1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حافظ عبدالرحمن مدنی﷾ کا تحقیقی اور تعلیمی مشن

'علم القراءات' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏مئی 30، 2012۔

  1. ‏مئی 30، 2012 #1
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    حافظ عبدالرحمن مدنی﷾ کا تحقیقی اور تعلیمی مشن

    انٹرویو پینل ​

    س: تعمیر شخصیت اور علمی رجحانات کا مختصر تعارف کروائیے؟
    ج: بچپن سے ہی میں دھیمے مزاج کا حامل ہوں ،اگرچہ میرے قابل رشک حافظے کے ساتھ ہر چیز پر توجہ دینے کے مزاج کی وجہ سے میرا شماربہت ذہین لوگوں میں ہوتا تھا۔ اس سلسلے میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا کہ پورے گھر میں میرے حافظے پر بہت اِعتماد کیا جانے لگا۔ والدِ گرامی حافظ محمد حسین امرتسری روپڑی﷫ کاروباری آدمی بھی تھے۔ لاہور کے تجارتی معاملات میں کسی نے اُنہیں جعلی چیک دے دیا ۔ایک پنچائیت میں فیصلہ ہوا کہ چیک کی بجائے اَصل رقم دی جائے۔ والد صاحب نے اَصل رقم لینے کے لیے بڑے بیٹے حافظ عبداللہ حسین کو ملزم کے ہمراہ بھیجا۔ وہ سائیکل بھی لے بھاگا۔ ہمارے پاس Raleigh سائیکل ہوتا تھا جوان دنوں کوالٹی کے اِعتبار سے بہت اچھی سواری سمجھی جاتی تھی۔ وقوعہ یوں ہواکہ جس شخص نے جعلی چیک دیاتھا، اس نے کہا کہ سائیکل مجھے دو، میں اَبھی پیسے لے کر آتا ہوں۔ چھوٹی عمرکی وجہ سے بھائی صاحب نے سائیکل اُسے دے دی۔وہ سائیکل سمیت غائب ہو گیا۔ کافی دیر بعد بڑے بھائی (حافظ عبداللہ حسینؒ)جب واپس آئے تو اُنہوں نے والد صاحب کو بتایا کہ وہ تو سائیکل بھی لے گیا ہے ۔ والد صاحب نے تھانہ ماڈل ٹاؤن میں رپٹ درج کروا دی۔ ان دنوں پولیس کے حالات کافی بہتر ہوتے تھے۔ پولیس نے ملزم کو سائیکل سمیت پکڑ لیا۔ اب سائیکل ہم نے اپنی تحویل میں لینا تھا ۔پولیس کا مطالبہ تھاکہ آپ رسید لے کر آئیں۔ عام طور پرسا ئیکلوں کی رسیدیں کم ہی سنبھال کررکھی جاتی ہیں۔ یہ سائیکل ہم نے رستم سہراب فیکٹری کے ڈائریکٹر جناب محمد یٰسین(سابق امیر جماعت اہل حدیث پاکستان) کے ذریعے لیا تھا۔ اس سلسلے میںجب ان سے بات ہوئی توانہوں نے کہاکہ رسید تو میں بنا دیتا ہوں لیکن سائیکل کا نمبر چاہئے۔اب نمبرکسی کو یاد نہیں تھا۔ والد صاحب نے شام کے وقت گھر آکر ذکر کیا کہ سائیکل تو پولیس نے برآمد کر لیا ہے لیکن نمبر علم نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں نہیں مل سکتا ۔ میں بالکل چھوٹی عمر کا تھا۔ میں نے کہا کہ وہ نمبر مجھے یاد ہے۔ سائیکل کا نمبر گدی کے نیچے ہوتا ہے، جومیں نے اتفاق سے ایک دن پڑھ لیا تھا، میں نے بتایا کہ اس کا نمبر AK23842ہے۔ چنانچہ والد صاحب نے اسی کے مطابق رسید تیار کرا کرسائیکل حاصل کر لیا۔ اس واقعہ کے بعدمیرے ذہن کوگھریلو امور میں رجسٹر کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ہم عام طورپردودھ حاصل کرنے کے لیے گھر میں جانور رکھا کرتے تھے، چنانچہ جانوروں کے جتنے بھی معاملات ہوتے ،مجھے بتا دئیے جاتے ۔نومولود بچوں کی عمروں کے حساب وغیرہ بھی مجھے آج تک یاد ہیں۔
     
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏مئی 30، 2012 #2
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    میں نے سات سال سے بھی کم عمری میں قرآن مجید حفظ کرلیا تھا۔ چونکہ آواز دھیمی ہونے کے باوصف باریک بھی تھی اس لیے جب بعض مجلسوں میں خواتین نے میرا قرآن سناتو کہنے لگیں کہ کوئی بہت چھوٹی بچی قرآن پڑھ رہی ہے۔ میری اسی ذہانت کی وجہ سے والد صاحب کی خواہش تھی کہ میں اجل عالم دین بنوں۔ وہ اکثر کہا کرتے کہ تمہاری بڑی بہنوں کے بعد میں نے تمہیں بھی دینی تعلیم مکمل کرانی ہے تاکہ تم چھوٹے بہن بھائیوں کو عالم دین بنا سکو۔ ہم دس بہن بھائی تھے جن میں سے آج سات حیات ہیں۔ والدہ اور والد(رب ارحمہما کما ربیانی صغیرا) بالترتیب یکم اکتوبر۱۹۵۴ء اور ۲ ۔اکتوبر۱۹۵۹ء (بروز جمعۃ المبارک) داغ مفارقت دے گئے۔
    میرا تعلیمی دورانیہ تقریباً۱۹۴۹ء سے لے کر ۱۹۶۸ء تک ہے۔ ان دنوں دینی مدارس اِداروں کی شکل اختیار کررہے تھے لیکن پورا مدرسہ کسی بڑی علمی شخصیت کے گردہی گھومتا تھا۔ جب کوئی مشہور شخصیت شیخ الحدیث کی مسندپربیٹھ جاتی تو طالب علم اس مدرسہ کی طرف رُخ کرنے لگتے تھے۔ اگرچہ ہمارے خاندان کی دو معروف علمی شخصیات(حافظ عبداللہ محدث امرتسری روپڑی﷫ اورشیخ التفسیر حافظ محمد حسین امرتسری روپڑی﷫ )نے الگ الگ ہر فن کے امام سے وہ علم حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏مئی 30، 2012 #3
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ہماری خاندانی درسگاہ جامعہ اہلحدیث کاباقاعدہ افتتاح ۱۹۵۶ء میں ہوا تو اس میں بڑے بڑے علماء داخل ہوئے جن میں مفتی محمد صدیق (سرگودھا والے)، شیخ الحدیث مولانا محمد کنگن پوری اورمناظر اسلام حافظ عبدالقادر روپڑی بھی شامل تھے۔ فارغ التحصیل علماء کو ان کی نصابی کتابوں کی دہرائی کے لیے ایک خاص کلاس بنائی گئی جس کے لیے ہر فن کی ایک اساسی جامع کتاب منتخب کی گئی۔ اس طرح درس نظامی کا خلاصہ فارغ التحصیل علماء کو پوری تحقیق کے ساتھ دوبارہ پڑھادیاگیا۔ فنون کے خلاصہ کے طور پر نحو میں کافیہ، صرف میں اصول اکبری،منطق میں شرح تہذیب، بلاغت میں تلخیص المفتاح اور اُصول حدیث کی نخبۃ الفکر کوبطور علم پڑھایا جاتا تھا۔گویا طرزِ تدریس میں کوشش ہوتی کہ ہر فن کی ایک کتاب پڑھنے سے ہی اس فن کا عالم تیار کر دیا جائے۔ والد گرامی اسی طرز پر تمام فنون آسان ترین انداز میں پڑھاتے کہ علماء کے ساتھ ساتھ ایک ادنیٰ طالب علم بھی مستفید ہوسکے۔ اندازہ کیجئے کہ نخبۃ الفکر کا مختصر متن ہمیں اس شرح و بسط کے ساتھ سمجھایاگیا کہ شرح نخبۃ اور مقدمہ ابن الصلاح کی ضروری بحثیں بھی شامل ہوگئیں۔
     
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏مئی 30، 2012 #4
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    الحمدﷲ ان کی توجہ خاص اور دعاؤں کی بدولت مجھے بڑے بڑے علماء کے ساتھ پڑھنے میں کوئی مشکل حائل نہ ہوتی بلکہ اچھے ذہن و حافظہ کی وجہ سے اَکثر اَیسا ہوتا کہ ایک بار میں کوئی عبارت دیکھ لیتا تو مجھے کافی حد تک یاد ہوجاتی اور تھوڑی سی توجہ کے بعد بالکل حفظ ہوجاتی۔ مجھے اصول اکبری کی اہم بحثیں، مصدر ثلاثی مجرد کے ۷۰ وزن آج تک ازبر ہیں۔ اسی طرح تخفیف ہمزہ اور تعلیلات کے عربی قواعدبھی اسی کتاب سے یاد ہیں۔ مثال کے طورپر تخفیف ہمزہ کا پہلا قاعدہ یوں ہے:
    ’’الہمزۃ الساکنۃ یجوز قلبہا بأخت حرکۃ ما قبلہا إن لم تکن ہمزۃ، وإلا یجب إذا کانتا في کلمۃ، وإلا لم یجب۔ وشذ الحذف وجوبا في خذ وکل وجوازا في مر، وہو أفصح من اومر کوأمر فأمر من ومر فمر۔‘‘
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏مئی 30، 2012 #5
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    [​IMG]
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  6. ‏مئی 30، 2012 #6
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    [​IMG]
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏مئی 30، 2012 #7
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    مصدری مبالغہ کے اوزان ان کے علاوہ ہیں، یہ مبالغہ کے اوزان اورصفت مشبہ کے دوسوسولہ وزن کافی عرصہ تک مجھے یاد رہے۔
    چونکہ بچپن اور ابتدائی جوانی میں پڑھی گئی زیر درس کتابوں کی اکثر عبارتیں مجھے خود بخود یاد ہوجاتیں۔ جیسے بلوغ المرام کے کافی حصے مجھے عرصہ تک یاد رہے۔ (مکتبہ رحمانیہ میں یہ بلوغ المرام، جس کو میں نے مکمل مشکّل کر دیا تھا،محفوظ ہے)
    جیسا کہ میں نے ذکر کیاکہ اپنی خاندانی درسگاہ جامعہ اہل حدیث قائم ہوجانے کے بعد والد صاحب مجھے مسجد قدس، چوک دالگراں (رام گلی نمبر ۵) میں ہمراہ لے جاتے۔ میں نے علوم آلیہ کی اساسی کتابیں فارغ التحصیل علماء کے ساتھی کی حیثیت سے پڑھی تھیں جو عربی زبان کے علوم صرف و نحو اوربلاغت کے علاوہ منطق وغیرہ پر مشتمل تھیں۔ان کے ساتھ علوم عالیہ میں سے اصول (اُصول تفسیر، اُصول حدیث وفقہ) کی ابتدائی کتابیں زیادہ تر والد گرامی سے پڑھیں۔ انہی دنوں والد صاحب کی مزمن بیماری سل ودق شدید ہوجانے کے باعث میں ان سے بلوغ المرام، منتقی الأخبار( متن نیل الاوطار) اور الجامع الصحیح للبخاریگھر میں پڑھتا رہا اور کئی چھوٹے بڑے مخطوطے بھی والد صاحب نے مجھے املاء کروائے۔
    چونکہ میں بنیادی کتابیں والد گرامی اور اپنے تایا محدث روپڑی سے پڑھ چکا تھا اس لیے والدگرامی کی وفات کے بعد میرے سرپرست محدث روپڑی اور میرے بہنوئی حافظ محمد اسماعیل روپڑی نے مجھے دیگر مکاتب فکر کے اہل علم سے نہ صرفپڑھنے کی اجازت دی بلکہ مولانا اسماعیل روپڑی کے دیگر مکاتب فکر کے علماء اور مشائخ سے رواداری اورا ن کے بے پناہ عزت واحترام کو دیکھ کر میں ان علماء کابھی گرویدہ ہوتا رہا۔ نیز استاذین مرحومین کی اس نصیحت کے پیش نظر کہ ہر علم و فن اس کے ماہر سے حاصل کرنا چاہئے، میں نے ماڈل ٹاؤن کے قریب مسلم ٹاؤن لاہورکے بالمقابل جامعہ اَشرفیہ کے نئے کیمپس جانا شروع کر دیاجس میں بہت سے علوم آلیہ کے علاوہ علوم عالیہ سے فقہ واصول بھی کبار اساتذہ سے پڑھتا رہا، جبکہ فقہ الحدیث میںخصوصی طور پر مولانا رسول خان اور مولانا اِدریس کاندھلوی رحمہما اﷲ کے تبحر علمی سے فیض یاب ہوا۔ اسی طرح سواری مہیا ہوجانے پر جامعہ مدنیہ واقع مسلم مسجد، لوہاری گیٹ۔ لاہور میںماہر علوم وفنون مولانا شریف اللہ خان وغیرہ سے منطق و فلسفہ،علم ہیئت وکلام کی آخری نصابی کتابیں بھرپور توجہ سے پڑھیں۔ اس سے قبل مجھے یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ میں نے قرآن کریم کا اِبتدائی چوتھا پارہ ایک بہت بڑے استاد قاری سے حفظ کیا تھا۔ یعنی میں اپنے بڑے بھائی حافظ عبداللہ حسینؒ کے ہمراہ قاری فضل کریم ؒ کے مایہ ناز اُستاد قاری کریم بخش ؒ کا شاگرد ہوں، جو اَمرتسر میں پڑھاتے تھے، میں نے وہیں ناظرہ پڑھے بغیر حفظ کی اِبتدا کی تھی۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  8. ‏مئی 30، 2012 #8
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    اگرچہ عم محترم محدث روپڑی نے مجھے والد گرامی کی وفات کے فوراً بعد جامعہ اہل حدیث میں ان کا قائم مقام بنا دیا جس کی وجہ سے نظامت کے ساتھ ساتھ بعض کتابوں کی تدریس کی ذمہ داری بھی اٹھانی پڑی تاہم اسی دوران وقت نکال کر میں دیگر مکاتب فکر کے مشہور مدارس میںبھی پڑھتا رہا۔ علوم عالیہ کے اعلیٰ ترین حصے قرآن و حدیث کی کافی تعلیم میں نے اَپنے والد مرحوم سے حاصل کر رکھی تھی خاص طور پر ان کے اساسی ذوق اُصولِ حدیث و تفسیرکی۔ بعدازاں فقہ واصول کا جائزہ کتاب وسنت کی روشنی میں ہمیں محدث روپڑی کرواتے رہے اورصحیح بخاری بھی میں نے دوبارہ محدث روپڑی سے پڑھی اورمشکوۃ سمیت صحاح ستہ کی تکمیل بھی محدث روپڑیؒ اور مولانا محمدعبدہ فیروزپوریؒ وغیرہ سے کی۔ اِنسان جب مختلف اساتذہ سے پڑھتا ہے یادیگر حلقوں میں جاتا ہے تو اَثر ضرور قبول کرتا ہے ۔اس حوالے سے مجھ پر زیادہ شوق اس امر کا سوار ہواکہ میں آزادانہ تحقیق کروں۔ خاص طور پر مولانا رسول خان صاحب جب دورہ ٔحدیث کروا رہے تھے تو اس وقت ان کی حدیث کے ساتھ حنفی فقہ کی مطابقت کے لیے بحثیں بہت زور دار ہوا کرتی تھیں جن سے مجھے تقابلیفقہ کا ذوق پیدا ہوا ،جو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ پہنچ کر پورا ہوا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  9. ‏مئی 30، 2012 #9
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    میں اور میرے بڑے بھائی حافظ عبداللہ حسین ایک دفعہ سرگودھا گئے تو وہاں حافظ محمد ابراہیم کمیر پوریؒ سے ملاقات ہوئی وہ اہل حدیث اکابر علماء کا ذکر کرتے ہوئے ان کے امتیازات پیش کرنے لگے۔ جن میں سے مولانا داؤد غزنوی﷫، حافظ عبداللہ محدث روپڑی﷫، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی﷫، مولانا ثناء اللہ اَمرتسری﷫اور پھر ہمارے والد گرامی کا تذکرہ کیا۔ کہنے لگے کہ آپ کے والد صاحب کا اِمتیاز رسوخ فی العلم کے ساتھ ساتھ تقویٰ کا تھا۔
    واقعتا وہ بہت متقی تھے، کاروباری معاملات میں بھی ان کی احتیاط اِنتہائی زیادہ ہوتی تھی۔ ہمیں کہا کرتے تھے کہ دینی مدارس میں چونکہ زکوٰۃ و خیرات آتی ہے اس لیے اس میں سے تنخواہ لینے والااس کا پوراپورا حق اَدا کرے، ورنہ یہ انسان کی اَولاد کو تباہ کردیتی ہے۔اس بارے میں اتنی احتیاط فرماتے کہ ہم جوکھانا گھر سے لے کرجامعہ اہلحدیث میں پڑھنے جاتے تو ہمیں جامعہ کے چولہوں پر کھانا گرم کرنے کی اجازت نہ دیتے، کہتے کہ یہ چولہے زکوۃ و خیرات سے چلتے ہیں اس لیے ان پرہمیں کھانا گرم نہیں کرنا چاہئے۔
    میں جامعہ اہل حدیث میں اپنی ابتدائی تعلیم کا ذکر کر چکا ہوں کہ میرے سارے ساتھی عمر میں مجھ سے کافی بڑے تھے اس وجہ سے والد گرامی کو فکر ہوتی کہ شائد کوئی اہم شے مجھے پوری طرح سمجھ نہ آئی ہو۔ لہٰذاوہ جامع قدس سے ماڈل ٹاؤن تک بس میں آتے جاتے مجھے پڑھایاکرتے یا پڑھایا جانے والا سبق دوبارہ سمجھاتے رہتے۔ اس طرح میں ایک ہی سبق تین تین دفعہ پڑھ لیتا۔ اس دوران میں سوالات بھی کرتا تھا، کیونکہ جب انسان کو سمجھ آنے لگے تو وہ سوال زیادہ کرنے لگتا ہے۔ کلاس میں بھی کوئی الجھاؤ والی بحث ہوتی تو میں اس میں کوئی نہ کوئی اعتراض پیش کردیتا۔ بسااَوقات والد گرامی حوصلہ افزائی فرماتے کہ عبدالرحمن کے سوال میں وزن ہے۔ جس سے میں مغالطے کا شکار ہوگیاکہ میں کوئی بڑی شے ہوں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  10. ‏مئی 30، 2012 #10
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    پھر اللہ تعالیٰ نے اس مغالطے کے ازالہ کیلئے اس طرح مجھے ہدایت فرمائی کہ اس بارے میں حافظ عبداللہ محدث امرتسری روپڑی﷫ نے بہت اَچھے طریقے سے میری تربیت کی۔ اُنہیں میرے عنفوان شباب کے تعلّی آمیز روّیوں سے محسوس ہوا کہ میں اپنے بارے میں عالم وفاضل ہونے کا مغالطہ رکھتا ہوں تو وہ میری اِصلاح کیلئے کوشاں ہوئے۔ (اسکاذکرآگے آرہاہے) اللہ تعالیٰ مجھے معاف کرے اور ان کی مغفرت فرمائے۔ آمین
    میں ذکر کر چکا ہوں کہ میں نے بخاری شریف اپنے والد گرامی سے پڑھنے کے بعددوبارہ حافظ عبداللہ محدث امرتسری روپڑی﷫سے بالاستیعاب پڑھی۔ دونوں بزرگوں کا الگ الگ اسلوب تھا۔والد گرامی کو صحیح بخاری کے پہلے چھ پارے زبانی حفظ تھے جبکہ مجھے پڑھاتے ہوئے وہ امام بخاریؒ کے منہج تصنیف اور اُسلوب ِ استدلال پر زیادہ زور دیتے کہ اِمام بخاری﷫ کس پائے کے مجتہد عالم ہیں۔ اسی اجتہادی اور اصولی شوق کے پیش نظر بعد ازاں میں نے اپنی Ph.D کے لیے ’’أصول الاجتہاد في الجامع الصحیح للإمام البخاریؒ‘‘ موضوع چنااور اپنے ڈاکٹریٹ کے مذکورہ بالامقالہ کی تیاری میں مجھے اپنے شیخین مرحومین کے اس دور کی راہنمائی بہت کام آتی رہی ۔
    میں نے جب محدث روپڑی سے بخاری پڑھی تومیرے ساتھیوں میں دور حاضر کے کئی اکابر اہل علم اور مبلغ شامل تھے۔ جن میں حافظ ثناء اللہ مدنی، مولانا عبدالسلام کیلانی اور سید حبیب الرحمن شاہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ محدث روپڑی﷫ کادھیما مزاج تھا اور وہ ڈانٹتے بالکل نہیں تھے۔ عام طور پر ہم ساری کلاس کے بیس،پچیس ساتھیوں کے علاوہ بعض اجل مشہور علماء ان کے درس میں آکر بیٹھ جاتے۔ ایک دفعہ کاواقعہ ہے کہ محدث روپڑی کے پرانے شاگرد علامہ محمد یوسف کلکتوی ہمارے بخاری کے درس میں آبیٹھے تو قرآن مجید کی قرآء توں پربحث شروع ہوگئی، کیونکہ علامہ صاحب نے دینی جرائد میں اشتہار دے رکھا تھاکہ جو شخص ’أنزل القرآن علی سبعة أحرف‘ (صحیح بخاری:)کی صحیح تشریح کر دے اس کو میں پانچ سو روپے (آج کے لاکھوں برابر) انعام دوں گا۔ اس بحث میں ہم طلبہ نے بھی دلچسپی لی اور سوال وجواب سے کافی ذہن کھلا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں