1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حالت قومہ میں ہاتھ کھلے رکھنے اور باندھنے کے متعلق وضاحت

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از Dua, ‏مئی 21، 2014۔

  1. ‏مئی 21، 2014 #1
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔
    مؤلف : اقبال کیلانی
    کتاب: نماز کے مسائل
    حالت قومہ میں ہاتھ کھلے رکھنے یا باندھنے کے متعلق کسی حدیث سے وضاحت سے وضاحت نہیں ملتی ، لہذا دونوں طرح درست ہے۔
    حافظ عمران الٰہی بھائی ، اوپر بیان کیا گیا مسئلہ میں نے اس کتاب میں پڑھا تھا۔اس بحث سے متعلق ایک تھریڈ لگایا تھا آپ نے ، تلاش کے باوجود مجھے وہ لنک نہیں ملا۔اس لیے اس مسئلے پر قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت کر دیں۔
     
  2. ‏مئی 21، 2014 #2
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ​
    حالت قومہ میں ہاتھ کھلے چھوڑ دینا ہی راجح عمل ہے اور اس مسئلے پر ایک سوال کے جواب میں "ماہنامہ ضیائے حدیث مئی 2014" میں مفتی صاحب نے زبردست گفتگو کی ہے۔ وہ گفتگو آپ سے شئیر کی جاتی ہے۔​
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
     
    • پسند پسند x 3
    • علمی علمی x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏مئی 22، 2014 #3
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    غالبا اس دھاگے میں خضر حیات بھائی نے بھی شرکت کی تھی، مجھے وہ لنک چاہیئے۔
    برائے مہربانی خضر بھائی۔
     
  4. ‏مئی 22، 2014 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,212
    موصول شکریہ جات:
    8,204
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  5. ‏مئی 24، 2014 #5
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اس مسئلہ میں بعض علماے کرام کو غلط فہمی ہوئی ہے ،ورنہ سیدنا وائل بن حجرؓ کی روایت سے رکوع کے بعد دوبارہ ہاتھوں کا با ندھنا ثابت نہیں ہوتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ مسئلہ ایک اجتہادی نوعیت کا مسئلہ ہے ،جسے سیدنا وائل بن حجرؓ کی روایت سے کشید کیا گیا ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی روایت میں رکوع کے بعد دوبارہ ہاتھ باندھنے کا مسئلہ ذکر نہیں ہوا ہے اور نہ ہی صحابہ کرامؓ، تابعین اور تبع تابعین کے دور میں اس مسئلہ کا کوئی سُراغ ملتا ہے ،دراصل اس مسئلہ میں حد درجہ دلچسپی لینے سے یہ مسئلہ معرضِ وجود میں آیا ہے ،ورنہ قرآن و حدیث اور آثار میں دور دور تک اس مسئلہ کا سُراغ نہیں ملتا ۔ واللہ علم بالصواب
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏مئی 24، 2014 #6
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    نماز میں رکوع کے بعد ہاتھوں کو دوبارہ باندھ لیا جائے یا اُنہیں اپنی اصل فطری حالت پر چھوڑ دیا جائے؟ جمہور علماے اہل حدیث رکوع کے بعد ہاتھوں کو دوبارہ باندھنے کے قائل نہیں ہیں ،جبکہ بعض علماے اہلِ حدیث رکوع کے بعد ہاتھوں کو دوبارہ باندھنے کے قائل ہیں۔ قائلین میں استادِ محترم علاّمہ سید بدیع الدین شاہ راشدی ؒ ہیں،آپ نے ا س سلسلہ میں کچھ رسائل بھی لکھے ہیں، اسی طرح دوسرے علما میں سے شیخ مفتی اعظم علامہ عبد العزیز بن بازؒ ہیں، دوسرے گروہ میں کچھ علماے اہلِ حدیث نے ہاتھوں کو دوبارہ باندھنے کے رد میں کچھ رسائل لکھے ہیں جن میں شاہ صاحب کے بڑے بھائی استادِ محترم شیخ علامہ سید محب اﷲ شاہ راشدی ؒ ہیں۔آپ نے اس مسئلہ کے ردّ میں کئی رسائل تحریر فرما ئے ہیں، علاوہ ازیں اس مسئلہ کے رد میں لکھنے والوں میں شاہ صاحب کے استادِ محترم علامہ حافظ عبداللہ محدث روپڑی ؒ (متوفی۱۳۸۳ھ)، محترم شیخ پروفیسر عبداللہ بہاولپوریؒ، محترم ابو عمّار محمد ایوب بن عبدالغفار ﷾ ساکن حیدرآباد سندھ، محترم قاری خلیل الرحمٰن جاوید﷾ ، شیخ عبدالقادر حصاری،شیخ عبدالمنان نور پوری ، اور شیخ خواجہ قاسم وغیرہ ہیں۔ علامہ ناصر الدین ا لبانی ؒ نے رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کے عمل کو غیر ثابت قرار دے کر اس کی مخالفت کی ہے اور جمہور علماےاہلِ حدیث کا عمل بھی رکوع کے بعد ارسال الیدین ہی ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  7. ‏مئی 24، 2014 #7
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    257
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77


    امام احمد رحمہ اللہ کے اس قول کا اصل حوالہ مل سکتا ھے؟
    براہ کرم مہربانی ھوگی.
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏مئی 24، 2014 #8
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    257
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    معذرت.
    حوالہ موجود ھے.
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏مئی 24، 2014 #9
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    جناب عالی !آپ کس قول کا حوالہ طلب فرما رہے ہیں؟
     
  10. ‏مئی 24، 2014 #10
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    257
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77


    محترمی ومکرمی
    وہ موجود ھے اسی مضمون میں.
    ان شاء ارسل....الخ والا.
    جزاک اللہ.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں