1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جہاں کی مٹی سے انسان کو بنایا گیا ہوتا ہے، مرنے کے بعد انسان زمین کے اسی حصے میں دفن ہوتا ہے ؟

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از زمان احمد سلفی, ‏جنوری 09، 2019۔

  1. ‏جنوری 09، 2019 #1
    زمان احمد سلفی

    زمان احمد سلفی رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 01، 2016
    پیغامات:
    24
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!

    شیخ محترم @اسحاق سلفی صاحب!

    میرا ایک سوال ہے کہ کیا کوئی ایسی آیت یا حدیث موجود ہے جس میں یہ آیا ہو اللہ تعالیٰ نے جہاں سے مٹی لیکر انسان کو بنایا ہوتا ہے، مرنے کے بعد انسان زمین کے اسی حصے میں دفن ہوتا ہے جس حصے سے مٹی لیکر انسان کو بنایا گیا تھا؟؟
    کچھ مفسرین کے بھی اس سلسلے میں اقوال موجود ہے

    جیسے علامہ آلوسی بغدادی نے تفسیر روح المعانی میں، علامہ بغوی نے اپنی تفسیر میں ایک روایت نقل کی ہے کہ ہوتا ہے تو ایک فرشتہ اس جگہ جاتا ہے جہاں پر موت کے بعد اسے دفن ہونا ہے اور وہاں سے مٹی لاکر نطفہ میں ملادیتا ہے اور پھر اس مٹی سے اس کی تخلیق ہوتی ہے۔
    امام التفسیر علامہ قرطبی نے بھی اسی قسم کی ایک روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے، اسی لیے بیشتر مفسرین نے اپنی کتب تفسیر میں یہ بات لکھی ہے کہ آدمی کے جسم میں اس کے دفن ہونے کی جگہ کی مٹی ہوتی ہے اور وہ اسی مقام پر دفن ہوتا ہے جہاں سے وہ مٹی لی گئی ہے،


    اس بات کی کیا حقیقت ہے ؟
    اس کی وضاحت فرما دیں جزاک اللہ خیراً کثیرا
     
  2. ‏جنوری 09، 2019 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,661
    موصول شکریہ جات:
    8,301
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    صحیح روایات کا اہتمام کرنے والے مفسرین میں سے کسی نے بھی یہ بات نقل نہیں کی۔
    تفسیر قرطبی میں اس حوالے سے دو تین روایتیں ہیں، فرماتے ہیں:
    وَرَوَى أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: (مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا وَقَدْ ذُرَّ عَلَيْهِ مِنْ تُرَابِ حُفْرَتِهِ) أَخْرَجَهُ أَبُو نُعَيْمٍ الْحَافِظُ فِي بَابِ ابْنِ سِيرِينَ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عَوْنٍ لَمْ نَكْتُبْهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَاصِمٍ النَّبِيلِ، وَهُوَ أَحَدُ الثِّقَاتِ الْأَعْلَامِ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ. وَقَدْ مَضَى هَذَا الْمَعْنَى مُبَيَّنًا فِي سُورَةِ (الْأَنْعَامِ)(٧) عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ. وَقَالَ عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ: إِذَا وَقَعَتِ النُّطْفَةُ فِي الرَّحِمِ انْطَلَقَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِالرَّحِمِ فَأَخَذَ مِنْ تُرَابِ الْمَكَانِ الَّذِي يُدْفَنُ فِيهِ فَيَذُرُّهُ عَلَى النُّطْفَةِ فَيَخْلُقُ اللَّهُ النَّسَمَةَ مِنَ النُّطْفَةِ وَمِنَ التُّرَابِ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى:" مِنْها خَلَقْناكُمْ وَفِيها نُعِيدُكُمْ وَمِنْها نُخْرِجُكُمْ تارَةً أُخْرى [٢٠: ٥٥]".
    قرطبی نے یہاں تین روایات کا حوالہ دیا ہے:
    پہلی روایت ابی ہریرۃ:
    حلیۃ الأولیاء کے حوالے سے:
    حلية الأولياء وطبقات الأصفياء (2/ 280)
    حدثنا القاضي محمد بن إسحاق بن إبراهيم الأهوازي قال: ثنا محمد بن نعيم، قال: ثنا أبو عاصم، قال: ثنا ابن عون، عن محمد بن سيرين، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما من مولود إلا وقد ذر عليه من تراب حفرته» قال أبو عاصم: ما تجد لأبي بكر، وعمر رضي الله تعالى عنهما فضيلة مثل هذه لأن طينتهما من طينة رسول الله صلى الله عليه وسلم هذا حديث غريب من حديث ابن عون عن محمد، لم نكتبه إلا من حديث أبي عاصم النبيل عنه، وهو أحد الثقات الأعلام من أهل البصرة-
    اس سند میں محمد بن إسحاق نامی راوی وضاع(حدیث گھڑنے والا) ہے۔(لسان الميزان(ج6ص553)
    یہ روایت مصنف عبد الرزاق میں بھی ہے
    مصنف عبد الرزاق الصنعاني (3/ 516)
    6533 - عن الأسلمي قال: أخبرني نوح بن أبي بلال، عن أبي سليمان الهذلي، عن أبي هريرة قال: «ما من مولود يولد إلا بعث الله ملكا فأخذ من الأرض ترابا فجعله على مقطع سرته فكان فيه شفاؤه، وكان قبره في موضع أخذ التراب منه»
    لیکن اس کی سند میں بھی مشکوک ہے۔
    دوسری روایت عطاء الخراسانی والی:
    ایک تو یہ بلاسند ہے، اگر سند ملے بھی تو عطا الخراسانی صغار تابعین میں سے ہیں، ان کی بات ایسے غیبی امور سے متعلق قابل اعتماد نہیں۔ واللہ اعلم۔
    تیسری روایت ابن مسعود:
    تفسير القرطبي (6/ 387)
    وقد روى أبو نعيم الحافظ في كتابه عن مرة عن ابن مسعود أن الملك الموكل بالرحم يأخذ النطفة فيضعها على كفه ثم يقول: يا رب مخلقة أو غير مخلقة؟ فإن قال مخلقة قال: يا رب ما الرزق ما الأثر ما الأجل؟ فيقول: انظر في أم الكتاب فينظر في اللوح
    المحفوظ فيجد فيه رزقه وأثره وأجله وعمله ويأخذ التراب الذي يدفن في بقعته ويعجن به نطفته فذلك قوله تعالى:" منها خلقناكم وفيها نعيدكم"
    قرطبی نے یہ روایت امام ابو نعیم کے حوالے سے بیان کی ہے، لیکن ابو نعیم کے ہاں یہ روایت مل نہیں سکی۔
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏جنوری 10، 2019 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,661
    موصول شکریہ جات:
    8,301
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

  4. ‏جنوری 10، 2019 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    اس مسئلہ پر ایک حدیث پیش ہے ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عن أبي سعيد الخدري قال: مر النبي صلى الله عليه وسلم بجنازة عند قبر فقال: " قبر من هذا؟ " فقالوا: قبر فلان الحبشي يا رسول الله. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا إله إلا الله , سيق من أرضه , وسمائه إلى تربته التي خلق منها "
    سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبرستان میں ایک جنازے پر ایک قبر کے پاس سے گزرے ، آپ ﷺ نے پوچھا یہ کس کی قبر ہے ؟ وہاں موجود لوگوں نے بتایا کہ فلاں حبشی کی ہے (جو ہمارے شہر مدینہ میں فوت ہوگیا ہے ) آپ نے " لا إله إلا الله " پڑھا اور فرمایا : یہ آدمی اپنی زمین و آسمان یعنی اپنے علاقے سے(اللہ کے حکم سے ) یہاں اس مٹی میں لایا گیا جس مٹی سے اسے پیدا کیا گیا تھا ۔
    شعب الایمان بیہقی ؒ ،طبع مکتبہ رشد الریاض (جلد 12 ص297 ،رقم 9425 )
    کتاب کے محقق شیخ الدكتور عبد العلي عبد الحميد حامد لکھتے ہیں :
    إسناده حسن
    والحديث رواه الحاكم في المستدرك» (کتاب الجنائز ،رقم الحدیث 1356 ) بنفس الإسناد. وقال : هذا حديث صحيح الإسناد ووافقه الذهبي

    یعنی یہ حدیث حسن ہے ،اسے امام حاکمؒ نے بھی مستدرک میں روایت کیا ہے ،اور اسے صحیح کہا ہے ، اورامام ذہبیؒ نے ان کی موافقت کی ہے ،(یعنی انہوں نے بھی اسے صحیح کہا ہے )
    دیکھئے :
    شعب الایمان بیہقی ؒ ،طبع مکتبہ رشد الریاض (جلد 12 ص297 ،رقم 9425 )
    https://archive.org/stream/FP62379/gse12#page/n296/mode/2up

    رواه الحاكم في المستدرك» (کتاب الجنائز ،رقم الحدیث 1356 ) طبع دار الكتب العلمية – بيروت ، تحقيق: مصطفى عبد القادر عطا ، وقال الحاكم : هذا حديث صحيح الإسناد ووافقه الذهبي فقال صحيح ولهذا الحديث شواهد، وأكثرها صحيحة منها "
    https://archive.org/stream/waq66017/01_66017#page/n519/mode/2up
    اور علامہ ناصر الدین البانیؒ نے اس حدیث کوسلسلہ احادیث صحیحہ (رقم 1858 ) میں درج کیا ہے (جلد 4 ص473 )
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  5. ‏جنوری 10، 2019 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,186
    موصول شکریہ جات:
    2,366
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    اس سوال کے جواب میں مستند علماء کا فتوی بھی ملاحظہ فرمائیں ،اس فتویٰ میں بھی
    سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ کی اوپر مذکور حدیث کو حسن کے درجہ میں تسلیم کیا گیا ہے ،
    اور بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ احادیث میں یہ بات موجود ہے ، کہ اللہ تعالیٰ نے جس جگہ کی مٹی سے انسان کو بنایا ہوتا ہے، مرنے کے بعد انسان زمین کے اسی حصے میں دفن ہوتا ہے ،
    ان احادیث میں ایک حدیث کو امام بیہقیؒ نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے ؛
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    هل ورد في الأحاديث الشريفة أن التربة التي يدفن بها المرء هي نفس التربة التي خلق منها .أرجو الإجابة؟


    الإجابــة

    الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه، أما بعـد:
    فقد وردت أحاديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بهذا المعنى وبألفاظ متقاربة، منها ما رواه البيهقي في شعب الإيمان عن أبي سعيد الخدري قال: مر النبي صلى الله عليه و سلم بجنازة عند قبر فقال قبر من هذا ؟ فقالوا قبر فلان الحبشي يا رسول الله . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا إله إلا الله سيق من أرضه وسمائه إلى تربته التي خلق منها. حسنه الألباني في السلسلة.
    وفي جامع الأحاديث للسيوطي: ما من مولود إلا وفى سرته من تربته التي يولد منها، فإذا رد إلى أرذل عمره رد إلى تربته التي خلق منها حتى يدفن فيها. لكن الحديث ضعيف كما قال أهل العلم.
    وفي مصنف عبد الرزاق عن ابن عباس أنه قال: يدفن كل إنسان في التربة التي خلق منها.
    وهذا الأثر عن ابن عباس له حكم الرفع لأنه ليس مما يقال بالرأي.
    والله أعلم .


    http://www.islamweb.net/fatwa/index....waId&Id=123393
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں