1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جناب براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے منقول عدم رفع الیدین کی روایت

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از danish ghaffar, ‏دسمبر 31، 2017۔

  1. ‏دسمبر 31، 2017 #1
    danish ghaffar

    danish ghaffar رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 30، 2017
    پیغامات:
    93
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    سنن ابو داؤد کی حدیث (749 )
    کی سند کی تحقیق درکار ہے
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 01، 2018
  2. ‏جنوری 01، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    شاید آپ سنن ابوداود میں جناب براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے منقول عدم رفع الیدین کی روایت کے متعلق پوچھنا چاہتے ہیں :

    حدثنا محمد بن الصباح البزاز، ‏‏‏‏‏‏حدثنا شريك، ‏‏‏‏‏‏عن يزيد بن ابي زياد، ‏‏‏‏‏‏عن عبد الرحمن بن ابي ليلى، ‏‏‏‏‏‏عن البراء، ‏‏‏‏‏‏"ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا افتتح الصلاة رفع يديه إلى قريب من اذنيه ثم لا يعود".
    سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں کے قریب تک اٹھاتے تھے پھر دوبارہ ایسا نہیں کرتے تھے۔

    (سنن ابي داود:749،750، سنن دارقطني:293/1، مسند ابي يعليٰ:1690) وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۲۸۲، ۳۰۱، ۳۰۲، ۳۰۳)
    (اس کے راوی یزید ضعیف ہیں آخر عمر میں ان کا حافظہ خراب ہو گیا تھا، کبھی «لایعود» کے ساتھ روایت کرتے تھے اور کبھی بغیر اس کے، اس لئے ان کی روایت کا اعتبار نہیں)
    ___________________________
    تبصرہ:
    (۱) اس کی سند ”ضعیف“ ہے۔
    حفاظ محدثین کا اس حدیث کے ”ضعف“ پر اجماع و اتفاق ہے، اس کا راوی یزید بن ابی زیاد جمہور کے نزدیک ”ضعیف“ اور ”سیئ الحفظ“ ہے، نیز یہ ”مدلس“ اور ”مختلط“ بھی ہے، تلقین بھی قبول کرتا تھا۔

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
    ضعيف، كبر، فتغير، وصار يتلقن وكان شيعيا.
    ”یہ ضعیف راوی ہے، بڑی عمر میں اس کا حافظہ خراب ہو گیا تھا اور یہ تلقین قبول کرنے لگا تھا، یہ شیعی بھی تھا۔“ (تقريب التھذيب: 7717)

    نیز لکھتے ہیں:
    والجمھور علي تضعيف حديثه. جمہور محدثین اس کی حدیث کو ضعیف کہتے ہیں۔ (ھدي السارى:459)

    علامہ بوصیری لکھتے ہیں:
    يزيد بن أبي زياد أخرج له مسلم في المتابعات وضعفه الجمھور.
    ”یزید بن ابی زیاد کی حدیث امام مسلم نے متابعات مین بیان کی ہے، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔“ (زوائد ابن ماجه:549/2)

    امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    لا يخرج منه في الصحيح، ضعيف، يخطئ كثيرا.
    ”کسی صحیح کتاب میں اس کی کوئی حدیث بیان نہیں کی جائے گی، یہ ضعیف ہے اور بہت زیادہ غلطیاں کرتا تھا۔“ (سوالات البرقاني:561)

    حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    وليس ھو بالمتقن، فلذا لم يحتج به الشيخان.
    ”وہ پختہ راوی نہیں، اسی لیے شیخین (بخاری و مسلم) نے اس سے حجت نہیں لی۔“ (سير أعلام النبلاء:129/6)

    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ولم يكن يزيد بن أبي زياد بالحافظ، ليس بذالك.
    ”یزید بن ابی زیاد حافظ نہیں تھا، حدیث کی روایت کے قابل نہ تھا۔“ (الجرح و التعديل:265/9)

    امام ابوحاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ليس بالقوي. ”یہ قوی نہیں تھا۔“ (الجرح و التعديل:265/9)

    امام ابوزرعہ الرازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    لين، يكتب حديثه، ولا يحتج به.
    ”کمزور راوی ہے، اس کی حدیث لکھی جائے گی، لیکن اس حجت نہیں لی جائے گی۔“ (الجرح و التعديل:265/9)

    امام جوزجانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    سمعتھم يضعفون حديثه. ”میں نے محدثین کو اس کی حدیث کو ضعیف قرار دیتے ہوئے سنا۔“ (احوال الرجال:135)

    امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ليس بالقوي. ”یہ قوی نہیں۔“ (الضعفاء والمتروكين:651)

    امام یحیی بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ولا يحتج بحديث يزيد بن أبي زياد. ”یزید بن ابی زیاد کی حدیث سے حجت نہیں لی جائے گی۔“ (تاريخ يحيي بن معين:3144)

    امام وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    ليس بشئ. ”یہ (حدیث میں) کچھ بھی نہیں۔“ (الضعفاء للعقيلى:380/4،وسنده صحيح)

    امام علی بن المدینی رحمہ اللہ نے بھی اسے ”ضعیف“ قرار دیا ہے۔ (الضعفاء للعقيلى:480/4،وسنده صحيح)


    قال الشيخ زبیر علی زئی في انوار الصحیفة فی احادیث ضعیفة من السنن الاربعة:
    إسناده ضعيف ¤ يزيد بن أبي زياد ضعيف ، مدلس مختلط (انظر التقريب:7717،وطبقات المدلسين:3/112) وقال البوصيري : وضعفه الجمھور (زوائد ابن ماجه:2116) ا وانظر ح 1966 وحدث به بعد اختلاطه وعنعن في ھذا اللفظ وقال الحافظ ابن حجر : والجمھور على تضعيف حديثه (ھدي الساري ص 459)

    ــــــــــــــــــــــــــــــــ
     
    Last edited: ‏جنوری 01، 2018
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. قاضی شہباز پرویز
    جوابات:
    2
    مناظر:
    432
  2. شیخ قاسم
    جوابات:
    0
    مناظر:
    1,518
  3. شیخ قاسم
    جوابات:
    0
    مناظر:
    1,601
  4. شیخ قاسم
    جوابات:
    0
    مناظر:
    501
  5. شیخ قاسم
    جوابات:
    0
    مناظر:
    492

اس صفحے کو مشتہر کریں