1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جو لوگ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کی امت شرک نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔۔۔ ان کیلئے لمحہ فکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏فروری 22، 2015۔

  1. ‏فروری 22، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,971
    موصول شکریہ جات:
    6,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    جو لوگ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کی امت شرک نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔۔۔ ان کیلئے لمحہ فکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟



    10991360_880655595310263_264157957077949478_n.jpg



    حدیث کی چار کتابوں کا حوالہ پڑھیں اور شرک سے توبہ کریں
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 22، 2015 #2
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    یہ لوگ نہیں کہتے بلکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے
    یہ ارشاد فرمانے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی قسم کھائی اور پھر ارشاد فرمایا (مفہوم حدیث)
    "اللہ کی قسم ! مجھے تمہارے بارے یہ خوف نہیں کہ تم شرک کرو گے "
    صحیح بخاری
     
  3. ‏فروری 22، 2015 #3
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105


    صلى رسولُ اللهِ -صلى الله عليه وسلم- على قتلى أُحُدٍ بعدَ ثماني سنين ، كالمُوَدِعِ للأحياءِ والأمواتِ ، ثم طَلَعَ إلى المنبرِ ،فقال : إني بينَ أيديكم فَرَطٌ ، وإنيعليكم لشهيدٌ ، وإن موعدَكم الحوضُ ، وإني لأنظرُ إليه مِن مَقامي هذا ، وإني لستُأخشى عليكم أن تُشْرِكوا ، ولكني أخشى عليكم الدنيا وتنافسوها . قال : فكانت آخرُ نظرةٍ نظرتُها إلى رسولِ اللهِ -صلى الله عليه وسلم -.

    ترجمہ شیخ السلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری
    ’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہداءِ اُحد پر (دوبارہ) آٹھ سال بعد اس طرح نماز پڑھی گویا زندوں اور مُردوں کو الوداع کہہ رہے ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر جلوہ افروز ہوئے اور فرمایا : میں تمہارا پیش رو ہوں، میں تمہارے اُوپر گواہ ہوں، ہماری ملاقات کی جگہ حوضِ کوثر ہے اور میں اس جگہ سے حوضِ کوثر کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے تمہارے متعلق اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ تم (میرے بعد) شرک میں مبتلا ہو جاؤ گے بلکہ تمہارے متعلق مجھے دنیاداری کی محبت میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ حضرت عقبہ فرماتے ہیں کہ یہ میرا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا آخری دیدار تھا (یعنی اس کے بعد جلد ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہو گیا)۔ ‘‘
    صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 4042
    صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 6590
    صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 4085
    صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 6426
    صحيح مسلم - الصفحة أو الرقم: 2296
    صحيح ابن حبان - الصفحة أو الرقم: 6595
    صحيح ابن حبان - الصفحة أو الرقم: 6595
    صحيح ابن حبان - الصفحة أو الرقم: 3224
    صحيح الجامع - الصفحة أو الرقم: 2469
    10۔صحيح الجامع - الصفحة أو الرقم: 2456
    [/ARB]
     
  4. ‏فروری 23، 2015 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,971
    موصول شکریہ جات:
    6,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    @علی بہرام اس بارے میں آپ کیا کہے گے کیا یہ شرک نہیں


    شیعوں نے الله کا حق کس طرح چھینا ؟؟؟


    لنک


     
  5. ‏فروری 23، 2015 #5
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    بیکار کی باتیں
    صحیح بخاری کی حدیث رسول پیش کی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ
    مجھے تمہارے متعلق اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ تم (میرے بعد) شرک میں مبتلا ہو جاؤ گے
    اس پر اگر کچھ ارشاد فرمائیں تو نوازش ہوگی
     
  6. ‏فروری 23، 2015 #6
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    کسی نے ایک دوسرے دھاگے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کو نہ مانے والے کے لئے ان الفاظ میں اپنی رائے پیش کی ہے
    اور آپ کا جواب بھی ایسی قبیل سے تعلق رکھتا ہے
     
  7. ‏فروری 23، 2015 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یعنی بقول آپ کے:
    مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں
    پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں

    نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں
    اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں

    شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں
    نہ توحید میں کچھ خیال اس سے آئے

    نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے

    (مولانا حالی)
     
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏فروری 23، 2015 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    مسلمانوں کے نام ایک غیر مسلم شاعر کا پیام

    ایک ہی پربھو کی پوجا ہم اگر کرتے نہیں
    ایک ہی در پر مگر سر آپ بھی دھرتے نہیں

    اپنی سجدہ گاہ دیوی کا اگر استھان ہے
    آپ کے سجدوں کا مرکز ’قبر ‘ جو بے جان ہے

    اپنے معبودوں کی گنتی ہم اگر رکھتے نہیں
    آپ کے مشکل کشاؤں کو بھی گن سکتے نہیں

    ’’جتنے کنکر اتنے شنکر‘‘ یہ اگر مشہور ہے
    ساری درگاہوں پہ سجدہ آپ کا دستور ہے

    اپنے دیوی دیوتاؤں کو اگر ہے اختیار
    آپ کے ولیوں کی طاقت کا نہیں حدوشمار

    وقتِ مشکل ہے اگر نعرہ مرا ’ بجرنگ بلی
    آپ بھی وقتِ ضرورت نعرہ زن ہیں ’یاعلی‘

    لیتا ہے اوتار پربھو جبکہ اپنے دیس میں
    آپ کہتے ہیں ’’خدا ہے مصطفٰے کے بھیس میں‘‘

    جس طرح ہم ہیں بجاتے مندروں میں گھنٹیاں
    تربتوں پر آپ کو دیکھا بجاتے تالیاں

    ہم بھجن کرتے ہیں گاکر دیوتا کی خوبیاں
    آپ بھی قبروں پہ گاتے جھوم کر قوّالیاں

    ہم چڑھاتے ہیں بتوں پر دودھ یا پانی کی دھار
    آپ کو دیکھا چڑھاتے مرغ چادر ،شاندار

    بت کی پوجا ہم کریں، ہم کو ملے’’نارِ سقر
    آپ پوجیں قبر تو کیونکر ملے جنّت میں گھر؟

    آپ مشرک، ہم بھی مشرک معاملہ جب صاف ہے
    جنّتی تم،دوزخی ہم، یہ کوئی انصاف ہے

    مورتی پتّھر کی پوجیں گر! تو ہم بدنام ہیں
    آپ’’سنگِ نقشِپا‘‘ پوجیں تو نیکو نام ہیں

    کتنا ملتا جلتا اپنا آپ سے ایمان ہے
    ’آپ کہتے ہیں مگر ہم کو ’’ تو بے ایمان ہے ‘

    شرکیہ اعمال سے گر غیر مسلم ہم ہوئے
    پھر وہی اعمال کرکے آپ کیوں مسلم ہوئے

    ہم بھی جنّت میں رہیں گے تم اگر ہو جنّتی
    ورنہ دوزخ میں ہمارے ساتھ ہوں گے آپ بھی

    ہے یہ نیّر کی صدا سن لو مسلماں غور سے
    اب نہ کہنا دوزخی ہم کو کسی بھی طور سے

    (اوم پر کاش نیّر، لدھیانوی )


    کچھ اسی قسم کی بات مولانا حالی بھی فرما گئے ہیں

    کرے غیر گر بت کی پوجا تو کافر
    جو ٹھہرائے بیٹا خدا کا تو کافر

    کہے آگ کو اپنا قبلہ تو کافر
    کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر

    مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں
    پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں

    نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں
    اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں

    شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں
    نہ توحید میں کچھ خیال اس سے آئے

    نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے

    (مولانا حالی)
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  9. ‏فروری 23، 2015 #9
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اشرف آصف جلالی صاحب نے 2009 میں ایک سیمینار کیا تھا جس میں یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ یہ امت امت توحید ہے اس میں شرک ہو ہی نہیں سکتا ، لہذا وہابیوں کا شرک شرک کہہ کر اپنا کاروبار چمکانا بالکل بے بنیاد ہے ۔
    اس پوری تقریر پر اہلحدیث کے جلیل القدر علماء دین مثلا مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ وغیرہ نے بہترین رد کیا تھا ، اسی طرح مولانا عطاء الرحمن جامعہ محمدیہ لوکو ورکشاب لاہور نے بھی اس پر طویل مضمون لکھا تھا جوکہ محدث میں بھی چھپ چکا ہے ۔
    تقریبا دوسال پہلے کسی اہلحدیث عالم دین نے بالواسطہ مجھے یہ کام سونپا تھا کہ جلالی کی اس تقریر اس انداز سے رد کیا جائے کہ پہلے تقریر کا اقتباس ہو پھر اس کا رد ہو ۔ تو الحمد للہ اللہ کی توفیق سے اس کام کو میں نے باوجود اپنی سستی و کاہلی کے مکمل کر لیا تھا اور ان عالم دین کو بھجوادیا تھا ۔
    جیساکہ میں نے ذکر کیا جلالی کے بنیادی دلائل کا رد تو علماء پہلے کر چکے تھے لہذا میں نے ان کی تقاریر و تحاریر سے بھی بہت زیادہ استفادہ کیا بلکہ بعض جگہوں پر ان کے الفاظ ہی نقل کردیے ، لیکن کئی مقامات پر کوشش کرکے اپنی طرف سے اضافے بھی کیے تھے ، اسی تحریر میں سے ایک اقتباس پیش خدمت ہے :
    جلالی کا شبہ :

    واللہ إنی لا أخاف علیکم أن تشرکوا بعدی ... یہ حدیث صحیحین کے علاوہ مسند احمد ، صحیح ابن حبان اور دیگر کتب حدیث میں بھی موجود ہے ۔
    حدیث کا ترجمہ : اللہ کی قسم مجھے یہ خدشہ نہیں ہے کہ تم میرے بعد شرک میں مبتلا ہو جاؤ گے ۔
    گویا یہ امت امت توحید ہے اس میں شرک آ ہی نہیں سکتا نتیجتا آج کل جس کو وہابی لوگ شرک شرک کہتے پھرتے ہیں یہ ان کی خام خیالی اورسوء فہم ہے ۔
    جواب :

    اس شبہے کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث سےفردا فردا شرك كی نفی مراد نہیں ہے بلکہ مجموعی طور پر یعنی تمام امت کے مشرک ہونے کی نفی ہے اور واقعتا ایسا نہیں ہو سکتا بلکہ ہردور میں موحدین موجود رہیں گے حتی یأتی أمر اللہ اور اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کی کثیر بلکہ اکثر تعداد ایسی بھی ہوگی جو شرک میں مبتلا رہے گی جیساکہ اللہ کا ارشاد ہے
    و ما یؤمن أکثرہم باللہ إلا وہم مشرکون ۔
    حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ مفہوم جو ہم نے متعین کیا ہے یہی مفہوم بیان کرتے ہوئے مولانا غلام رسول سعیدی بریلوی فرماتے ہیں :
    ’’ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے یہ خوف نہیں کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے اس کا معنی یہ ہے کہ مجھے یہ خوف نہیں کہ تم مجموعی طور پر مشرک ہو جاؤ گے اگرچہ بعض مسلمان مشرک ہوگئے ۔ ‘‘ ( نعمۃ الباری ج 3 ص 514 )
    شارحین حدیث نے بھی اس کا یہی مفہوم متعین کیا ہے چنانچہ ذیل میں ہم چند اقتباسات ذکر کرتے ہیں :
    زین الدین العراقی طرح التثریب ( ج 3 ص 297 )میں فرماتے ہیں :
    قوله «وإني والله ما أخاف عليكم أن تشركوا بعدي» أي مجموعكم وإن كان قد يقع ذلك لبعضهم .

    علامہ بدر الدین عینی حنفی فرماتے ہیں :
    قوله: (ما أخاف عليكم أن تشركوا بعدي) معناه: على مجموعكم، لأن ذلك قد وقع من البعض، والعياذ بالله تعالى. ( عمدۃ القاری ج 8 ص 157 )
    علامہ قسطلانی ارشاد الساری (ج 9 ص 342 ) میں فرماتے ہیں :
    (وإني والله ما أخاف عليكم أن تشركوا بعدي) أي ما أخاف على جميعكم الإشراك بل على مجموعهم لأن ذلك قد وقع من بعض
    ملا علی قاری حنفی نے شرح الشفا للقاضی عیاض ( ج 1 ص 373 ) میں بھی یہی معنی بیان کیا ہے لکھتے ہیں :
    قوله (وإني والله ما أخاف عليكم أن تشركوا بعدي) أي جميعكم .

    یہ چند علماء کرام کے اقتباسات تھے جن سے ہمارے موقف کی تائید ہوتی ہے اور جہاں تک میں شروح حدیث دیکھ سکا ہوں کسی بھی عالم دین نے اس حدیث کو پیش کرکے اس سے وہ معنی اخذ نہیں کیا جو آج کل جلالی صاحب اور ان کے ہمنوا مراد لیتے ہیں ۔
    اور یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں بلکہ اس طرح کا اسلوب مزید احادیث میں بھی ملتا ہے چنانچہ حضور صلی اللہ علہ وسلم کا ارشاد ہے :
    فو اللہ لا الفقر أخشی علیکم ( صحیح بخاری )
    اللہ کی قسم مجھے تم پر فقرکا خدشہ نہیں ہے ۔
    اب اس حدیث کی بنیاد پر کوئی بھی صاحب عقل شخص یہ نہیں کہے گا کہ امت محمدیہ میں کوئی فقیرہو ہی نہیں سکتا بلکہ اس کا معنی یہی ہے کہ مجموعی طور پر اس امت پر فقر چھا جائے یہ نہیں ہو سکتا ۔ بلکہ صحیح ابن حبان (رقم 3213 ) میں یہ حدیث مزید تفصیل کے ساتھ موجود ہے چنانچہ حضرت ابو ہریرۃہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں :
    قال النبي - صلى الله عليه وسلم -:((ما أخشى عليكم بعدي الفقر , ولكني أخشى عليكم التكاثر وما أخشى عليكم الخطأ , ولكني أخشى عليكم العمد))
    اس حدیث میں مزید یہ ہے کہ مجھے یہ بھی خدشہ نہیں کہ تم خطاء میں مبتلا ہو جاؤ گے ۔
    اس کا صحیح مفہوم یہی ہے کہ پوری امت مجموعی طور پر خطاء پر اکٹھی نہیں ہو گی اسی وجہ سے اجماع امت کو قابل حجت گردانا جاتا ہے کہ بعض افراد یا اکثر افراد کو غلطی لگ سکتی ہے لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ ساری کی ساری امت کسی غلط بات پر متفق ہو جائے ۔
    اب مشرکین کو طفل تسلیاں دینے والے جلالی صاحب اپنے انوکھے فہم کے مطابق اس حدیث سے بھی یہی معنی اخذ کریں گے کہ امت محمدیہ کا کوئی شخص غلطی نہیں کرسکتا ؟ فیا للہ العجب !
     
    Last edited: ‏فروری 23، 2015
    • زبردست زبردست x 5
    • پسند پسند x 3
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  10. ‏فروری 23، 2015 #10
    علی بہرام

    علی بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 18، 2013
    پیغامات:
    1,216
    موصول شکریہ جات:
    161
    تمغے کے پوائنٹ:
    105

    اس کے بعد حالی فرماتے ہیں
    گناہوں سے ہوتے ہو گویا مبّرا

    مخالف پہ کرتے ہو جب تم تبرّا

    نہ سنی میں اور جعفری میں ہو الفت

    نہ نعمانی و شافعی میں ہو ملت

    وہابی سے صوفی کی کم ہو نہ نفرت

    مقلد کرے نا مقلد پہ لعنت

    رہے اہلِ قبلہ مین جنگ ایسی باہم

    کہ دینِ خدا پر ہنسے سارا عالم

    کرے کوئی اصلاح کا گر ارادہ

    تو شیطان سے اس کو سمجھو زیادہ
    حالی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں