات غلط ترجمے رائج ہو جاتے ہیں جیسا کہ سیکولرازم کا ترجمہ عربی میں العلمانیۃ کیا جاتا ہے اور علما نے اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ صحیح ترجمہ اللادینیۃ بنتا ہے لیکن اس کے باوجود سیکولرازم کا رد العلمانیۃ ہی کے نام سے ہوتا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏ستمبر 20، 2014 #16
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    جمہوریت انگریزی لفظ ”ڈیموکریسی“ کا ہم معنیٰ ہے اور انگریزی کا لفظ ڈیموکریسی، یونانی لفظ ”ڈیموکریٹیا“ سے مشتق ہے جو دو لفظوں ”ڈیموس“ یعنی لوگ اور ”کریٹیا“ یعنی طاقت یا اقتدار سے مل کر بنا ہے، اس طرح جمہوریت کے معنیٰ ہوئے: لوگوں کی طاقت یا لوگوں کا اقتدار۔ یعنی ایک ایسا نظام حکومت جس میں اقتدار کی باگ ڈور لوگوں کے ہاتھوں میں ہو، نہ کہ فرد واحد یا چند لوگوں کے ہاتھوں میں۔ لیکن یہاں پر لوگوں سے مراد کل آبادی نہیں ہے، بلکہ یونان کے وہ مرد (عورتیں نہیں) جنہیں وہاں شہری حقوق حاصل تھے۔ معلوم ہونا چاہئے کہ یونان میں عورتیں، غیر یونانی لوگ اور غلام شہری حقوق سے محروم تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یونانیوں کا تصورِ جمہوریت نہایت محدود تھا، انتظامی امور میں آبادی کا بہت چھوٹا حصہ ہی شامل تھا، اس اعتبار سے اس پر جمہوریت کا اطلاق نہیں ہوگا، کیونکہ یہ جمہور (عوام) کی حکومت نہیں تھی۔ ایک نا قابلِ تردید حقیقت یہ ہے کہ بیسویں صدی کے اوائل تک نہ صرف یورپ کے تمام ممالک بلکہ خود برطانیہ میں بھی ووٹ کا حق تمام لوگوں کو نہیں تھا، یورپ میں حق رائے دہندگی تمام بالغ مرد وں کو پہلی عالمگیر جنگ کے بعد حاصل ہوگیا تھا، تاہم بہت سے ایشیائی اور افریقی ممالک میں یہ حق عام طور پر دوسری عالمگیر جنگ کے بعد ملا۔
    جمہوریت کے ارکانِ خمسہ

    ۱۔اقتدار کا منبع لوگ ہوں۔ یعنی اصل سیاسی طاقت کے مالک لوگ ہوں اوروہی رہیں۔ یعنی اگر حکمرانی کا حق کسی کے سپرد کردیں تو واپس لینے کا بھی حق رکھتے ہوں۔
    ۲۔لوگ مختار کل اور مکمل آزاد ہوں۔ یعنی ان پر کوئی بیرونی طاقت حکمران نہ ہو، بلکہ یہ خود ہی حاکم اعلیٰ ہوں،جو چاہیں کر سکیں۔ دوسرے ان کے سامنے جوابدہ ہوں، یہ کسی کے سامنے جو ابدہ نہ ہوں۔
    ۳۔حکومت ان کی مرضی کے مطابق ہو اور ان کی مرضی کا اظہار بغیر کسی دباؤ کے واضح اور آزادانہ طور پر ہو۔
    ۴۔حکام کا تقرر لوگوں کی مرضی اور ان ہی کے نمائندوں کے ذریعہ ہو اور حکام اسی وقت تک اپنے عہدوں پر فائز رہیں، جب تک انہیں لوگوں کا اعتماد حاصل رہے۔
    ۵۔ملک کا انتظام چلانے کے لئے جو قانون چاہیں، یہ وضع کرسکیں۔ اور جب جس قانون کو چاہیں، بدل سکیں۔ یعنی قانون سازی کے معاملے میں مکمل آزاد ہوں، ان پر کوئی خارجی دباؤ یا پابندی عائد نہ ہو۔(حوالہ)
     
  7. ‏ستمبر 20، 2014 #17
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    اقبال نے جب یہ کہا تھا:
    جمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
    بندوں کو گنا کرتے ہیں ، تولا نہیں کرتے

    تو سوال یہ ہے کہ اس کے پیش نظر محض اکثریت ہی تھی یا مغرب کی ڈیمو کریسی؟
    اور
    تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
    چہرہ روشن، اندرون چنگیز سے تاریک تر
    تو کیا یہاں وہ مغرب کا اکثریتی نظام کہنا چاہتا ہے یا ڈیمو کریسی کو بیان کر رہا ہے؟؟
    امید ہے برادرم ابوالحسن صاحب علوی اس پر غور و فکر کی زحمت گوارا کریں گے؛جمہوریت ڈیمو کریسی ہی کا ترجمہ ہے۔
     
  8. ‏ستمبر 20، 2014 #18
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    مولانا امین احسن اصلاحیؒ (م ۱۹۹۸ء) کا بھی خیال تھا کہ جمہوریت اسلام کے بالکل برخلاف تصور حکومت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں:
    ’’تاریکی اور روشنی میں، رات اور دن میں، بدی اور نیکی میں جو فرق ہے وہی جمہوریت اور اسلام میں ہے۔ آپ فلسفہ کی رو سے بھی غور کرلیں۔ آپ جمہوریت کی تعریف کریں۔ عوام کی حکومت، عوام کے لیے، عوام کے ذریعہ سے، عوام کی بہبود کے لیے، یہی تعریف ہے آپ کسی جگہ پڑھ لیجیے۔ اسلام میں اللہ کی حاکمیت، اللہ کی حکومت، اللہ کے قانون کے ذریعہ سے، اللہ کے ماننے والوں کے لیے، موٹی سی یہ تعریف ہے، کہیں پڑھ لیں۔ اب ان دونوں میں ذرا جوڑ ملائیے۔ ہے کوئی جوڑ ملتا ہوا، کوئی تک ہے۔‘‘(حوالہ)
    برادرم علوی صاحب نے جمہوریت کی ایک نئی تعریف کر کے اس کی اسلام کاری کے جواز کا فتویٰ بھی دے دیا ہے جب کہ اصلاحی صاحب اسلام اور جمہوریت کو متضاد بتلا رہے ہیں!!​
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏ستمبر 20، 2014 #19
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    اصطلاحوں کا معاملہ بہت ہی حساس اور نازک ہے اس لیے ہمیں درآمدشدہ اصطلاحوں کے بجاے اپنے علمی و فقہی ورثے میں موجود الفاظ ہی پر اصرار کرنا چاہیے الا یہ کہ نئی اصطلاحوں کی واقعتاً ضرورت ہو اور خاص طور ان الفاظ کو تو لازماً ترک کر دینا چاہیے جن سے غلط فہمیوں کا اندیشہ ہو اور باطل تصورات کو در آنے کا موقع ملے۔
    اسی بنا پر استاد گرامی ڈاکٹر حافظ عبدالرحمٰن صاحب مدنی حفظہ اللہ اسلامی جمہوریت کی اصطلاح کے مخالف ہیں اور ان کا استدلال اس آیت کریمہ سے ہے:
    يا أيها الذين آمنوا لا تقولوا راعنا وقولوا انظرنا واسمعوا وللكافرين عذاب أليم
    ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے راعنا کہنے سے منع کر دیا کیوں کہ یہود اس کو غلط طور پر استعمال کرتے تھے حالاں کہ بہ ظاہر اس میں کوئی خرابی نہیں۔
    اس لیے میری راے میں ہمیں اسلام کے سیاسی نظام کو بیان کرنے کے لیے خلافت ہی کی اصطلاح استعمال کرنی چاہیے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  10. ‏ستمبر 21، 2014 #20
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    حافظ بھائی آپ ڈکشنری میں مطلب تلاش کر رہے ہیں، سمائل! معذرت کے ساتھ ہر بات واضع ھے سارے مراسلوں کو بغور مطالعہ فرمائیں ڈکشنری کی ضرورت محسوس نہیں ہو گی۔

    والسلام
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں