1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

جہاد صرف اسلامک اسٹیٹ کی ذمہ داری ہے --؟

'دعوت وجہاد' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏دسمبر 13، 2016۔

  1. ‏دسمبر 13، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,668
    موصول شکریہ جات:
    6,462
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    جہاد صرف اسلامک اسٹیٹ کی ذمہ داری ہے --؟


    اکثرلوگ یہ کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ جہاد صرف اسلامی حکومتوں کی ذمہ داری ہے- سوشل میڈیاء پہ ہمارے ایک بڑے سلجھے ہوئے دوست نے بھی بڑی شائستگی سے یہی سوال کیا اور اہل علم سے اس سلسلے میں راہ نمائی چاہی - میں نہ تو کوئی مفتی یا دین کاعالم ہوں کہ اس پہ کوئی فتوی ارشاد فرماوں یاکچھ حرف آخر کہوں ،مگر تاریخ کا قاری ہونے اوراکثر علماء کی صحبت سے فیضیاب ہونےکے باعث یہاں اپنا نکتہ نظر ضرور بیان کرنا چاہوں گا-

    بے شک جہاد اسلامی سٹیٹ کی ایک اہم ذمہ داری ہے -مگر سوال یہ بھی ہے جب ساری اسلامی مملکتیں کفارکیساتھ دوستیاں گانٹھنے کےچکرمیں ہوں ،بدکردراحکمران جہادکےنام سے خوف کھاتے ہوں تو پھر ایسے میں آقاکریم ﷺکے اس فرمان کا آپ کیاکرینگےجس میں آپ ﷺ نے فرمایاجہادقیامت تک جاری رہےگا اس میں جہادکی اہمیت اور ہمیشگی کا بڑا روشن اشارہ ہے اگر کسی اسلامی ملک پہ اندلس کے ابوعبداللہ جیسے حکمران ہوں تو کیا نوجوان اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی بیٹیاں بہنیں لٹتی اپنی مساجداورقران جلتے دیکھ کر صبرکرینگے اور اپنے حکمرانوں کی طرف سے جہادکے اعلان کاانتظارکرینگے یا خود انفرادی طورپہ اپنی اپنی جگہ پہ جو بن سکا کرینگے اور اسی طرح بعد میں منظم جہادی تحریکیں وجود میں آتی ہیں-

    اگرجہاد صرف اسلامک اسٹیٹ کی ذمہ داری مان لیاجائے -توکشمیر ،برما، افغانستان، فلسطین، اور شام کے مسلمانوں کو آپ کس کےرحم وکرم پہ اور کس کے بھروسے چھوڑیں گے- اور کون ان کی مدد کرے گا عالم اسلام کے چھپن اسلامی ممالک میں سے کس نے آج جہاد کا نعرہ بلند کیا ہے- آپ کے عربی ملک کسی عجمی کو برداشت کرنےکےلیےتیارنہیں-آپ کی حکومتیں غیرمسلموں کے اسلام قبول کرنےپہ پابندیاں لگارہی ہیں -آ پ کے حکمران علماء سے سود کے معاملے میں گنجایش پیدا کرنے کی بات کررہے ہیں - آپ ،سب سے پہلے پاکستان ، کا نعرہ بلند کرکہ سارے عالم اسلام کو کفارکے رحم وکرم پہ چھوڑنا چاہتے ہیں - کیاشام فلسطین کشمیر برما اور دوسرے ایسے اسلامی ممالک جہاں کفار کے ظلم وستم روزبرو انتہاوں کو چھورہے ہیں وہاں کے مسلمان جب تک کسی اسلامی مملکت کی طرف سے جہاد کا اعلان نہیں کیاجاتا پورے صبر و برداشت سے کفار کے مظالم برداشت کرتے رہیں -؟

    جہاد صرف اسلامک اسٹیٹ کی ذمہ داری ہے، کاغلغلہ بلندکرنے والے ایک لمحے کو اپنی آنکھیں بندکرکہ تصورکریں خدانہ کرے اگر آپ کی عزت جان ومال کو کوئی شخص نقصان پہنچانا چاہے تو آپ اپنے دفاع میں کیا کچھ نہیں کر گزریں گے-اور آپ کے عزیز دوست بھی آپ کی مدد کرنے سے ہرگزہچکچائنگے نہیں - تو پھر اگر آج کسی جگہ وہاں کے مقیم مسلمان ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کر کہ انفرادی جہاد کا آغاز کرتے ہیں اور دوسرے ممالک کے مسلمان ان کی مدد کے لیے اپنے مال اور جان سے خود کو اپنے بہن بھائیوں کی نصرت کیلیے پیش کرتےہیں تو اس میں کسی کو ایسی کونسی غیر فطری بات نظر آتی ہے-؟

    تاریخ اسلامی کا مطالعہ کرنے سے آپکو ایسی بیشمار مثالیں مل جاینگی کہ کچھ لوگوں نے جب انفرادی جہاد شروع کیا تو نہ صرف عوام بلکہ علماء کرام نے بھی انکی حوصلہ افزائی کا سلسلہ جاری رکھا - حقیقت یہ ہے کہ جہاد حکمرانوں سمیت ہرمسلمان کی ذمہ داری ہے جس طرح نماز فرض ہے اسی طرح جہاد بھی - خود کائنات کے امام آقاکریم ﷺکی زندگی سے انفرادی جہاد کی کم ازکم ایک مثال تو ملتی ہے - ابوجندل رضی اللہ عنہ اور ابوبصیر رضی اللہ عنہ کا واقعہ کس کے علم میں نہیں - جب کفار سے معاہدہ ہونے کےبعد اللہ کے نبی ﷺنے انہیں واپس کیاپھرمشرکین کی قید سے انکافرارہونا اور کفارکے خلاف انفرادی جہادی کاروائیوں کاآغاز کرنامکہ کے باقی مجبور و مظلوم مسلمانوں کے لیے کس قدر بابرکت ثابت ہوا - کیا نبی کریم ﷺنے انہیں اس انفرادی جہاد سے منع کیا ؟-مجبوراََ مشرکین کو نبی ﷺکی خدمت میں پیش ہوکر درخواست کرناپڑی کہ آپ انہیں اپنے پاس بلا لیں - یقیناََمیراعلم ناقص ہے نہ میں عالم دین ہوں - لیکن میرا اہل عقل سے ایک سوال ضرورہے ، آپ چاہے توبڑے بڑے علماء کرام سے بھی اس سلسلے میں رجوع کرسکتے ہیں -اس وقت دنیا میں سعودی عرب ،پاکستان سمیت وہ کونسا اسلامی ملک ہے جس نےکفارکے خلاف جہاد کا اعلان کردیاہے ؟

    میرے علم میں تو ایسا کوئی ملک فی الحال نہیں ہے- پھر حرمین شریفین ، سمیت پاکستان اور پوری دنیا کے علماء کرام اپنی دعاوں میں رو رو کر جن مجاہدین کی کامیابی نصرت اورفتح کی دعائیں مانگتے ہیں- وہ کس اسلامی ملک کے تحت جہاد کر رہے ہیں ؟

    حرمین شریفین میں قیام کے دوران میں نے بارہا دیکھا کہ آئمہ حرمین بہت محبت اور تڑپ سے مجاہدین کے لیے دعائیں مانگتے ہیں - آج دنیامیں جتنی بھی جہادی تحریکں عملی جہادمیں حصہ لے رہی ہیں وہ سب انفرادی ہی تو کررہی ہیں بے شک ان کے پیچھے سارے عالم اسلام کی محبت مدد اور دعائیں موجودہیں مگرکیا کسی اسلامی ملک کی کھلم کھلا تائید وحمائت بھی انہیں حاصل ہے---؟

    انفرادی جہاد غیرفطری یا شریعت کے منافی نہیں ، بلکہ غیرفطری بات تو انفرادی جہاد کی مخالفت لگتی ہے ، کمزور سے کمزورانسان کو بھی دنیا بھر کے قوانین یہ حق دیتے ہیں کہ وہ اپنے دفاع کے لیے مرجائے یا ماردے- جبکہ دین و مذہب کا مقام تو انسانی جان ومال سے بہت بلندترہے - اللہ تعالی دنیا بھر کے مجاہدین کی نصرت فرمائے اسلامی ممالک اور حکومتوں کوجہادکا پشتیبان بنائے - شہداءکے درجات بلندفرمائے اورہمیں بھی جہاد جیسا مقدس فریضہ ادا کرنے کی توفیق عطافرمائے -آمین

    شاہدمشتاق
     
  2. ‏دسمبر 13، 2016 #2
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    329
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    ميں يہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کس منطق اور فہم کے تحت جہاد کے فلسفے اور مذہبی لحاظ سے اس کے فضائل، قواعد اور اہميت کو اس بحث کا حصہ بنايا جا رہا ہے جو دنيا بھر ميں مسلح گروہوں کے حوالے سے جاری ہے ۔ کيونکہ جو افراد اور گروہ موضوع بحث ہيں وہ تو دانستہ اور جانتے بوجھتے ہوۓ انھی بے گناہ افراد کو نشانہ بنا رہے ہيں جن کے تحفظ اور بہتر مستقبل کے وہ داعی ہيں۔ يہ سوچنا بھی محال ہے کہ کوئ بھی شخص جو بنيادی سوچ بچار اور سمجھ بوجھ رکھتا ہے وہ کيسے اس متشدد سوچ اور غير انسانی کاروائيوں کو درست قرار دينے کے ليے مذہب کا سہارا لے سکتا ہے۔

    کيا يہ درست نہيں ہے کہ قريب تمام اہم مستند مذہبی سکالرز، علماء دين اور اسلامی اداروں سميت حکومتوں نے بھی مشترکہ طور پر القائدہ، داعش اور اس سے منسلک گروہوں کے اس مذہبی لبادے کو يکسر مسترد کر ديا ہے جس کو استعمال کر کے وہ اپنے اقدامات کی توجيہہ پيش کرنے کی کوشش کرتے ہيں؟

    بصد احترام، آپ کو اپنی معلومات درست کرنے کی ضرورت ہے۔ يہ امريکی اور نيٹو افواج نہيں ہيں جو مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہيں۔ خود کو بہترين مسلمان ظاہر کرنے والے دہشت گردوں کی جانب سے کيے جانے والے حملوں کے سرسری تجزيے سے ہی يہ حقيقت واضح ہو جاتی ہے کہ عام شہريوں بشمول مسلمانوں کی حفاظت اور ان کی بہتری ان کے ايجنڈے اور ترجيحات ميں شامل نہيں ہے۔

    بلکہ اس کے برعکس تشدد پسند دہشت گرد گروپوں کی تمام تر کاوشوں کا بنيادی مقصد بغیر کسی تفريق کے زيادہ سے زيادہ شہريوں کا قتل ہے اور اسی مقصد کے ليے اپنے حملوں کو زيادہ "موثر" بنانے کے ليے وہ عوامی مقامات کا انتخاب کرتے ہیں۔

    ہمارا اصل مقصد اور ايجنڈا عام شہريوں کی حفاظت کو يقینی بنانا اور مقامی عہديداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون اور سپورٹ سے دہشت گردوں کو کيفر کردار تک پہنچانا ہے۔ چونکہ ہم صرف ان گروپوں اور افراد کے خلاف ہيں جو کہ خطے میں تمام فريقين کے ليے يکساں خطرہ ہيں، يہی وجہ ہے کہ ہمیں پاکستان اور افغانستان کی جمہوری حکومتوں سميت اپنے تمام اتحاديوں کا تعاون حاصل ہے۔

    کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ ہميں اقوام متحدہ اور سعودی عرب سميت تمام اہم اسلامی ممالک کی حمايت حاصل ہوتی اگر ہمارا واحد مقصد اور ارادہ محض مسلمانوں کو ختم کرنا ہوتا؟ کوئ بھی دہشت گرد گروہ جو مذہبی نعروں کا سہارا لے کر اپنے جرائم سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے وہ اس قسم کی حمايت کا دعوی ہرگز نہيں کر سکتا۔

    گزشتہ چند برسوں کے دوران مسجدوں اور جنازوں پر بے شمار حملوں سے يہ واضح ہے کہ کہ دہشت گرد "شريعت" اور "جہاد" جيسے پرجوش نعرے محض نوجوانوں کے ذہنوں کو ايک خاص رخ دے کر اپنے مقصد کے لیے استعمال کرتے ہيں۔ درحقيقت انکی نام نہاد "جدوجہد" کا مذہب سے کوئ تعلق نہيں ہے۔

    يہ بات حيران کن ہے کہ وہی افراد جو اہم ترين مذہبی رسومات اور اجتماعات کا بھی احترام نہيں کرتے، وہ اپنے "مقصد" کی عظمت کے حوالے سے بيان بھی داغتے ہيں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov


    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/
     
  3. ‏دسمبر 13، 2016 #3
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    635
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    66

    اس بارے میں مفتی عبدالرحمن رحمانی نے اپنی کتاب الجھاد الاسلامی میں بہت عمدہ بحث کی ہے. ان شاء اللہ اس کا مطالعہ بھی کافی فائدہ مند ہوگا
     
  4. ‏دسمبر 13، 2016 #4
    ابن داود

    ابن داود سینئر رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,603
    موصول شکریہ جات:
    2,433
    تمغے کے پوائنٹ:
    489

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    معلوم ہوتا ہے کہ شاہد مشتاق صاحب نے مشتاق احمد یوسفی، اور یوسف حجازی کو کچھ زیادہ پڑھ لیا، ااور اب اسے ''ہضم'' نہیں کر پارہے!
    اب یہ اتنا اہم و نازک موضوع، جس سے انسان کے خون کے متعلق شرعی سوال ہے، اور وہ بھی ایک دو نہیں کئی! اور یہی نہیں کہ اس میں مسلمان کا خون نہی بہے گا، بلکہ ایک نہیں کئی مسلمانوں کے خون کے بہنے کا سوال بھی ہے ہے!
    صاحب کے انداز سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے مودودی صاحب کو بھی خوب پڑھا ہے،اور شاید ان کی انہی کی جماعت سے وابستگی بھی ہو! (@محمد عامر یونس یونس بھائی، ذرا شاہد مشتاق صاحب کے پروفائل و مزید تحریر دیکھ کر بتائیے گا کہ آیا میرا اندازہ درست ہے)
    صاحب رقمطراز ہیں:
    علماء سے فیض یاب ہونا بہت ضروری ہے، غالباً صاحب نے تاریخ بھی اردو ترجمہ کی بلا سند پڑھی ہے!
    اب ان دو خصوصیات کے حامل اتنے اہم موضوع پر اپنا ''نکتہ نظر'' بیان کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں!
    جبکہ سوال ہوا تھا اہل علم سے:
    شاید مشتاق صاحب ''اکثرعلماء سےفیض ياب'' ہوتے ہیں، وہ علماء کا جواب نقل کر دیتے!
    لیکن نہیں! انہیں اپنی''۔۔۔۔۔۔۔'' بیان کرنے کا بہت شوق تھا۔ تاریخ جو پڑھ بیٹھے ہیں، وہ بھی غالباً اردو میں بلا سند !
    سب سے پہلے تو یہ ایک جذباتی ٹیکہ لگایا گیا:
    ابھی اس ٹیکہ سے درد د بھرے جذبات ماتھے پر آئے ہی تھے کہ ایک جذباتی ٹیکہ اور لگایا گیا:
    ابھی اس ٹیکہ سے دل میں کسک شروع ہوئی تھی کہ ایک ''غیرت '' کا ٹیکہ بھی لگا دیا گیا:
    لیکن صاحب کو چوری ڈاکہ و رہزنی میں انسان کے رد عمل پر جو شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی ہے اس پر اپنے ''نکتہ'' کی بنیاد رکھنا چاہی! مگر صاحب کو یہ نہیں معلوم کہ اس رد عمل کا جواز صرف دوران واقعہ ہے، اگر کوئی ان صاحب کی اولاد کو قتل کر کرے فرار ہوجائے، تو یہ صاحب از خود اسے تلاش کرکے بدلہ میں قتل کردیں، یہ کام تو حکومت وقت کا ہی ہے!
    اور یہ جو''انفرادی جہاد'' کی باتیں کر رہیں ہیں اس کا تعلق دوران واقعہ کی قبیل سے نہیں بلکہ از خود تلاش کرکے بدلہ میں قتل کرنے سے ہے!
    اس غیرت ٹیکہ سے آنکھیں سرخ ہونے لگیں، قبل اس کے کہ کوئی سنبھلے اپنی بات کو تاریخ سے ثابت کرنے کی لئے فرمایا:
    اب یہ کب کا واقعہ ہے؟ یہ کون لوگ تھے، اور ان کی تائید کرنے والے علماء کا بھی نہیں معلوم کون!
    مگر پھر بھی کیا تاریخ میں اگر چند لوگوں نے کوئی کام کرلیا ہے تو اس سے اس کا شریعت اسلامی میں درست ہونا بھی ثابت ہو جاتا ہے!
    یہ بات نہ ان صاحب کو معلوم ہے اور نہ ہی یہ ان صاحب کا مطمع نظرمعلوم ہوتا ہے!
    اس کے بعد صاحب نے ایک فتویٰ صادر فرمایا ہے، مگر وہ اسے فتوی نہیں اپنا ''نکتہ'' کہتے ہیں! فرماتے ہیں:
    یہ صاحب کیوں کہ عالم یا مفتی نہیں ہیں، ان کی علمی پونجی چونکہ ''اکثر علماء سے فیض یاب'' ہونے اور ''تاریخ کا قاری'' ہونے کی ہے لہٰذا انہیں تو معلوم ہی نہیں کہ جہاد نماز کی طرح فرض نہیں! کیونکہ انہیں نہ نماز کی فرضیت کے شروط معلوم ہیں اور نہ ہی جہاد کی فرضیت کے شروط و ضوابط! اگر معلوم ہوتے تو یقیناً وہ ایسی بات نہیں کرتے!
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مقدسہ کے زمانے کے ایک واقعہ سے بھی صاحب نے اپنا ''نکتہ'' بیان کرنے کی سعی کی ہے:
    مگر کیا کریں ہمارے بھائی خود فرماتے ہیں کہ :
    لہٰذا بلکل ان صاحب کا عذر مدّنظر رکھا جائے! انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کا حکم جو امت پر لاگو ہوتا ہے، سمجھ نہیں آیا، اور وہ اسے اپنے ''نکتہ'' کے موافق سمجھ بیٹھے!
    لیکن اس کے فوراً بعد ایک سوال کرکے اپنے اس عذر کو وہ خود عذر نہیں سمجھتے بلکہ ایک چیلنج کی صورت پیدا کر دیتے ہیں:
    اور دیکھئے چیلنج بھی بڑے بڑے علماء کو دیا جارہا ہے!
    پھر اس سوال کا جواب بھی اپنے ''خیال'' میں خود ہی دے رہے ہیں:
    پہلے صاحب نے اپنے ''خیال'' میں ایک غلط بات سمجھی اور پھر اس غلطی کی بنیاد پر ایک اور سوال داغ دیا!
    اب صاحب اپنا مشاہدہ بیان فرماتے ہیں کہ:
    صاحب نے مجاہدین کے لئے دعا کو انفرادی حیثیت میں جہاد کرنے والوں کے لئے قرار دے دیا!
    مگر کیا کریں! کہ یہ صاحب نہیں جانتے کہ جو یہ دعائیں کرتے ہیں، ان کا کیا مؤقف ہے اور وہ کن مجاہدین کے لئے دعا کرتے ہیں!
    اب صاحب! ''انفرادی جہاد'' کو ''غیر فطری اور ''شریعت کے منافی'' ہونے کی نفی کرتے ہوئے ایک جذباتی ٹیکہ اور لگا جاتے ہیں:
    اور آخر میں ایک خوبصورت سی دعا :
    اور پھر آمین!
    اب میں آپ کو ایک حدیث پیش کرتا ہوں:
    حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا مُجَاهِدٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا لَمْ يَرِحْ رَائِحَةَ الجَنَّةِ، وَإِنَّ رِيحَهَا تُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا«
    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس نے کسی معاہد کو قتل کیا وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا ۔ حالانکہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی راہ سے سونگھی جا سکتی ہے۔
    ‌صحيح البخاري»» كِتَابُ الجِزْيَةِ »» بَابُ إِثْمِ مَنْ قَتَلَ مُعَاهَدًا بِغَيْرِ جُرْمٍ
    اب یہ صاحب اتنا بتلا دیں کہ کیا کفار، اور کفار کے ممالک ہر ایک مسلمان سے انفرادی طور پر انفرادی حیثیت میں معاہدہ کریں گے؟ کہ جس کی پاسداری ان پر لازم ہے، اور حکومت کے معاہدہ کی پاسداری ان پر لازم نہیں؟
     
    Last edited: ‏دسمبر 14، 2016
  5. ‏دسمبر 13، 2016 #5
    ابن داود

    ابن داود سینئر رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,603
    موصول شکریہ جات:
    2,433
    تمغے کے پوائنٹ:
    489

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    @فواد آپ کو یہاں اپنا ''لچ'' تلنا لازمی تھا! آپ کا اس معاملہ سے کوئی سروکار نہیں، یہاں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا مؤقف نہیں پوچھا گیا، نہ یہاں امریکہ یہاں ذیر بحث ہے! اور نہ داعش و القاعدہ وغیرہ!
    ناظمین ان صاحب کی پوسٹ کو برائے مہربانی کہیں اور منتقل فرمادیں!
     
    Last edited: ‏دسمبر 13، 2016
    • متفق متفق x 5
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  6. ‏دسمبر 14، 2016 #6
    بنیامین

    بنیامین رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 21، 2015
    پیغامات:
    137
    موصول شکریہ جات:
    37
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    محترم و مکرم ابن داؤد بھائی ابو بصیر رضی اللہ عنہ کے واقعہ کے بارے میں، اور نبی رحمت صلی اللہ علیہ و سلم کی وہ پیشگوئیاں کہ میری امت کا ایک طائفہ، یا عصابۃ، قیامت تک مسلسل '' قتال،، کرتا رہے گا '' لا یزالون کے الفاظ ہیں، ایسی احادیث کی کیا تاویل کی جائے گی؟
    اور میں نے مبشر ربانی حفظہ اللہ کی ایک تقریر سنی '' طائفہ منصورہ کی پہچان '' اس میں انھوں نے بڑے مدلل انداز سے، قرآن و حدیث اور اقوال سلف سے یہ ثابت کیا کہ اسلامی حکومت کا ہونا قتال کے لیے کوئی شرط نہیں،،
    آپ اس پر کیا فرمائیں گے؟

    Sent from my MI 4W using Tapatalk
     
  7. ‏دسمبر 14، 2016 #7
    ابن داود

    ابن داود سینئر رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,603
    موصول شکریہ جات:
    2,433
    تمغے کے پوائنٹ:
    489

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اس کے معنی اگر یہ لئے جائیں کہ بغیر کسی وقفہ کےتا قیامت جہاد ہوتا ہی رہے گا، تب بھی اس کے یہی معنی کہ حکومت کی رضا کے ساتھ، یا اس جگہ کہ جہاں اسلامی حکومت نہیں! اور وہ معاہد نہ ہو! ہوتا رہے گا۔ کہیں نہ کہیں کچھ لوگ جو کسی اسلامی حکومت کے ماتحت نہیں، وہ اپنا جہاد جاری رکھے ہوں گے!
    ویسے بھی ایسا تو نہیں ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جہاد کی فرضیت کے بعد، یا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے یہ پیشنگوئی فرمائی، اس کے بعد کوئی دن ایسا نہیں گذرا کہ قتال نہ ہوا ہو!
    جس وقت اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے حج ادا کیا، اس وقت کون سا طائفہ، یا عصابۃ کسی قتال میں مصروف تھا؟
    ہاں اس سے قبل یمن ایک طائفہ ضرور گیا تھا، مگر وہ معرکہ بھی ختم ہو چکا تھا!
    آپ نے جو بات لکھی ہے اس میں اسلامی حکومت کے وجود کی بات ہے، کہ قتال کے لئے اسلامی حکومت کا وجود لازم نہیں!
    (شیخ مبشر احمد ربانی نے کیا کہا ہے،وہ تو شیخ کی تقریر سن کر معلوم ہو سکے گا ، شیخ کی تقریر کالنک اگر مل سکے تو بہتر ہے۔ میں آپ کے الفاظ کی بنیاد پر لکھ رہا ہوں)
    مگر جب حکومت ہو تو کیا اس میں حکومت کی رضا ہونا ضروری ہے یا نہیں!

    میں نے جو بات کی ہے وہ یہ ہے کہ کیا کسی حکومت کے ماتحت لوگ اس حکومت کے کفار حکومت سے معاہدے سے آزاد ہیں؟ اور کفار ممالک کو چاہیئے کہ وہ مسلمان ممالک کے ہر ہر فرد سے انفرادی معاہدہ کرے، کہ وہ اس حکومتی معاہدہ کے تو پابند ہی نہیں!
    اور پھر اگر کسی گروہ کے امیر قتال سے کسی کا معاہدہ طے پا جائے، تو کیا وہ اس امیر قتال کے کئے گئے معاہد کے بھی پابند ہیں؟ یا پھر ان میں مزید انفرادیت نکھر کر سامنے آئے گی، اور وہ اپنے تئیں ان معاہد سے قتال شروع کردیں گے!
    جبکہ جو حدیث پیش کی ہے، اس میں معاہد کو قتل کرنے کی صریح نفی ہے!
    یہی بات درست معلوم ہوتی ہے کہ جہاں حکومت قائم ہو، ان لوگوں کے لئے جہاد حکومت کے تابع ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے اور خلفائے راشدین کے زمانے میں کوئی ایسی بات نہیں ملتی کہ کسی گروہ نے حکومت کی تابعداری سے نکل کر قتال کیا ہو!

    قرآن کی دو آیات اورایک حدیث پیش کرتا ہوں:

    وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِيَانَةً فَانْبِذْ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ (سورة الأنفال 58)
    اور اگر آپ کو کسی قوم کی طرف سے خیانت (بدعہدی) کا خوف ہو تو برابری (کی سطح) پر ان کا عہد ان کے منہ پر دے ماریں۔ بے شک اللہ خیانت (بدعہدی) کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

    إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوْا وَنَصَرُوا أُولَئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يُهَاجِرُوا مَا لَكُمْ مِنْ وَلَايَتِهِمْ مِنْ شَيْءٍ حَتَّى يُهَاجِرُوا وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ إِلَّا عَلَى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (سورة الأنفال 72)
    بے شک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جنہوں نے (مہاجروں کو اپنے ہاں) جگہ دی اور (ان کی) مدد کی، وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور جو لوگ ایمان لائے مگر انہوں نے ہجرت نہیں کی، ان کی دوستی سے تمہیں کوئی غرض نہیں حتی کہ وہ حجرت کریں۔ اور اگر وہ تم سے دین (کے معاملہ) میں مدد مانگیں تو تم پر مدد لازم ہے مگر اس قوم کے خلاف نہیں کہ جن کے اور تمہارے درمیان کوئی معاہدہ ہو، اور تم جو کام کرتے ہو اللہ دیکھ رہا ہے۔

    قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي الْفَيْضِ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: كَانَ مُعَاوِيَةُ يَسِيرُ فِي أَرْضِ الرُّومِ، وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ أَمَدٌ، فَأَرَادَ أَنْ يَدْنُوَ مِنْهُمْ، فَإِذَا انْقَضَى الْأَمَدُ غَزَاهُمْ، فَإِذَا شَيْخٌ عَلَى دَابَّةٍ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ [اللَّهُ أَكْبَرُ] وَفَاءً لَا غَدْرًا، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمٍ عَهْدٌ فَلَا يحلَّنَّ عُقْدَةً وَلَا يَشُدَّهَا حَتَّى يَنْقَضِيَ أَمَدُهَا، أَوْ يَنْبِذَ إِلَيْهِمْ عَلَى سَوَاءٍ" قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاوِيَةَ، فَرَجَعَ، وَإِذَا الشَّيْخُ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
    وَهَذَا الْحَدِيثُ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ وَأَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ، وَالتِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ، وَابْنُ حِبَّانَ فِي صَحِيحِهِ مِنْ طُرُقٍ عَنْ شُعْبَةَ، بِهِ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ صَحِيحٌ.

    امام احمد نے سُلَیم بن عامر سے روایت کیا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سرزمین روم میں چل رہے تھے، آپ کے اور ان کے مابین معاہدہ تھا، آپ چاہتے تھے کہ ان کے قریب پہنچ جائیں اور جب معاہدے کی مدت ختم ہو تو ان پر حملہ کردیں تو انہوں نے دیکھا کہ ایک بزرگ جانور پر سوار ہیں اور کہہ رہے ہیں: اللہ اکبر! اللہ اکبر! وعدہ وفا کرنا ہے، بے وفائی نہیں کرنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ''جس کسی قوم کے مابین عہد ہو تو جب تک مدت گزر نہ جائے، کوئی گرہ کھولے نہ باندھے یا ان کا عہد انہی کی طرف پھینک دے اور برابر کا جواب دے۔'' سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث پہنچی تو وہ واپس آگئے، حدیث بیان کرنے والے یہ بزرگ حضرت عمر بن عبسہ رضی اللہ عنہ تھے۔ اس حدیث کو امام ابو داود طیالسی، امام ابو داود، امام ترمذی، امام نسائی نے اور ابن حبان رحم اللہ عنہم نے بھی اپنی ''صحیح'' میں شعبہ کے طرق سے بیان کیا اور ترمذی نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے۔

    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 79 جلد 04 تفسير القرآن العظيم (تفسير ابن كثير) - أبو الفداء إسماعيل بن عمر بن كثير القرشي (المتوفى: 774هـ) - دار طيبة للنشر والتوزيع، الریاض

    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 568 المصباح المنير في تهذيب تفسير ابن كثير - إعداد جماعة من العلماء، بإشراف صفي الرحمن المباركفوري - دار السلام، الرياض
    ملاحظہ فرمائیں:صفحه 812 المصباح المنير في تهذيب تفسير ابن كثير (ترجمه اردو) - إعداد جماعة من العلماء، بإشراف صفي الرحمن المباركفوري - دار السلام

    جامع الترمذي » كِتَاب السِّيَرِ » بَاب مَا جَاءَ فِي الْغَدْرِ
    سنن أبي داود » كِتَاب الْجِهَاد » بَاب فِي الْإِمَامِ يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ عَهْدٌ فَيَسِيرُ إِلَيْهِ
    مسند أحمد بن حنبل» مُسْنَدُ الْعَشَرَةِ الْمُبَشَّرِينَ بِالْجَنَّةِ ...» مُسْنَدُ الشَّامِيِّينَ» حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ
    مصنف ابن أبي شيبة» كِتَابُ السِّيَرِ» الْغَدْرُ فِي الْأَمَانِ
    شعب الإيمان للبيهقي» الثاني والثلاثون من شعب الإيمان وهو بَابٌ فِي الإِيفَاءِ بِالْعُقُودِ
    مسند أبي داود الطيالسي» وَحَدِيثُ عَمْرِو بْنِ عَبسَةَ السُّلَمِيِّ
    المصباح المنير
    کا حوالہ اس حدیث کی صحت کے بارے میں مزید اطمینان کے لئے پیش کیا گیا ہے، جبکہ اسے امام ترمذی ، امام ابن حبان، امام ابن کثیر بھی صحیح قراد دے چکے ہیں!
    اس حدیث سے یہ ثابت ہے کہ معاہد کے ساتھ قتال نہیں کیا جاسکتا، جب تک کہ اس کے ساتھ عہد ختم نہیں ہوتا!
    قرآن کی آیت تو اس جگہ رہنے والے مسلمانوں کی ایسی مدد کرنے سے بھی منع کرتی ہے، جو معاہدہ کے خلاف ہو! فتدبر​
     
    Last edited: ‏دسمبر 14، 2016
  8. ‏دسمبر 14، 2016 #8
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    635
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    66

    .
     
    Last edited: ‏دسمبر 14، 2016
  9. ‏دسمبر 14، 2016 #9
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    635
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    66

    ‫.

    Sent from my SM-N9005 using Tapatalk
     
  10. ‏دسمبر 14، 2016 #10
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    635
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    66

    صفحة 235 سے صفحة 274 تک
    یہ لنک ہے
    http://kitabosunnat.com/kutub-library/aljihaad-islami



    Sent from my SM-N9005 using Tapatalk
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں