1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جھوٹا وکیل سچا ہوتے ہی جج بن گیا

'وکالت' میں موضوعات آغاز کردہ از عبقری ریڈر, ‏دسمبر 22، 2013۔

  1. ‏دسمبر 22، 2013 #1
    عبقری ریڈر

    عبقری ریڈر رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 08، 2013
    پیغامات:
    180
    موصول شکریہ جات:
    163
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    ہمارے ایک دوست وکالت کا کام کرتے تھے' وکالت ایسا پیشہ ہے کہ جس میں عموماً دنیا جہان کے جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ مگر یقین کیجئے کہ انہوں نے وکالت کاکام بھی جاری رکھا اور اپنی زندگی کا رخ بھی بدل لیا۔ ان کی بیوی لیڈی ڈاکٹر تھی۔ جب وکیل صاحب کی اہل اللہ سے نسبت ہوئی تو اللہ نے دل کی حالت بدل دی۔ کہنے لگے میں نے آج کے بعد جھوٹ نہیں بولنا۔ میرا اللہ مجھے سچ بولنے پر ہی روزی دے گا۔
    لوگوں نے کہا: آپ کا دماغ تو ٹھیک ہے؟ سچ بولنے سے وکالت نہیں چلے گی۔ انہوں نے کہا چلے گی یا نہیں چلے گی مگر سچ ضرور چلے گا۔ اب تو میں نے دل میں فیصلہ کرلیا ہے۔ چنانچہ وکیل صاحب ایک دن دفتر آئے اور کہنے لگے' میں نے آج صرف دو مقدمے لینے ہیں جو سچے ہوں گے۔ لوگوں سے کہہ دیا کہ اگر آپ جھوٹے ہوں تو مجھے ابھی بتادیں وگرنہ سماعت کے دوران اگر مجھے پتہ چل گیا تو میں آپ کی مخالفت کروں گا۔ اگر سچ ہوگا توڈٹ کرآپ کی حمایت کروں گا۔
    لوگوں نے کہا اللہ کی پناہ! چنانچہ سب کے سب دوسرے وکلاء کے پاس چلے گئے۔ وکیل صاحب کا دفتر خالی... سارا دن کوئی کام نہیں آرہا۔ اسی حالت میں کئی مہینے گزر گئے۔ لوگوں میں چرچا ہونے لگ گیا' کسی نے مجنون کہا' کسی نے پاگل کہا' کسی نے بیوقوف کہا' کسی نے کہا مولویوں نے اس کی مت ماردی ہے' اچھا خاصا وکیل تھا انہوں نے بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ لیکن وہ یہی کہتا کہ مجھے جھوٹ بول کر روزی نہیں لینی۔ اللہ کی ذات مجھے سچ بولنے پر ہی روزی دے گی۔ ایک سال گزر گیا مگر کوئی کام نہ آیا چونکہ بیوی لیڈی ڈاکٹر تھی اس کی تنخواہ سے گھر کا خرچہ چلتا رہا۔ بیوی بہت سمجھدار تھی' ایک دن وکیل صاحب سے کہنی لگی: جب آپ جھوٹ بولنا چھوڑ چکے ہیں تو آپ وکالت کو خیرباد کہیں اور تجارت کا پیشہ اختیار کرلیں۔ آپ سچ ہی بولیں' اللہ اسی میں برکت دے گا۔
    وکیل صاحب نے کہا نہیں بولنا بھی سچ ہے اور کرنی بھی وکالت ہے۔ بیوی نے کہا اچھی بات ہے۔ میری دعائیں اور میرا تعاون آپ کے ساتھ ہے اللہ تعالیٰ آپ کو کامیاب فرمائے۔ وکیل صاحب ایک سال تک گھر سے دفتر آتے اور سارا دن پنکھے کے نیچے بیٹھ کر اخبار پڑھتے اور گھر واپس چلے جاتے۔ ایک دفعہ ججوں کے سامنے تذکرہ ہوگیا کہ فلاں وکیل جھوٹے مقدمے نہیں لیتا' غربت برداشت کررہا ہے اور کہتا ہے کہ مرجاؤں گا مگر سچ کو نہیں چھوڑوں گا۔ سب جج صاحبان اس بات سے بڑے متاثر ہوئے۔
    وقت کے ساتھ ساتھ ان کی عزت لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونا شروع ہوگئی' وہ کہنے لگے کہ ایک سال امتحان کاتھا۔ دوسرا شروع ہوا تو مسجدوں والے' تصوف و سلوک والے' مدرسوں والے لوگوں نے سوچا کہ فلاں وکیل سچے مقدمے لیتا ہے ہمارے مقدمے سچے ہیں' پیسہ ہمارے پلے نہیں تھوڑا بہت دے دیں گے ان کا بھی گزارا ہوجائے گا چنانچہ وہ آنا شروع ہوگئے۔ جو بھی آتا وہ سچا مقدمہ لے کرآتا۔ وکیل صاحب مقدمہ لے کر عدالت میں جاتے اور ان کے حق میں فیصلہ ہوجاتا۔
    دوسرامقدمہ آیا ان کے حق میں فیصلہ ہوا' تیسرا مقدمہ آیا ان کے حق میں فیصلہ ہوا۔ چند دن گزرے تو جج صاحبان آپس میں ملے اور کہنے لگے کہ یہ وکیل جو بھی مقدمے لاتا ہے وہ سچے ہوتے ہیں اس لیے اب اس سے زیادہ سوال ہی نہ کیا کرو۔ چنانچہ وکیل صاحب مقدمہ لے کر جاتے تو چند منٹ کے اندر اندر ان کے حق میں فیصلہ ہوجاتا۔ بڑے بڑے امیروں نے سوچا کہ ہمارے مقدمے سچے ہی ہیں تو پھر کیوں نہ ہم مقدمہ اسی کودیں جب وہ آنا شروع ہوئے تو پیسے زیادہ ملنے لگے۔
    جب وکیل صاحب جھوٹ بولتے تھے تو ایک مہینے کا تقریباً ایک لاکھ روپیہ کماتے تھے جب سچ بولنا شروع کیا تو ایک ماہ میں دو سے اڑھائی لاکھ کمانے لگے۔
    سچ بولنے پر اللہ نے دوگنا رزق دے دیا۔ا بھی کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ چند وکیلوں کا جج بننے کا امتحان ہوا تو ہمارے اس دوست وکیل کو کامیابی ہوئی اور وہ جج بن گیا۔ ایک وقت تھا کہ وہی آدمی ایک وکیل کی جگہ کھڑے ہوکر جھوٹ بولتا تھا' جب سچ بولنا شروع کیا تو اللہ نے اس کو عدالت کی کرسی پر بٹھا دیا۔ پہلے وہ کھڑا ہوکر سر سر کہہ رہا ہوتا تھا اب اللہ نے عدالت کی کرسی پر بٹھا دیا اب وہاں بیٹھ کر حکم نامے جاری کرتا ہے۔ میرے دوستو! یہ بات ثابت ہوگئی کہ جو سچ بولے گا اللہ اسے فرش سے اٹھا کر عرش پر بٹھا دے گا۔ربط
     
    • پسند پسند x 5
    • متفق متفق x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 22، 2013 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجْعَل لَّهُۥ مَخْرَ‌جًا ﴿٢﴾ وَيَرْ‌زُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ ۚ وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُۥٓ۔۔۔سورۃ الطلاق
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 22، 2013 #3
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,510
    موصول شکریہ جات:
    6,014
    تمغے کے پوائنٹ:
    447

    ﻓﺮﺵ
    ﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻋﺮﺵ ﭘﺮ ﺑﭩﮭﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ۔

    عقبری بھائی کیا یہ جملہ ٹھیک ہے ؟
     
    • متفق متفق x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏دسمبر 22، 2013 #4
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    یہ کہنے کا مطلب تو یہی لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت ترقی عطا فرمائے گا، لیکن البتہ ظاہری طور پر بھی ایسے الفاظ استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 22، 2013 #5
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    ہر لفظ کا ظاہری معنی مراد نہیں لیا جا سکتا
     
  6. ‏دسمبر 22، 2013 #6
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    لیکن فتویٰ ظاہر پر ہی لگتا ہے، اسی طرح تو کوئی بھی بات کر کے کہا جا سکتا ہے کہ اس کا معنیٰ یہ نہیں تھا۔مسلمانوں کو اس معاملے میں احتیاط کرنی چاہیے۔

    کوئی اللہ سے دعا مانگتے وقت لفظ بھگوان استعمال کرے توسننے والا عجیب سا گمان کرے گا چاہے دعا مانگنے والی کی نیت اللہ تعالیٰ سے مانگنے کی ہی کیوں نہ ہو؟ لہذا اللہ کو اللہ ہی کہنا چاہیے۔

    اسی طرح کوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مدد مانگنے کا شرکیہ نعرہ مارے اور کوئی پوچھنے والا پوچھے تو کہے کہ میں تو اپنے ہمسائے علی کی بات کر رہا تھا، تو ظاہری طور پر اس کے الفاظ استعمال کرنا غلط ہے، چاہے نیت کچھ بھی ہو، الفاظ کا چناؤ بہت اہمیت رکھتا ہے۔

    قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    وَقُولُوا۟ لِلنَّاسِ حُسْنًا۔۔۔سورۃ البقرۃ
     
  7. ‏دسمبر 24، 2013 #7
    عبقری ریڈر

    عبقری ریڈر رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 08، 2013
    پیغامات:
    180
    موصول شکریہ جات:
    163
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    اللہ تعالیٰ جس پر اپنا کرم فرماتا ہے اسکو پستیوں سے نکال کر بلندیوں کی طرف لے جاتا ہے اب بلندیوں کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہوائوں میں اڑنے لگے، کچھ الفاظ محاورے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔
     
  8. ‏دسمبر 24، 2013 #8
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    امام ابن حزم کو ظاہری کیوں کہا جاتا ہے اور میں نے یہ کہا ہے ہر لفظ کا ظاہری معنی مراد نہین لیا جاتا
     
  9. ‏دسمبر 24، 2013 #9
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ
    ایک صحابی نے اس آیت ظاہری معنی ہی مراد لیا تھا جس اصلاح کی گئی تھی اور علامہ اقبال نے کہا تھا :
    ہم کافروں کے کافر، کافر خدا ہمارا
     
  10. ‏دسمبر 25، 2013 #10
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,510
    موصول شکریہ جات:
    6,014
    تمغے کے پوائنٹ:
    447

    ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﺮﻡ ﻓﺮﻣﺎﺗﺎ
    ﮨﮯ ﺍﺳﮑﻮ ﭘﺴﺘﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ
    ﺑﻠﻨﺪﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ.
    یہی الفاظ بھی تو لکھے جاسکتے ہیں بجائے اس کے کہ

    ﻓﺮﺵ
    ﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻋﺮﺵ ﭘﺮ ﺑﭩﮭﺎ ﺩﮮ ﮔﺎ۔

    اور بھائی دوسری بات یہ کہ میں نے بھی اس کا مطلب ہواوں میں اڑنا نہیں لیا بلکہ کہنے کا مطلب یہ ہے کہﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ
    الفاظ کے ﻣﻌﺎﻣﻠﮯﻣﯿﮟ ﺍﺣﺘﯿﺎﻁ ﮐﺮﻧﯽ
    ﭼﺎﮨﯿﮯ۔کیوںکہ محاورے قرآن پاک کی آیت یا حدیث مبارکہ نہیں یہ عام لوگو کے بنائے ہوئے ہیں اور ان میں تصحیح کی گنجائش ہے.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں