1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جوانان شیعہ کو راہِ حق پر گامزن کرنے والے چند سوالات

'اہل تشیع' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏جنوری 03، 2014۔

  1. ‏جنوری 03، 2014 #1
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,755
    موصول شکریہ جات:
    8,330
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اگر آپ راه حق كى تلاش ميں هيں تو جوانان شیعہ کو راہِ حق پر گامزن کرنے والے چند سوالات... پڑهئے
    اگر آپ جاننا چاهيں كہ اهل بيت سے محبت كا اظہار كرنے والے حقيقتا اهل بيت كى توهين كرتے هيں اور صحابه كرام رضوان الله عليهم اجمعين سے بغض و عداوت ان كے مذهب كى بنياد هے ۔
    وہ اہم سوالات جن کا متلاشیانِ ٍحق نوجوانوں کوراہِ حق سے ہم کنارکرنے میں بڑاعظیم کردارہے!

    نام كتاب: جوانان شیعہ کو راہِ حق پر گامزن کرنے الے چند سوالات.
    مؤلف: سليمان بن صالح الخراشى
    ترجمہ و توضيح: فضل الرحمن رحمانى الندوى
    عددِ صفحات: 136
    سؤالات كى تعداد : 185
    فاضل مؤلف نے زير نظر كتاب ميں شيعه اثنا عشريه كے نوجوانوں كى خدمت ميں چند سوالات اور ان كے مختصر جوابات پيش كيے هيں تا كہ ان ميں عقل مند اور ذى شعور حق كى طرف پلٹ آئيں ، كيونكے جب وه ان سوالات پر غور فكر كريں گے ان كے سامنے كوئى راه فرار هوگى اور نہ ان سے چھٹكارا ممكن هوگا لهٰذا وه لازما كتاب الله و سنت رسول الله صلى الله عليه وسلم كى دعوت كو سينہ سے لگائيں گے جس ميں كوئى تضاد نهيں۔
    ان سوالات ميں سے چند بطور نمونہ ذيل ميں دئيے جا رهے هيں ان كو پڑهئے اوراپنا اور اپنے دوستوں كا جائزه لىجئے كہ هم ميں سے كون كون راه حق سے هٹا هوا هے اور اس كو راه حق پر لانے كے لئے هم كيا كر سكتے هيں۔
    نوٹ: ذيل ميں دئيے گئے سوالوں كے نمبر كتاب ميں دئيے گئے نمبروں كے اعتبار سے دئے گئے هيں۔
    شيعہ حضرات كا عقيده هے كہ حضرت على رضى الله عنہ امام معصوم هيں اور هم يہ بھى ديكھتے هيں كہ انہوں نے اپنى صاجزادى ام كلثوم كى شادى عمر بن خطاب سے كى جو كہ حسن و حسين رضى الله عنهم كى حقيقى بہن تھيں ، اور اس بات كا ذکر شيعہ حضرات كے كبار علماء نے اپنى كتب ميں كيا هے (مثلا كلينى ، طوسى اور ديگر كئى حوالہ جات كے لئے ديكھئے كتاب هذا ، صفحہ نمبر : 14، حاشيه نمبر : 1) ، شیعہ اپنے اس اعتراف كى بنياد پر دو صورتوں ميں سے كسى ايك صورت كو قبول كرنے پر مجبور هيں۔
    سوال 1 : سيدنا على رضى الله عنہ غير معصوم هيں كيونكہ انھوں نے اپنى بيٹى كى شادى كافر سے كى هے! اور يہ چيز شيعہ مذهب كے عقائد اساسى كے منافى هے ۔ بلكہ اس سے يہ بھى پتہ چلا كہ كوئى امام بھى معصوم نهيں كيونكہ وه بھى تو انهىں كى اولاد ميں سے هيں۔
    سوال 2: سيدنا على رضى الله عنہ نے برضا ورغبت سيدنا عمر رضى الله عنہ كو اپنا داماد بنايا هے ، لهٰذا يہ ان كے مسلمان هونے كى واضح دليل هے ۔
    ( مزید تفصیل کے لیے یہاں تشریف لائیں )
    http://www.aqeedeh.com/view/news/386/جوانان-شیعہ-کو-راہِ-حق-پر-گامزن-کرنے-والے-چند-سوالات/
    (سوال جواب پر مشتمل یہ کتاب حاصل کرنے کے لیے یہاں آئیں )
    http://www.aqeedeh.com/book/1069/
    بشکریہ عقیدہ ڈاٹ کام
     
  2. ‏جنوری 03، 2014 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,755
    موصول شکریہ جات:
    8,330
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    حرف اعتذار : بالا تحریر میں کتابت کی کافی غلطیاں تھیں جن میں بعض جگہوں پر درستی کردی گئی ہے اور باقی کے لیے وقت کم ہونے کی بنا پر معذرت قبول فرمائیے ۔
    کوشش کرکے اگر یہ کتاب یونیکوڈ میں کہیں مل گئی تو یہاں لگادی جائے گی ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 27، 2016 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    شیعہ کو راہ حق پر گامزن کرنے والے چند سوالات

    شیعوں کا عقیدہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ امام معصوم ہیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اپنی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی شادی عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے کرتے ہیں جو کہ حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی حقیقی بہن ہیں۔ یہ کیسا تضاد ہے؟ شیعہ حضرات اپنے اس اعتراف کی بنیاد پر دو صورتوں میں سے کسی ایک صورت کو قبول کرنے پر مجبور ہیں۔

    سوال 1:۔۔علی رضی اللہ عنہ غیر معصوم ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی "کافر" سے کی ہے! اور یہ چیز شیعہ مذہب کے عقائد اساسی کے منافی ہے۔ بلکہ اس بات سے یہ بھی پتہ چلا کہ کوئی امام بھی معصوم نہیں کیونکہ وہ بھی تو انہی کی اولاد میں ہے۔

    سوال2:۔۔علی رضی اللہ عنہ نے برضا و رغبت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا داماد بنایا ہے، لہذا یہ عمر رضی اللہ کے مسلمان ہونے کی بین دلیل ہے۔

    {اس شادی کا اعتراف شیعوں کے مشائخ میں سے کلینی ، طوسی ، ندارانی، العاملی، مرتضی علم الھدی، ابن ابی الحدید، لاردبیلی ، شوشتری اور مجلسی نے اپنی کتب میں کیا ہے۔}
     
  4. ‏دسمبر 27، 2016 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سوال3:۔۔ شیعہ حضرات ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو کافر گردانتے ہیں، ہمارے لیے تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ جو کہ شیعوں کے نزدیک امام معصوم ہیں، نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کو بسر وچشم قبول کرتے ہوئے یکے بعد دیگرے دونوں کی بیعت بھی کی ہے۔

    اس سے یہ لازم آتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ غیر معصوم تھے کیونکہ انہوں نے ، بقول شیعہ، ظالم دھوکے باز اور کافروں کی بیعت کی اور ان دونوں کے منصب خلافت کا بذات خود اقرار بھی کیا؟۔ یہ چیز علی رضی اللہ عنہ کی عصمت کو نیست و نابود کرنے والی ہے اور ظالم کو ظلم کے لیے شہ دینے والی بھی ہے جب کہ ایسی حرکت کسی صورت میں بھی معصوم سے سرزد نہیں ہوسکتی۔ علی رضی اللہ عنہ کا یہ موقف مبنی برصواب ہے کیونکہ ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما دونوں مومن صادق ہیں، دونوں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور دونوں ہی عدل و انصاف کا پیکر ہیں مذکورہ جواب سے پتا چلا کہ شیعہ حضرات، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی تکفیر اور ان پر لعن و طعن اور گالی گلوچ کرنے میں اور ان دونوں کی خلافت سے عدم رضامندی کے اظہار میں اپنے امام کے مخالف ہیں۔ یہاں ہم مذکورہ قضیہ میں حیرت و استعجاب کا شکار ہوجاتے ہیں کیا ہم ابولالحسن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی راہ اختیار کریں یا ان گنہگار و بدکردار شیعوں کا طریقہ اپنائیں؟

    سوال4:۔۔ علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد کئی عورتوں سے شادی کی ہے اور ان سے کئی بیٹے اور بیٹیاں بھی پیدا ہوئے جن میں سے درج ذیل اسماء قابل ذکر ہیں:
    1۔ عباس بن علی بن ابی طالب
    2- عبداللہ بن علی بن ابی طالب
    3۔ جعفر بن علی بن ابی طالب
    4- عثمان بن علی بن ابی طالب
    ان لوگوں کی والدہ کا نام اُم البنین بنت حزام بن دارم ہے۔{ کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمہ}
    5- عبیداللہ بن علی بن ابی طالب
    6۔ ابوبکر بن علی بن ابی طالب
    ان دونوں کی والدہ کا نام لیلی بنت مسعود الدارمیۃ تھا۔ {نفس المصدر}
    علی رضی اللہ عنہ کے بیٹوں کے ناموں میں سے یہ بھی ہیں:
    7- یحیی بن علی ابی طالب
    8- محمد اصغر بن علی بن ابی طالب
    9- عون بن علی بن ابی طالب
    یہ تینوں اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے ہیں۔{نفس المصدر۔}
    آپ رضی اللہ کی اولاد میں مندرجہ ذیل نام بھی ہیں:
    10- رقیہ بنت علی بن ابی طالب۔
    11- عمر بن علی بن ابی طالب، جو 35 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔
    ان دونوں کی والدہ کا نام ام حبیب بنت ربیعہ تھا۔{کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمۃ، لعلی الاربلی}۔
    12- ام الحسن بنت علی بن ابی طالب
    13- رملہ الکبری
    ان دونوں کی والدہ کا نام ام مسعود بنت عروہ بن مسعودالثقفی تھا۔{نفس المصدر}۔

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی باپ اپنے جگر گوشہ کا نام اپنے دشمن کے نام پر رکھ سکتا ہے؟ ہمیں تعجب ہے کہ ایسا باپ جو غیرت و حمیت کا پیکر تھا۔ اپنے بیٹوں کو کیونکر ان مذکورہ ناموں سے موسوم کرسکتا ہے؟ ہم شیعہ حضرات سے پوچھتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ اپنے بیٹوں کو ان لوگوں کے ناموں سے کس طرح موسوم کرسکتے ہیں؟ جن کو تم علی رضی اللہ عنہ کا دشمن گردانتے ہو؟
    کیا یہ بات باور کی جاسکتی ہے کہ ایک عقل مند انسان اپنے احباء و اقرباء کے نام اپنے دشمنوں کے ناموں پر رکھ سکتا ہے تا کہ ان کا نام زندہ جاوید رہے؟
    یہ بات بھی معلوم ہے کہ علی رضی اللہ عنہ قریش خاندان کے سب سے پہلے فرد ہیں جنہوں نے اپنے بیٹوں کے نام ابوبکر، عمر اور عثمان رکھے ہیں؟ اگر انہیں ان ناموں سے بغض ہوتا تو وہ اپنے بیٹوں کو ان ناموں سے کیوں موسوم کرتے؟
    نہج البلاغہ جو شیعوں کے نزدیک معتبر کتاب تسلیم کی جاتی ہے، کا مولف بیان کرتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے خلافت سے استعفی دے دیا اور استعفی دیتے وقت آپ رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا کہ میری جان چھوڑ دو!اور میرے علاوہ کسی اور کو اس منصب کے لیے تلاش کرو۔{ملاحظہ کریں نہج البلاغہ}۔
    یہ فرمان مذہب شیعہ کے بطلان پر دلالت کرتا ہے جس کے شیعہ حضرات قائل ہیں، یہ بات کیسے ممکن ہے کہ علی رضی اللہ عنہ خلافت سےاستعفی دیکر دست بردار ہوں؟ جبکہ ان کو امام وقت کے منصب پر فائز کرنا اور خلیفہ وقت کا عہدہ دینا۔ بقول شیعہ اللہ تعالی کی طرف سے فرض عین لازمی حکم ہے اور وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اس کا مطالبہ بھی کیا کرتے تھے جیسا کہ تمہارا شیعہ حضرات کا خیال ہے۔

     
  5. ‏دسمبر 27، 2016 #5
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سوال 5:۔۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ جگر گوشہ رسول فاطمہ بتول رضی اللہ عنہا کی ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بے عزتی اور بے حرمتی کی گئی حتی کہ زدوکوب کے دوران میں ان کی پسلی توڑ دی گئی ان کے گھر کو جلانے کی کوشش کی گئی اور ان کے جنین کو ساقط کر دیا گیا جس کا انہوں نے محسن نام بتایا ہے،
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ کے ساتھ اس طرح کا حادثہ پیش آیا تو علی رضی اللہ عنہ کہاں بیٹھے رہے۔ انہوں نے اپنی بیوی کی بے حرمتی کا بدلہ تک نہیں لیا جبکہ علی رضی اللہ عنہ شجاعت و بہادری میں اپنی مثال آپ تھے۔ کمال حیرت ہے کہ اتنا سانحہ ہوجانے کے باوجود ان کی غیرت و حمیت کو جوش تک نہیں آیا؟

    تاریخ شاہد ہے کہ کتنے کبار صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے اہل بیت نبی علہیم السلام سے رشتہ مصاہرت جوڑا۔ اس خاندان عالی شان میں شادی بیاہ کیے اور اپنی بیٹیوں کو بھی اس خاندان میں دیا۔ خصوصا شیخین نے اس خاندان میں شادی بیاہ کرکے آل بیت سے اپنے تعلقات کو مستحکم رکھا۔ ان حقائق کو مورخین و اہل سیر نے باتفاق بیان کیا ہے۔
    چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ اور حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہ سے شادی کی اور یکے بعد دیگر اپنی دو بیٹیوں رقیہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنہما کا رشتہ تیسرے خلیفہ راشد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو دیا۔ دنیا آپ رضی اللہ عنہ کو ذوالنورین کے لقب سے پکارتی ہے۔
    آپ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ابان بن عثمان رضی اللہ عنہ نے ام کلثوم بنت عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب سے شادی کی۔ ام قاسم بنت الحسن بن الحسن بن علی بن ابی طالب کی بیٹی مروان بن ابان بن عثمان کی زوجیت میں تھیں۔ زید بن عمرو بن عثمان کے عقد میں سکینہ بنت حسین تھین۔
    ہم صحابہ کرام میں سے صرف خلفائے ثلاثہ کے ذکر پر اکتفا کریں گے ورنہ خلفائے ثلاثہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے علاوہ اور بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں جن کا اہل بیت سے سسرالی تعلق تھا جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اہل بیت اور صحابہ کرام کا آپس میں رشتہ و ناطہ تھا۔ {دامادی و رشتوں کی تفصیل الدرالمنثور من اھل البیت میں دیکھیں}۔
    شیعہ حضرات کے معتمد علیہ مصادر و مراجع میں منقول ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک بیٹے کا نام ، جو آپ کی بیوی لیلی بنت مسعود کے بطن سے تھا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نام پر رکھا تھا۔
    علی رضی اللہ عنہ بنی ہاشم میں وہ پہلے شخص ہیں، جنہوں نے اپنے بیٹے کو اس نام سے موسوم کیا ہے۔ {مقاتل الطالبین لابی الفرج الاصبھانی الشیعی}
    حسن بن علی رضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹوں کے یہ نام رکھے تھے:
    1-ابوبکر
    2-عبدالرحمن
    3-طلحہ
    4۔ عبیداللہ
    {التنبیہ والاشراف للمسعودی الشیعی}
    علاوہ ازیں حسن بن حسن بن علی نے اپنے بیٹوں کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ناموں سے موسوم کیا تھا۔ {مقاتل الطالبین لابی الفرج الاصبھانی الشیعی}
    موسی کاظم نے اپنی صاحبزادی کا نام عائشہ رکھا تھا۔ اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں کچھ لوگوں نے ازراہ محبت اپنی کنیت ابوبکر رکھی تھی اگرچہ انکا نام کچھ اور تھا، مثال کے طور پر زین العابدین بن علی {کشف الغمۃ لاربلی} اور علی بن موسی الرضا۔ {مقاتل الطالبین لابی الفرج الاصبھانی الشیعی} نے اپنی اپنی کنیت کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نام سے موسوم کررکھا تھا۔
    اب ہم ان لوگوں کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتے ہیں جنہوں نے اپنے بیٹوں کو عمر رضی اللہ عنہ کے نام سے موسوم کر کے پکارا تھا۔ ان میں بھی سر فہرست علی رضی اللہ عنہ کا نام نامی آتا ہے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کا نام عمر الاکبر رکھا تھا جو ام حبیب بنت ربیعہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے تھے باللف کے مقام پر اپنے بھائی حسین رضی اللہ عنہ کی معیت میں ان کی شہادت کا حادثہ پیش آیا اور علی رضی اللہ نے اپنے دوسرے بیٹے کا نام عمر الاصغر رکھا تھا۔ ان کی والدہ کا نام الصہباء التغلبیہ رضی اللہ عنہا تھا۔ اللہ تعالی نے انہیں طویل زندگی سے نوازا تھا اور انہوں نے اچھی خاصی زندگی پائی اور اپنے بھائیوں کی شہادت کے بعد ان کے صحیح وارث اور جانشین کہلائے۔{ملاحظہ ہو: الارشاد للمفید، معجم رجال الحدیث للخوئی، و مقاتل الطالین لابی الفرج}
    علی بن الحسین بن علی {الارشاد للمفید}، علی زین العابدین موسی کاظم، حسین بن زید بن علی، اسحاق بن الحسن بن علی بن الحسین، حسن بن علی بن الحسن بن الحسن بن الحسن نے اپنے آباو اجداد کی سنت کو زندہ رکھا اور اپنے بیٹوں کو خلیفہ ثانی کے اسم گرامی سے موسوم کر کے ان سے اپنے تعلق کا ثبوت پیش کیا۔
    ان کے علاوہ اسلاف کی ایک طویل فہرست ہے لیکن اندیشہ طوالت کے باعث ہم صرف اہل بیت میں سے انہی متقدمین کے ذکر پر ہی اکتفا کر رہے ہیں۔{مزید تفصیل: مقاتل الطالبین، الدرالمنثور}
    جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے اپنی بیٹیوں کا نام عائشہ رضی اللہ عنہا کے نام پر رکھ کر آل بیت سے محبت کا ثبوت دیا ہے ان میں موسی کاظم {الارشاد}اور علی بن الھادی کا نام نامی سرفہرست ہے۔{الارشاد المفید}
    یہاں پر ہم صرف ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذکر پر اکتفا کریں گے۔

    سوال6:۔۔کلینی نے کتاب الکافی میں ذکر کیا ہے کہ ائمہ علیہم السلام جاتنے ہیں کہ وہ کب مریں گے اور جب مریں گے اپنے اختیار سے ہی مریں گے {اصول الکافی للکلینی} مجلسی اپنی کتاب بحارالانوار میں ایک حدیث بیان کرتے ہیں کہ کوئی ایک امام ایسا نہیں جو فوت ہوا ہو بلکہ ان میں سے ہر ایک مقتول ہو کر اس دنیا سے رخصت ہوا ہے۔

    یہاں ہم شیعہ برداری سے پوچھنا چاہیں گے کہ اگر آپ کے امام علم غیب جانتے تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو اس بات کا پتہ تھا کہ انہیں کھانے کے لیے دستر خوان پر کیا پیش کیا جارہا ہے لہذا اگر کھانے پینے کی چیز تھی تو یہ بھی ان کے سابقہ علم میں تھی کہ یہ کھانا زہریلا ہے جس سے بچنا چاہیے۔ علم کے باوجود ان کا اس کو کھانا اور اس کو کھانے سے پرہیز نہ کرنا تو خودکشی ہے کیونکہ انہوں نے جان بوجھ کر زہریلا کھانے سے اپنے آپ کو لقمہ اجل بنایا ہے گویا وہ خودکشی کرنے والے ہوئے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے متنبہ فرما دیا ہے کہ خودکشی کرنے والا آگ کا ایندھن ہے۔ کیا شیعہ حضرات اپنے آئمہ کے اس انجام سے راضی ہیں؟​
     
  6. ‏دسمبر 27، 2016 #6
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سوال 7 :۔۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے خلافت سے ایسے موقع پر دستبرداری اور مصالحت کا اعلان کیا تھا، جس وقت ان کے پاس جان نثار بھی موجود تھے اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے جنگ جاری رکھنا بھی ممکن تھا۔ اس کے برخلاف آپ رضی اللہ عنہ کے بھائی حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کے خلاف اپنے چند اقارب کے ساتھ جنگ کو ترجیح دی۔ جبکہ باعتبار وقت، آپ رضی اللہ عنہ کے لیے نرمی اور مصلحت اندیشی کا پہلو اختیار کرنا زیادہ مناسب تھا۔
    مذکورہ صورت حال اس نتیجے سے خالی نہیں کہ دونوں بھائیوں میں سے ایک حق پر تھے اور دوسرے غلطی پر، یعنی اگر حسن رضی اللہ عنہ کا لڑنے کی صلاحیت کے باوجو اپنے حق سے دستبرداری اختیار کرنا برحق ہے تو حسین رضی اللہ عنہ کا مصالحت کا امکان ہوتے ہوئے اور طاقت و قوت سے تہی دامن ہونے کی وجہ سے خروج کرنا باطل ہوگا اور اگر حسین رضی اللہ عنہ کا کمزوری اور ناتوانی کے باوجود خروج کرنا برحق تھا تو حسین رضی اللہ عنہ کا قوت کے باوجود مصالحت اختیار کرنا اور اپنے حق خلافت سے دستبردار ہونا باطل ہوگا۔
    اس سوال کا شیعہ کے پاس کوئی جواب نہیں ہے کیونکہ اگر وہ یہ کہیں کہ حسنین رضی اللہ عنہما دونوں ہی حق پر تھے تو انہوں نے اجتماع ضدین کا ارتکاب کیا۔
    اور اگر وہ حسن رضی اللہ عنہ کے فعل کے بطلان کی بات کرتے ہیں تو ان کے قول سے حسن رضی اللہ عنہ کی امامت کا بطلان لازم آتا ہے اور ان کی امامت کے باطل ہونے سے ان کے والد علی رضی اللہ عنہ کی امامت اور عصمت خودبخود باطل ہوجاتی ہے کیونکہ علی رضی اللہ عنہ نے آپ کے بارے میں وصیت کی تھی اور شیعہ کے مطابق امام معصوم اپنے جیسے معصوم شخص کے لیے ہی وصیت کر سکتا ہے۔
    اور اگر وہ حسین رضی اللہ عنہ کے فعل کے بطلان کی بات کرتے ہیں تب بھی ان کے لیے مفر نہیں ہے کیونکہ ان کے اس قول سے حسین رضی اللہ عنہ کی امامت و عصمت پر زد پڑتی ہے اور ان کی امامت اور عصمت کے باطل قرار پانے سے ان کے تمام بیٹوں اور کی ساری اولاد کی امامت اور عصمت باطل ہوجاتی ہے کیونکہ حسین رضی اللہ عنہ کے دم سے ہی ان کی ذریت کی امامت و عصمت قائم ہے جب اصل کا بطلان ہوگیا تو فرع خودبخود باطل ہوگئی۔

    سوال 8:۔۔ شیعہ کے مشہور عالم کلینی نے اپنی کتاب الکافی میں یہ روایت نقل کی ہے کہ ہم سے ہمارے کئی ساتھیوں نے ابوبصیر رحمہ اللہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ میں ایک مرتبہ ابوعبداللہ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے عرض کیا میں آپ علیہ السلام پر قربان جاوں، دراصل میں آپ سے ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہیں کوئی ہماری سرگوشی سن تو نہیں رہا ہے؟ کہتے ہیں کہ ابوعبداللہ علیہ السلام نے پردہ گرادیا، پھر ابوبصیر کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا: کہ اے ابو محمد!اب تمہارے جی میں جو آئے پوچھو۔ میں نے کہا میں قربان جاوں آپ پر ۔۔۔اس کے بعد آپ علیہ السلام نے تھوڑی دیر کے لیے سکوت اختیار کیا پھر فرمایا: ہمارے پاس مصحف فاطمہ علیھا السلام ہے اور ان کو کیا پتا کہ مصحف فاطمہ علیھا السلام کیا ہے؟ ابو بصیر نے کہا میں نے استفسارکیا! مصحف فاطمہ علیھا السلام کیا ہے؟ فرمایا: یہ وہ مصحف ہے جس میں تمہارے اس قرآن کے تین گنا زیادہ مواد موجود ہے اور تمہارے قرآن کا اس میں ایک حرف بھی موجود نہیں ہے۔ بصیر نے کہا میں نے کہایہی تو علم ہے۔
    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مصحف فاطمہ کی خبر تھی؟ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مصحف فاطمہ رضی اللہ عنہا کی خبر نہیں تھی تو آل بیت کو اس کی خبر کیسے پہنچی؟ حالانکہ آپ تو اللہ کے رسول تھے؟ بالفرض نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر تھی تو آپ نے اس کو اپنی اُمت سے مخفی رکھا؟ جبکہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
    يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ۔۔سورۃالمائدہ
    " اے رسول ! جو کچھ بھی آپ پر آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے۔ آپ اسے اُمت تک پہنچا دیجئے اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے اللہ کی رسالت کا حق ادا نہیں کیا۔"​
     
  7. ‏دسمبر 28، 2016 #7
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سوال 9 :۔۔ کلینی کی کتاب الکافی کےجزء اول میں ان ناموں کی ایک فہرست ہے جن کے واسطے سے شیعہ حضرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور اہل بیت کے اقوال نقل کیے ہیں ان میں مندرجہ ذیل نام بھی ہیں۔
    1-مفضل بن عمر، 2- احمد بن عمرالحلبی، 3- عمر بن ابان، 4- عمر بن اذینہ، 5- عمر بن عبدالعزیز، 6- ابراہیم بن عمر، 7- عمر بن حنظلۃ، 8- موسی بن عمر، 9- عباس بن عمر۔۔۔ وغیرہ
    ان تمام ناموں میں عمر ہے۔ خواہ وہ راوی کا نام ہے خواہ راوی کے باپ کا، بہرحال عمر ہر نام میں موجود ہے۔
    آخر ان تمام لوگوں کا نام عمر کیوں رکھا گیا ہے؟ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان لوگوں کو عمر رضی اللہ عنہ سے محبت اور لگاو تھا۔

    سوال 10:۔۔ اللہ تعالی اپنی کتاب محکم میں ارشاد فرماتا ہے:
    وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ ﴿١٥٥﴾ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ﴿١٥٦﴾أُولَـٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ﴿١٥٧﴾ سورۃ البقرہ
    "اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے جنہیں جب بھی کوئی مصیبت آتی ہے تو اس وقت وہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالی کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں، ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایات یافتہ ہیں۔"
    وَالصَّابِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِينَ الْبَأْسِ ۗ۔۔۔ ﴿١٧٧﴾ سورۃ البقرہ
    " اور تنگ دستی تکلیف و جنگ کے وقت صبر سے کام لینے والے ہیں۔"
    علی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اپنے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: " اے نفس!اگر تجھے جزع و فزع اور نوحہ و ماتم سے نہ منع کیا گیا ہوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر کی تلقین نہ کی ہوتی تو میں رو رو کر آنکھوں کا پانی خشک کر لیتا۔"{نہج البلاغہ اور مستدرک الوسائل}۔
    یہ روایت بھی مروی ہے کہ علی علیہ السلام نے فرمایا ہے " جس نے مصیبت کے وقت اپنی رانوں پر ہاتھ مارا تو اس کا عمل ضائع اور برباد ہوئے گا۔{الخصال للصدوق اور وسائل الشیعہ}۔
    حسین رضی اللہ عنہ نے حادثہ کربلا میں اپنی بہن زینب کو مخاطب کرکے فرمایا تھا میری پیاری بہن! میں تم کو اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں اگر میں قتل کر دیا جاوں تو تم مجھ پر گریبان چاک نہ کرنا اور اپنے ناخنوں سے اپنے چہرے کو نہ چھیدنا اور میری شہادت پر ہلاکت و تباہی کی دہائی نہ دینا۔
    ابو جعفر القمی نے نقل کیا ہے امیر المومنین علیہ السلام کو جب اپنے ساتھیوں کے متعلق معلوم ہوا فرمایا: "تم کالا لباس زیب تن مت کیا کرو کیونکہ یہ فرعون کا لباس ہے۔ " {من لا یحضرہ الفقیہ اور کتاب وسائل الشیعہ}
    تفسیر صافی میں اس آیت { وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ ۙ۔۔﴿١٢﴾ سورۃ الممتحنۃ} کے ضمن میں یہ ہی کہا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے اس بات پر بیعت لی کہ وہ بطور سوگ کالا لباس نہیں پہنیں گی اور نہ گریبان چاک کریں گی اور نہ ہلاکت وبربادی کی پکار لگائیں گی۔
    کلینی کی کتاب فروع الکافی میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو وصیت کی تھی کہ جب میرا انتقال ہوجائے تو نہ تو اپنے چہرے کو نوچنا اور نہ ہی مجھ پر بال لٹکا لٹکا کر غم کا اظہار کرنا اور نہ ہی ہلاکت و بربادی کی دہائی دینا اور نہ میرے لیے کسی نوحہ کناں کو مقرر کرنا۔ {ملاحظہ ہو:فروع الکافی}۔
    شیعہ کے علماء المجلسی، النوری اور البردجردی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" نوحہ و ماتم اور گانے بجانے کی آوازیں اللہ کے نزدیک ناپسندیدہ ہیں۔"{بحارالانوار، مستدرک الوسائل، جامع احادیث الشیعہ اور من لایحضرہ الفقیہ}۔
    ان تمام روایات اور حقائق کی نقاب کشائی کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شیعہ حضرات کیوں حق کی مخالفت پر آمادہ ہیں؟ اب آپ ہی بتلائیں کہ ہم کس کی تصدیق کریں اللہ کی، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اور اہل بیت کی یا شیعہ کے ذاکرین کی؟؟۔​
     
  8. ‏دسمبر 28، 2016 #8
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سوال 11:۔۔ اگر زنجیر زنی، نوحہ خوانی اور سینہ کوبی میں عظیم اجروثواب ہے جیسا کہ شیعہ حضرات کا دعوی ہے { دیکھیے ارشاد السائل اور صراط النجاۃ}۔ تو شیعوں کے مذہبی رہنما اور ان کے ملاں و ذاکر زنجیر زنی کیوں نہیں کرتے ہیں؟؟۔

    سوال 12 :۔۔ شیعوں کے دعوی کے مطابق غدیر خم کے دن ہزاروں صحابہ کرام وہاں موجود تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کی وصیت براہ راست سنی تھی ، تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان ہزاروں صحابہ کرام میں سے ایک صحابی بھی علی رضی اللہ عنہ کی طرفداری کے لیے کیوں نہیں کھڑا ہوا؟؟۔ حتی کہ عمار بن یاسر، مقداد بن عمرو اور سلمان فارسی رضی اللہ عنہم بھی خلیفہ وقت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں استغاثہ لے کر کیوں نہیں آئے کہ آپ نے علی رضی اللہ کی خلافت کا حق غصب کیا؟ جبکہ آپ کو پتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیرخم کے دن کیا وصیت فرمائی تھی یا کیا تحریر لکھوائی تھی۔ علی رضی اللہ عنہ تو بڑے بے باک صحابی تھے جنہیں اللہ کے علاوہ کسی اور کا خوف نہ تھا اور نہ ہی وہ کسی سے دب کر بات کرنے کے عادی تھے اور انہیں پتا تھا کہ حق بات پر سکوت اختیار کرنے والا گونگا شیطان کہلاتا ہے۔​
     
  9. ‏دسمبر 28، 2016 #9
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سوال 13:۔۔ عالم شیعہ کی مذہبی کتاب الکافی کی اکثر و بیشتر روایات ضعیف ہیں؟ اس کے باوجود یہ لوگ کس بنیاد پر یہ دعوی کرتے ہیں کہ قرآن کریم کی تفسیر ایک کتاب میں مدون ہے، جس کی اکثر وبیشتر روایات ان کے اعتراف کے مطابق ضعیف اور مردود ہیں، کیا یہ دورغ گوئی اور بہتان تراشی نہیں ہے؟

    سوال 14 :۔۔ عبودیت صرف اللہ تعالی کی ذات کے لیے خاص ہے، ارشاد باری تعالی ہے: {بَلِ اللَّـهَ فَاعْبُدْ۔۔ سورۃ الزمر} بلکہ تو اللہ ہی کی عبادت کرو۔ شیعہ حضرات اپنی برادری کے لوگوں کو عبدالحسین، عبد علی، عبدالزھراء اور عبدالامام وغیرہ ناموں سے موسوم کرتے ہیں؟ لیکن ائمہ اپنے بچوں کے نام عبد علی اور عبدالزھراء وغیرہ نہیں رکھتے تھے۔​
     
  10. ‏دسمبر 28، 2016 #10
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سوال 15:۔۔ اگر علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم تھا کہ وہ نص قطعی کی بنیاد پر اللہ تعالی کی طرف سے خلیفہ متعین ہیں تو انہوں نے ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم اجمعین کے ہاتھوں بیعت خلافت کیوں کی؟
    اگر تم یہ کہو کہ وہ مجبور تھے، تو عاجز اور مجبور شخص خلافت کے لیے کیونکر موزوں ہوسکتا ہے؟ کیونکہ خلافت اسی کے لائق ہے جو خلافت کے بوجھ اور ذمہ داریوں کو اپنے کاندھوں پر اُٹھا سکتا ہے۔ اور اگر تم یہ کہو کہ وہ خلافت کے بوجھ اُٹھانے کی استطاعت رکھتے تھے لیکن انہوں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا تو یہ قول خیانت ہے اور خائن کو امامت کے منصب پر فائز نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی رعایا کے بارے میں اس پر اعتماد اور بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔
    جب کہ ہمارا ایمان ہے کہ علی رضی اللہ عنہ کی ذات ان تمام عیوب سے منزہ اور مبرا ہے۔
    تمہارا جواب کیا ہے؟

    سوال 16:۔۔ علی رضی اللہ عنہ نے مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد اپنے پیش رو خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین ہی کا راستہ اختیار کیا بلکہ آپ رضی اللہ عنہ منبر خلافت سے برابر یہی کلمات دہراتے "خیر ھذہ الامۃ بعدنبیھا ابوبکر وعمر"
    "اس اُمت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد افضل ترین ابوبکر اور عمر ہیں"
    لطف کی بات یہ ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نےحج تمتع نہیں فرمایا، اور فدک کا مال بھی نہیں حاصل کیا ایام حج میں لوگوں پر متعہ واجب نہیں کیا اور نہ ہی اذان میں "حی علی خیر العمل" کے کلمہ کو رواج دیا اور نہ اذان سے "الصلاۃ خیر من النوم" کا جملہ حذف کیا۔
    اگر شیخین رضی اللہ عنہما کافر ہوتے اور انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے خلافت زبردستی غصب کی ہوتی تو اس چیز کو علی رضی اللہ عنہ نے کھول کر بیان کیوں نہیں کیا؟ جبکہ حکومت کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں تھی۔ بلکہ ہم کو تو علی رضی اللہ عنہ کا ذاتی عمل اس کے برعکس نظر آتا ہے کہ انہوں نے شیخین {ابوبکر و عمر} کی تعریف کی ہے اور دل کھول کر ان کی مدح سرائی کی ہے۔
    تم کو اسی قدر پر اکتفا کرنا چاہئے جس پر امیرالمومنین نے اکتفا کیا یا تم پر یہ بات لازم آتی ہے کہ تم یہ کہو امیرالمومنین علی رضی اللہ عنہ نے اُمت اسلامیہ کے ساتھ خیانت سے کام لیتے ہوئے ان کے سامنے حقیقت بیانی سے کام نہیں لیا ہے حالانکہ آپ رضی اللہ عنہ اس سے پاک اور مبرا ہیں۔​
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں