1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جہنم سے نکلنے سے انکار کر دینا !!!!

'طنز ومزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو محمد سہیل, ‏مئی 03، 2012۔

  1. ‏مئی 03، 2012 #1
    ابو محمد سہیل

    ابو محمد سہیل مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2012
    پیغامات:
    13
    موصول شکریہ جات:
    73
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    مشہور امام قاضی محمد بن علی الشوکانی رحمہ اللہ طلبہ کو صحیح بخاری پڑھا رہےتھے ، اور احاديث الشفاعة کا ذکر چل رہا تھا-
    (جس میں اللہ رب العزت کا لوگوں کو جہنم سے شفاعت کے ذریعے نکالنے کا ذکر ہے ، یہی صحیح احادیث سے ثابت عقیدہ ہے)
    درس میں ایک طالب علم ایسا بھی تھا جوکہ معتزلی عقیدہ کا حامل تھا-
    (معتزلہ فرقہ شفاعت کا انکار کرتے تھے ، یعنی لوگوں کا شفاعت کے ذریعے جہنم سے نکلنے کا انکار کرتے تھے)
    تو جب بھی کوئی شفاعت کی حدیث آتی تو یہ طالب علم شور کرتا ، اعتراض کرتا ، مناظرہ اور بحث کرنے کی کوشش کرتا –
    امام شوکانی رحمہ اللہ اس کو سمجھاتے اور اس کے اعتراضات کا جواب دیتے مگر پھر وہی بحث اور وہی اعتراضات –
     
  2. ‏مئی 03، 2012 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    ابتسامہ
    ایسے لوگوں کو ایسے ہی سمجھایا جاتا ہے۔
     
  3. ‏مارچ 20، 2019 #3
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,562
    موصول شکریہ جات:
    412
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    كان الإمام القاضي محمد بن علي الشوكاني رحمه الله يُقرئ طلبته "صحيح البخاري"، وكانت تمر به أحاديث الشفاعة التي فيها خروج أناس من النار من بعد ما حشروا فيها، وكان أحد الطلاب ممن يحضرون مجلسه معتزلي العقيدة – والمعتزلة تنكر الشفاعة الثابتة من خروج بعض المسلمين من النار – فكان هذا الطالب كلما مرت أحاديث الشفاعة حاول أن يشوَّش ويعترض ويناقش ويجادل، فما كان من الشوكاني إلا أن قال له: عندما يأتون لإخراجك من النار امتنع عن الخروج، وقل لهم: أنا معتزلي لن أخرج.
    قصص وحكايات من اليمن ۲۶

    54545.png

    1234.png
     
  4. ‏مارچ 21، 2019 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یمن کے قصے اور حکایات


    امتنع عن الخروج من النار
    يحكي القاضي العمراني أن الشوكاني - رحمه الله - كان يقرئ طلبته صحيح البخاري ) وكانت تمر به أحاديث الشفاعة التي فيها خروج أناس من النار من بعد ما امتحشوا ، وكان هناك طالب من الطلبة معتزلي العقيدة - والمعتزلة تنكر الشفاعة الثابتة من خروج بعض المسلمين من النار - فكان هذا الطالب لما مرت أحاديث الشفاعة حاول أن يشوش ويعترض ويناقش ويجادل فما كان من الشوكاني إلا أن قال له : عندما يأتون لإخراجك من النار امتنع عن الخروج ، وقل أنا معتزلي لن أخرج ..!.
    جہنم سے نکلنے سے انکار
    یمن کےمشہورمحدث امام قاضی محمد بن علی الشوکانی (المتوفى: 1250هـ)رحمہ اللہ
    طلبہ کو صحیح بخاری پڑھا رہےتھے ، اور احاديث شفاعت کا ذکر چل رہا تھا-
    (جس میں اللہ رب العزت کا لوگوں کو جہنم سے شفاعت کے ذریعے نکالنے کا ذکر ہے ، یہی صحیح احادیث سے ثابت عقیدہ ہے)
    درس میں ایک طالب علم ایسا بھی تھا جوکہ معتزلی عقیدہ کا حامل تھا-
    (معتزلہ فرقہ شفاعت کا انکار کرتے تھے ، یعنی لوگوں کا شفاعت کے ذریعے جہنم سے نکلنے کا انکار کرتے تھے)
    تو جب بھی کوئی شفاعت کی حدیث آتی تو یہ طالب علم شور کرتا ، اعتراض کرتا ، مناظرہ اور بحث کرنے کی کوشش کرتا –
    امام شوکانی رحمہ اللہ اس کو سمجھاتے اور اس کے اعتراضات کا جواب دیتے مگر پھر وہی بحث اور وہی اعتراضات ؛
    تو پھر امام شوکانی رحمہ اللہ نے فرمایا:
    دیکھو جب تمہیں فرشتے جہنم سےنکالنے کیلئے آئیں تو وہاں سے نکلنے سے انکار کردینا اور کہنا میں نہیں نکلوں گا ،میں معتزلی عقیدہ ہوں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فسجد الملائكة كلهم أجمعين إلا إبليس...
    تمام فرشتوں نے سجدہ کیا ،مگر ابلیس نے نہ کیا !

    يحكي القاضي العمراني أن من قاعدة الهادوية إذا وردت سجدة من سجدات القرآن في الصلاة لا يسجدونها ، فكان رجل من الهادوية يصلي في الحرم مع الناس ،
    فقرأ إمام الحرم آية سجدة ، فسجد وسجد الناس كلهم إلا هذا الهادوي ظل وقفا منتصبا ، ولم يسجد اتباعا للمذهب ، فبعد سجودهم قام أحد المصلين وأشار إلى هذا الهادوي الذي لم يسجد ، وقال : فسجد الملائكة كلهم أجمعون إلا إبليس ..! .

    زیدی شیعوں کی ایک شاخ "ھادویہ " نماز میں قرآنی سجدہ آنے پر سجدہ نہیں کرتے ،
    ایک دفعہ ایک ھادوی شیعہ حرم مکہ میں باجماعت نماز پڑھ رہا تھا ،امام نے دوران قراءت سجدہ والی آیت پڑھی ،اور سجدہ کیا تمام مقتدیوں نے بھی امام کے ساتھ سجدہ کیا ، سوائے اس ھادوی شیعہ کے ،کہ وہ امام کے سجدہ تلاوت کے دوران بھی کھڑا ہی رہا اور اپنے مذہب کی پیروی میں سجدہ نہیں کیا ، تو (نماز کے بعد ) ایک نمازی نے سجدہ نہ کرنے والے اس ھادوی کی طرف اشارہ کرکے قرآن مجید کی وہ آیت پڑھی جس میں اللہ تعالی نے فرشتوں کو سجدہ کا حکم دیا تھا :
    فَسَجَدَ الْمَلَائِكَةُ كُلُّهُمْ أَجْمَعُونَ ٭ إِلَّا إِبْلِيسَ
    توسب ملائکہ نے اس حکم کی تعمیل میں سجدہ کیا تھا لیکن ابلیس نے نہ کیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    https://archive.org/details/abu_yaala_kisas_amrani/page/n25
     
  5. ‏مارچ 30، 2019 #5
    asad

    asad مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 04، 2018
    پیغامات:
    9
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    5

    ایسے لوگوں کو ایسے ہی سمجھایا جاتا ہے۔
     
  6. ‏اپریل 05، 2019 #6
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    یمن کے قصے اور حکایات-

    ان قصّوں اور حکایتوں کی مذہبی حیثیت کیا ہے ؟؟- الله ہی بہتر جانتا ہے -

    اگر امام قاضی الشوکانی سے منسوب یہ قصّہ صحیح ہے تو امام صاحب کی یہ حرکت غیر شرعی ہے - کسی کو معین طور پر جہنمی قرار دینے کا حق صرف الله اور اس کے رسول کے پاس ہے - معتزلہ اگرچہ گمراہ تھے لیکن جنّت و جہنم کا فیصلہ الله رب العزت کے اختیار میں ہے - اللہ چاہے تو کسی کو مرنے سے پہلے ہدایت سے نواز دے - امام شوکانی کا معتزلی کو کہنا "دیکھو جب تمہیں فرشتے جہنم سےنکالنے کیلئے آئیں تو وہاں سے نکلنے سے انکار کردینا اور کہنا میں نہیں نکلوں گا ،میں معتزلی عقیدہ ہوں"۔ کیا اس شخص کی ہدایت کا سبب بن سکتا تھا ؟؟- کبھی نہیں- نہ ہی یہ نبوی طریقہ تبلیغ تھا - نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم کے سامنے کفار و مشرکین اس معتزلی کے طرز عمل کی نسبت کہیں زیادہ ہٹ دھرمی دکھاتے تھے- لیکن پھر بھی آپ صل الله علیہ و آ له وسلم نے کبھی کسی کو اسطرح جواب نہیں دیا "کہ جب تمہیں فرشتے جہنم سے نکالنے کیلئے آئیں تو وہاں سے نکلنے سے انکار کردینا اور کہنا میں نہیں نکلوں گا" - آپ کا یہی حسن سلوک ان کافروں کی ہدایت کا سبب بنا -

    الله ہدایت دے (آمین)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں