1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جوتے پہن كر طواف كرنے كا حكم ؟

'عمرہ اور حج' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏نومبر 18، 2013۔

  1. ‏نومبر 18، 2013 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,873
    موصول شکریہ جات:
    6,486
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    جوتے پہن كر طواف كرنے كا حكم ؟

    اللہ كے فضل سے ميں نے اس برس حج بيت اللہ ادا كيا اور جب طواف كے ليے گيا تو ميں نے جوتے پہن كر طواف كيا اور اسى طرح سعى كے دوران بھى جوتے پہن ركھے تھے، كيا يہ جائز ہے، اور اگر جائز نہيں تو مجھے كيا كرنا ہوگا، آيا طواف اور سعى دوبارہ كروں يا نہيں ؟
    برائے مہربانى مجھےمعلومات فراہم كريں اللہ سبحانہ و تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

    الحمد للہ:

    اگر جوتے صاف ہوں تو جوتے پہن كر طواف اور سعى كرنا جائز ہے، اور پھر شريعت مطہرہ نے بعض اوقات جوتے پہن كر نماز پڑھنے كا حكم ديا ہے، اس ليے جب جوتوں سميت نماز صحيح ہے تو پھر بالاولى طواف اور سعى بھى جائز ہوگى

    اولى اور افضل يہى ہے كہ جوتے سميت طواف نہ كيا جائے، تا كہ وہ لوگ اس كى اقتدا نہ كرنے لگيں جو نجاست وغيرہ سے اپنے جوتے صاف نہيں ركھ سكتے، اس طرح مسجد ميں گندگى پيدا ہوگى.

    اور يہ بھى ہو سكتا ہے كہ حاجى شخص كو پاؤں ميں زخم وغيرہ ہونے كى بنا پر جوتے سميت طواف اور سعى كرنے كى ضرورت ہو، اس ليے جوتے صاف ہونے كا يقين ہو جانے كے بعد طواف اور سعى جوتے سميت كرنے ميں كوئى حرج نہيں كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:


    واللہ اعلم .
    الاسلام سوال وجواب
     
    • پسند پسند x 5
    • متفق متفق x 3
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 29، 2013 #2
    عبیداللہ

    عبیداللہ رکن
    جگہ:
    حیدرآباد
    شمولیت:
    ‏جولائی 08، 2012
    پیغامات:
    117
    موصول شکریہ جات:
    236
    تمغے کے پوائنٹ:
    80

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏دسمبر 14، 2013 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏دسمبر 30، 2013 #4
    muslim

    muslim رکن
    جگہ:
    کراچی پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 29، 2011
    پیغامات:
    467
    موصول شکریہ جات:
    567
    تمغے کے پوائنٹ:
    86




    إِنِّي أَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ۖ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى ﴿١٢﴾

    میں ہی تیرا رب ہوں، جوتیاں اتار دے تو وادی مقدس طویٰ میں ہے (12)
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 2
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 31، 2013 #5
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    جوتے اتارنے کا حکم اس لیے تھا کہ وہ گدھے کے چمڑے سے بنے ہوے تھے مفسر شہیر امام طبری اس بارے میں رقم طراز ہین :
    اختلف أهل العلم في السبب الذي من أجله أمر الله موسى بخلع نعليه، فقال بعضهم: أمره بذلك، لأنهما كانتا من جلد حمار ميت، فكره أن يطأ بهما الوادي المقدس
    اہل علم کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ اللہ نے موسی علیہ السلام کو جوتے اتارنے کا حکم کیوں دیا بعض کہتے ہیں کہ وہ جوتے مردار گدھے کے چمڑے سے بنے ہوے تھے تو اللہ تعالی نے اس بات کو نا پسند کیا کہ موسی ان جوتوں کے ساتھ مقدس وادی پر چلیں
    اس بارے ایک روایت بھی بیان کی جاتی ہے:
    رَوَى التِّرْمِذِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: (كَانَ عَلَى مُوسَى يَوْمَ كَلَّمَهُ رَبُّهُ كِسَاءُ صُوفٍ وَجُبَّةُ صُوفٍ وَكُمَّةُ صُوفٍ وَسَرَاوِيلُ صُوفٍ وَكَانَتْ نَعْلَاهُ مِنْ جِلْدِ حِمَارٍ مَيِّتٍ)
    اور بعض لوگ یہ کہتے ہین کہ جوتےاتارنے کا سبب یہ تھا کہ موسی کے پاؤن کو مقدس وادی کی برکت براہ راست پہنچے ،چناں چہ امام قرطبی نے لکھا ہے:
    أُمِرَ بِذَلِكَ لِيَنَالَ بَرَكَةَ الْوَادِي الْمُقَدَّسِ، وَتَمَسَّ قَدَمَاهُ تُرْبَةَ الْوَادِي، قَالَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَالْحَسَنُ وَابْنُ جُرَيْجٍ. وَقِيلَ: أُمِرَ بِخَلْعِ النَّعْلَيْنِ لِلْخُشُوعِ وَالتَّوَاضُعِ عِنْدَ مُنَاجَاةِ اللَّهِ تَعَالَى. وَكَذَلِكَ فَعَلَ السَّلَفُ حِينَ طَافُوا بِالْبَيْتِ
    لیکن عاجزی اور توضع اسی میں ہے کہ جوتے اتار کر ہی طواف کیا جاے اور اسی چیز سلف نے پسند کیا ہے واللہ اعلم بالصواب
     
    • پسند پسند x 6
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  6. ‏دسمبر 31، 2013 #6
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,490
    موصول شکریہ جات:
    6,011
    تمغے کے پوائنٹ:
    407

    ﺟﺰﺍﮎ ﺍﻟﻠﮧ ﺧﯿﺮﺍ
     
  7. ‏دسمبر 31، 2013 #7
    muslim

    muslim رکن
    جگہ:
    کراچی پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 29، 2011
    پیغامات:
    467
    موصول شکریہ جات:
    567
    تمغے کے پوائنٹ:
    86



    السلام علیکم-


    حیرت ھے آپ موسی علیھ سلام کے متعلق وہ باتیں بتا رہے ہیں جو اللہ نے نہیں بتائیں
    موسی علیہ سلام اللہ کے رسول اور نبی ہیں اور ان کی اطاعت فرض ھے۔
    اللہ کا حکم ھے کہ جوتے اتارو ـ اللہ کے حکم کے آگے سرتسلیم خم کرنا ضروری ھےـ
     
  8. ‏دسمبر 31، 2013 #8
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو، مجھے یاد ہے۔۔۔۔
    منکرین حدیث سے چار سوالات
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  9. ‏دسمبر 31، 2013 #9
    muslim

    muslim رکن
    جگہ:
    کراچی پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 29، 2011
    پیغامات:
    467
    موصول شکریہ جات:
    567
    تمغے کے پوائنٹ:
    86




    کیا ہواـ موسی علیہ سلام کا زکر مبارک آپ کو ناگوار کیوں گزر رہا ھے؟
     
  10. ‏دسمبر 31، 2013 #10
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    موسی علیہ السلام کا زکر ہرگز مومنوں کو ناگوار نہیں گزر سکتا، پر حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حجیت کا ذکر ضرور منکرینِ حدیث کو ناگوار گزرتا ہے۔
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں