1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جمہوری سیاست میں شرکت کا حکم اور کیفیات

'جمہوریت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد فیض الابرار, ‏نومبر 08، 2014۔

  1. ‏نومبر 08، 2014 #21
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,031
    موصول شکریہ جات:
    1,192
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    یہ میرے ایک طالب علم کا مقالہ تھا جو اس نے مجھے ای میل کیا تھا میں نے اسے بغیر کسی تبدیلی کے یہاں پوسٹ کر دیا ہے اس کے بے شمار مندرجات پر ملاحظات لگائے جا سکتے ہیں لیکن پھر بھی انتخابی سیاست میں شرکت پر ایک اچھی تحریر ہے
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 10، 2014 #22
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,977
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    جزاک الله -

    جمہوری نظام کے خلاف دلائل سے بھرپور مضمون ہے -
     
  3. ‏نومبر 13، 2014 #23
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    مضمون نگار نے اگرچہ کافی محنت سے مضمون مرتب کیا ہے لیکن جمہوری نظام کے حکم اور اس کے ساتھ تعامل میں فرق کرنے میں نا اہل رہے ہیں۔ ایسے فروق کے جاننے کے لیے عموما ان لوگوں کی صحبت درکار ہوتی ہے جنہوں نے معاشرے میں کوئی قابل قدر دینی کام کیا ہو۔ کتابی مطالعہ بہت ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ان لوگوں کی صحبت بھی بہت ضروری ہے جو کوئی بڑے پیمانے پر دینی کام کر گئے ہیں یا کم از کم صحبت اگر میسر نہ ہو تو ان کی سوانح کا ہی بندہ مطالعہ کر لیں تو اس سے بھی اعتدال پیدا ہو جائے گا۔
     
    • پسند پسند x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 13، 2014 #24
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,977
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    آج کل ایک اور فورم پر میرا "عثمانی" فرقے سے جمہوریت کے متعلق بحث مباحثہ جاری ہے - جمہوریت کے حکم سے متعلق ان کا بھی تقریبا یہی موقف ہے جو ہمارے ملک میں اکثرعلماء بشمول (اہل حدیث علماء) کا ہے - یعنی ان کے نزدیک نہ صرف جمہوری نظام جائز ہے بلکہ عین اسلامی افکار کے مطابق ہے جس میں ہر کام آپس کے مشورے سے انجام پاتا ہے-

    اب یہ الله بہتر جانتا ہے کہ جمہوریت کے جائز ہونے سے متعلق "عثمانیوں" کا موقف انہوں نے ہمارے نام نہاد علماء سے لیا ہے -یا پھر ہمارے علماء عثمانی فرقے سے اس معاملے میں متاثر ہیں-؟؟؟
     
  5. ‏نومبر 13، 2014 #25
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    اللہ آپ کو ذہنی بلوغت عطا فرمائے کہ حکم اور تعامل کا فرق سمجھ سکیں۔
     
  6. ‏نومبر 13، 2014 #26
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,977
    موصول شکریہ جات:
    1,494
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    محترم -

    میں نے اس فورم پر دیے گئے مضمون پر کمنٹس نہیں پیش کیے "کہ جمہوری نظام کے حکم اور اس کے ساتھ تعامل میں کیا فرق ہے"؟؟؟ -بس ایک بات کی تھی کہ دور حاضرکے علماء اور عثمانیوں کے جمہوریت سے متعلق نظریات میں کافی مماثلت ہے -ذہنی بلوغت تو ان میں پیدا ہونی چاہیے جو جمہوریت کے کفریہ نظام کے زریے ملک میں "اسلام " کا نفاذ چاہتے ہیں -
     
  7. ‏نومبر 13، 2014 #27
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,031
    موصول شکریہ جات:
    1,192
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    ابو الحسن علوی صاحب یہ ایک طالب علم کی کاوش ہے اور طالب علمانہ زندگی کے حساب سے ایک اچھی کاوش ہے اور میں نے ابتدا میں ہی لکھ دیا تھا کہ
    اس پر ملاحظات لگائے جا سکتے ہیں
    شاید آپ نے غور نہیں کیا
     
  8. ‏نومبر 15، 2014 #28
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,482
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    طالب علمانہ زندگی میں یہ ایک اچھی کاوش نہیں بہت اچھی کاوش ہے۔ آپ کی تحریر اور موقف میری نظر میں تھا۔ طالب علم کا علم اچھا ہے لیکن علم کی تطبیق میں بہتری کی گنجائش ہے۔ ہمارے استاذ حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب اکثر فرماتے ہیں کہ اصول فقہ پڑھنے کے لیے دو سال اور اس کی تطبیق سیکھنے کے لیے بیس سال چاہییں۔ علوم کی تطبیق میں اس وقت اعتدال پیدا ہوتا ہے جبکہ انسان معاشرے میں نکل کر لوگوں سےعلمی گفتگو کرے، معاشرے کا جزو بنے، لوگوں کے مسائل سمجھے اور حل کرے اور عملا دین کی کوئی بڑی خدمت کرے۔ اپنے شاگرد کو اگر مزید بنانا چاہتے ہیں تو انہیں اب علم دوست لوگوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کا مشورہ دیں۔ یہاں فورم پر آ جائیں۔ میرے جیسے بہت سے انہیں ایسے دوست مل جائیں گے کہ جن کی وہ اصلاح کریں اور وہ ان کی اصلاح کریں گے اور تبادلہ خیال سے ذہن وسیع بھی ہو گا اور کھلے گا بھی۔

    اب دیکھیں کتنی سادہ سی اور سامنے کی بات ہے کہ ایک یہودی کا حکم ہے کہ وہ کافر ہے اور اس کے ساتھ تعامل ہے یعنی اس سے لین دین، معاملات یا مناکحات وغیرہ کا باب ہے۔ دونوں میں فرق ہے۔ ایک مشرک والدین کا حکم ہے اور ایک ان کے ساتھ تعامل ہے کہ کیا رویہ یا اخلاق یا خدمت یا معاملات وغیرہ جائز ہیں۔ ایک جمہوریت کا حکم ہے اور ایک اس کےساتھ تعامل ہے یعنی جمہوری نظام کے ساتھ کیا برتاو کیا جائے کہ اس کا شر کم ہو جائے۔ پھر خود جمہوری نظام کے گہرائی سے مطالعہ کی ضرورت ہے کہ مغرب میں اور یہاں کے نظام میں کیا فرق ہے۔ پھر مسلمان صرف پاکستان میں نہیں ہیں۔ انڈیا میں بھی ہیں۔ وہاں کیا کریں؟ ساری چیزیں مدنظر رکھتے ہوئے کوئی جامع بحث کی جا سکتی ہے۔لیکن اس کے لیے پہلے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کو ذہن کھولنے کی ضرورت ہے۔

    مجھے خود جب بعض اوقات کسی پیچیدہ موضوع پر لکھنا ہوتا ہے تو پہلے فورم پر یا فیس بک پر ایک پوسٹ ڈال کر لوگوں کی رائے جان کر اس کے مختلف پہلووں کی روشنی میں ایک رائے بنانے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس طرح جب بہت سے ذہن ایک رائے کےبننے میں شامل ہو جائیں تو کسی قدر اعتدال آ ہی جاتا ہے۔ جزاکم اللہ خیرا۔ یہ اصلاح سے زیادہ مشورہ کی پوسٹ تھی۔
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏نومبر 15، 2014 #29
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,031
    موصول شکریہ جات:
    1,192
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    جزاک اللہ خیرا بالکل ایسا ہی ہوتا ہے اور ہونا بھی یہی چاہیے اس مقالہ کی فوٹو کاپی میں کروا کر اپنے بعض اساتذہ ساتھیوں کو دے چکا ہوں اور ان کی طرف سے جو ملاحظات لگائے گئے وہ اس ساتھی کو دے چکا ہوں اور ان ملاحظات کی تعداد تقریبا 22 ہے جب وہ اس کو تیار کر لے گا تو میں اسے یہاں شئیر کروں گا
     
  10. ‏نومبر 15، 2014 #30
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,031
    موصول شکریہ جات:
    1,192
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    اگر آپ اس مر کی وضاحت کر دیں کہ اس میں کیا غلطی ہے تو میرا خیال ہے زیادہ مناسب ہو گا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں