1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جو شخص اپنے دوستوں سے کوئی چیز بطور تحفہ مانگے

'ہبہ اور عطیہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏مئی 20، 2012۔

  1. ‏مئی 20، 2012 #1
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,946
    موصول شکریہ جات:
    5,773
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    وقال أبو سعيد قال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اضربوا لي معكم سهما ‏"‏‏.‏
    ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اپنے ساتھ میرا بھی ایک حصہ لگانا (اس سے ترجمہ باب ثابت ہوا)


    حدیث نمبر: 2569
    حدثنا ابن أبي مريم،‏‏‏‏ حدثنا أبو غسان،‏‏‏‏ قال حدثني أبو حازم،‏‏‏‏ عن سهل ـ رضى الله عنه ـ أن النبي صلى الله عليه وسلم أرسل إلى امرأة من المهاجرين،‏‏‏‏ وكان لها غلام نجار قال لها ‏"‏ مري عبدك فليعمل لنا أعواد المنبر ‏"‏‏.‏ فأمرت عبدها،‏‏‏‏ فذهب فقطع من الطرفاء،‏‏‏‏ فصنع له منبرا،‏‏‏‏ فلما قضاه أرسلت إلى النبي صلى الله عليه وسلم أنه قد قضاه،‏‏‏‏ قال صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أرسلي به إلى ‏"‏‏.‏ فجاءوا به فاحتمله النبي صلى الله عليه وسلم فوضعه حيث ترون‏.‏

    ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان، کہا ہم سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہاجرہ عورت کے پاس (اپنا آدمی) بھیجا۔ ان کا ایک غلام بڑھئی تھا۔ ان سے آپ نے فرمایا کہ اپنے غلام سے ہمارے لیے لکڑیوں کا ایک منبر بنانے کے لیے کہیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنے غلام سے کہا۔ وہ غابہ سے جا کر جھاو کاٹ لایا اور اسی کا ایک منبر بنا دیا۔ جب وہ منبر بنا چکے تو اس عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کہلا بھیجا کہ منبر بن کر تیار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلوایا کہ اسے میرے پاس بھجوا دیں۔ جب لوگ اسے لائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے اٹھایا اور جہاں تم اب دیکھ رہے ہو۔ وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رکھا۔


    حدیث نمبر: 2570
    حدثنا عبد العزيز بن عبد الله،‏‏‏‏ قال حدثني محمد بن جعفر،‏‏‏‏ عن أبي حازم،‏‏‏‏ عن عبد الله بن أبي قتادة السلمي،‏‏‏‏ عن أبيه ـ رضى الله عنه ـ قال كنت يوما جالسا مع رجال من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم في منزل في طريق مكة ورسول الله صلى الله عليه وسلم نازل أمامنا والقوم محرمون،‏‏‏‏ وأنا غير محرم،‏‏‏‏ فأبصروا حمارا وحشيا،‏‏‏‏ وأنا مشغول أخصف نعلي،‏‏‏‏ فلم يؤذنوني به،‏‏‏‏ وأحبوا لو أني أبصرته،‏‏‏‏ والتفت فأبصرته،‏‏‏‏ فقمت إلى الفرس فأسرجته ثم ركبت ونسيت السوط والرمح فقلت لهم ناولوني السوط والرمح‏.‏ فقالوا لا والله،‏‏‏‏ لا نعينك عليه بشىء‏.‏ فغضبت فنزلت فأخذتهما،‏‏‏‏ ثم ركبت،‏‏‏‏ فشددت على الحمار فعقرته،‏‏‏‏ ثم جئت به وقد مات،‏‏‏‏ فوقعوا فيه يأكلونه،‏‏‏‏ ثم إنهم شكوا في أكلهم إياه،‏‏‏‏ وهم حرم،‏‏‏‏ فرحنا وخبأت العضد معي،‏‏‏‏ فأدركنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فسألناه عن ذلك فقال ‏"‏ معكم منه شىء ‏"‏‏.‏ فقلت نعم‏.‏ فناولته العضد فأكلها،‏‏‏‏ حتى نفدها وهو محرم‏.‏ فحدثني به زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار عن أبي قتادة‏.‏

    ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ابوحازم سے، وہ عبداللہ بن ابی قتادہ سلمی سے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ مکہ کے راستے میں ایک جگہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چند ساتھیوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے آگے قیام فرما تھے۔ (حجۃ الوداع کے موقع پر) اور لوگ تو احرام باندھے ہوئے تھے لیکن میرا احرام نہیں تھا۔ میرے ساتھیوں نے ایک گورخر دیکھا۔ میں اس وقت اپنی جوتی گانٹھنے میں مشغول تھا۔ ان لوگوں نے مجھ کو کچھ خبر نہیں دی۔ لیکن ان کی خواہش یہی تھی کہ کسی طرح میں گورخر کو دیکھ لوں۔ چنانچہ میں نے جو نظر اٹھائی تو گورخر دکھائی دیا۔ میں فوراً گھوڑے کے پاس گیا اور اس پر زین کس کر سوار ہو گیا، مگر اتفاق سے (جلدی میں) کوڑا اور نیزہ دونوں بھول گیا۔ اس لیے میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ وہ مجھے کوڑا اور نیزہ اٹھا دیں۔ انہوں نے کہا ہرگز نہیں قسم اللہ کی، ہم تمہارے (شکار میں) کسی قسم کی مدد نہیں کر سکتے۔ (کیونکہ ہم سب لوگ حالت احرام میں ہیں) مجھے اس پر غصہ آیا اور میں نے خود ہی اتر کر دونوں چیزیں لے لیں۔ پھر سوار ہو کر گورخر پر حملہ کیا اور اس کو شکار کر لایا۔ وہ مر بھی چکا تھا۔ اب لوگوں نے کہا کہ اسے کھانا چاہئے۔ لیکن پھر احرام کی حالت میں اسے کھانے (کے جواز) پر شبہ ہوا۔ (لیکن بعض لوگوں نے شبہ نہیں کیا اور گوشت کھایا) پھر ہم آگے بڑھے اور میں نے اس گورخر کا ایک بازو چھپا رکھا تھا۔ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تو اس کے متعلق آپ سے سوال کیا، (آپ نے محرم کے لیے شکار کے گوشت کھانے کا فتویٰ دیا) اور دریافت فرمایا کہ اس میں سے کچھ بچا ہوا گوشت تمہارے پاس موجود بھی ہے؟ میں نے کہا کہ جی ہاں! اور وہی بازو آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ آپ نے اسے تناول فرمایا۔ یہاں تک کہ وہ ختم ہو گیا۔ آپ بھی اس وقت احرام سے تھے (ابوحازم نے کہا کہ) مجھ سے یہی حدیث زید بن اسلم نے بیان کی، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے۔


    کتاب الہبہ صحیح بخاری
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں