1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جواب چاہتا ہوں.

'تقلید واجتہاد' میں موضوعات آغاز کردہ از buttnajeeb3, ‏جولائی 10، 2015۔

  1. ‏ستمبر 26، 2015 #131
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جی بطور انتظامیہ رکن یہ ضرور گزارش کروں گا کہ ’’ زبان و دہن ‘‘ کو بگڑنے نہ دیجیے ۔
     
  2. ‏ستمبر 26، 2015 #132
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اشماریہ صاحب! اب جواب لکھیں آگے!
     
  3. ‏ستمبر 27، 2015 #133
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    بندہ آپ کی اس رائے کے بعد اپنے سوالات سے دستبردار ہوتا ہے۔

    @ابن داود بھائی! اس کے بعد کیا کرنا ہے؟ یہ بتا دیجیے! اگر آپ کہتے ہیں کہ میں اس بحث کو جاری رکھوں تو صرف اس وجہ سے کہ آپ نے مجھے یہ طعنہ دیا ہے کہ میں بحث سے بھاگنے کی کوشش کر رہا ہوں میں اسے جاری رکھوں گا۔
    اور اگر آپ کہتے ہیں کہ اس بحث کو چھوڑ دیا جائے تو میں خضر حیات بھائی سے اس تھریڈ کو لاک کرنے کی گزارش کروں گا۔
    اب جیسے آپ مناسب سمجھیں۔
     
  4. ‏ستمبر 27، 2015 #134
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    لیکن ایک چھوٹی سی گزارش ضرور کروں گا۔ چوں کہ میرا آپ سے یہ شکوہ ہے کہ آپ واضح جواب نہیں دیتے بلکہ بات کو گھما پھرا دیتے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ آپ کا جواب واضح ہوتا ہے تو براہ کرم ایک منصف کو درمیان میں لائیے جو جواب کے واضح ہونے نہ ہونے کا فیصلہ کرے ورنہ یہ جھگڑا تو تا عمر چلتا رہے گا۔
     
  5. ‏ستمبر 27، 2015 #135
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    قارئین پر چھوڑ دیجئے! اور تھریڈ میرے جواب سے پہلے لاک نہیں ہونا چاہئے!
    اشماریہ بھائی! اگلی واری وی نسن دا بہانہ سوچ کر آئیں!
     
  6. ‏ستمبر 28، 2015 #136
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ٹھیک ہے جی میں آپ کے کہنے پر قارئین پر چھوڑ دیتا ہوں۔ لیکن یہ عرض کر دوں کہ جہاں آپ نے میرے دو بار کہنے پر کوئی بات تسلیم نہیں کی تو تیسری بار میں اسے آپ کی ضد قرار دے کر اس بات سے ہٹ جاؤں گا۔ آپ پھر اپنے قارئین کو لاتے رہیے گا کہ وہ اس کا فیصلہ کریں کہ یہ آپ کی ضد ہے یا نہیں۔
    تو میں باسمہ تعالی عرض کرتا ہوں جہاں سے چھوڑا تھا!


    ابن داود بھائی! معذرت چاہتا ہوں۔ یہ آپ کا فقط خیال ہے۔ اور آپ کا خیال مجھ پر لاگو نہیں آتا۔ اپنے لحاظ سے تو آپ جو چاہیں سوچ لیں۔


    ایک چھوٹا سا مسئلہ آپ کے ساتھ بحث میں یہ ہے کہ جس چیز کو بطور جملہ معترضہ یا بطور مزاح ہی کہہ دیا جائے آپ اس پر پوری بحث لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ابن داود بھائی یہاں فضائل اعمال پر بات نہیں ہو رہی۔ جس تھریڈ میں اس پر بات ہو رہی ہوگی وہاں اس پر بحث کریں گے۔


    دیکھیے ابن داود بھائی آپ کا دعوی یہ تھا:
    اس پر آپ نے مثال پیش کی:
    اب دعوی تھا کہ امام محمدؒ نے اپنی اٹکل سے مسائل اخذ کیے ہیں۔ لیکن اس مسئلہ کو آپ امام محمدؒ سے ثابت نہیں کر سکے۔ اس لیے آپ کی دی ہوئی دلیل یا مثال آپ کے دعوی کے مطابق نہیں ہے۔
    اس پر آپ کہتے ہیں:
    یہ بات ٹھیک ہے کہ یہ فقہ حنفیہ کا مسئلہ ہے۔ لیکن فقہ حنفیہ کے تمام مسائل سے یہاں بحث نہیں ہو رہی۔ یہاں بحث ہے امام محمدؒ کے اس مسئلہ سے جو آپ کے الفاظ میں قرآن و حدیث کو رد کرتے ہوئے اپنی اٹکل سے اخذ کردہ ہو۔ اور آپ کا یہ سوال کہ یہ مسئلہ کس نے اخذ کیا ہے تو بحث میں یہ مسئلہ آپ نے پیش کیا ہے لہذا اس کا جواب آپ کی ذمہ داری ہے میری نہیں۔
    اگر آپ اس پر بضد ہوں کہ یہ امام محمد کا ہی مسئلہ ہے تو آپ کو یہ ثابت کرنا ہوگا۔



    میرے پیارے بھائی! اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فقہ حنفی پر آپ کی نظر کتنی گہری ہے۔ آپ نے اس اقتباس میں دعوی کیا کہ آپ نے اس مسئلہ کا مطلب بالکل درست بیان کیا ہے۔ پھر مطلب یہ بیان کیا کہ اگر کوئی جان بوجھ کر نماز میں حدث یعنی پد یا پاد مار لے تو اس کی نماز مکمل ہو گئی۔ اور اپنے اس دعوے پراور اس مسئلہ کے متفق علیہ ہونے والے دعوی پر آپ نے دو دلیلیں دیں۔ اول یہ کہ یہ ایسی کتاب سے ہے جس پر علماء کی تقریضات و مقدمہ جات ہیں۔ ثانی یہ کہ ہدایہ کی دیگر شروح میں بھی یہ مسئلہ مذکور ہے۔

    میں اس پر یہ عرض کرتا ہوں کہ آپ نے اس مسئلہ کا مطلب جو ہدایہ میں تحریر ہے وہ تو لکھ دیا ہے لیکن احناف کے یہاں فتوی کا یہ اصول نہیں ہے کہ وہ ہدایہ اٹھائیں اور فتوی دے دیں۔
    علامہ محمد امین بن عمر ابن عابدین (ت 1252ھ) شرح عقود رسم المفتی میں ایک قاعدہ بیان کرتے ہیں:
    لا ثقۃ بما یفتی بہ اکثر اہل زماننا بمجرد مراجعۃ کتاب من الکتب المتاخرۃ خصوصا غیر المحررۃ ک شرح النقایۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مع ماشتملت علیہ من السقط فی النقل فی مواضع کثیرۃ۔۔۔۔ الخ
    ص 12 ط بشری

    "جو ہمارے زمانے کے اکثر لوگ کتب متاخرہ میں سے کسی کتاب میں سے دیکھ کر فتوی دیتے ہیں اس کا اعتبار نہیں ہے خصوصا ان کتب سے جن کی تحقیق نہیں کی گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ ساتھ یہ کہ ان کتابوں میں بہت سی جگہوں میں نقل میں سقط ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔ الخ"

    تو پھر کس طرح فتوی دیا جاتا ہے؟ تو سب سے پہلے اصولوں تک رسائی کی جاتی ہے، پھر نکتہ غور متعین کیا جاتا ہے پھر اس پر مختلف کتب سے عبارات دیکھی جاتی ہیں، پھر ان عبارات کو اصول و قواعد کی روشنی میں پرکھا جاتا ہے اور پھر فتوی دیا جاتا ہے۔ اس کی کچھ تفصیل آداب فتوی نویسی مولفہ مفتی ابو لبابہ شاہ منصور میں پڑھی جا سکتی ہے۔ بد قسمتی سے میرے پاس اس وقت یہ کتاب موجود نہیں ہے ورنہ میں اس کا حوالہ بھی عرض کر دیتا۔
    تو اس سے یہ معلوم ہوا کہ صرف ہدایہ کو دیکھ کر ہمارے یہاں فتاوی نہیں دے دیے جاتے۔ بلکہ اکثر اوقات فتاوی تو دیے ہی "البحر الرائق"، "النہر الفائق"، "حاشیۃ ابن عابدین" اور ان جیسی کتب سے جاتے ہیں۔
    لہذا میں اس مسئلہ کی تحقیق عرض کرتا ہوں:
    یہ مسئلہ ترمذی کی ایک حدیث میں مذکور ہے:
    حدثنا أحمد بن محمد، قال: أخبرنا ابن المبارك قال: أخبرنا عبد الرحمن بن زياد بن أنعم، أن عبد الرحمن بن رافع، وبكر بن سوادة، أخبراه عن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا أحدث - يعني الرجل - وقد جلس في آخر صلاته قبل أن يسلم فقد جازت صلاته»،: «هذا حديث ليس إسناده بالقوي، وقد اضطربوا في إسناده» وقد ذهب بعض أهل العلم إلى هذا قالوا: إذا جلس مقدار التشهد وأحدث قبل أن يسلم فقد تمت صلاته " وقال بعض أهل العلم: إذا أحدث قبل أن يتشهد وقبل أن يسلم أعاد الصلاة وهو قول الشافعي"
    اس حدیث کی اسناد پر امام ترمذیؒ (ت 279ھ) نے اعتراض کیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ بعض اہل علم اس جانب گئے ہیں (جو کہ ظاہر ہے ان اہل علم کے نزدیک توثیق ہے اگرچہ کسی اور کے نزدیک نہ ہو)۔ اس حدیث میں اصل مسئلہ ہے راوی حدیث عبد الرحمان بن زیاد بن انعم الافریقی کا۔ ان پر بہت سے محدثین نے جرح کی ہے۔
    یہ حدیث بیہقی نے بھی انہی سے روایت کی ہے۔
    عبد الرحمان بن زیاد بن انعم پر جرح ان کی عدالت کے حوالے سے نہیں بلکہ ان کے حفظ کے حوالے سے ہے۔ (اور میں پہلے ہی عرض کر چکا ہوں کہ دونوں چیزیں الگ الگ ہوتی ہیں۔ کوئی شخص ہو سکتا ہے کہ حفظ میں مجروح ہو اور عدالت میں نہ ہو اور ہو سکتا ہے کہ عدالت میں مجروح ہو اور حفظ میں نہ ہو۔) علامہ مزیؒ تہذیب الکمال میں ان کے حوالے سے یعقوب بن شیبہ کا قول نقل کرتے ہیں:
    و قال يعقوب بن شيبة : ضعيف الحديث ، و هو ثقة صدوق ، رجل صالح ، و كان من
    الأمارين بالمعروف الناهين عن المنكر .
    اور یعقوب بن سفیان کا قول نقل کرتے ہیں:
    و قال يعقوب بن سفيان : لا بأس به ، و فى حديثه ضعف . (ان دونوں جملوں کو نوٹ کر لیجیے گا۔ میں ہو سکتا ہے اسی بات کو کہیں اور عرض کروں۔)

    جہاں ان کی مختلف محدثین نے تضعیف کی ہے وہیں بعض نے ان کی توثیق بھی کی ہے۔ مزی نے ہی نقل کیا ہے:
    و قال محمد بن عبد الله بن قهزاذ ، عن إسحاق بن راهويه : سمعت يحيى بن سعيد
    القطان يقول : عبد الرحمن بن زياد ثقة .
    و قال الترمذى : ضعيف عند أهل الحديث ، ضعفه يحيى القطان و غيره ، و رأيت محمد
    ابن إسماعيل يقوى أمره ، و يقول : هو مقارب الحديث .
    محمد بن اسماعیل سے مراد امام بخاریؒ ہیں۔
    اور احمد بن صالح نے تو ان کی توثیق میں یہ کیا ہے کہ جرح کرنے والوں کو رد ہی کر دیا ہے:
    و قال أحمد بن محمد بن الحجاج بن رشدين بن سعد : قلت لأحمد بن صالح : حيى يجرى
    عندك مجرى أبى هانىء فى الثقة ؟ قال : نعم . قلت : فابن أنعم ؟ قال لى أحمد بن
    صالح : ابن أنعم أكبر من حيى عندى ، و رفع بابن أنعم فى الثقة . فقلت لأحمد بن
    صالح : فمن يتكلم فيه عندك جاهل ؟ فقال أحمد بن صالح : من تكلم فى ابن أنعم
    فليس بمقبول ، ابن أنعم من الثقات .
    اور حافظؒ نے تہذیب التہذیب میں سحنون سے روایت کیا ہے:
    و قال سحنون : عبد الرحمن بن زياد بن أنعم ثقة .

    تو اس جرح و تعدیل کے درمیان اگر کوئی فقیہ تعدیل کو ترجیح دے کر اس مسئلہ کو اپنا مسلک بناتا ہے تو آپ یا کوئی بھی اس پر اعتراض نہیں کر سکتا۔ جو فقیہ علم حدیث سے واقف ہو وہ کسی محدث کے حکم یا اس کے بنائے ہوئے اصول کا پابند نہیں ہوتا کیوں کہ محدثین بھی رجال تھے اور وہ بھی ایک رجل ہے۔ ہاں آپ چاہیں تو اس فقیہ سے اس پر بحث کر سکتے ہیں۔

    لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ احناف کا یہ مسلک نہیں ہے تو البحر الرائق میں یہی مسئلہ مذکور ہے:
    ومعنى قوله تمت صلاته تمت فرائضها، ولهذا لم تفسد بفعل المنافي وإلا فمعلوم أنها لم تتم بسائر ما ينسب إليها من الواجبات لعدم خروجه بلفظ السلام وهو واجب بالاتفاق حتى أن هذه الصلاة تكون مؤداة على وجه مكروه فتعاد على وجه غير مكروه كما هو الحكم في كل صلاة أديت مع الكراهة كذا في شرح منية المصلي
    ج1 ص 396 ط دار الکتب

    "مصنف کے قول تمت صلاتہ کا مطلب ہے نماز کے فرائض مکمل ہو گئے۔ ورنہ یہ معلوم چیز ہے کہ وہ تمام واجبات جن کی اس نماز کی جانب نسبت ہے اس کے ساتھ وہ مکمل نہیں ہوئی اس کے لفظ سلام کے ساتھ نماز سے نہ نکلنے کی وجہ سے حالاں کہ وہ بالاتفاق واجب ہے۔ یہاں تک کہ یہ نماز مکروہ طور پر ادا شدہ ہوگی لہذا اسے غیر مکروہ طور پر لوٹایا جائے گا جیسا کہ ہر اس نماز کا حکم ہے جسے کراہیت کے ساتھ ادا کیا جائے۔ اسی طرح مسئلہ شرح منیۃ المصلی میں ہے۔"
    یہ ہے احناف کا مسلک۔ اب آپ اس پر یہ نہیں کہہ دیجیے گا (جیسا کہ ایک اور مسئلہ میں کہا تھا) کہ ان کی بات صاحب ہدایہ یا ماتن کے خلاف ہے کیوں کہ بعذر ہزار ہم آپ کی سمجھ کے نہیں اپنی سمجھ کے مکلف ہیں اور ہمارا مسلک ہماری سمجھ کے مطابق ہوتا ہے آپ کی نہیں۔ آپ کا جو دل چاہے سمجھ لیں۔ میرا کام آپ کو اپنا مسلک بتانا تھا۔

    دوسری چیز آپ نے جو اس مسئلہ کا مطلب بیان کیا اور اس میں حدث کی تفصیل بیان کی پد یا پاد مارنے سے۔ حالاں کہ احناف کے نزدیک اور بھی حدث ہیں۔ بطور مثال تو چلیں اس کو پیش کیا جاسکتا ہے لیکن اس کی تفصیل اسی سے کی جائے یہ درست نہیں۔ دو اور صورتیں میں عرض کرتا ہوں۔
    اول: نمازی کا کوئی دانہ یا زخم تھا جسے اس نے کھجایا اور اس سے خون نکل آیا تو یہ حدث بھی ہے اور تعمد حدث بھی۔
    ثانی: نمازی نے منہ میں انگلی ڈال کر قے کردی تو یہ حدث بھی ہے اور تعمد حدث بھی۔

    تیسری چیز آپ کی دو دلیلیں ہیں۔ ان پر عرض یہ ہے کہ اولا تو مقدمہ یا تقریظ پوری کتاب کو لفظا لفظا پڑھ کر نہیں لکھی جاتی بلکہ چیدہ چیدہ مقامات کو دیکھ کر لکھی جاتی ہے اس کتاب کے طرز کے بارے میں۔ ثانیا تقریظ یا مقدمہ کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ شخص کتاب کے تمام مسائل اور کتاب کی تمام تشریحات سے متفق ہے (اگر آپ اس کا یہ مطلب سمجھتے ہیں تو یہ محتاج دلیل ہے اور اگر آپ اس شخص پر اس کی تردید یا وضاحت لازمی سمجھتے ہیں تو یہ بھی محتاج دلیل ہے)۔
    اور ثالثا یہ کہ ہدایہ کی کسی اردو شرح وغیرہ سے کسی مسئلے پر فتوی نہیں دیا جاتا اور نہ ہی اردو شرح کے ذریعے کسی مسئلہ پر اتفاق ہوتا ہے۔ اگر آپ ایسا سمجھتے ہیں تو اصول فتوی میں سے ایسا کوئی اصول ڈھونڈ کر دکھائیے جو آپ کی بات کی تائید کرے۔

    اب یہ بات یاد رکھیے گا کہ آپ جو بات بھی کریں گے وہ باحوالہ اور مدلل ہونی چاہیے کیوں کہ میں نے کتب سے اپنی بات واضح کی ہے۔ اگر آپ نے صرف اپنی بات یا اپنی سمجھ ہمارے بارے میں لکھنے کی کوشش کی تو یہ ذلک قولہم بافواہہم کے مترادف ہوگا۔ ہاں اپنے بارے میں جو چاہیے لکھیے۔
    جزاک اللہ

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
     
  7. ‏ستمبر 28، 2015 #137
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ

    چوں کہ میں نے مثال کو تبدیل کر دیا ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ مثال میں امام محمدؒ کے ذکر سے رجوع کر لیا ہے تو میں ان پر مزید بحث نہیں کرتا۔
    تو امام شافعی یا مالک رحمہما اللہ کے حوالے سے آپ کا مسلک یہ ہے کہ:
    ٹھیک ہے۔ جب آپ بیان کر رہے ہیں تو ہمیں آپ کا موقف تسلیم ہے۔
    آیت میں لفظ ہے "فاسئلوا"۔ اس میں مادہ سوال عام ہے۔ چاہے یہ سوال دلیل کے ساتھ ہو یا چاہے یہ سوال بغیر دلیل کے ہو۔ اور عام کے بارے میں یہ قاعدہ ہے کہ جب تک اس کا کوئی مخصص موجود نہ ہو اس کے عموم پر عمل کیا جاتا ہے۔
    زکریا بن غلام قادر اپنی کتاب من اصول الفقہ علی منہج اہل الحدیث میں لکھتے ہیں:
    القاعدة الثانية: الأصل في العام العمل به على عمومه حتى يوجد المخصص
    1۔127 ط دار الخراز

    والذي صح عندي من مذهب الشافعي رضي الله عنه أن الصيغة العامة لو صح تجردها عن القرائن لكانت نصا في الاستغراق
    البرہان فی اصول الفقہ 1۔112 ط العلمیہ

    وعندنا وعند الشافعي - رحمه الله - يوجب الحكم في الكل
    التوضیح (شرح التلویح علی التوضیح 1۔70 ط مکتبۃ صبیح بمصر)


    چوں کہ یہ عام ہے اس لیے مجتہد سے سوال دلیل کے ساتھ بھی کیا جا سکتا ہے اور بلا دلیل بھی۔ اور جب بغیر دلیل کے کیا جائے گا تو اس پر عمل تقلید ہوگی۔ لہذا اس آیت سے تقلید ثابت ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس پر یہ سوال ہو کہ کسی ایک مفسر سے دکھا دیں کہ اس آیت سے تقلید پر اثبات کیا ہو (ایک تھریڈ میں ایک بھائی نے یہ دعوی کیا ہے) اس لیے عرض ہے کہ علامہ قرطبیؒ (ت 671ھ) اپنی تفسیر الجامع لاحکام القرآن میں فرماتے ہیں:
    لم يختلف العلماء أن العامة عليها تقليد علمائها، وأنهم المراد بقول الله عز وجل:" فسئلوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون" وأجمعوا على أن الأعمى لأبد له من تقليد غيره ممن يثق بميزه بالقبلة إذا أشكلت عليه، فكذلك من لا علم له ولا بصر بمعنى ما يدين به لا بد له من تقليد عالمه، وكذلك لم يختلف العلماء أن العامة لا يجوز لها الفتيا، لجهلها بالمعاني التي منها يجوز التحليل والتحريم.
    11۔272 ط دار الکتب المصریۃ

    علماء کا اس پر اختلاف نہیں ہے کہ عوام پر ان کے علماء کی تقلید (لازم) ہے، اور یہی اللہ عز و جل کے اس ارشاد فسئلوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون سے مراد ہے۔ اور ان کا اجماع ہے کہ نابینا کے لیے ضروری ہے کسی اور کی جس کی تمییز پر اعتبار کرتا ہو قبلہ میں تقلید کرے جب وہ قبلہ اس پر مشتبہ ہو جائے۔ تو اسی طرح جس شخص کے پاس علم نہ ہو اور نہ نظر ہو اس معنی میں کہ وہ اس کے ذریعے دین پر چل سکے اس کے لیے اپنے عالم کی تقلید ضروری ہے۔ اور اسی طرح۔۔۔۔۔ الخ

    اگر اس پر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ آیت خاص موقع پر خاص لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی تھی تو اس کے دو جواب ہیں۔
    اول: قرآن کریم میں خصوص سبب کا نہیں عموم الفاظ کا اعتبار ہوتا ہے (اور اس پر بھی حوالے دیے جا سکتے ہیں)۔
    ثانی: قرطبیؒ کے مطابق جب اس مسئلہ پر علماء کا اجماع ہے تو اس آیت کا کسی خاص واقعہ میں ہونا اس سے استدلال کو کوئی ضرر نہیں دیتا۔

    چنانچہ جس آیت کے حکم کو آپ مجتہدین کے حق میں تسلیم کرتے ہیں اسی آیت سے مجتہدین کی تقلید بھی ثابت ہوتی ہے۔

    ہدایہ کے مسئلے پر بحث گزر چکی ہے۔
    ایک بار پھر عرض ہے کہ آپ کی یہ بات بھی محتاج دلیل ہے کہ تقریظات و مقدمہ جات لکھنے سے مسئلہ کو قبول کرنا لازم آتا ہے۔ اور یہ بات بھی محتاج دلیل ہے کہ تقریظات وغیرہ لکھنے والوں پر اس مسئلہ کی تردید کرنا لازم تھا۔
    ایک بار پھر یاد رہے کہ آپ کے منہ کی یا آپ کی عقل کی باتیں نہیں چلیں گی۔ ٹھوس حوالہ جات کے ساتھ بات کرنی ہوگی۔

    جاری ہے۔۔۔۔
     
  8. ‏ستمبر 28، 2015 #138
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    جی آپ بالکل ٹھیک فرما رہے ہیں۔ اسی لیے میں نے یہ نہیں کہا کہ امام مالک نے مدونہ میں اس انداز میں مسائل تحریر کیے ہیں۔
    مدونہ کتاب ہے امام عبد الرحمان بن القاسم کی اور ان سے سحنون نے روایت کی ہے۔ لیکن اسے امام مالک کی کتاب اس وجہ سے کیا جاتا ہے کہ اس میں اکثر وہ سوالات و جوابات مذکور ہیں جو امام مالکؒ سے کیے گئے اور انہوں نے ان کے جوابات دیے۔ اس کی تدوین بھی امام مالکؒ کے مسائل کو ضبط کرنے کے لیے ہوئی ہے۔ چانچہ اس کے راوی ہیں سحنون، وہ روایت کرتے ہیں عبد الرحمان بن القاسم سے اور وہ روایت کرتے ہیں امام مالکؒ سے۔
    دار الکتب العلمیہ کی مدونہ نیٹ سے بھی آپ ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں اور اس کے سرورق پر بھی یہ موجود ہے اور اندر تعریف کتاب میں بھی۔ اور وکی پیڈیا پر بھی آپ یہ تفصیل پڑھ سکتے ہیں۔
    ہاں اگر آپ یہ کہیں کہ روایت شدہ کتاب قبول نہیں ہے بلکہ امام مالک کی اپنی لکھی ہوئی کتاب ہونی چاہیے تو پھر میں عرض کروں گا روایت شدہ کتاب قبول نہ ہونے پر کوئی دلیل چاہیے۔

    جناب عالی۔ جب میں مثال سے رجوع کر چکا ہوں تو پھر مجھ پر یہ لازم نہیں ہے کہ میں اس پر یہاں بات کروں۔ رہ گئی آپ کی ہائیلائیٹڈ ضد۔۔ تو وہ آپ کے اپنے اوپر لازم ہو سکتی ہے میرے اوپر نہیں۔ اس لیے اگر آپ کو شوق ہے کہ آپ یہیں بات کریں گے تو آپ اکیلے کرتے رہیں۔ میں جواب نہیں دوں گا۔
    اور اگر آپ کو واقعی امام محمدؒ پر جرح کرنی ہے تو پھر بنائیے الگ تھریڈ۔

    نہیں جناب والا! افسوس کے ساتھ عرض ہے کہ جو آپ نے فرمایا ہے کہ محدث کی حیثیت قاضی "جیسی" ہوتی ہے اس پر دلیل تو آپ کو دینی ہوگی۔ آپ بات کر دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ لغت پڑھانے سے رہا، اسکول میں داخلہ لے لیں۔ ایسا نہیں ہوتا۔
    جب تک آپ دلیل نہیں دیں گے جو محدث کی حیثیت کو ثابت بھی کرے اور اس سے یہ بھی پتا چلے کہ محدث کے وظائف کیا ہیں تا کہ ہم اس میں اور قاضی میں فرق کر سکیں تب تک آپ کی بات ذلک قولہم بافواہہم کے درجے میں ہے۔ آپ کے یہ کہنے کا کہ محدث کی حیثیت قاضی جیسی ہے کوئی اعتبار نہیں۔


    یہ آپ علمی ابحاث کر رہے ہیں یا اپنا مشاعرہ کا شوق پورا کر رہے ہیں؟ کیا مجھے پھر انتظامیہ کو آواز دینی پڑے گی؟

    جاری ہے۔۔۔
     
  9. ‏ستمبر 28، 2015 #139
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ

    جناب عالی آپ نے یہ عبارت پیش فرمائی تھی:

    اس میں جس کتاب کا آپ نے حوالہ دیا ہے اس میں تو واضح لکھا ہوا ہے جیسا کہ میں نے ہائیلائٹ بھی کر دیا ہے کہ "یہ رجوع خود تقلید نہیں ہے اگرچہ بعد میں اس چیز پر جو وہ اخذ کریں عمل کرنا تقلید ہے"۔ اور اس میں اس بات کی کوئی قید نہیں ہے کہ وہ قول اگر قرآن و سنت سے ثابت ہو تو پھر تقلید نہیں ہوگی اور اگر ان کا اپنا قیاس ہو تو تقلید ہوگی۔
    ایجاب النص کا صرف اتنا مطلب ہے کہ چوں کہ قاضی اور عامی پر نص نے گواہوں اور مفتی کی طرف رجوع کرنا لازم کیا ہے اس لیے یہ رجوع تقلید نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اس ایجاب کی نسبت سے کوئی بات موجود نہیں ہے۔ اگر آپ کوئی فرق یا کوئی بات سمجھتے ہیں تو اسے نکال کر دکھائیے۔ خود سے نہیں بیان کر دیجیے گا کہ ایسا نہیں ایسا ہے۔ واضح طور پر دکھائیے گا۔
    دوسری بات یہ کہ اس میں عامی کے مفتی کی طرف رجوع کو تقلید سے خارج قرار دیا گیا ہے مجتہد کی جانب رجوع کو نہیں۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ مجتہد کی طرف رجوع بھی اس میں داخل ہے تو یہ آپ کو ثابت کرنا ہوگا۔
    تیسری بات یہ کہ اگر ہم اسے تسلیم کر لیں کہ مجتہد کی طرف رجوع بھی تقلید سے خارج ہے تو اس میں کتاب و سنت سے حاصل کردہ حکم اور قیاس سے حاصل کردہ حکم کا کوئی فرق مذکور نہیں ہے اس لیے پھر اسے آپ بے شک تقلید کا نام نہ دیجیے تب بھی مطلب یہ ہوگا کہ چوں کہ نص نے مجتہد کی جانب رجوع کو لازم کیا ہے اس لیے یہ تقلید نہیں ہے۔ اور آپ غیر تقلید کے جائز ہونے کے قائل ہیں تو پھر یہ بھی جائز ہے۔

    باقی لکن العرف اور تلویح کی عبارت میں مجتہد کا ذکر ہے مفتی کا نہیں۔

    میں تقلید کی اس تعریف کو مانتا ہوں۔ لیکن آپ کو کہا ہے کہ آپ وہ تعریف لکھیں جو آپ مانتے ہیں تاکہ ہم اسے بھی دیکھ سکیں۔
    لہذا ازراہ کرم وہ تعریف تحریر فرما دیجیے جسے آپ تسلیم کرتے ہیں۔


    سوال یہ تھا:
    محدث کی حیثیت قاضی کی سی ہے یا گواہ کی سی؟ وہ ایک ہی وقت میں ایک ہی حدیث پر حکم لگانے میں قاضی بھی ہے اور گواہ بھی، آخر یہ کیا گورکھ دھندا ہے؟

    آپ نے پھر اس کا واضح جواب نہیں دیا۔
    میں نے آپ سے کہا تھا کہ کسی منصف کو بیچ میں لائیں تاکہ وہ آپ کے جواب کے واضح ہونے نہ ہونے کا فیصلہ کرے۔ مجھے آپ کا یہ جواب سمجھ نہیں آیا۔ اسے واضح طور پر لکھیے۔

    جی ہاں جناب آپ نے خود اس بات کا اقرار کیا ہے کہ یہ مناظرہ نہیں ہو رہا۔
    اور میں جس چیز پر بحث چل رہی ہو اسی پر جواب دینے کا خود کو پابند سمجھتا ہوں۔ اس پر چوں کہ بحث یا مناظرہ آپ کے بقول نہیں ہو رہا اس لیے میں اس کا جواب یہاں نہیں دے رہا۔ دل چاہے تو الگ تھریڈ بنا لیجیے۔ اور آپ بضد ہوئے کہ یہیں بحث کرنی ہے تو میں آپ کی اس ضد کو تسلیم کرنے سے انکار کرتا ہوں۔ پھر آپ اکیلے کرتے رہیے گا۔
    یہاں یہ بات چل رہی ہے کہ عامی پر تقلید لازم ہے یا نہیں۔ علماء کی تقلید کا ذکر یہاں نہیں ہے لہذا میں بھی اس پر بحث نہیں کر رہا۔

    میں نے اس کے جواب میں پہلے ہی وضاحت سے عرض کیا تھا کہ دبوسی کی "مقلدین" سے مراد وہ نہیں ہے جو آپ مراد لینا چاہ رہے ہیں بلکہ ان کی مراد یہ ہے:
    یہ کل ملا کر تین بار ہو گئے۔ اگر ابھی بھی آپ کی سمجھ میں یہ واضح بات نہیں آئی اور آپ نے دوبارہ یہ سوال کیا تو میں اسے آپ کی ضد اور اعراض عن الحق سمجھوں گا اور چوتھی بار اس کا جواب نہیں دوں گا۔


    ڈاکٹر کی جانب جب جائز میں نے نسبت کی تو اس سے مراد اس کی اپنی فیلڈ میں جائز تھا نہ کہ شرع میں۔ ڈاکٹر کا شرعی احکام کے بارے میں فیصلہ کرنے کا کیا اعتبار۔ اس لیے آپ نے بلا فائدہ یہ بحث اس جگہ چھیڑنے کی کوشش کی ہے۔ ایک بار پھر عرض کرتا ہوں کہ یہاں تقلید کی بحث ہو رہی ہے اس مسئلہ کی نہیں۔
    نیز میں نے یہ جملہ معترضہ کے طور پر کہا تھا اور اپنی عادت کے مطابق اس پر بھی بحث لے کر بیٹھ گئے۔
    اب اگر میں اس پر بحث كروں اور نواب نور الحسن بن صدیق حسن خانؒ كی عرف الجادی ص 214 كی عبارت یہاں لکھوں جس میں کار ثواب سے بڑھ کر اسے واجب قرار دیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ بعض اہل علم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے بھی اسے نقل کیا ہے تو کیا یہ مناسب ہوگا؟ یہ اس بحث سے خارج ہوگا اس لیے میں یہاں یہ سب ذکر کرنا نہیں چاہتا۔
    پھر بھی اگر آپ کو شوق ہے اس پر بحث کا تو الگ تھریڈ میں کیجیے۔
     
  10. ‏ستمبر 28، 2015 #140
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    جاری ہے۔۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں