1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جوائنٹ فیملی سسٹم

'رسوم ورواج' میں موضوعات آغاز کردہ از سید طہ عارف, ‏اپریل 12، 2016۔

  1. ‏اپریل 16، 2016 #11
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    ہمارے خاندانوں میں جائنٹ فیملی سسٹم ہے، اور میں اسی کو سپورٹ کرتا ہوں، اس کے بہت سے فائدے ہیں، اگر میرے علاوہ بھی کوئی اور جائنٹ فیملی سسٹم کے ساتھ اٹیچڈ ہے تو وہ جانتا ہو گا یا میں گنوا سکتا ہوں، رہی بات پردہ کی تو اس پر کوئی برا اثر نہیں پڑتا۔

    والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 16، 2016 #12
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ہمارا بھی رہن سہن ایسے ہی ہے ۔ آپ بسم اللہ کریں ، مل جل کر اس کی خوبیاں ، خامیاں بیان کرتے ہیں ۔
     
  3. ‏اپریل 16، 2016 #13
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    719
    موصول شکریہ جات:
    134
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    اور جو خامیاں اس کا حل بھی بیان کی جیے گا

    Sent from my SM-G360H using Tapatalk
     
  4. ‏اپریل 16، 2016 #14
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ.
    میں بھی الحمد للہ جوائنٹ فیملی کا قائل ھوں. اور میں بھی یہ چاہتا ھوں کہ ھم ساتھ رھیں لیکن افسوس کہ یہ خواہش ادھوری ھی رہ جائیگی.


    وراثت کا مسئلہ ھے. بڑا بیٹا کماتا ھے اور گھر میں ھی پیسے دیتا ھے اور یہ سلسلہ شادی کے بعد تک چلتا ھے تو اسمیں دقت یہ آتی ھے کہ باپ کے مرنے کے بعد بڑے بیٹے کو بھی دوسرے بیٹوں کے برابر ھی حصہ ملتا ھے حالانکہ اس نے اپنا پیسہ بھی لگایا تھا. کیا یہ اسلام کا طریقہ صحیح ھے؟؟
    (یقینا صحیح ھے. اسلام کا طریقہ کبھی غلط نہیں ھو سکتا. وہ کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کرتا ھے. لیکن مجھے اسکا جواب چاہیۓ. )
    اگر کوئ صاحب میرے سوال کا جواب جانتے ھیں تو پلیز رہنمائ کریں.
     
  5. ‏اپریل 16، 2016 #15
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

  6. ‏اپریل 16، 2016 #16
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    یہ باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیٹوں کی شادی کر نے کے ساتھ ہی اسے ایک ”الگ گھر“ میں آزادانہ رہنے سہنے کی سہولت بھی فراہم کرے۔ بیٹوں کی شادی کے وقت باپ اگر صاحب جائیداد ہے تو اپنی زندگی ہی میں اپنے بچوں میں اسے اس طرح تقسیم کردے کہ ہر ایک کو رہنے سہنے کے لئے ”الگ گھر“ مل سکے۔ الگ گھر الگ الگ مکانات پر بھی مشتمل ہوسکتا ہے اور ایک ہی بڑے گھر کی الگ الگ پورشن پر بھی۔ ”الگ گھر“ میں کم از کم دو باتیں ضرور ہونی چاہئے۔ ایک تو پرائیویسی، دوسرے الگ الگ کچن، جس میں ہر بہو آزادی سے اپنا الگ کھا پکا سکے۔ روزمرہ کی معمولات زندگی کا خرچہ الگ الگ، جو بہت سی برائیوں اور فسادات سے بچاتا ہے۔

    میں ذاتی طور پر ان دونوں نظام کے ”درمیانی نظام“ کا قائل ہوں۔ میں خود اپنی مثال پیش کرتا ہوں۔ میں ریٹائرمنٹ کے قریب ہوں اور اپنے چار بچوں کی شادیوں کا آغاز کرنے والا ہوں۔ میں نے اپنی جملہ جمع پونجی سے ایک ایسی ”کمرشیل بلڈنگ“ بنائی، جس کے ہر فلور کی الگ الگ قانونی ملکیت (سب لیز) ہوتی ہے۔ پھر میں نے ایک ایک فلور ایک ایک بچہ کے نام کردیا۔ ہر فلور ایک مکمل یونٹ (عرف عام میں اپارٹمنٹ) ہے۔ جس جس کی شادی ہوتی جائے گی، وہ اپنے اپنے یونٹ میں الگ آباد ہوتا جائے گا۔ اپنا کمائے گا، اپنا کھائے گا۔ مکمل پرائیویسی بھی رہے گی اور سارے بھائی ”ساتھ ساتھ“ بھی رہیں گے۔ جہاں ایسا ممکن نہ ہو، والدین اپنے بچوں کے اپنے گھر کے آس پاس الگ الگ مکانات لے کر دیں، یا اپنے بڑے مکان کے پورشن کردیں یا بڑا گھر بیچ کر ہر بچے کے لئے الگ الگ چھوٹے مکانات یا اپارٹمنٹ بنوا کر یا خرید کر دیدیں۔

    ہم اس طرف دھیان ہی نہیں دیتے کہ ہمارے بعد ہماری جائیداد کے وارث ہمارے بچے ہوں گے تو کیوں نہ انہیں اپنی زندگی میں ان کا متوقع حصہ دیدیں۔ تاکہ بعد میں کسی وجہ سے یہ جھگڑ نہ سکیں۔ بچوں میں کوئی خوشحال ہوتا ہے تو کوئی غریب۔ چنانچہ ہم اپنی زندگی میں ہر ایک کو اس کی ”ضرورت“ کے مطابق دے سکتے ہیں۔ مرنے کے بعد تو سب کو برابر کا حصہ ملے گا اور جو بچہ غریب ہوگا، عین ممکن ہے کہ اسے اپنے امیر بھائیوں کا تعاون نہ ملے اور وہ مالی پریشانی میں زندگی گذارے۔

    اگر شادی کے بعد ”الگ الگ رہائشی یونٹس“ نہ بنے بلکہ ”آبائی یونٹ“ کی توسیع کی جاتی رہے تو صرف ایک دو نسلوں کے بعد ہی اتنی ”بڑی حویلی“ وجود مین آجاتی ہے کہ اس کا ”بٹوارہ“ بھی مشکل ہوجاتا ہے اور ”مشترکہ اخراجات وکھانے پینے“ کے سبب تنازعات میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اگر آپ ایسے بڑے مشترکہ خاندانوں کا وزٹ کریں جہاں چار پانچ بھائی اپنے اپنے چار پانچ بچوں کے ساتھ ”مل جل“ کر رہتے بستے ہوں تو (استثنیٰ کے علاوہ) آپ کو ایسے ہر کاندان میں بہت سی خامیاں اور تنازعات لازمی نظر آئیں گے، بشرطیکہ آپ ”غیر جانبداری اور عدل“ کے ساتھ سروے کریں
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏اپریل 16، 2016 #17
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

    شیخ محترم @اسحاق سلفی بھائی اس پر کچھ وضاحت کر دے -
     
  8. ‏اپریل 16، 2016 #18
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    پورا خاندان ايك ہى گھر ميں رہے تو كيا عورت سارا دن نقاب پہن كر ركھے !

    ميں اپنے خاوند كے ساتھ ديور اور ساس كے ساتھ سسرالى گھر ميں رہتى ہوں، اس ليے كہ ہمارے پاس كوئى ملازم نہ ہونےكى بنا پر ہمارے ہاں عادت اور رواج ہے كہ عورت ہى گھر كے كام كاج كرتى ہے، اور بعض اوقات اس ميں مشكل اعمال بھى شامل ہوتے ہيں، جس كى بنا پر عورت حجاب ميں تخفيف كى ضرورت محسوس كرتى ہے.

    ايك اور مشكل يہ ہے كہ گھر كا دروازہ ہر وقت كھلا رہتا ہے، اور گھر ميں كسى بھى رشتہ دار مثلا چچا ماموں وغيرہ كو بغير اجازت داخل ہونے كى اجازت ہے!!

    اسى طرح جب ہم بالكونى كى صفائى كرتے ہيں تو ہمارے پڑوسى اور سڑك كے سب لوگوں كى نظر پڑتى ہے، تو كيا گھر سے باہر نكلتے وقت ہى ہمارے ليے نقاب كرنا صحيح ہے، يا كہ گھر ميں بھى صبح سے ليكر شام تك نقاب كرنا ہوگا، يہ علم ميں رہے كہ ايسا كرنا ہمارے ليے بہت مشكل ہے ؟

    يہ بھى علم ميں رہے كہ ہمارے ليے مخصوص فليٹ تو ہے ليكن ہم وہاں صرف سونے يا خاص موقع كے وقت ہى جاتے ہيں!! يہ حالت ميرى اكيلى ہى كى نہيں بلكہ بہت سارى عورتيں جو شرعى پردہ كرنا چاہتى ہيں ان كى بھى يہى حالت ہے، ہميں كيا كرنا چاہيے، اللہ تعالى آپ كو عزت سے نوازے ہميں اس كے متعلق معلومات فراہم كريں ؟

    Published Date: 2007-12-21

    الحمد للہ:

    اول:

    جيسا آپ نے بھى كہا ہے كہ يہ مشكل صرف اكيلى آپ كے ليے ہى نہيں بلكہ بہت سارے لوگوں كو يہى مشكل درپيش ہے جو بعض ان ممالك ميں بستے ہيں جہاں معاشرتى حالات اس طرح كى مختلط زندگى بسر كرنے كى اجازت ديتے ہيں، جہاں انسان شادى كے بعد اپنے خاندان كے ساتھ ايك ہى گھر ميں رہتا ہے، جس كا معنى يہ ہوا كہ بيوى بھى اسى گھر ميں رہےگى جہاں خاوند كے دوسرے رشتہ دار يعنى بھائى اور بھتيجے وغيرہ رہتے ہيں.

    ہم آپ كے ساتھ متفق ہيں كہ يہ حالت بہت سارى مشكلات اور حرج كا باعث بنتى ہے، اور اس طرح كى حالت ميں شرعى پردہ اور شرعى آداب كا خيال كرنا بہت ہى زيادہ مشكل اور مشقت كا كام ہے؛ سوال كرنے والى بہن ہم آپ كو بھى يہى كہتے ہيں كہ:

    بہت سارى عورتيں جو اپنے پردہ كا خاص خيال كرتى ہيں، اور اپنے پروردگار كى حدود كى حفاظت كرتى ہيں، ان كے ليے اس طرح كى مشكل ترين حالت پر كنٹرول كرنا ممكن، اور اللہ كى حدود كا التزام كرنا ممكن ہے باوجود مشقت اور مشكل كے جو انہيں حاصل ہوتى ہے، اور جسے ہم بھى جانتے ہيں.

    اور اگر يہ حالت يعنى مشتركہ معيشت اور رہن سہن پسند نہ ہو جس سے موجودہ وقت ميں فرار ممكن نہيں، جيسا كہ اكثر اوقات حال ہے تو ہم اندر سے گھر كا دروازہ بند كر كے اسكى محافظت كر كے رہائش كر سكتے ہيں، اور اس طرح آپ كے ليے اوردوسرى عورتوں كے ليے بھى ممكن ہو گا كہ جب كوئى مرد گھر ميں داخل ہو تو آپنا حجاب اور پردہ پہن ليں يا پھر غير محرم مرد كى گھر ميں موجودگى كے وقت، ليكن اس كے ساتھ آپ يہ بھى خيال ركھيں كہ حتى الامكان آپ اس كے ساتھ اكيلى كمرہ يا كسى بند جگہ پر نہ ہوں، چاہے آپ نے پردہ بھى كر ركھا ہو پھر بھى نہيں.

    اور اس مشكل ميں آپ كے خاوند كا بھى حق اور كام ہے كہ وہ اپنے بھائى اور باقى دوسرے مرد اقرباء كو متنبہ كرے كہ وہ اس ادب كا خاص كر خيال كريں،كيونكہ يہ اللہ كى حدود ميں سےايك حد ہے، جس سے تجاوز كرنے كا ہميں كوئى حق حاصل نہيں، اور نہ ہى كسى بھى شخص كے ليے اس سے كھيلنا جائز ہے.

    خاوند كے قريبى مردوں كے ليے بيوى كے پاس جانے ميں تساہل برتنے كے متعلق بچنے كا كہا گيا ہے، جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    " تم عورتوں كے پاس جانے سے اجتناب كرو "

    تو ايك انصارى شخص نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ذرا خاوند كے قريبى مرد ( ديور ) كے متعلق تو بتائيں ؟

    تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " ديور تو موت ہے "


    صحيح بخارى حديث نمبر ( 5232 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2172 ).

    الحمو: خاوند كے بھائى ( يعنى ديور ) اور دوسرے قريبى رشتہ دار مرد مثلا چچا كے بيٹے وغيرہ كو كہا جاتا ہے.

    اس مشكل كو ہمارے تسليم اور اقرار كے باوجود ابتدائى امر ميں، جب كہ بہت سارے لوگوں كى جبلت يہ ہے كہ وہ مخالفت سےمحبت كرتے ہيں، اور حدود و آداب كا خيال ركھنے سے انہيں نفرت ہے اور وہ اس سے بھاگتے ہيں، ہمارے اس اقرار كے ساتھ ہم آپ كو يہ خوشخبرى ديتے ہيں كہ يہ معاملہ وقت كے ساتھ ساتھ مالوف ہو كر ايك عادت بن جائيگا، ليكن اس كے ليے ابتدائى طور پر صبر و تحمل اور جدوجھد كى ضرورت ہے، اور آپ كےاس پر صبر كرنے ميں معاون چيز يہ ہے كہ آپ اور آپكا خاوند جان لے كہ اجروثواب مشقت كے حساب سےملتا ہے.

    دوم:

    آپ نے بيان كيا ہے كہ آپ كا اپنا خاص فليٹ بھى ہے، يہ اس مشكل سے نكلنے كے ليے بہت ہى اچھا اور آرام دہ حل ہے.

    آپ كے خاوند كو دو ميں سے ايك پرعمل كرنا ہو گا:

    اول:

    يا تو وہ اس فليٹ ميں رہنے پر راضى ہو جائے، اور آپ دن كا اكثر حصہ اس فليٹ ميں گزار ديں، جيسا كہ بيويوں كے ليے طبعى حال ہے، جب خاندان كے گھر كا دروازہ كھلا رہتا ہے، اور آپ كے غير محرم اور اجنبى مرد وقتا فوقتا گھر ميں آتے رہتے ہيں، اور آپ كے ساتھ غير محرم مرد بھى رہتے ہيں، يہ ايسا معاملہ ہے جس كى بنا پر يہ مشكل پيدا ہوئى ہے جس كا آپ نے اپنے سوال ميں ذكر كيا ہے، يا پھر پردہ كرنےاور اختلاط سے بچنے ميں تساہل سے كام ليا گيا، اور اس كے نتيجہ ميں جو گناہ اور معصيت اور فتنہ سامنے آتا ہے.

    دوم:

    اگر حالات اسے اس وقت كسى سبب يا كسى اور وجہ سے عليحدہ ہونے كى اجازت نہ ديں تو آپ كے خاوند اور اس كے گھر والوں پر واجب ہے كہ وہ آپ كے پردہ اور آپ كے دين كے سلسلہ ميں آپ كى معاونت كريں جيسا كہ ہم پيچھے اشارہ كر چكے ہيں، اور يہ معاملہ ناممكن نہيں، بلكہ نہ ہى مشكل ہے، بہت سارے لوگوں نے اس كى محافظت كى تو ان كى زندگى بہتر اور اچھى بسر ہونے لگى.

    سوم:

    علماء كرام كے صحيح قول كے مطابق عورت كے چہرے كا پردہ اجنبى اور غير محرم مردوں سے واجب ہے، ہم اسے سوال نمبر
    ( 11774 ) كے جواب ميں بيان كر چكے ہيں، اسى طرح مرد و عورت كے اختلاط كى حرمت كے دلائل بھى ہم سوال نمبر ( 12525 ) كے جواب ميں بيان كر چكے ہيں، آپ ان كا مطالعہ كريں.

    اور اجنبى اور غير محرم مردوں كے ضمن ميں خاوند كا بھائى ( يعنى ديور ) اور خاوند كا چچا اور اس كا ماموں شامل ہے، اس ليے بيوى كو ان كے سامنے اپنا چہرہ ننگا كرنے كى كوئى ضرورت نہيں.

    اس بنا پر جب ِآپ بالكونى پر نكليں تو آپ كے ليے چہرے اور عام بدن كو چھپانا لازم ہے، جہاں سے سڑك پر موجود لوگ آپ كو ديكھتے ہيں اور اس ميں آپ كے ليے كوئى مشقت نہيں، كيونكہ يہ بار بار يا ہميشہ نہيں كبھى كبھار ہوتا ہے، اسى طرح يہ بھى ممكن ہے كہ آپ بالكونى ميں كوئى جنگلہ وغيرہ لگوا ديں جو لوگوں كے ليے ديكھنے ميں مانع ہو.

    اے اللہ كى بندى آپ يہ جان ليں كہ شرعى احكام آسان ہيں، اور ان ميں كوئى تنگى نہيں، جيسا كہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

    { اللہ تعالى تم پر كوئى تنگى نہيں كرنا چاتا، ليكن و تمہيں پاك كرنا چاہتا ہے، اور تم پر اپنى نعمتيں پورى كرے تا كہ تم شكر گزار بندے بن جاؤ }المآئدۃ ( 6 ).

    يہ آيت مرد و عورت كے ليے عظيم اور نفع مند مصالح كو ثابت كرنے اور معاشرے كو خرابيوں اور فساد و انحراف كے اسباب سے محفوظ ركھنے كى كفيل ہے، ليكن مكلف شخص پر مشكل اس وقت داخل ہوتى ہے جب وہ اس كى تطيبق ميں غلطى كرتا ہے، يا پھر جو نعمتيں اللہ تعالى نے اسے دى ہيں وہ ان سے كما حقہ استفادہ نہيں كرتا،

    لہذا ايك بار پھر تاكيدا كہتے اور اس كو دھراتے ہيں كہ آپ اپنے ليے مخصوص فليٹ سے ضرور استفادہ كريں، اور اختلاط اور بھيڑ سے دور زندگى كا تجربہ كريں، ان شاء اللہ آپ اس ميں راحت و سكون اور سعادت محسوس كرينگى.

    اللہ تعالى آپ كو اپنے محبوب كام كرنے كى توفيق نصيب فرمائے.

    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال و جواب

    https://islamqa.info/ur/85163
     
    Last edited: ‏اپریل 16، 2016
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  9. ‏اپریل 16، 2016 #19
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    محترم شیخ @اسحاق سلفی صاحب حفظہ اللہ
     
  10. ‏اپریل 16، 2016 #20
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    اولاد كو عطيہ دينے ميں عدل كرنا واجب ہے

    ميں والدہ كو ايك ہزار ريال ماہانہ ديا كرتا تھا، حالانكہ انہيں مال كى ضرورت نہ تھى، يہ اس ليے ديتا كہ والدين كى نيكى ميں سے كچھ حصہ لوٹا سكوں، والدہ يہ رقم جمع كرتى رہتى رہى ہيں، اور كچھ عرصہ بعد ميں نے اپنا گھر تعمير كرنا شروع كيا تو مجھے رقم كى ضرورت پڑى اس ليے ميں نے والدہ كو ماہانہ دينا بند كر ديا، پھر ميرى والدہ ميں يہ تجويز پيش كى كہ ميں اور ميرى ( شادى شدہ ) بہن يہ رقم آپس ميں تقسيم كر ليں، كيونكہ بہن كى مالى حالت صحيح نہيں، يہ علم ميں رہے كہ اس شادى شدہ بہن كے علاوہ بھى ميرى ايك بہن اور بھائى جو بہتر زندگى بسر كر رہے ہيں، سوال يہ ہے كہ:

    كيا دوسرى بہن اور بھائى كو ديے بغير ميرے اور ميرى محتاج بہن كے ليے يہ مال آپس ميں تقسيم كرنا جائز ہے، اوراگر جائز نہيں تو پھر والدہ يہ رقم كس طرح تقسيم كر سكتى ہيں ؟

    Published Date: 2007-07-24

    الحمد للہ:

    اول:

    اللہ سبحانہ وتعالى نے عطيہ ديتے وقت اولاد كے مابين عدل و انصاف كرنا واجب كيا ہے، چاہے اولاد ميں لڑكے ہوں يا لڑكياں بھى.

    نعمان بن بشير رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ان كے والد انہيں لے كر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئے اور كہنے لگے:

    " ميں نے اپنے اس بيٹے كو ايك غلام ہبہ كيا ہے، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    كيا تو نے اپنے سب بيٹوں كو اسى طرح ( غلام ) ہبہ كيا ہے ؟

    تو انہوں نے عرض كيا: نہيں.

    رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے:

    تو اس سے غلام واپس لے لو "


    صحيح بخارى حديث نمبر ( 2446 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1623 ).

    اور جب والد اپنى اولاد ميں سے كسى ايك كو عطيہ دينے ميں افضليت دے تو اسے چاہيے كہ وہ اولاد ميں عدل و انصاف كرے، يہ دو ميں سے ايك طرح ہو سكتا ہے:

    يا تو وہ ديا گيا ہديہ واپس لے لے.

    يا پھر دوسروں كو بھى اسى طرح كا ہديہ دے، يا كہ ان سب كے مابين انصاف ہو سكے.

    ديكھيں: الموسوعۃ الفقھيۃ ( 11 / 359 ).

    دوم:

    " اولاد ميں سے كسى ايك كو افضليت دينے كى ممانعت ميں والدہ كا حكم بھى والد كى طرح ہى ہے؛ كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    " اللہ كا تقوى اختيار كرو اور اللہ سے ڈر كر اپنى اولاد كے مابين عدل كيا كرو "

    اور اس ليے بھى كہ والدين ميں سے ايك والدہ بھى ہے، تو اسے بھى والد كى طرح كسى كو افضليت دينے سے روك ديا گيا ہے، اور اس ليے بھى كہ والد كى جانب سے كسى ايك بيٹے يا بيٹى كو مخصوص كرنے پر باقى اولاد ميں حسد و بغض پيدا ہوتا ہے، اسى طرح والدہ كى جانب سے كسى ايك كو افضليت دينے ميں بھى حسد و بغض پيدا ہوتا ہے، تو اس طرح والدہ كے ليے بھى اس مسئلہ ميں اس جيسا ہى حكم ثابت ہوا " انتہى.

    ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 8 / 261 ).

    سوم:

    والد كى جانب سے اپنى اولاد كو عطيہ دينے ميں وراثت كے حساب سے شرعى تقسيم كے طريقہ پر عمل كرنا ہوگا، تو اس طرح ايك لڑكے كو دو لڑكيوں كے برابر ديا جائيگا، كيونكہ اللہ تعالى كى تقسيم سے زيادہ عدل و انصاف كرنے والا كوئى اور نہيں ہو سكتا.

    شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ " الاختيارات " ميں لكھتے ہيں:

    " اپنى اولاد كے مابين عطيہ ديتے وقت وراثت كے حساب سے عدل كرنا واجب ہے، امام احمد كا مسلك يہى ہے " انتہى.

    ديكھيں: الاختيارات ( 184 ).

    قاضى شريح رحمہ اللہ نے اپنى اولاد كے مابين مال تقسيم كرنے والے ايك شخص كو كہا تھا:

    " تيرى تقسيم سے تو اللہ تعالى كى تقسيم زيادہ عدل و انصاف پر مبنى ہے، اس ليے تم انہيں اللہ تعالى كى تقسيم اور فرائض كے مطابق دے "

    اسے عبد الرزاق نے المصنف ميں روايت كيا ہے.

    اور عطاء رحمہ اللہ كا قول ہے:

    وہ تو اللہ تعالى كى كتاب كے مطابق ہى تقسيم كيا كرتے تھے.

    ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 8 / 261 ).

    اور مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ہے:

    " آپ كے والد پر لازم ہے كہ اگر وہ اپنا سارا يا مال كا كچھ حصہ اپنى اولاد كے مابين تقسيم كرنا چاہے تو وہ لڑكے اور لڑكيوں سب ميں شرعى وراثت كے مطابق تقسيم كرے، ايك لڑكے كو دو لڑكيوں كے برابر دے " انتہى.

    ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 16 / 197 ).

    چہارم:

    جب اولاد بڑى اور ہوشيار ہو تو باپ يا ماں كے ليے جائز ہے كہ وہ ان ميں سے كسى ايك كو باقى اولاد كى رضامندى اور بغير كسى حرج كى پريشانى كے دے سكتا ہے.

    شيخ ابن باز رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    " والد پر اپنى اولاد بيٹے اور بيٹيوں ميں وراثت كے مطابق عدل كرنا واجب ہے، اور اس كے ليے جائز نہيں كہ وہ ان ميں سے كسى اور كو مخصوص كر كچھ دے اور دوسروں كو نہ دے، ليكن اگر محروم اولاد كى رضامندى اور خوشى سے ايسا كرے تو جائز ہے، ليكن شرط يہ ہے كہ جب وہ ہوشيار ہوں تو پھر جائز ہے، وگرنہ نہيں، اور ان كى رضامندى والد كے خوف اور ڈر سے نہ ہو بلكہ وہ اس ميں اپنے دل سے رضامند ہوں، نہ كہ والد كے خوف سے، ہر حالت ميں ان كے درميان افضليت نہ دينا بہتر اور اچھا ہے اور ان كے دلوں كے ليے بھى زيادہ پاكيزہ ہوگا؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    اللہ تعالى سے ڈرو اور اپنى اولاد كے مابين عدل و انصاف سے كام لو "

    متفق عليہ. انتہى.

    ديكھيں: مجموع الفتاوى الشيخ ابن باز ( 9 / 452 ).


    اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ كا يہ بھى كہنا ہے:

    " بلاشك و شبہ اولاد ميں سے كچھ بچے دوسرے سے بہتر اور اچھے ہوتے ہيں، يہ تو سب كو معلوم ہے، ليكن اس بنا پر والد كے ليے كسى ايك كو افضليت دينى جائز نہيں، بلكہ اسے عدل و انصاف كرنا چاہيے، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

    " اللہ تعالى سے ڈرو اور اپنى اولاد كے مابين عدل و انصاف كيا كرو "

    اس ليے اس بنا پر كسى ايك كو افضليت دينى جائز نہيں كہ يہ اس سے افضل اور بہتر ہے، اور يہ اس سے زيادہ حسن سلوك كرتا ہے، بلكہ والد كو چاہيے كہ وہ ان سب كے درميان عدل و انصاف كرے.

    اور سب كو نصيحت كرنى چاہيے تا كہ وہ حسن سلوك كرنے لگيں اور اللہ تعالى اور اس كے رسول كى اطاعت و فرمانبردارى پر قائم ہو جائيں؛ ليكن وہ اولاد كو عطيہ دينے ميں كسى ايك بيٹے كو دوسرے پر افضليت مت دے، اور نہ ہى كسى ايك كے ليے مال كى وصيت كرے اور باقى كو چھوڑ دے؛ بلكہ وہ سب وراثت اور عطيہ ميں برابر ہيں جس طرح شريعت ميں وراثت اور عطيہ كے متعلق وارد ہے.

    وہ ان ميں عدل و انصاف اسى طرح كرے جس طرح شريعت ميں آيا ہے، اس ليے لڑكے كو دو لڑكيوں كے برابر ملےگا، لہذا اگر وہ اپنى اولاد ميں سے بيٹے كو ايك ہزار ديتا ہے تو بيٹى كو پانچ سو دے، اور اگر وہ ہوشيار اور عاقل و بالغ ہوں اور وہ ايسا كرنے كى اجازت دے ديں اور كہيں كہ ہمارے بھائى كو اتنا ہى دے دو، اور واضح طور پر اس كى اجازت ديں اور كہيں كہ ہم اجازت ديتے ہيں كہ آپ اسے گاڑى دے ديں، يا اتنا مال دے ديں ... اور والد كو علم ہو جائے كہ ان كى يہ اجازت حقيقى ہے، اور اس ميں لگى لپٹى نہيں، اور نہ ہى انہوں نے والد كے خوف سے اجازت دى ہے تو اس ميں كوئى حرج نہيں.

    مقصد يہ ہے كہ اسے عدل و انصاف كرنے كى كوشش كرنى چاہيے، ليكن اگر اولاد ہوشيار اور عاقل و بالغ ہو چاہے وہ لڑكے ہوں يا لڑكياں اور وہ كسى ايك كو كسى مخصوص اسباب كى بنا پر كچھ دينے كى اجازت دے ديں تو اس ميں كوئى حرج نہيں، يہ انہيں حق حاصل ہے " انتہى.

    ديكھيں: مجموع فتاوى الشيخ ابن باز ( 9 / 235 ).

    اس بنا پر آپ كى والدہ پر واجب ہے كہ وہ آپ كے مابين اس مال ميں عدل و انصاف سے كام لے، اور لڑكے كو دو لڑكيوں كے برابر دے، اور اگر كسى ايك كو دوسروں كى رضامندى اور خوشى سے افضليت حاصل ہو تو ان شاء اللہ اس ميں كوئى حرج نہيں.

    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال و جواب

    https://islamqa.info/ur/85163
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں