1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جہنم کے حالات و درجات اور نبی علیہ السلام کا تین دن حجرے سے باہر تشریف نہ لانا وغیرہ

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏جولائی 04، 2016۔

  1. ‏جولائی 04، 2016 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    محترم شیخ @اسحاق سلفی صاحب!

    آجکل سوشل میڈیا پر درج ذیل تحریر پھیلائی جارہی ہے...اس کے متعلق تحقیق درکار ہے.

    ایک بار جب جبرائیل علیہ سلام نبی کریم کے پاس آے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرایل کچھ پریشان ہے آپ نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپکو غمزدہ دیکھ رہا ہوں جبرائیل نے عرض کی اے محبوب کل جہاں آج میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کرکہ آیا ہوں اسکو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوے ہیں نبی کریم نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاو جبرائیل نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں
    ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا
    اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈلیں گے
    اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے
    چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے
    تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے
    دوسرے درجے میں اللہ تعالی عسائیوں کو ڈالیں گئ
    یہ کہہ کر جبرائیل علیہ سلام خاموش ہوگئے تو نبی کریم نے پوچھا
    جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے مجھے بتاو کہ پہلے درجے میں کون ہوگا
    جبرائیل علیہ سلام نے عرض کیا
    یا اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپکے امت کے گنہگاروں کو ڈالے گے
    جب نبی کریم نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی جہنم میں ڈالا جاے گا تو آپ بے حد غمگین ہوے اور آپ نے اللہ کے حضور دائیں کرنا شروع کی تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کرکہ اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے صحابہ حیران تھے کہ نبی کریم پہ یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے مسجد سے حجرے جاتے ہیں
    گھر بھی تشریف لیکر نہیں جا رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابو بکر سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پہ آے دستک دی اور سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہیں آیا ۔ آپ روتے ہوے سیدنا عمر کے پاس آے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا لیکن سلام کا جواب نہ پایا لہذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جاے آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا حضرت عمر نے سلمان فارسی کو بھیجا لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ تعالی سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنے اعظیم شحصیات کو سلام کا جواب نہ ملا تو مجھے بھی خود نھی جانا نھی چاھیئے
    بلکہ مجھے انکی نور نظر بیٹی فاطمہ اندر بھیجنی چاھیئے۔ لہذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ تعالی کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پہ آئی
    " ابا جان اسلام وعلیکم"
    بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائینات اٹھے دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا
    ابا جان آپ پر کیا کیفیت ھے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرما ہے
    نبی کریم نے فرمایا کہ جبرائیل نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی جہنم میں جاے گی فاطمہ بیٹی مجھے اپنے امت کے
    گنہگاروں کا غم کھاے جا رہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کررہا ہوں کہ اللہ انکو معا ف کر اور جہنم سے بری کر یہ کہہ کر آپ پھر سجدے میں چلے گئے اور رونا شروع کیا یا اللہ میری امت یا اللہ میری امت کے گناہگاروں پہ رحم کر انکو جہنم سے آزاد کر
    کہ اتنے میں حکم آگیا "وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى
    اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہوجاو گے
    آپ خوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگوں اللہ نے مجھ سے وعدہ کرلیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کریں گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہونا جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جاے
     
  2. ‏جولائی 04، 2016 #2
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    مزید یہ کہ اس طرح کی تحریرات اگر موصول ہوں یا کہیں نظر آئیں.. تو کیا وہاں پر یہ تبصرہ کرنا کافی ہے کہ:
    جس صاحب نے یہ تحریر لکھی ہے اُن سے دریافت کریں کہ اسے کہاں سے نقل کیا گیا ہے؟ صحیح و مستند حوالہ پیش کرنا اُن کی ذمہ داری ہے..اپنے دعوی کے مطابق دلیل بھی ساتھ پیش کریں...جب تک کوئی مستند حوالہ پیش نہیں کیا جاتا ہم اسے ماننے سے انکاری ہیں.. وغیرہ وغیرہ...
    یا آپ کوئی جامع تحریر لکھ دیں کہ جس کو ہم جوابا پیش کر دیا کریں تا کہ اس طرح کی بے شمار تحریرات کو ایک ہی جواب دے دیا جائے.
    جزاکم اللہ خیرا
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 05، 2016 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    محترم بھائی :
    آپ نے جس روایت کے متعلق استفسار کیا ہے وہ حنفی فقیہ ابو اللیث سمرقندی
    (أبو الليث نصر بن محمد بن أحمد بن إبراهيم السمرقندي (المتوفى: 373 ھ) نے اپنی کتاب " تنبیہ الغافلین " میں نقل کی ہے ،یہ بزرگ فقیہ ہونے کے ساتھ ایک قصہ گو واعظ بھی تھے ، اور اسی شوق کی تکمیل میں وعظ و قصص کے موضوع پر ایک کتاب "تنبیہ الغافلین " بھی لکھ ڈالی ، اور اس میں بے شمار بے سروپا روایات جمع کردیں ،
    یہ کتاب قصہ گو واعظین کا مرجع تحقیق ہے ،کچھ اہل توحید اور اہل بریلی اسی کا مواد اپنی تقاریر میں گا گا کر سنایا کرتے ہیں ، پنجاب کے ہمارے دو تین واعظین جنکی تقریر کیلئے مہینوں پہلے بکنگ کروانی پڑتی ہے ، ان کی تقاریر بھی اس کتاب کے مندرجات جیسی ،یا اسی سے ماخوذ ہوتی ہیں ،
    اور اگر ان سے اس بابت سوال کرو تو بگڑ جاتے ہیں ؛؛
    آپ کی مسئولہ روایت بھی انہی میں سے ایک طویل روایت ہے ، جس کو بغیر کسی سند اور حوالہ کےسمر قندی صاحب نے " تنبیہ الغافلین " میں بے دھڑک نقل فرما دیا ہے ،
    امام الذہبی ” تاريخ الإسلام ” میں فقیہ ابو اللیث سمر قندی کے ترجمہ میں لکھتے ہیں ( حوادث 351 - 380 ) :
    وفي كتاب ” تنبيه الغافلين موضوعات كثيرة .ا.هـ.
    یعنی انکی کتاب تنبیہ الغافلین میں بہت ساری موضوع (یعنی من گھڑت ) پائی جاتی ہیں "
    اور علامہ الالبانی رحمہ اللہ کے نامور شاگرد الشيخ مشهور بن حسن - حفظه الله فرماتے ہیں :(( كتاب "تنبيه الغافِلين"؛ فهو مجموعٌ لمِثل هذه القصص المكذوبة، والحِكايات التي لا أسانيد لها ولا أزمَّة ))
    کتاب تنبیہ الغافلین جھوٹے قصوں کا مجموعہ ،اور بے سند اور بے بنیاد حکایات کی گٹھڑی ہے "
    [نقلًا من "قصص لا تثبت"، (3/22-23)]
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لہذا اس روایت کا کوئی اعتبار نہیں۔
    ابو اللیث نے یہ روایت " یزید الرقاشی " کے حوالہ سے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے نام سے نقل کی ہے اور

    یزید الرقاشی " ناقابل اعتبار راوی ہے ، علامہ ابن کثیر الدمشقی ؒ لکھتے ہیں :

    (قال البخاري: كان ضعيفاً قدرياً."
    وقال الفلاس: كان يحيى لا يحدِّث عنه، وكان ابن مهدي يحدث عنه.
    وقال الفَلَّاس: كان رجلاً صالحاً، وقد روى الناس عنه، وليس بالقوي في الحديث.
    وقال البخاري: تَكلَّم فيه شعبة.
    وقال إسحاق بن راهويه عن النضر بن شميل قال شعبة: لأن أقطع الطريق أحب إلي من أن أروي عنه.
    ( التکمیل فی الجرح والتعدیل لابن کثیرؒ )

    یعنی امام بخاریؒ کا فرمانا ہے کہ یزید الرقاشی تقدیر کا منکر اور ضعیف تھا،
    علامہ الفلاس کہتے ہیں : یزید الرقاشی آدمی تو نیک تھا ،اور لوگوں نے اس سے روایات نقل بھی کی ہیں ،لیکن وہ حدیث میں قوی نہیں(بلکہ ضعیف راوی ) تھا ،
    امام اسحاق بن راھویہؒ فرماتے ہیں کہ امام نضرؒ بن شمیل کہتے تھے ، یزید الرقاشی سے روایت لینے سے ڈاکہ مارنا بہتر ہے،
     
  4. ‏جولائی 05، 2016 #4
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,356
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جزاکم اللہ خیرا
    اردو رسم الخط کے علاوہ رومن اردو میں بهی اسی طرح من گهڑت قصص هیں جو گردش میں ہیں اور کم معلومات رکهنے والے مسلم انہیں کار ثواب سمجهکر دوسروں کو فارورڈ کئیے جا رهے ہیں ۔
    اللہ ہم سب کو بهتر توفیق عطاء فرمائے اور ہر گمراهی سے بچائے ۔
    والسلام
     
  5. ‏جولائی 20، 2016 #5
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    جزاک اللہ خیرا یا شیخ!
     
  6. ‏اگست 05، 2016 #6
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    السلام علیکم ورحمة الله وبركاته.

    محو حیرت ہوں
    شیخ سدیس صاحب کے نام سے پیج
     
  7. ‏اگست 05، 2016 #7
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    محترم شیخ آپکا تبصرہ چاہتا ہوں
     
  8. ‏اگست 08، 2016 #8
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    ؟؟؟؟؟
     
  9. ‏اگست 08، 2016 #9
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,356
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

    عمر بهائی جو اس پیج پر مجهے نظر آیا ۔
    اس پیج پر لکها هے "محبی الشیخ عبد الرحمن السدیس"
    جیسے آپکا ریفرنس دیتے هوئے کوئی اسطرح کہے "شیخ عمر اثری سے محبت رکهنے یا کرنیوالا"
    یعنی یہ ویب پیج شیخ السدیس کا نہیں هے
    ۔
    مزید اسی صفحہ پر پہلی تعلیق هے کہ (ترجمہ) یہ موضوع هے ، اسکی کوئی بنیاد نہیں ۔۔۔۔۔ الخ
    واللہ اعلم
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  10. ‏اگست 08، 2016 #10
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    میں سخت احتجاج درج کراتا ہوں
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں