1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جواب دو، شیعہ مذہب چھوڑ دوں گا

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد رضوان مغل, ‏اپریل 25، 2018۔

  1. ‏اپریل 25، 2018 #1
    محمد رضوان مغل

    محمد رضوان مغل مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 31، 2017
    پیغامات:
    60
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    23

    السلام علیکم!
    یہ ویڈیو ایک شیعہ سابق دیوبندی کی ہے جس میں وہ شیعہ مذہب کو قرآن و حدیث سے ثابت کر رہا ہے۔ کیا یہ درست کہہ رہا ہے؟


    @اسحاق سلفی
    @خضر حیات
     
  2. ‏اپریل 25، 2018 #2
    مظاہر امیر

    مظاہر امیر مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 15، 2016
    پیغامات:
    1,202
    موصول شکریہ جات:
    345
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    اگر آپ وڈیو کے بجائے یہاں سوالات تحریر کردیں تو شیوخ کے لئے آسانی ہوگی ۔
    اتنی دیر وڈیو دیکھنا شاید ممکن نہ ہو ، وقت کا ضیاع ہوگا ۔
     
  3. ‏اپریل 25، 2018 #3
    محمد رضوان مغل

    محمد رضوان مغل مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 31، 2017
    پیغامات:
    60
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    23

    السلام علیکم!
    1 - اس مولوی کا کہنا ہے کہ سورہ مریم کی آیت نمبر 69 میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ
    "ہم حشر کے دن ہر تمام نافرمانوں کو شیعوں سے نکال کر جہنم میں پھینک دیں گے۔"
    اور اس آیت نے ہی اس کو شیعہ کے متعلق سوچنے پر مجبور کیا تھا۔
    2 - حدیث کے مطابق امت کے 73 فرقے ہوں گے۔ 72 جہنم میں جائیں گے جبکہ ایک جنت میں جائے گا مطلب 72 ایک جیسے ہوں گے اور ایک ان سب سے الگ ہو گا اگر ایک جیسے ہوتے تو سب جہنم میں جاتے یا پھر جنت میں ۔ اس مولوی کا کہنا ہے کہ ان 72 جہنمی فرقوں کا سب کچھ ایک ہی ہے مطلب ان کا کلمہ ، اذان ، امام ایک ہے۔ شیعہ ان سب سے جدا ہے۔
    3 - تفسیر ابن جلیل میں محمد بن جلیل طبری، تفسیر در منصور میں علامہ جلال الدین سیوطی، تفسیر فتح القدیر میں ملا شوکانی ، تفسیر فتح البیان میں نواب صدیق حسن (اسی طرح اس نے 14 کتابوں کا حوالہ دیا ہے کہ ان میں) لکھتے ہیں کہ جابر بن عبداللہ اور ان عباس رضی اللہ عنھماء سے روایت ہے کہ ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گرد بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنی جگہ سے اٹھے اور فرمایا کہ قیامت کے دن جن لوگوں نے کامیاب ہونا ہے مذہب ان کا شیعہ ہو گا اور امام ان کا علی ہو گا۔
     
  4. ‏اپریل 25، 2018 #4
    محمد رضوان مغل

    محمد رضوان مغل مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 31، 2017
    پیغامات:
    60
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    23

    یہ سوال بھی شیعی کی طرف سے پوچھے گئے ہیں

    درج ذیل کچھ سوالات ہیں جن کے جوابات اہل سنت سے مطلوب ہیں
    1. کوئی آیت یا حدیث پیش کریں جس میں کہا گیا ہو کہ "لاَ اِلٰہَ اِلَّا ﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ " کلمہ اسلام ہے اور اس میں اضافہ کرنا کفر ہے۔ نوٹ: لاَ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ پر ہم مسلمان یقین رکھتا ہے اس لئے ان دو کلمات پر دلیل دینے کی ضرورت نہیں ہے بس سوال میں موجود مطلوبہ چیز پیش کی جائے
    2. کیا معاویہ بن سفیان نے اپنی حکومت کے دوران کسی قاتل عثمان بن عفان پر مقدمہ چلا کر سزا دی؟ اگر جواب ہاں ہے تو صحیح سند روایت پیش کریں اور اگر جواب نہیں ہے تو یہ کیسے مکمن ہے کہ جو اپنی حکومت میں کسی قاتل عثمان پر مقدمہ چلا کر سزا نہیں دیتا اس کی جنگ صفین صرف قتل عثمان کا قصاص لینے کے لئے تھی؟
    3. <=مقدمہ فدک=>
      جرم=غضب فدک
      قابض=ابوبکر
      مجرم=ابوبکر
      جج/منصف= ابوبکر
      سرکاری وکیل=ابوبکر
      خلیفہ وقت=ابوبکر
      حیثیت=غیر شرعی خلیفہ
      اعزازی حیثیت= والد امی عائشہ+بچپن سے جوانی تک کفر پر قائم رھے، کافروں کی گود میں پرورش پائی بڑھاپے میں مسلمان ھوگئے

      مدعی= بی بی فاطمہ سلام اللہ علیہ
      حیثیت= اکلوتی وارث نبی >ص>
      اعزازی حیثیت= بچپن سے جوانی تک رسالت کی آغوش میں رھیں،
      مباھلہ میں توحید خداوند کی گواہ بنیں...
      سوال بس اتنا ھے... کیا ابوبکر کو مقدمہ کے فیصلہ کا حق تھا؟؟؟
      وفات نبی<ص> کے بعد اتنا بڑا نازک مسئلہ آتا ھے اور فقط ایک شخص، مقدمہ اسی کے خلاف ھے عدالت بھی اسکی وکیل بھی وھی، مجرم بھی وھی منصف بھی ھے،،
      کیا اسلامی عدالت ایسی ھوتی ھے؟؟
    4. اگر حکومت کرنے کی ترتیب معیار تفضیل ہے تو کیا آپ لوگوں کے مطابق پانچویں نمبر پر افضل معاویہ بن سفیان اور چھٹے نمبر پر افضل یزید بن معاویہ ہے
     
  5. ‏اپریل 25، 2018 #5
    مظاہر امیر

    مظاہر امیر مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 15، 2016
    پیغامات:
    1,202
    موصول شکریہ جات:
    345
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    مولوی کا ترجمہ ہی غلط ہے اس آیت میں شیعہ کا مطلب گروہ ہے

    پھر ہم ہر گروہ میں سے اس شخص کو جدا کریں گے جو خدائے رحمن کے مقابلہ میں زیادہ سرکش تھا۔
    [19:69] محمد حسین نجفی
    علامہ جوادی نے بھی یہی ترجمہ کیا ہے ، احمد رضا خان صاحب کا بھی یہی ترجمہ ہے اور دیگر کا بھی ۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  6. ‏اپریل 25، 2018 #6
    مظاہر امیر

    مظاہر امیر مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 15، 2016
    پیغامات:
    1,202
    موصول شکریہ جات:
    345
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    اس حدیث کا ماخذ، سند سب بیان کرنا ہوگی ۔۔۔
    ہمارے علم میں نہیں ہے ایسی کوئی حدیث ۔۔
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏اپریل 26، 2018 #7
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,417
    موصول شکریہ جات:
    379
    تمغے کے پوائنٹ:
    161

    لغوی اعتبار سے لفظ (شیعہ) متابعت، نصرت، موافقت رائے، اتفاق اور تعاون کے معانی میں منحصر ہے پھر یہ لفظ (شیعہ) اس فرقے کے لیے عموماً استعمال ہونے لگا جو سیدنا علیؓ اور ان کے اہل ابیت سے محبت کا اعلان کرتا ہے،
    اسی لغوی معنی کا اعتبار امام شریک بن عبداللہ نخعی کے ایک اثر میں نظر آتا ہے کہ جب ایک شخص نے ان سے پوچھا: سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا علیؓ میں سے کون افضل ہے؟ انھوں نے جواب دیا: سیدنا ابوبکرؓ!
    اس شخص نے کہا: آپ شیعہ ہونے کے باوجود ایسی بات کہتے ہیں؟
    انھوں نے فرمایا: ہاں کیوں کہ جو شخص اس بات کا اقرار نہیں کرتا، وہ شیعہ نہیں ہے۔ اللہ کی قسم! ایک مرتبہ سیدنا علیؓ اس منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا:
    ألا ان خير هذه الأمة بعد نبيّها ابو بكر وعمر
    آگاہ رہو اس امت میں نبی کریمﷺ کے بعد سب سے بہتر ابوبکرؓ ہیں پھر عمرؓ ہیں۔
    أفكنا نردّ قوله؟ أفكنا نكذبه؟ والله ما كان كذابا
    تو ہم اب کیسے سیدنا علیؓ کی اس بات کی تردید و تکذیب کرسکتے ہیں؟ اللہ کی قسم! وہ جھوٹے انسان نہیں تھے۔
    تثبيت دلائل النبوة (۱۔۶۳)
    تثبيت دلائل النبوة المكتبة الشاملة
    گویا امام شریکؒ نے اس لغوی معنی کو ملحوظ رکھتے ہوئے کہا ہے کہ جو شخص سیدنا علیؓ کا حقیقی پیروکار نہیں ہے وہ (شیعہ) کہلانے کا مستحق نہیں ہے، کیوں کہ کہ لفظ (شیعہ) کا حقیقی معنی اطاعت اور متابعت ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏اپریل 26، 2018 #8
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,417
    موصول شکریہ جات:
    379
    تمغے کے پوائنٹ:
    161

    والذي نفسي بيده إن هذا وشيعته لهم الفائزون يوم القيامة
    سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة
    یہ روایت موضوع ہے! باقی شیوخ حضرات ہی تفصیل بتائیں گے بمعہ اردو ترجمہ :)
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏مئی 01، 2018 #9
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,417
    موصول شکریہ جات:
    379
    تمغے کے پوائنٹ:
    161

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    محترم شیخ @اسحاق سلفی حفظ اللہ اس روایت کے ضعف کا ترجمہ کردیں
     
  10. ‏مئی 01، 2018 #10
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,694
    موصول شکریہ جات:
    2,248
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    علامہ البانیؒ کی "سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ " میں تاریخ ابن عساکر کی یہ روایت اور اس پر جرح حسب ذیل ہے :
    ابن عساکر میں بالاسناد یوں ہے
    "
    إبراهيم بن أنس الأنصاري نا إبراهيم بن جعفر بن عبد الله بن محمد بن مسلمة عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله قال كنا عند النبي (صلى الله عليه وسلم) فأقبل علي بن أبي طالب فقال النبي (صلى الله عليه وسلم) قد أتاكم أخي ثم التفت إلى الكعبة فضربها بيده ثم قال والذي نفسي بيده إن هذا وشيعته لهم الفائزون يوم القيامة ثم قال إنه أولكم إيمانا معي وأوفاكم بعهد الله وأقومكم بأمر الله وأعدلكم في الرعية وأقسمكم بالسوية وأعظمكم عند الله مزية قال ونزلت " إن الذين امنوا وعملوا الصالحات أولئك هم خير البرية " (2) قال فكان أصحاب محمد (صلى الله عليه وسلم) إذا أقبل على قالوا قد جاء خير البرية "
    ترجمہ متن روایت :
    ابن عساکر نے سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری سے نقل کیا ہے کہ ہم لوگ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم) کے پاس موجود تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے یہ اور ان کی پیروی کرنے والے قیامت کے روز کامیاب ہیں، کیونکہ یہ سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے ہیں اور تم سب سے بڑھ اللہ کا عھد نبھانے والے ہیں ،اور سب سے بڑھ کر اللہ کے امر پر قائم رہنے والے اور سب سے بڑھ کر عدل کرنے والے ،اور عنداللہ بڑی شان رکھتے ہیں، اور یہ آیت ” إِنَّ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ اٴُولئِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ “ نازل ہوئی ۔ اس کے بعد سے جب بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ آتے تھے تو اصحاب کہتے تھے ”خیر البریہ“ (بہترین انسان) آگئے "
    علامہ البانی سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ میں اس روایت کے تحت فرماتے ہیں :

    قلت: وهذا إسناد مظلم؛ أبو الزبير مدلس، وقد عنعنه ومن دونه؛ لم أجد لهما ترجمة، فأحدهما هو الآفة "..
    البانی کہتے ہیں : ابن عساکر کی اس روایت کی یہ اسناد مظلم (اندھیری )ہے ،(اور مظلم اسناد موضوع ہوتی ہے ،امام ذہبیؒ مستدرک حاکم کی تلخیص میں ایک حدیث کے متعلق یوں تبصرہ کرتے ہیں : الذهبي بقوله : « آحاسبه موضوعا، و اسناده مظلم، ) البانی مزید کہتے ہیں کہ ابن عساکر کی اس سند میں ابوالزبیر راوی مدلس ہے اور یہاں اس نے سماع کی تصریح نہیں کی بلکہ عنعنہ سے کام چلایا ہے ، اور اس کے نیچے کے دو راویوں کے حالات نہ مل سکے ،انہی دو میں سے ایک آفت ہے ( جس کی مہربانی سے یہ روایت وجود میں آئی "
    علامہ البانی آگے فرماتے ہیں کہ :امام محمد بن جریر طبری نے بھی اسی معنی کی روایت اپنی تفسیر میں نقل کر رکھی ہے جو درج ذیل ہے :

    وروى ابن جرير الطبري في "التفسير" (30/ 171) : حدثنا ابن حميد، قال: ثنا عيسى بن فرقد، عن أبي الجارود، عن محمد بن عليّ (أُولَئِكَ هُمْ خَيْرُ الْبَرِيَّةِ) فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "أنْتَ يا عَلي وَشِيعَتُكَ".
    قلت: وهذا مرسل؛ محمد بن علي: هو أبو جعفر الباقر؛ الثقة الفاضل، المحتج به عند الشيخين وسائر الأئمة. لكن السند إليه هالك؛ فإن أبا الجارود - واسمه زياد بن المنذر -؛ قال ابن معين، وأبو داود:
    "كذاب". وقال ابن حبان
    "كان رافضياً يضع الحديث".
    وعيسى بن فرقد؛ قال فيه أبو حاتم:
    "شيخ".
    وابن حميد: اسمه محمد؛ حافظ ضعيف.
    وروي الحديث مختصراً جداً بلفظ:
    "علي خير البرية"!

    لیکن یہ روایت بھی ضعیف ہے کیونکہ یہ مرسل ہے ، جلیل القدر تابعی محمد بن علی یعنی امام ابو جعفر باقر (سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے پوتے ) ثقہ فاضل ہیں ، اور شیخین (بخاری و مسلم ) کے ہاں بلند پایہ راوی ہیں ، وہ یہاں بلا واسطہ نبی کریم ﷺ سے نقل کر رہے ہیں ، اور مرسل ہونے کے ساتھ امام محمد بن علی تک اسناد بھی تباہ کن ہے ، کیونکہ ابو الجارود جس کا نام زیاد بن منذر ہے اس کے متعلق ائمہ محدثین جیسے امام ابن معینؒ امام ابوداود ؒ کہتے ہیں کہ یہ کذاب ہے ،امام ابن حبان کہتے ہیں کہ یہ خبیث رافضی ہونے کے ساتھ حدیثیں گھڑتا رہتا تھا ، اور دوسرے راوی عیسی بن فرقد کے متعلق امام ابوحاتم " شیخ " کہہ کر جرح کرتے ہیں ۔(یعنی قلیل الروایۃ یا مجہول ہے )
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں