1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جمہوریت کی سپئیر پارٹ اسمگلنگ

'جمہوریت' میں موضوعات آغاز کردہ از اسلام ڈیفینڈر, ‏اپریل 21، 2013۔

  1. ‏اپریل 21، 2013 #1
    اسلام ڈیفینڈر

    اسلام ڈیفینڈر رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    368
    موصول شکریہ جات:
    1,003
    تمغے کے پوائنٹ:
    97

    ایک ’’فقہی‘‘ نکتہ اٹھایا جاتا ہے کہ ووٹ کو باقی نظام سے الگ کرکے دیکھنا چاہیے کیونکہ جب اس میں اصل برائی قانون سازی ایسا شرک ہے تو صرف اسی کو برا اور غلط کہنا چاہیے جبکہ ووٹ بہر حال اس میں نہیں آتا۔ کسی ملک کے کسٹم قوانین سے کھیلنے کیلئے عموماً مشین کو الگ الگ پرزوں کی صورت میں اسمگل کرلیا جاتاہے ۔ سو جمہوریت کو بھی داخل اسلام کرنے کیلئے یہ تدبیر کی جاتی ہے آپ نے ووٹ حلال کردیا دوسرے نے امیدواری اور ممبری جائز کردی تیسرا ذرا اس سے زیادہ بے تکلف ہوگیاتو وزارت ایک بدعنوان آدمی سے بچا کر اپنے پاس رکھ لی۔ دلیل سب ہی کے ہاتھ کہیں نہ کہیں سے لگ جائے گی، آخر جمہوریت کے جوڑ کھول دئیے تو اب اس کی ہر چیز الگ الگ حیثیت میں دیکھی جائے گی۔ حرام یہ تب ہوگی جب پوری ہو اور پوری جمہوریت کو دیکھنے سے ممانعت کردی جائے گی۔
    (۱) جہاں تک ووٹ کو معمولی سمجھنے کا تعلق ہے اور خاص طورپر یہ کہنا کہ ایک ہمارے ووٹ سے تو اسمبلی قائم نہیں ہوتی تو عرض یہ ہے کہ فتویٰ سب کے لئے ہوتاہے اور سب کے ووٹوں سے ہی اسمبلی وجود میں آتی ہے ۔ اگر ہر آدمی کے لئے اس بنا پر ووٹ حلال کیاجائے کہ اس کے ووٹ سے کوئی فرق نہیں پڑے گا تو ایسے تفقہ کی داد دینی چاہیے کہ اسمبلی بھی تشکیل پاگئی اورکسی ایک فرد کا گناہ تک بھی لازم نہ آیا۔ آخر افراد کے مجموعہ کے مینڈیٹ سے ہی تو اسمبلی وجود میں آتی ہے۔ یہ فقاہت بالکل ایسی ہے کہ شراب چونکہ نشہ آوری کی بنا پر منع ہے اس لئے اس کی صرف وہ مقدار حرام ہوگی جو نشہ کردے ، رہی اس سے کم مقدار توا س پر کوئی قد غن نہیں۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق مااسکرکثیرہ فقلیلہ حرام (صحیح سنن ابن ماجہ للالبانی)
    (۲) رہی یہ بات کہ اللہ کی شریک اسمبلی بننا غلط ہے اسے ووٹ دینے میں کوئی حرج نہیں تو سوال یہ ہے کہ ووٹ تفریح طبع کے لئے تو بہر حال نہیں ڈالے جاتے۔ آخر اسمبلی کے قیام کے علاوہ ووٹ کا مقصد کیاہے؟
    (۳) قانون سازی وتشریع کا حق صرف استعمال کرنا نہیں بلکہ اسے رکھنا ہی شرک ہے اب جب اسمبلی قانون نہ کرتے ہوئے بھی طاغوت ہوتی ہے اور ووٹ کا مقصد اس اسمبلی کی تاسیس کے علاوہ کچھ بھی نہیں تو ووٹ کو الگ کرکے دیکھنے میں آخر کونسی فقاہت ہے؟
    (۴) پھر کوئی آدمی اس بات سے بھی انکار نہیں کرسکتا کہ اس نظام شرک میں ایک عام شہری کی عملی طور پر مؤثر ہونے والی شرکت کے علاوہ کچھ ہی نہیں ہے۔ پانچ سال تک چاہیے آپ مخالفت میں بولتے رہیں یا حمایت میں ایک عام آدمی کی حیثیت سے اس میں آپ کا عملی کردار ان پانچ سالوں میں صرف ایک دن خاص لمحے کے لئے ہی ہوتا ہے ۔ اس سے زیادہ آپ کچھ کر ہی نہیں سکتے جسے حرام یا حلال کہا جائے ۔ اب اس میں جو زیادہ سے زیادہ عملی کردار ممکن ہے اس میں تو آپ اور عقیدہ سے جاہل آدمی ایک برابر ہوگئے پھر باقی کیا بچا جس سے پرہیز کیاجائے؟؟؟؟
    شیخ الحدیث مولانا نورالھدیٰ صاحب دامت برکاتہم کے کتاب ’’ کیا ہمارا آئین اسلامی ہے؟ ‘‘ سے اقتباس۔

    [​IMG]
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں