1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جواب چاھیے تقلید کے بارے¿¿

'تقلید واجتہاد' میں موضوعات آغاز کردہ از عتیق الرحمن, ‏اپریل 03، 2017۔

  1. ‏اپریل 03، 2017 #1
    عتیق الرحمن

    عتیق الرحمن رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 19، 2017
    پیغامات:
    82
    موصول شکریہ جات:
    33
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!!
    آج مولانا نزیر احمد دہلوی رحمہ اللہ کی کتاب 'معیار الحق' کا مطالعہ کرنے کا اتفاق ھوا تو اس میں تھوڑی دقت پیش ھورہی ھے مسئلہ سمجھ نہیں آرہا لہ وہ کیا کہہ رہے ھیں بظاہر معلوم ھوتا ھے کہ وہ یہ کہہ رہے ھیں کہ قرون اولہ اور صحابہ کے اجماع سے ثابت ھے کہ تقلید واجب ھے باقی اہل علم حضرات اسکا تفصیلی جواب عنائیت فرمائیں معیار الحق کے صفحہ ۱۴۳ کا اسکین لگا رہا ھوں اور عبارت کو ھائ لائٹ کیا ھے
    جزاک اللہ خیرا.
     

    منسلک کردہ فائلیں:

  2. ‏اپریل 03، 2017 #2
    عتیق الرحمن

    عتیق الرحمن رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 19، 2017
    پیغامات:
    82
    موصول شکریہ جات:
    33
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

  3. ‏اپریل 03، 2017 #3
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    انہوں نے کہا ہے کہ صحابہ کے اجماع سے ثابت ہے کہ کسی ایک شخص کی تقلید کا التزام واجب نہیں۔
    عامی کے لئے کافی ہے کہ وہ کسی بھی متبع قرآن وسنت عالم سے مسئلہ پوچھ کر عمل کر سکتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ کسی بھی متبع قرآن وسنت عالم سے مسئلہ پوچھ کر اس کی تقلید کر سکتا ہے اس کے لئے کسی ایک کی تقلید لازم نہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 2
    • لسٹ
  4. ‏اپریل 04، 2017 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    آپ نے جو نقل کیا ہے ، اقتباس میں مجھے تو ایسی کوئی بات معلوم نہیں ہوئی ، البتہ معیار الحق جس کتاب کے جواب میں لکھی گئی ، اس میں تقلید شخصی کو واجب قرار دیا گیا ، شیخ الکل نے اسی کے نقض میں یہ حوالہ جات نقل کیے ہیں ۔ کہ قرون اولی میں کبھی بھی کسی معین کی تقلید پر عمل نہیں رہا ۔ واللہ اعلم ۔
     
    • متفق متفق x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏اپریل 04، 2017 #5
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,651
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    @عتیق الرحمن بھائی! اور تو آپ اسکین اضافی طور پر لگائیں تو درست، لیکن یونکیوڈ میں ضرور تحریر کیا کریں!

    چنانچہ صاحب مسلم الثبوت نے حاشیہ منہیی میں نقل کیا ہے، اور فاضل قندھاری نے ناقلاً عن التقریر مغتنم الحصول ميں نقل کیا ہے اور مولانا عبد العی نے شرح مسلم (مسلم الثبوت) میں نقل کرکے اس پر تفریعات کیں ہیں اور عبد الوہاب شعرانی نے میزان ميں نقل کیا ہے اور تمام کتب اصول میں مذکور ہے فالا قوی اجماع لصحابة یعنی کہ قرون اولی میں چنانچہ روایت 2،3،4،5،6،7،8،9،10،11،12 سے بوجہ بسیط پہلے معلوم ہوا پس جب کل صحابہ اور تمام مومنین کا قرون اولی میں اس پر اجماع ثابت ہوا کہ کبھی ایک مجتہد کی تقلید کرتے اور کبھی دوسرے مجتہد کی پھر اب ایک ہی مذہب کا التزام کرنا اور اس کو واجب جاننا اور تارک اس التزام کے کو گمراہ جاننا اور لامذہب نام رکھنا اور لائق ےتعزیر کے جان کر تعزیر دینی اور مردود اشتہادۃ کہنا پھر بہ نسبت ایسے عقیدے والے کی بدعت ضلالۃ اور ھرام نہیں تو پھر کیا ہے اور معتقد ایسے عقیدہ اور عمل کا مصداق آیۃ کریمہ ﴿وءتبع غير سبيل المومنیں﴾ کا کیونکر نہ کوگا اور مصداق من شذ شذ في النار کا اس حدیث کا اتبعوا اسواد الاعظم ومن شذ شذ في النار کس طرح نہ ہوگا۔
    ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 143 معیار الحق فی تنقید تنویر الحق – سید نذیر حسین دہلوی – جامع تعلیم قرآن وحدیث

    اس بات کو سمجھنے کے لئے، اسی کتاب کی عبارت ملاحظہ فرمائیں:


    اور فضل قندھاری مغتنم الحصول میں فرماتے ہیں:
    التقليد العمل بقول من ليس قوله من الحجج الشرعية بلا حجة فرجوع إلی النبي ﷺ اؤ إلی الإجماع ليس منه هكذا رجوع العامي إلی المفتي والقاضی إلی العدول لوجوبة بالنص رجوع المجتهد اؤ العامي مثله لكن العرف علی أن العامي مقلد للمجتهد قال إمام الحرمين وعليه معظم الاصولين وقال الغزالي والآمدي وابن الحاجب ان سمی الرجوع إلی الرسول ﷺ وإلی الإجماع وإلی المفتي وإلی الشهود تقليد فلا مشاحة انتهیٰ.
    "تقلید اس شخص کے قول پر بلا دلیل عمل کرنا ہے جسکا قول حجتوں شرعیہ میں سے نہ ہو سو رجوع کرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع کی طرف تقلید نہ ٹھری اور اسی طرح رجوع کرنا انجان کا مفتی کے قول کی طرف اور رجوع کرنا قاضی کا ثقہ کے قول کی طرف تقلید نہیں ٹھرے گی کیونکہ رجوع بحکم شرع واجب ہے۔ بلکہ رجوع کرنا مجتہد یا انجان کا اپنے جیسے آدمی کی طرف تقلید نہیں لیکن مشہور یوں ہو گیاہے کہ انجان مجتہد کا مقلد ہے۔ امام الحرمین نے کہا ہے کہ اسی قول پر بڑے بڑے اصولی ہیں اور آمدی اور ابن رجب نے کہا ہے کہ رجوع کرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع اور مفتی اور گواہوں کی طرف اگر تقلید قرار دیا جائے تو کچھ ہرج نہیں۔ "
    پس ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروری کو اور مجتہدین کی اتباع کو تقلید کہنا جائز ہے۔
    ملاحظہ فرمائیں: صفحہ 73 معیار الحق فی تنقید تنویر الحق – سید نذیر حسین دہلوی – جامع تعلیم قرآن وحدیث


    معلوم ہوا کہ یہاں سید نذیر حسین دہلوی رحمہ اللہ نے یہاں، فقہی اصطلاحی تقلید نہیں بلکہ لغوی عرفی تقلید کہا ہے۔
     
    Last edited: ‏اپریل 04، 2017
    • علمی علمی x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • مفید مفید x 2
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  6. ‏اپریل 04، 2017 #6
    رحمانی

    رحمانی رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 13، 2015
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    102
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    اس بحث کا خلاصہ تویہی نکلتاہے کہ تقلید جائز اور قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔اب رہ گئی بات تقلید شخصی توجب تقلید کی اصل ثابت ہوگئی تو تقلید شخصی اس کی فرع ہے، وہ بھی ثابت ہوجائے گی، تقلید شخصی کا یہ مطلب کہیں نہیں کہ ہربات میں کسی ایک فرد کی پیروی کی جائے اورایساکسی بھی مذہب میں نہیں ہے،تقلید شخصی کا مطلب ہے ایک مکتبہ فکر کی پیروی ، فقہ حنفی کو ہی دیکھئے،کتنے سارے مسائل میں صاحبین اور امام زفر کے قول پر فتویٰ ہے،یابعد کے علماءنے کسی اور قول پر فتویٰ دیاہے،لیکن فقہ حنفی کی تقلید کوبھی تقلید شچخصی ہی کہاجاتاہے۔یہی صورت حال شوافع ،حنابلہ اورمالکیہ کے بھی یہاں ہے۔
     
  7. ‏اپریل 04، 2017 #7
    عتیق الرحمن

    عتیق الرحمن رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 19، 2017
    پیغامات:
    82
    موصول شکریہ جات:
    33
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    جزاک اللہ خیرا محترم ابن داود بھائ اور شیخ محترم خضر حیات.
    اب بات واضح طور پر سمجھ آگئ ھے.
     
  8. ‏اپریل 04، 2017 #8
    عتیق الرحمن

    عتیق الرحمن رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 19، 2017
    پیغامات:
    82
    موصول شکریہ جات:
    33
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    جی وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ!!
    جی ان شاءاللہ اگلی بار ضرور اس مشورہ پر عمل ھوگا ان شاءاللہ
     
  9. ‏اپریل 04، 2017 #9
    عتیق الرحمن

    عتیق الرحمن رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 19، 2017
    پیغامات:
    82
    موصول شکریہ جات:
    33
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    محترم جیسا کہ نام سے ظاہر ھورہا ھے کہ تقلید شخصی کا معنی اور مطلب یہی بنتا ھے کہ تقلید صرف ایک ہی شخص کی کی جاتی ھے.
    ایسا کبھی ھوا ھے کہ کوئ حنفی جس نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کو چھوڑ کر کسی اور امام کا قول قبول کیا ھو¿¿
    اگر ایسا ھے تو پھر یہ تقلید تقلید شخصی نہیں کہلائے گی بلکہ تقلید مطلق کہلائے گی جو کہ ایک مکتبہ فکر کی بجائے تمام اماموں اور محدثین کے اقوال پرکھے جاتے ھیں جو قرآن وحدیث کے مطابق ھو اسکو لے لیا...
     
  10. ‏اپریل 04، 2017 #10
    رحمانی

    رحمانی رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 13، 2015
    پیغامات:
    382
    موصول شکریہ جات:
    102
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    چلئے میری بات غلط،آپ ہی فقہ حنفی یاشافعی یامالکی یاحنبلی میں کسی مستند عالم سے یہ ثابت کردیجئے کہ ان کے مسلک میں ہرمفتی بہ قول اس مسلک کے امام کا قول ہے۔ یہ آپ کبھی ثابت نہیں کرپائیں گے وادعوا شھدائکم،
    جب یہ تسلیم کہ ہرمسلک میں اس مسلک کے امام کے قول سے ہٹ کر بھی فتوی دیاجاتاہے اور دیاگیاہے توصاف ظاہر ہے کہ یہ تقلید شخصی نہیں ہےکہ کسی ایک ہی فرد کے تمام اقوال کی تقلید کی جائے، بالخصوص فقہ حنفی میں تو دیگر مسالک سے زیادہ گنجائش ہے کیونکہ فقہ حنفی میں امام ابوحنیفہ ،امام ابویوسف اورامام محمد تینوں کے اقوال کو فقہ حنفی شمار کیاجاتاہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں