1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جوتے کے متعلق ۱۶ احکام ومسائل

'لباس و ضروریات' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن بشیر الحسینوی, ‏اپریل 21، 2011۔

  1. ‏اپریل 21، 2011 #1
    ابن بشیر الحسینوی

    ابن بشیر الحسینوی رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    Pakistan
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    1,060
    موصول شکریہ جات:
    4,412
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    جوتے کے متعلق۱۶ احکام ومسائل


    انسا ن کی روز مرہ زندگی میں جوتے کی اہمیت مسلم ہے دن اور رات میں کتنے ہی ایسے مواقع آتے ہیں کہ کبھی جوتا پہنا جاتا ہے تو کبھی اتارا جاتا ہے ،اس کا اندازہ لگانا کافی مشکل ہے ،جس قدر جوتے کا استعمال زیادہ اسی قدر لوگ اس کے متعلق احکام و مسائل سے نا واقف ہیں اس سوچ کے پیش نظرہم ''جوتے کے احکام ''مسلمانوں تک عام کرنے کی غرض سے شائع کر رہے ہیں اللہ تعالی ہماری اس کا وش کو قبول فرمائے آمین ۔
    1۔ پہلے دایاں جوتا پہننا چاہئے پھر بایاں۔
    رسول اللہﷺ نے فرمایا ''جب تم میں سے کوئی شخص جوتا پہنے تو پہلے دایاں جوتا پہنے ۔(بخاری:٥٨٥٦،مسلم:٢٠٩٧)
    ۲۔ جوتا پہن کر چلنا چاہئے ۔
    رسول اللہﷺ نے فرمایا:''اکثر اوقات جوتیاں پہنے رہا کرو کیونکہ جوتیاں پہننے سے آدمی سوار رہتاہے ۔(مسلم:٢٠٩٦)معلوم ہوا کہ اکثر اوقات جوتے پہن کرچلنا چاہئے مگر کبھی کبھی ننگے پاؤں چلنا بھی مسنون ہے ۔(بخاری:٥٨٥٥،مسلم:٢٠٩٧)بعض الناس محرم الحرام کے خاص دنوں میں ننگے پاؤں چلتے ہیں یہ عمل غیر مسنون اور بدعت ہے ۔
    ۳۔ جوتا اتارتے وقت پہلے بایاں جوتا اتارنا چاہئے (بخاری:٥٨٥٦)
    ٤۔ ایک جوتا پہن کر چلنا ممنوع ہے۔
    رسول اللہﷺ نے فرمایا :''تم میں سے کوئی ایک جوتے میں مت چلے ،دونوں پہنے یا پھر دونوں ہی اتارے ۔(بخاری:٥٨٥٥،مسلم:٢٠٩٧)
    ٥۔ گندگی سے پاک جوتوں میں نماز پڑھنا صحیح ہے۔
    ابو مسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ،کیا رسو ل اللہﷺ اپنے جوتوں میں نمازپڑھتے تھے ؟انھوں نے کہا :ہاں ۔(بخاری:٣٨٦،مسلم:٥٥٥)
    ٦۔ اگر جوتے میں گندگی لگی ہو تو اس کو دور کرکے پھر ان میں نماز پڑھنی چاہئے ۔
    رسول اللہﷺ نے فرمایا:''جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد کی طرف آئے تو وہ دیکھے اگر اس کے جوتوں میں کوئی گندگی وغیرہ لگی ہو تو اسے صاف کرے اور ان میں نماز پڑھے ۔(ابو داود:٦٥٠اس حدیث کو امام ابن خزیمہ : (٧٨٦)ابن حبان (٢١٨٥)اور عبدالحق الاشبیلی (کذا فی تفسیر قرطبی:١١/١٥٧)اور امام منذری (کذا فی عون المعبود :تحت شرح حدیث:٣٨١)نے کہا صحیح ہے اور امام حاکم نے کہا :حدیث صحیح علی شرط مسلم )(مستدرک حاکم) جوتے پہن کر نماز پڑھنا ایک رخصت ہے مگر جوتے کی آڑ میں مسجد میں کا احترام پامال کرنا درست نہیں ۔جوتے کو بھی دیکھا جائے گا کہ آیا اس کے ساتھ مسجد میں نماز پڑھنے سے مسجد کی صفائی کا نظام تو خراب نہیں ہوتا ۔
    ۷۔ اگر گندگی لگے جوتے میں نماز پڑھ رہے ہوں
    اور دوران نماز معلوم ہو جائے کہ میرے تو جوتے کو گندگی لگی ہوئی ہے تو اسی وقت جوتے کو اتار دینا چاہئے ۔(ابو داود:٦٥٠،اس کو امام ابن خزیمہ نے صحیح کہا ہے (صحیح ابن خزیمہ ١٠١٧)
    ٨۔ اگر گندگی لگے جو تے میں بھول کر نماز پڑھ لی گئی
    ہو تو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے (ابو داود:٦٥٠،اس کو امام ابن خزیمہ نے صحیح کہا ہے (صحیح ابن خزیمہ :١٠١٧)
    ٩۔ نماز پڑھتے ہوئے جوتے کو اتار
    کر اپنی دائیں طرف نہیں رکھنا چاہئے بلکہ بائیں طرف رکھنا چاہئے ،اگر بائیں طرف کوئی آدمی ہے تو پھر جوتے کو دونوں پاؤں کے درمیان رکھنا چاہئے (ابو داود:٦٥٠،اس کو امام ابن خزیمہ نے صحیح کہا ہے (صحیح ابن خزیمہ :١٠١٧)
    ١۰۔ جوتا سامنے رکھ کر نماز پڑھنا ؟
    استاذ محترم حافظ عبدالمنان نو پوری حفظہ اللہ لکھتے ہیں :''رہی یہ بات کہ ''جوتا آگے ہو تو نماز نہیں ہوتی ''تو اس کے بارے میں کوئی آیت یا حدیث مجھے معلوم نہیں ۔(احکام ومسائل:٢/١٦٠)اس مئلے پر محدث البانی اور محدث عبداللہ روپری رہما اللہ کے درمیان جو بحوث چلیں ان کی تفصیل فتاوی اہلحدیث جلد دوم کے آخر میں موجود ہے۔
    ١٢۔ قبرستان میں جوتوں سمیت چلنا ۔
    سیدنا بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں قبرستان میں چل رہا تھا اچانک ایک آدمی نے میرے پیچھے سے آواز لگائی کہ اے جوتیاں پہننے والے !جوتے اتار دوتومیں نے رسول اللہ ؐ کو دیکھا اور جوتے اتار دئیے (ابو داود:٣٢٣٢حافظ ابن حجر نے کہا :اسنادہ صحیح (الاذکار :١/١٤٣)حافظ نووی نے کہا :باسناد حسن ۔(خلاصۃ الاحکام :٣٨١٨)ابن عبد الھادی نے کہا کہ امام احمد نے کہا :اسنادہ جید''(المحرر فی الحدیث :٥٤٨)اگر قبرستان میں کانٹے وغیرہ ہوں تو پھر جوتوں سمیت قبرستان میں چل سکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالی کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ۔بعض دلائل سے جوتوں سمیت قبرستان میں چلنے کا جواز ملتا ہے ۔(بخاری:١٣٣٨،مسلم:٢٨٧٠)
    ١٣۔ اونچی ایڑھی والی جوتی پہننا ۔
    رسول اللہﷺ نے بنو اسرائیل کی ایک عورت کا ذکر کیا جو چھوٹے قد کی تھی اس نے لکڑی کی ایک جوتی بنوائی ہوئی تھی اور دو لمبے قد والیوں کے درمیان چلتی تھی۔(مسلم:٢٢٥٢)امام نووی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ اگر اس کا منشاء صحیح اور مقصود شرعی ہو ،تاکہ وہ اپنے آپ کو چھپائے اور اس کو کوئی پہچان نہ سکے اور اذیت نہ پہنچا سکے تو ایسا کرنے میں کو ئی حرج نہیں اور کوئی ایسا کرنے کا منشاء بڑائی بتلانا اور اپنے آپ کو کامل عورتوں کے مشابہ ثابت کرنا یا لو گوں کو دھوکا دینا مقصود ہے تو ایسا کرنا حرام ہے''۔ شیخ ابن باز نے کہا:''ڈاکٹروں کی رائے میں ایسی جوتی پہننا صحت کے لئے نقصان دہ ہے ''۔(فتاوی برائے خواتین صفحہ: ٢٧٦)
    ١٤۔ خوبصورت جوتا پہننا تکبر کی علامت نہیں ہے ۔
    رسول اللہﷺ نے فرمایا:''وہ آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوا ،ایک آدمی نے کہا کہ بے شک آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کا جوتا اچھا ہو ،آپ نے فرمایا :بے شک اللہ تعالی خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے ۔تکبر تو حق کو ٹھکرا دینا ہے اور لو گوں کو حقیر جاننا ہے ۔(مسلم:٩١)معلوم ہوا کہ خوبصورت جوتا پہننا بالکل صحیح ہے ۔
    ١٥۔ جمرات کو کنکریوں کی بجائے جوتے مارنا ؟
    بعض لوگ حج یا عمرہ کرتے ہوئے جمروں کو کنکریاں مارنے کی بجائے جوتے مارنا شروع کر دیتے ہیں ایسا کرنا درست نہیں بلکہ بعض علماء نے اسے بدعت کہا ہے۔(دیکھئے الضعیفہ :٢/٤١١)
    ١٦۔ اگر جوتا الٹا پڑا ہو تو کیا ہو گا ؟
    بعض لوگ الٹے جوتے کو نحوست بتلاتے ہیں اور اس سے رزق میں تنگی آ جاتی ہے ،ایسی کوئی بات نہیں ہے یہ شیطانی وسوسہ ہے جس کا قرآن و حدیث میں کوئی ثبوت نہیں ۔ہاں البتہ اسے سیدھا ضرور کر دینا چاہئے کہ طبیعت نا گواری محسوس کرتی ہے ۔
    ۱۷۔ عوام میں نبی کریمﷺ کی طرف منسوب
    جوتے کا جو عکس مشہور ہے قرآن وحدیث میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔
    مفصل مضون ماہنامہ الحدیث حضرو اٹک میں شایع ہوا ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 10
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 21، 2011 #2
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    جزاکم اللہ خیرا بھائی! بہترین مضمون ہے، اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھیں!
     
  3. ‏اپریل 21، 2011 #3
    عمیر

    عمیر تکنیکی ذمہ دار رکن انتظامیہ
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    199

    جزاکم اللہ خیرا بھائی جان بہت اچھا لکھتے ہیں۔
     
  4. ‏اپریل 22، 2011 #4
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    ماشاءاللہ بہت عمدہ مضمون ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائیں۔ آمین
     
  5. ‏جنوری 21، 2016 #5
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,227
    موصول شکریہ جات:
    352
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    الٹے جوتا کا حکم

    الٹے جوتے کے متعلق لوگوں میں بڑی غلط فہمیاں ہیں ۔

    (1) کوئی اسے ناجائز کہتا ہے ۔
    (2) کوئی اسے مکروہ کہتا ہے ۔
    (3) کوئی اسے حرام کہتا ہے ۔
    (4) کوئی اس سے نحوست لیتا ہے ۔
    (5) کوئی اسے رزق میں تنگی کا سبب سمجھتا ہے ۔
    (6) کوئی یہ کہتا ہے کہ جوتا الٹا ہونے سے گھر میں فرشتہ داخل نہیں ہوتا ۔
    (7) کوئی کہتا اللہ تعالی اس گھر کی طرف نہیں دیکھتا ۔
    (8) کوئی کہتا ہے کہ جوتے کا نچلا حصہ آسمان کی طرف ہونا مکروہ ہے اس لئے جلدی سے اسے پلٹ دینا چاہئے ۔

    اس قسم کی متعدد باتیں لوگوں میں بائی جاتی ہیں حالانکہ ان باتوں کی اسلامی اعتبار سے کوئی حقیقت نہیں ۔
    نبی ﷺ کے زمانے میں بھی جوتا تھا مگر آپ ﷺ سے ، صحابہ کرام سے یا ائمہ اربعہ سے اس قسم کی کوئی بات منقول نہیں ہے ۔

    ابن عقیل حنبلی ؒ نے کتاب الفنون میں لکھا ہے :
    "والويل لمن رأوه أكب رغيفا على وجهه،أو ترك نعله مقلوبة ظهرها إلى السماء"۔(الآداب الشرعية1 /268-269)
    ترجمہ : بربادی ہے اس کے لئے جس نے الٹی ہوئی روٹی دیکھی یا پلٹا ہوا جوتا جس کی پیٹھ آسمان کی طرف ہو اسے چھوڑدیا۔

    اس کلام میں بہت سختی ہے ، قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کلام کی کوئی حیثیت نہیں رہتی ۔
    نبی ﷺ جوتے میں نماز پڑھتے تھے ۔انس بن مالک رضی اللہ عنہ سوال کیا گیا ؟
    أكان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي في نعليه؟ قال:نعم [رواه البخاري: 386]
    ترجمہ:کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے تھے ، کہنے لگے ہاں۔
    ظاہر سی بات ہے جوتے میں نماز پڑھتے ہوئے جوتا پلٹے گا ۔
    اس لئے الٹے جوتے کے متعلق مذکورہ بالا باتیں کرنا ٹھیک نہیں ہے البتہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ جوتے کے نچلے حصے میں گندگی لگی ہوتی ہے بنابریں الٹے جوتے کو پلٹ دیا جائے تاکہ لوگ اس سے گھن نہ محسوس کریں ۔

    واللہ اعلم

     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 21، 2016 #6
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,331
    موصول شکریہ جات:
    712
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    غیر ادیان میں ایسا اور اس سے زیادہ بہی ہے ۔ توہم جہلکتا ہے ان باتوں سے ۔ کسی قسم کا شگون لینے جیسا بہی لگتا ہے ۔
    ولکن
    اہل علم سے التجاء ہے کے اس باب میں معلومات میسر ہیں تو ضرور ہم سبکے علم میں اضافہ فرمائیں ۔
    والسلام
     
  7. ‏فروری 17، 2017 #7
    ابن بشیر الحسینوی

    ابن بشیر الحسینوی رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    Pakistan
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    1,060
    موصول شکریہ جات:
    4,412
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    نئی گاڑی کے پیچھے پراناجوتا لٹکانا توہم پرستی ہے
     
  8. ‏فروری 17، 2017 #8
    ابن بشیر الحسینوی

    ابن بشیر الحسینوی رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    Pakistan
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    1,060
    موصول شکریہ جات:
    4,412
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

  9. ‏مارچ 14، 2017 #9
    محمد اجمل خان

    محمد اجمل خان رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 25، 2014
    پیغامات:
    167
    موصول شکریہ جات:
    19
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    حدیثہمارے والد صاحب نے ہمیں سکھایا ہے کہ ’’ جوتا پہننے سے پہلے الٹا کرکے تین مرتبہ ٹھوکنا چاہئے تاکہ کوئی موذی کیڑا وغیرہ اند ر ہوتو نکل جائے اور تکلیف کا باعث نہیں بنے‘‘۔۔۔۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ بھی کسی حدیث یا سنت سے ثابت ہے؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں