1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جوائنٹ فیملی سسٹم

'رسوم ورواج' میں موضوعات آغاز کردہ از سید طہ عارف, ‏اپریل 12، 2016۔

  1. ‏اپریل 16، 2016 #21
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    باپ اپنی زندگی میں اولاد کو ”مساوی عطیہ“ کیسے کرسکتا ہے ؟ مثلاً میرا ایک بچہ ایک ایسے تعلیمی ادارے میں پڑھتا ہے، جس کا سالانہ خرچہ پانچ لاکھ روپے ہے۔ جبکہ دوسرے بچہ کا سالانہ تعلیمی خرچہ ایک لاکھ سے بھی کم ہے۔ میں ان دونوں میں ”مساوی خرچ“ کیسے کروں؟

    مثلاً میرا بڑا بیٹا شادی شدہ اور کئی بچوں کا باپ ہے۔ اسے میرے ساتھ میرے گھر میں رہنے میں دقت ہوتی ہے۔ جبکہ دیگر بچے غیر شادی شدہ ہیں اور وہ بآسانی میرے ساتھ رہ رہے ہیں۔ اب اگر میں بڑے بیٹے کے لئے الگ گھر خرید کر دے سکتا ہوں، جو اس کی حقیقی ضرورت بھی ہے تو کیا میں ایسا نہ کروں جبکہ میں سب کو مساوی گھر نہیں دے سکتا؟

    سب سے چھوٹا بیٹا مجھ سے کہے کہ آپ نے بڑے بیٹے پر اب تک جتنا خرچ کیا ہے، اتنا مجھ پر خرچ نہیں کیا۔ لہٰذا حساب کتاب لگا کر فرق کے مساوی رقم مجھے دیجئے تاکہ آپ سب بچوں پر مساوی رقم خرچ کرسکیں۔ کیا مجھے چھوٹے بیٹے کا مطالبہ پورا کرنا ہوگا۔ اور اگر نہ کرسکا تو؟

    ”وراثت“ کی تقسیم کا فارمولہ تو دو اور دو چار کی طرح واضح اور صاف ہے۔ قرآن اور حدیث میں یہ کہاں لکھا ہے کہ میں زندگی میں بھی اپنے (ممکنہ) وارثوں میں وراثت کے قانون کے مطابق ہی ”عطیات“ تقسیم کروں۔ عطیہ، ہدیہ اور وراثت میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟

    اہل علم سے رہنمائی کی درخواست ہے۔
     
  2. ‏اپریل 16، 2016 #22
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    724
    موصول شکریہ جات:
    135
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    22169: تحفہ دیتے وقت اولاد کے مابین برابری نہ کرنے کا حکم

    کیامیرے لیے اولاد میں سے خاص کسی ایک کوتحفہ دینا جائز ہے کہ اس کے دوسرے بھائیوں کوتحفہ دوں ، اوراگر یہ تحفہ اس کے حسن اخلاق اوریا پھر والدین کی اطاعت کی بنا پرہوتوکیا حکم ہوگا ؟

    Published Date: 2004-03-29

    الحمدللہ

    اما بعد :

    علماء کرام کا اتفاق ہے کہ تحفہ وھدیہ دیتے ہوئے اولاد کے مابین عدل وانصاف اوربرابری کرنا مشروع ہے ، لھذا اولاد میں سے کسی ایک کوخصوصا ھدیہ دینا اورباقی کونہ دینا جائز نہيں ہے ۔

    ابن قدامہ المقدسی رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب المغنی میں کہا ہے :

    برابری کرنے کے استحباب اورکسی ایک کودوسرے سے افضلیت دینے کی کراہت میں اہل علم کے مابین کوئي اختلاف نہیں پایا جاتا ۔

    دیکھیں : المغنی لابن قدامہ المقدسی ( 5 / 666 ) ۔

    اولاد کے مابین تفضيل کے حکم میں علماء کرام کے کئي ایک اقوال ہیں جن میں سے دلائل کے لحاض سے دو قول قوی معلوم ہوتے ہیں ( واللہ اعلم ) انہیں ذيل میں ذکرکیا جاتا ہے :

    پہلا قول :

    اولاد کے مابین تفضیل مطلقا حرام ہے یعنی اولاد میں سے کسی ایک بچے کوھدیہ دینے میں افضلیت دینا مطلقا حرام ہے ، اورحنابلہ کے ہاں مشہور مسلک بھی یہی ہے ۔

    دیکھیں : کشاف القناع ( 4 / 310 ) اورالانصاف ( 7 / 138 ) ۔

    اورظاہریوں کا بھی یہی مذھب ہے ( یعنی یہ تفضیل کسی سبب کے ہویا بغیر کسی سبب کے ) ۔

    دوسرا قول :

    اولاد کے مابین تفضیل حرام ہے ، لیکن اگر کوئي شرعی سبب ہوتو پھر جائز ہے ، امام احمد سے ایک روایت یہ بھی ہے ۔

    اورابن قدامہ اورشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہم اللہ نے بھی یہی قول اختیار کیا ہے

    دیکھیں : الانصاف ( 7 / 139 ) اور المغنی ( 5 / 664 ) مجموع الفتاوی لابن تیمیہ ( 31 / 295 ) ۔

    فریقین نے اولاد میں تفضیل کی حرمت پرامام بخاری رحمہ اللہ تعالی کی مندرجہ ذیل حدیث سے استدلال کیا ہے :

    نعمان بن بشیر رحمہ اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اورکہنے لگے : میں نے اپنا غلام اپنے اس بیٹے کودے دیا ہے ، تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

    کیا آپ نے اپنے سب بچوں کواسی طرح دیا ہے ؟ توانہوں نے کہا نہيں ، لھذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : آپ اس سے وہ غلام واپس لے لیں ۔

    صحیح بخاری حدیث نمبر ( 2586 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1623 ) ۔

    اورایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :

    نعمان بشیر رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ : میرے والد نے مجھ پراپنا کچھ مال صدقہ کیا تومیری والدہ عمرہ بنت رواحۃ کہنے لگی کہ میں اس پراس وقت تک راضي نہیں ہو‎ؤنگی جب تک آپ اس پرنبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوگواہ نہ بنادیں ، تومیرے والد نبی مکرم صلی اللہ علیہ کے پاس گئے تا کہ انہیں میرے صدقہ پرگواہ بنا سکیں ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا :

    کیا تونے اپنے ساری اولاد کے ساتھ ایسے ہی کیا ہے ؟ توانہوں نے جواب نفی میں دیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : اللہ تعالی سے ڈرو اوراپنی اولاد کے بابین عدل وانصاف سے کام لو ، میرے والد نے واپس آکر وہ صدقہ واپس لے لیا ۔

    صحیح بخاری حدیث نمبر ( 2587 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1623 )۔

    اورمسلم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں :

    نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بشیر کیا آپ کے اس کے علاوہ اوربھی بچے ہیں ؟ توانہوں نے جواب دیا جی ہاں ، نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

    کیا آپ نے ان سب کوبھی اسی طرح مال ھبہ کیا ہے ؟ وہ کہنے لگے : نہیں ، نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھرمجھے گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم وجور پر گواہ نہيں بنتا ۔

    صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1623 ) ۔

    حدیث سے کئي ایک اعتبارسے دلالت ہورہی ہے :

    اول : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں عدل وبرابری کرنے کا حکم دیا اورامروجوب کا تقاضا کرتا ہے ۔

    دوم : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بیان فرمانا کہ اولاد میں سے باقیوں کوچھوڑتے ہوئے صرف ایک کوتفضیل دینا ظلم وانصافی ہے ، اس کے ساتھ اضافہ یہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہی دینے سے انکار کردیا اوراس سے وہ عطیہ واپس لینے کا کہنا یہ سب کچھ تفضیل کی حرمت پردلالت کرتا ہے ۔

    ان اقوال کے قائلین نے عقلی دلائل سے بھی استدلال کیا ہے جن میں سے چندایک کوذیل میں ذکرکیا جاتا ہے :

    حافظ ابن حجررحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب فتح الباری میں ذکر کیا ہے کہ :

    جس نے اسے واجب قرار دیا ہے اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ : یہ واجب کے مقدمات وابتدایات میں سے ہے ، اس لیے کہ قطع رحمی اورنافرمانی دونوں ہی حرام کام ہیں جوحرام کام تک لےجانے کا سبب بنے وہ بھی حرام ہے ، اورتفضیل بھی اسی حرام کام تک جانے کا سبب ہے ۔

    دیکھیں : فتح الباری شرح صحیح بخاری ( 5 / 214 ) ۔

    اس کی تائيد مسلم کی روایت کے الفاظ بھی کرتے ہیں :

    نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس پرمیرے علاوہ کسی اورکوگواہ بنا لو ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تویہ پسند کرتا ہے کہ وہ سب تیرے ساتھ حسن سلوک اورصلہ رحمی میں برابری کریں ، وہ کہنے لگے کیوں نہیں ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : توپھر ایسا بھی نہيں ۔

    صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1623 ) ۔

    اوراس کی حرمت کے دلائل میں یہ بھی ہے کہ : اولاد میں سے کسی ایک کودوسرے سے بہترجاننے اور تفضیل سے ایک دوسرے کے مابین بغض وعداوت نفرت پیدا ہوگي ، اوران کے اوروالد کے مابین بھی یہی چيز پیدا ہوگي لھذا اس سے منع کردیا گیا ۔

    دیکھیں : المغنی لابن قدامہ ( 5 / 664 ) یہ بھی پہلے معنی جیسا ہی ہے ۔

    دوسرے قول کے قائلین نے کسی مصلحت وحاجت یا پھر عذر کی بنا پرتفضیل کوجائز قرار دیا ہے اورامام مالک کی روایت کردہ حدیث سے استدلال کیا ہے :

    امام مالک رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب موطا میں عائشہ رضي اللہ تعالی عنہ سے بیان کیا ہے کہ وہ کہتی ہیں کہ ابوبکر رضي اللہ تعالی عنہ نےانہیں غابہ نامی جگہ کی کجھوروں میں سے بیس وسق کھجوریں عطیہ کيں اور جب انہیں موت آنے لگی توانہوں نے فرمایا :

    میری بیٹی اللہ کی قسم مجھے لوگوں میں سے سب سے زيادہ اچھا اورپسند یہ ہے کہ تم میرے بعد غنی اورمالدار رہو، اورمیرے بعد تیرا فقر میرے لیے سخت تکلیف دہ ہے ، اگر توان کھجوروں کولے کراپنے قبضہ میں کرلیتی تووہ تیری تھیں ، لیکن آج وہ مال وارثوں کا ہے جوکہ تیرے دوبھائي اوردوبہنیں ہیں لھذا اسے کتاب اللہ کے مطابق تقسیم کرلینا ۔

    عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے کہا اے میرے اباجان اللہ کی قسم اگر ایسے ایسے ہوتا تو میں اسے بھی ترک کردیتی ، ایک بہن تواسماء ہے اوردوسری کون ہے ، توابوبکررضي اللہ تعالی عنہ کہنے لگے وہ بنت خارجہ کے بطن میں ہے اورمیرے خیال میں وہ لڑکی ہے ۔

    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی اپنی مایہ ناز کتاب فتح الباری میں کہتے ہیں : اس کی سند صحیح ہے دیکھیں فتح الباری ( 5 / 215 ) ۔

    اس سے وجہ الدلالت وہی ہے جوابن قدامہ رحمہ اللہ تعالی نے ذکر کی ہے ، وہ کہتے ہیں :

    اس کا احتمال ہے کہ ابوبکررضي اللہ تعالی عنہ نے عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کوان کی ضرورت کے پیش نظر کوئي خاص عطیہ دیا ہو کیونکہ وہ کمانے سے عاجز تھیں ، اس لیے بھی کہ عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کوخصوصیت اورفضیلت حاصل تھی کہ وہ ام المومنین بھی تھیں اوراس کے علاوہ بھی انہيں کئي ایک فضائل حاصل تھے ۔

    دیکھیں : المغنی لابن قدامہ المقدسی ( 5 / 665 ) کچھ کمی وبیشی کے ساتھ ذکر کیا گيا ہے ۔

    اس کے بارہ میں جواب دیا گيا ہے جسے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی نے فتح الباری میں بھی ذکر کیا ہے وہ کہتے ہیں :

    عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کے قصہ کے بارہ میں عروہ کا کہنا ہے کہ عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کے بھائي اس عطیہ پرراضي تھے ۔ فتح الباری ( 5 / 215 )

    دیکھیں : کتاب العدل بین الاولاد صفحہ نمبر ( 22 ) اوراس کے بعد والے صفحات یہ اقتباس کچھ کمی وبیشی کے ساتھ نقل کیا گیا ہے ۔

    ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے اسے مطلقا حرام قرار دیتے ہوئے اپنی کتاب اغاثۃ اللھفان میں کہا ہے :

    اگر صحیح اورصریح سنت جس کا کوئي معارض نہیں میں اس سے منع نہ بھی ثابت ہوتا توپھر قیاس اوراصول شریعت اورمصلحت کے ضمن میں اورمفاسد کوروکنے کے اعتبارسے بھی اس کی حرمت کا تقاضا ہوتا تھا ۔

    دیکھیں : اغاثۃ اللھفان ( 1 / 540 ) ۔

    اورفضیلۃ الشيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی نے بھی اولاد کے مابین تفضيل کومطلقا منع قرار دیتے ہوئے کہا ہے :

    اولاد میں سے ایک کودوسرے پر فضیلت دینی منع اوران کے مابین عدل وانصاف کرنا واجب ہے چاہے وہ لڑکیاں ہوں یا لڑکے ، انہیں ان کی وراثت کے مطابق ملنا چاہیے ، لیکن اگر وہ عاقل بالغ ہوتے ہوئے اس کی اجازت دے دیں تو پھر ٹھیک ہے ۔

    دیکھیں : الفتاوی الجامعۃ للمراۃ المسلمۃ ( 3 / 115 - 116 ) ۔

    اورشیخ ابن ‏عثیمین رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

    انسان کے لیے جائز نہيں کہ وہ اپنےبعض بیٹوں میں سے کسی ایک کودوسرے پرافضلیت دیتا رہے ، لیکن لڑکی اورلڑکے کےمابین افضلیت ہوگی اورلڑکی کے مقابلہ میں لڑکے کوڈبل دیا جائے گا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

    اللہ تعالی سے ڈرو اوراپنی اولاد کے مابین عدل وانصاف کرو ۔

    لھذا اگر کوئي اپنے کسی بیٹے کوسودرہم دیتا ہے اس پرواجب اورضروری ہےکہ وہ باقی بیٹوں کوبھی ایک سودرہم اوربیٹی کو پچاس درہم دے ، یا پھر جس بیٹے کواس نے سودرہم دیے ہیں اس سے واپس لے لے ، ہم نے جویہ ذکر کیا ہے وہ واجب نفقہ میں نہیں بلکہ نفقہ کے علاوہ ہے ، لیکن جونفقہ واجبہ ہے تواولاد میں سے ہرایک کواتنا ہی دیا جائے گا جس کا وہ مستحق ہے ۔

    فرض کریں کہ اگر کوئي بیٹا شادی کرنے کا محتاج ہے تواس کی شادی کرے اوراس کا مہر بھی ادا کرے ، اس لیے کہ بیٹا مہر ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تواس صورت میں یہ لازم نہيں آتا کہ وہ باقی بیٹوں کوبھی اس شادی کرنے والے بیٹے جتنا ہی ادا کرے کیونکہ شادی کرنا تونفقہ میں شامل ہے ۔

    میں چاہتاہوں کہ یہاں پرایک مسئلہ کی تنبیہ کردوں بعض لوگ جہالت کی بنا پراس کا ارتکاب کرتے رہتےہيں : وہ اس طرح کہ ایک شخص کی اولاد ہے اس میں سے کچھ توبالغ ہیں اورشادی کی عمرکوپہنچ چکے ہیں تووہ ان کی شادی کردیتا ہے اورکچھ بچے ابھی چھوٹے ہیں لھذا وہ ان چھوٹے بچوں کے لیے وصیت کرتا ہے کہ موت کے بعد انہيں بھی اتنا مال ادا کیا جائے جتنے میں بڑوں کی شادی کی ہے ۔

    ایسا کرنا حرام اور ناجائز ہے کیونکہ یہ وصیت تووراث کےلیے ہوگي اوروارث کےلیے وصیت کرنی حرام ہے کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے :

    ( یقینا اللہ تعالی نے ہر حقدار کواس کا حق دے دیا ہے لھذا وارث کے لیے کوئي وصیت نہیں ) ۔

    یہ الفاظ ابوداود کے ہیں دیکھيں ابوداود حدیث نمبر ( 3565 ) اورسنن ترمذی ( 2 / 16 ) وغیرہ نے بھی نے اسے روایت کیا ہے ، علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے ان الفاظ والی سند کوحسن قرار دیا ہے اور( لاوصیۃ لوارث ) کے الفاظ والی روایت کوصحیح قرار دیا ہے دیکھیں ارواء الغلیل للالبانی ( 6 / 87 ) ۔

    لھذا اگروہ یہ کہتا ہےکہ میں نے یہ مال ان کےلیے وصیت کردیا ہے کیونکہ اتنے مال سے میں نے ان کے بھائیوں کی شادی کردی تھی توہم اسے یہ کہيں گے کہ اگر یہ چھوٹے بچے بھی آپ کی موت سے قبل بالغ ہوجائيں اورشادی کی عمرتک پہنچ جائيں توان کی بھی اتنے مال سے شادی کردینا ، لیکن اگر وہ شادی کی عمرتک نہيں پہنچتے تو پھر آپ پران کی شادی کرنا واجب نہیں ہے ۔

    دیکھیں : فتاوی اسلامیۃ ( 3 / 30 ) ۔

    واللہ اعلم .



    Sent from my SM-G360H using Tapatalk
     
  3. ‏اپریل 16، 2016 #23
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    724
    موصول شکریہ جات:
    135
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    کیا محتاج بیٹے کے قرض کی ادائيگي دوسری اولاد کے ہوتے ہوۓ جائز ہے

    مجھے یہ علم ہے کہ اولاد کےدرمیان عدل کرنا واجب ہے ، لیکن میرے ایک بیٹے پر بہت زيادہ قرض ہے اوروہ فقیر ہونے کی بنا پر ادا نہیں کرسکتا توکیا میرے لیے جائز ہے کہ میں اپنے مال سےاس کے قرض کی کچھ ادائيگي کردوں ؟

    Published Date: 2010-01-14

    الحمدللہ

    اولاد کے درمیان عدل کے وجوب کی تفصیل آپ سوال نمبر ( 22169 ) کے جواب میں دیکھیں ۔

    اوراسی طرح ہبہ میں بھی اولاد کےدرمیان عدل کرنا واجب ہے ، ان میں کسی ایک کی بھی تخصیص کرنا یا پھراسے افضلیت دینا حرام ہے لیکن اگر اس کا کوئ سبب ہوتو پھر جائز ہے ۔

    تواگر کوئ چيز ایسی ہوجو تخصیص یا پھر افضلیت دینے کی با‏عث ہو تواس میں کوئ حرج نہیں مثلا اگراولاد میں سے ایک بیمار یا اندھا یا پھر معذور ہو یا اس کا گھرانہ بڑا ہو اوریا طالب علم وغیرہ ہو تو اس طرح ان مقاصد کی بنا پر اسے افضلیت دینے میں کوئ حرج نہيں ۔

    امام احمد رحمہ اللہ تعالی نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا ہے :

    ( اولاد میں سے کسی ایک کے لیے وقف کی تخصیص میں ) اس کے بارہ امام صاحب کا کہنا ہے کہ : اگر کوئ ضرورت ہوتو اس میں کوئ حرج نہیں ، لیکن اگریہ کام اس کے ساتھ ترجیجی بنیاد پر کیا جارہا ہوتومیرے نزدیک یہ ناپسندیدہ ہے ۔

    اورشيخ الاسلام ابن تیمہ رحمہ اللہ تعالی عنہ کا کہنا ہے :

    ( حدیث اورآثاراولاد کےدرمیان عدل کرنے کے وجوب پر دلالت کرتے ہیں ۔۔۔۔ پھر یہاں اس کی دوقسمیں ہیں :

    1 - ایک قسم تووہ ہے جواپنی بیماری اورصحت وغیرہ میں خرچہ کے محتاج ہوتے ہیں تواس میں عدل یہ ہے کہ ہر ایک کو اس کی ضرورت کے مطابق دیا جاۓ ، اورکم اورزيادہ ضرورت مند کے درمیان فرق نہ کیا جاۓ ۔

    2 - ایک قسم وہ ہے جس میں ان کی ضروریات مشترک ہیں یعنی عطیہ اورخرچہ یا پھر شادی میں مشترک ہیں تواس قسم میں کمی وزیادتی کرنے میں حرمت میں کوئ شک نہیں ۔

    اوران دونوں کے مابین ایک تیسری قسم بھی بنتی ہے :

    وہ یہ کہ ان میں سے کوئ ایک ایسا ضرورت مند ہوجو عادتا پیش نہیں آتی ،مثلا کسی ایک کی طرف سے قرض کی ادائيگي جواس کے ذمہ کسی جرم کی بنا پر واجب تھی ( یعنی کسی بھی بدنی تکلیف دینے کی بنا پر مالی سزا کی ادائيگي ) یا پھر اس کا مھر ادا کیا جاۓ اوریا بیوی کا خرچہ دیا جاۓ ، توکسی دوسرے کوواجبی طور پر دینے میں نظر ہے ) ا ھـ اختیارت سے ۔

    دیکھیں : کتاب :

    تیسیر العلام شرع عمدۃ الاحکام ص ( 767 ) ۔

    واللہ اعلم



    Sent from my SM-G360H using Tapatalk
     
  4. ‏اپریل 16، 2016 #24
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    724
    موصول شکریہ جات:
    135
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    میرے خاوند کے والد (میرے سسر ) نے میرے خاوندکی شادی میں مالی تعاون کیا شادی کے بعد میراخاوند خلیجی ممالک میں کام کاج کے سلسلے میں چلا گیا اس لیے کہ اس پر بہت زيادہ قرض تھا جس کی بنا پر وہ اپنے والد کوپیسے نہیں بھیجتا ۔
    اب اس کا والد شادی پر صرف کیے گۓ مبلغ کا مطالبہ کررہا ہے حالانکہ میرے سسر کی ماہانہ آمدنی اچھی خاصی اورکافی ہے تومیرا سوال یہ ہے کہ :
    کیا بیٹے کی شادی کرنا والد پر واجب نہیں اوراس پر اس جیسے حالات میں کیا واجب ہوتا ہے ؟

    Published Date: 2009-02-08

    الحمد للہ
    اول :

    اگروالد مالداراوربیٹا غریب ہواورشادی کرنے کی سکت نہ رکھےتووالد پر بیٹے کی شادی کرنا واجب ہے ، اس لیے کہ شادی بھی واجب شدہ نفقہ میں سے ہے اوراللہ تعالی کے مندرجہ ذیل فرمان میں شامل ہے :

    { اورجن کے بچے ہیں ان کے ذمہ ان کا روٹی کپڑا ہے جودستور کے مطابق ہو } البقرۃ ( 233 ) ۔

    تواس لیے اگر بیٹے شادی نہیں کرسکتے اوروالد میں استطاعت ہے تووالد پرضروری اورواجب ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کی شادی کرے اوران پر کھانے پینے اورپڑھائ وغیرہ میں خرچ کرے کا اس لیے کہ والدپر نفقہ واجب ہے ۔

    دوم :

    بیٹے کے ذمہ والد کا خرچہ واجب نہيں لیکن اگر دو شرطیں پائيں جائیں توپھر بیٹے کے ذمہ اپنے والد پر خرچ کرنا واجب ہوگا :

    1 - یہ کہ بیٹا غنی مالدار ہو ( یعنی اس کے پاس اپنی ضرورت سے زيادہ مال ہو )

    2 - والد فقیر ہو ۔

    تواگر یہ دونوں شرطیں پائي جائيں توپھربیٹے کے ذمہ والد پر خرچہ کرنا ضروری اورواجب ہے ، اوریہاں پر سوال کرنے والی نے یہ ذکر کیا ہے کہ اس کے خاوند کا والد اچھا کھاتا پیتا اوراس کی ماہانہ آمدنی بھی ٹھیک ہے ۔

    توپھر اگر حالت ایسی ہی ہے تو بیٹے پر یہ ضروری اورواجب نہیں کہ وہ اپنے والد پر خرچ کرے ، لیکن اگر مالدار ہونے کے باوجود والد بیٹے سے کچھ مال طلب کرتا ہے اوربیٹے کواس کی ضرورت نہیں بلکہ اس کے پاس زائد ہے توپھر اسے اپنے والد کویہ مال دینا چاہیے تا کہ وہ اپنے والد کا عاق شمار نہ ہو ۔

    لیکن اگر بیٹے کوبھی مال کی ضرورت ہے توپھر اس پر لازم نہيں کہ وہ والد کومال ادا کرے ، اوربیٹے کو اپنے والد سے اپنے حالات بیان کر دینا ضروری ہے کہ اس کے مالی حالات صحیح نہیں اوروہ اپنا قرض ادا کرنے کے بعد جب مالی طور پر مستحکم ہوگا توپھر حسب استطاعت اپنے والد کو مال بیھج دے گا ۔

    اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

    { اوراللہ تعالی کسی بھی جان کواس کی استطاعت سے زيادہ مکلف نہيں کرتا } ۔

    واللہ اعلم

    كيا بھائى پر بہن كا نفقہ واجب ہے ؟

    كيا بھائى پر بہن كا نفقہ واجب ہے، اور كيا بھائى اپنى بہن كو زكاۃ دے سكتا ہے ؟

    Published Date: 2012-07-03

    الحمد للہ:

    اگر بہن تنگ دست ہو اور بھائى مالدار تو اس كے ليے بہن كا نفقہ واجب ہے، اور اگر بہن فوت ہو جائے تو بھائى اس كا وارث بنےگا، اور اگر بہن كى اولاد ہونے يا پھر باب يا دادا ہونے كى صورت ميں بھائى اپنى بہن كا وارث نہ بنتا ہو تو بہن كا نفقہ بھائى پر لازم نہيں، اس صورت ميں بھائى اپنى بہن كو زكاۃ دے سكتا ہے.

    ابن قدامہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    " نفقہ واجب ہونے كے ليے تين شروط كا ہونا ضرورى ہے:

    پہلى شرط:

    جن پر نفقہ كيا جائے وہ فقراء و تنگ دست ہوں اور ان كے پاس مال نہ ہو، اور نہ ہى اتنى آمدنى ہو جس سے ان كا گزارہ ہو بلكہ وہ كسى دوسرے كے محتاج ہوں، اور اگر ان كے پاس مال ہے يا اتنى آمدنى ہو كہ وہ كسى دوسرے كے محتاج نہيں تو اس صورت ميں ان كا نفقہ نہيں ہوگا.

    دوسرى شرط:

    جس كا نفقہ واجب ہو اور وہ ان پر نفقہ كرے تو وہ اپنے نفقہ كے بعد زائد مال سے ہو، يا تو اپنے مال سے وہ نفقہ كرے يا پھر آمدنى سے كرے، ليكن اگر كسى شخص كے پاس اپنے خرچ اور نفقہ كے بعد زائد نہ ہو تو اس پر كسى دوسرے كا نفقہ نہيں.

    كيونكہ جابر رضى اللہ تعالى عنہ سے مروى ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

    " اگر تم ميں سے كوئى شخص فقير و تنگ دست ہو تو وہ اپنے آپ سے شروع كرے، اور اگر كچھ بچ جائے تو اپنے اہل و عيال پر خرچ كرے، اور اگر اس سے كچھ بچ جائے تو قريبى رشتہ داروں پر خرچ كرے "

    تيسرى شرط:

    نفقہ برداشت كرنے والا وارث ہو؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

    { اور وارث پر بھى اسى طرح ہے }.

    اور اس ليے بھى كہ ايك دوسرے كا وارث بننے والوں كى آپس ميں ايك دوسرے كا قريبى رشتہ ہوتا ہے، جس كا تقاضہ ہے كہ وہ باقى لوگوں كى بجائے وارث بننے والے كے مال كے زيادہ حقدار ہيں، اس ليے اس دوسروں كى بجائے اسے نفقہ برداشت كرنا واجب ہوگا، اور اگر وہ وارث نہ ہو تو اس پر نفقہ واجب نہيں ہوگا " انتہى بتصرف

    ديكھيں: المغنى ( 8 / 169 ).

    شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    " ہمارے ہاں قاعدہ اور اصول يہ ہے كہ نفقہ برداشت كرنے والا جس كا نفقہ اٹھا رہا ہے وارث ہو، الا يہ كہ وہ اصل اور فرع نہ ہو، تو پھر اس ميں وارث كى شرط نہيں ہوگى " انتہى

    ديكھيں: الشرح الممتع ( 13 / 503 ).

    اس بنا پر اگر بھائى پر اس كى بہن كا نفقہ واجب ہے تو پھر بھائى اسے اپنے مال كى زكاۃ نہيں دے سكتا.

    اور اگر بہن كا بھائى پر نفقہ واجب نہيں ہوتا تو پھر بھائى اسے اپنے مال كى زكاۃ دے سكتا ہے، بلكہ اس صورت ميں كسى اور كو دينے كى بجائے بہن كو زكاۃ دينا افضل و بہتر ہو گا، كيونكہ بہن كو دينے سے اسے صلہ رحمى كا بھى اجروثواب حاصل ہوگا، اور زكاۃ كا بھى.

    واللہ اعلم .

    میرے خیال یہ دو فتاوی مسئلہ کو کچھ حل کرتے ہیں. باقی قطعی رائے تو علما دے سکتے ہیں

    Sent from my SM-G360H using Tapatalk
     
  5. ‏اپریل 16، 2016 #25
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,768
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    بڑے بیٹے نے والدین سے فائدہ بھی تو چھوٹوں کی نسبت زیادہ اٹھایا ہے ، یوں کہیں ، بڑا بیٹا والدین کے ساتھ رہتے ہوئے کمانے کےقابل ہوگیا ، جبکہ چھوٹے بیٹے عمر کم ہونیکی وجہ سے پیچھے رہ گئے ۔
    اگر بڑے بیٹے نے کماکر والدین بہن بھائیون پر خرچ کیا ہے ، تو بڑے بیٹے کی شادی ، بچوں کے اخراجات وغیرہ میں والدین اور بھائیوں سے فائدہ بھی تو اٹھایا ہوگا ۔
    چھوٹے بڑے ہونے سے معاملات اتنا فرق نہیں پڑتا کہ اسے درد سر بنالیا جائے ، اگر یہ اتنا اہم مسئلہ ہوتا تو جس طرح وراثت کے مسائل ، مرد و عورت ، باپ ، بیٹا ، بھائی بہن وغیرہ کا فرق رکھا گیا ہے ، اسی طرح ان میں عمروں کا بھی حساب رکھا جاتا ۔ اسلامی قانوں وراثت میں عمر کا اعتبار نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ چھوٹے بڑے ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ إن ربک حکیم علیم ۔
    وراثت اور عطیہ میں اختلاف مشہور ہے ، ایک یہ کہ عطیات کی تقسیم بھی وراثت کے اصولوں کو مد نظر رکھ کر ہوگی ، دوسرا یہ ہے کہ عطیات میں تمام کے مابین برابری اور عدل و انصاف کیا جائے گا ، وراثت والے قوانین اس پر لاگو نہیں ہوں گے ۔ یہی بات راجح محسوس ہوتی ہے ، باقی تفصیل اوپر بعض بھائیوں کے مراسلوں میں گزر چکی ہے ۔
     
    • مفید مفید x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  6. ‏اپریل 16، 2016 #26
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,356
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    بالکل شیخ
    آپ نے بالکل صحیح کہا.
    اللہ آپکے علم وعمل میں برکت عطا فرماۓ.
    ھمارے کئ رشتہ دار والد محترم پر اکثر اسی بات کو لیکر تنقید کرتے ھیں. لیکن الحمد للہ والد محترم انکی باتوں کی پرواہ نہیں کرتے.
    اللہ ھمیں عقل سلیم سے نوازے.
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  7. ‏اکتوبر 18، 2016 #27
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,768
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جوائنٹ فیملی سسٹم اسلام کے خلاف ہے ؟

    تحریر : زاہد صدیق مغل
    بعض معاملات کے بارے میں ہمارے یہاں یہ عجیب طرز استدلال پایا جاتا ہے کہ انہیں غیر اسلامی ثابت کرنے کے لیے بس انہیں ”ہندوانہ“ کہہ دیا جائے، یوں گویا دلیل کا حق ادا ہوگیا۔ اور یا پھر زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دیا جائے کہ ”یوں صحابہ کے دور میں نہ ہوتا تھا“ جبکہ یہ بات کسی عمل کے خلاف اسلام ہونے کی سرے سے کوئی دلیل ہی نہیں۔ اس طرز استدلال کی ایک تازہ مثال دلیل پر شائع ہونے والی ایک حالیہ تحریر ہے جس کے مطابق مشترکہ خاندانی نظام غیر اسلامی ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہ ہندوانہ ہے، مگر تحریر میں یہ بتانا ضروری نہیں سمجھا گیا کہ یہ کن معنی میں ہندوانہ ہے؟ کیا اس کے ہندوانہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کا معاشرتی نظام ویداؤں یا بھگوت گیتا میں درج ہے؟ یا یہ ان معنی میں ہندوانہ ہے کہ یہ صرف ہندوستان میں پایا جاتا ہے؟ نیز کیا یہ انہی معنی میں ہندوانہ ہے جن معنی میں ذات پات کا نظام ہندوانہ ہے؟ پھر آخر کیا وجہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے مشترکہ خاندان کے اس ہندوانہ نظام کو تو عام طور پر قبول کیا مگر برھمن و شودر جیسی اونچی نیچی ذات کے ہندوانہ نظام کو قبول نہ کیا؟
    اس مقام پر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس معاشرتی نظام کے غیر اسلامی ہونے کی دلیل کیا ہے؟ تحریر میں اس ضمن میں واحد دلیل یہ دی گئی ہے کہ ”صحابہ کے دور میں ایسی معاشرت نہ تھی“۔ پہلی بات تو یہ کہ صحابہ کے دور میں کسی امر کا موجود نہ ہونا اس کے غیر اسلامی ہونے کی کوئی دلیل ہے ہی نہیں، یہ دلیل نہیں ایک غلط العام تصور ہے۔ پھر یہ دلیل پیش کرتے وقت یہ فرض کرلیا جاتا ہےگویا حاضر و موجود ”سول سوسائٹی“ (اغراض پر مبنی جدید مارکیٹ معاشرت)، جو ہمیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے اور جس میں ہم صبح سے لے کر رات تک سانس لیتے ہیں، یہ تو ماشاء اللہ عین خیر القرون کی سنت اور پوری اسلامی تاریخ کا تسلسل ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام کو تہس نہس کرکے ہمارے معاشروں پر غالب آتی یہ جدید معاشرت بھی تو یورپ و امریکہ سے نکلی ہوئی ”جدیدیانہ“ ہے، تو اس کا کیا؟
    اب اگر بات موازنے کی ہی ہے تو یہ بات شرح صدر کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ مشترکہ خاندانی نظام اگرچہ آئیڈیل نہیں (جو کہ درحقیقت کوئی بھی ورکنگ نظام نہیں ہوتا لہذا اس میں ہمیشہ اصلاح کی گنجائش ہوتی ہے) مگر اسلامی اقدار (محبت، صلہ رحمی، حفظ مراتب، ادب و احترام، ایک دوسرے کا خیال و ایثار، پڑوس و میل جول وغیرھم) کے تحفظ اور فرد کی ان اسلامی اقدار کے مطابق تربیت کا ایک نسبتا بہتر طریقہ معاشرت ہے (نیز اس کے بہت سے معاشی فوائد بھی ہیں جن کی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں)۔ اس کے مقابلے میں جدید مارکیٹ سوسائٹی کا ان اسلامی اقدار کے پھیلاؤ سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ انہیں نیست و نابود کرنے کا انتظام ہے۔ چنانچہ اسلامی تاریخ میں علماء نے بلاوجہ ہی اس طرز معاشرت کو قبول نہیں کیے رکھا۔ معاملات کو متنوع پہلوؤں سے سمجھے بنا علماء پر سست روی کا الزام دھرنا بس ایک فیشن ہے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر بطور نقطہ نظر کی معرفت ، ارسال کی جارہی ہے نہ کہ بحیثیت متفق ہونے کے ۔
     
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  8. ‏اکتوبر 18، 2016 #28
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,356
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    4052 . حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَخْبَرَنَا عَمْرٌو عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ نَكَحْتَ يَا جَابِرُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ مَاذَا أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا قُلْتُ لَا بَلْ ثَيِّبًا قَالَ فَهَلَّا جَارِيَةً تُلَاعِبُكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ كُنَّ لِي تِسْعَ أَخَوَاتٍ فَكَرِهْتُ أَنْ أَجْمَعَ إِلَيْهِنَّ جَارِيَةً خَرْقَاءَ مِثْلَهُنَّ وَلَكِنْ امْرَأَةً تَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ قَالَ أَصَبْتَ

    4052 . ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو عمرو بن دینار نے خبر دی اور ان سے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا ، جابر ! کیا نکاح کر لیا ؟ میں نے عرض کیا ، جی ہاں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کنواری سے یا بیوہ سے ؟ میں نے عرض کیا کہ بیوہ سے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کسی کنواری لڑکی سے کیوں نہ کیا ؟ جو تمہارے ساتھ کھیلا کرتی۔ میں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! میرے والد احد کی لڑائی میں شہید ہوگئے۔ نو لڑکیاں چھوڑیں۔ پس میری نو بہنیں موجود ہیں۔ اسی لیے میں نے مناسب نہیں خیال کیا کہ انہیں جیسی نا تجربہ کا ر لڑکی ان کے پاس لاکر بٹھادوں ، بلکہ ایک ایسی عورت لاؤں جو ان کی دیکھ بھال کر سکے اور ان کی صفائی وستھرائی کا خیال رکھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اچھا کیا۔
    (صحیح بخاری)

    مذکورہ حدیث میں نہ صرف جوائنٹ فیملی کا جواز ملتا ہے بلکہ فیملی کی خاطر قربانی کا بھی تذکرہ ملتا ہے. مزید برآں یہ کہ بیوی کی خاوند کے گھر کے افراد کے تئیں ذمہ دارای کا بھی ثبوت ملتا ہے.

    واللہ اعلم بالصواب
     
    • علمی علمی x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  9. ‏جون 04، 2019 #29
    Zubair

    Zubair مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2016
    پیغامات:
    2
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    17


    اس تحریر نے بہت مایوس کیا۔ ایک مسلمان معاشرہ کی اتنی بھیانک تصویر کھینچی ہے کہ اسلام کا تصورِ اخلاقیات درہم برہم ہوجائے۔ رشتوں کے احترام، ایثار اور قربانی کی جو مثالیں دینِ اسلام نے پیش کی ہیں، ان کا مزاق اڑآیا گیاہے۔
    ماں باپ کی فرمانبرداری کے متعلق کتنے سخت احکامات ہیں، سب کو فراموش کردیا گیا ہے۔ اگر ماں باپ بوڑھے ہوجائیں اور انہیں اپنی اولاد کی ضرورت ہو تو کیا بچوں کو ان کی خدمت کرکے جنت کمانے کا حکم نہیں ہے؟ یہ جنت باتوں سے حاصل ہوجائے گی ؟ ماں کے متعلق جتنی خراب زبان استعمال کی گئی ہے، اسے بیان کرتے ہوئے بھی کوفت ہورہی ہے۔
    پھر کسی اجنبی کی مدد کا حکم دینے والا دین، پکڑوسی کے حقوق پر اتنا زور دینے والا دین، عزیزو اقارب کا خیال رکھنے والا دین اس بات کی اجازت دے گا کہ چھوٹے بہن بھائی، مشکل میں ہوں تو انہیں چھوڑ کر اپنی اولاد کی ہی فکر کرو۔ ہمیں تو ایسے صحابی بھی نظر آتے ہیں جو اپنی بہنوں کی وجہ سے کم عمر عورت سے شادی کرنے کے بجائے زیادہ عمر کی عورت سے اس لئے شادی کرتے ہیں کہ وہ ان کا خیال رکھ سکے۔
    اس تحریر نے اخلاقیات کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ جنہوں نے بھی یہ تحریر لکھی ہے، انہیں اندازہ نہیں ہے کہ اسلام نے بہن بھائیوں کے لئے کس قدر احکامات دئے ہیں۔ مثلا جو چیز اپنے لئے پسند کرو اپنے بھائی کے لئے بھی پسند کرو۔
    (
    عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « وَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ لاَ يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِجَارِهِ - أَوْ قَالَ لأَخِيهِ - مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ » [متفق علیه]
    ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی بندہ مومن نہیں ہوتا یہاں تک کہ اپنے ہمسائے کےلئے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘

    تخریج:
    [بخاری:13، مسلم: 72] یہ حدیث مسلم میں :
    « حَتَّى يُحِبَّ لِجَارِهِ أَوْ قَالَ لأَخِيهِ »
    ’’ شک کے ساتھ ہے یعنی بھائی کے لئے یا فرمایا کہ ہمسائے کے لئے۔ صحیح بخاری میں شک کے بغیر ’’ حتى يحب لأخيه‘‘ کے الفاظ ہیں۔ یعنی ’’ اپنے بھائیکے لیے پسند کرے۔‘‘)
    ۔
    یہ کون سی پسند ہے جس کے متعلق حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات ارشاد فرمارہے ہیں؟
    ۔
    جہاں تک عرب یا مغربی معاشرے کی بات ہے، ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ وہاں طلاق کی شرح ہمارے معاشرے سے کہیں زیادہ ہے۔ جوائنٹ فیملی میں جس بے ہودگی کی بات کی جارہی ہے، وہ یہاں سے زیادہ وہاں پائی جاتی ہے۔
    ۔
    لہذا عورتوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے چکر میں یہ مت بھولیں کہ خدا کی خوشنودی زیادہ ضروری ہے۔
    ۔
    آخر میں اتنا کہوں گا کہ ہمیں بہت سارے لوگ اس مہنگائی کے دور میں الگ گھر لینے کے قابل نہیں ہیں، کرائے پر گھر لے کر نہیں رہ سکتے، یا اپنے چھوٹے بہن بھائیوں اور بوڑھے ماں باپ کی ذمہ داری صرف اس پر ہو، یا کوئی دوسرا بھائی ہی نہ ہو جو والدین کی خدمت کرسکے تو ایسی صورت میں اس سے یہ نہیں کہنا چاہئے کہ الگ گھر لے لو، بلکہ یہ بتانا چاہئے کہ جوائنٹ فیملی میں کس طرح اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے ادا کی جائیں۔ انہیں یہ بتایا جائے کہ اپنے مسائل کو کس طرح حل کیا جائے۔ راہِ فرار حل نہیں۔
    ( اگر مسجد کے امام اور موذن کو کرائے پر گھر لے کر رہنا پڑے تو انہیں اندازہ ہو کہ کرائے پر گھر لینا کتنا مشکل ہے)
     
    Last edited: ‏جون 04، 2019
  10. ‏اکتوبر 21، 2019 #30
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722



    .
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں