1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حجاب اور مغرب

'اصلاح خواتین' میں موضوعات آغاز کردہ از بنتِ تسنيم, ‏نومبر 12، 2018۔

  1. ‏نومبر 12، 2018 #1
    بنتِ تسنيم

    بنتِ تسنيم رکن
    جگہ:
    کوہ قاف
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2017
    پیغامات:
    269
    موصول شکریہ جات:
    33
    تمغے کے پوائنٹ:
    55

    حجاب اور مغرب

    ڈاکٹر ایمن الظواہری سے پوچھا گیا "ایسا کیوں ہے کہ مغرب حجاب کے معاملہ پر اتنا مشتعل ہوتا ہے؟"

    انہوں نے جواب دیا:
    "مغربی تہذیب و تمدن زوال پذیر ہے. یہ ایک بے ننگ و ناموس معاشرہ ہے جو ہر طرح کی اقدار، اخلاقی ضوابط اور مذھب سے محروم ہے. کیا یہ ایک ایڈز زدہ تہذیب نہیں ہے؟ یہی وجہ ہے کہ جب ایک مسلم خاتون حجاب کی پابندی کرتی ہے، وہ ان تمام خرابیوں کو بے نقاب کرتی ہے اور یہ بات فاش کرتی ہے کہ کیسے مغربی معاشرہ عورت سے فائدہ اٹھاتا ہے، گاہک کی توجہ اور اپنی پروڈکٹ کی تشھیر کے لیے عورت کو شے بناتا ہے. حجابی مسلمہ یہ بات واضح کرتی ہے کہ انکا سرمایہ دارانہ نظام اپنی شہوت پرستی کی تمام تر شکلوں اور قِسموں کی تجارت کے حوالے سے کس قدر گھٹیا ہے جو ان کا سب سے اہم ذریعہ آمدنی ہے. حجابی مسلمہ ان کی آزادی کا فریب فاش کرتی ہے؛ ان کے لیے کسی عورت کا اپنا جسم دکھانا اور حتی کہ اس سے بڑھ کر جسم فروشی کوئی مسئلہ نہیں، لیکن وہ ایک مسلمان عورت کا پردہ برداشت نہیں کر سکتے.

    حجاب کی پابند مسلمان عورت، عیسائی مغرب کے خوف عیاں کرتی ہے کہ مسلمان اپنے مذھبی عقائد کی پابندی کرتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ماضی میں اپنے مذھبی عقائد کو چھوڑ دینے پر ہی مسلمانوں نے شکست کھائی تھی. یہی وجہ ہے کہ اپنے مذھبی اصولوں پر عمل پیرا ہونے میں حجاب کا معاملہ بالکل واضح نظر آتا ہے جو مغرب کے وجود، معیشت اور دنیا پر حکمرانی کو سنگین خطرہ ہے."
     
  2. ‏نومبر 12، 2018 #2
    بنتِ تسنيم

    بنتِ تسنيم رکن
    جگہ:
    کوہ قاف
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2017
    پیغامات:
    269
    موصول شکریہ جات:
    33
    تمغے کے پوائنٹ:
    55

    میں دنیا بھر کی مسلمان خواتین کے لیے میرا یہ پیغام ہے؛

    "میں انہیں اسلام کے تمام احکامات پر عمل پیرا ہونے کی دعوت دیتی ہوں، ان احکامات کی پابندی میں ہی دنیاوی زندگی کا سکون اور آخروی کامیابی ہے. خاص طور پر، پردہ کے احکام پر عمل پیرا ہونا، یہ نشانی ہے کہ ایک پردہ دار مسلمان خاتون اپنے ربّ کی عبادت کرتی یے، اسکے احکامات کی فرمانبرداری کرتی اور شیطانی راہوں سے خود کو بچاتی ہے.

    میری مسلم بہنو! آپ سب جانتی ہیں کہ پردہ کے خلاف تحریکیں سرگرم ہونا، معرکہء اسلام و کفر میں سے ایک سخت ترین جنگ ہے. کیونکہ یہ ظالم مجرمان چاہتے ہیں کہ ایک مسلمان خاتون اپنے مذہب سے دور ہو جائے. اور سب سے قابلِ غور بات یہ ہے کہ ایک نوحہ گراں خاتون خود کو بہت جلد بے پردہ کر دیتی ہے.

    پس، اگر کسی بھی خاتون نے پردہ کے احکامات کو پسِ پشت ڈالا تو یہ دین کے باقی احکامات کو چھوڑ دینے کا پیش خیمہ ہو گا.

    مسلم خاتون کو یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہیے کہ مغرب آپکو صرف ایک تجارتی مال سمجھتا ہے اسی لیے آپکے مذھبی شعائر پر حملہ آور ہے.

    پردہ، ایک مسلم خاتون کے اسلام، اسکی پارسائی، عفت و پاکیزگی کی اولین علامت ہے.

    مغربی ملحدین چاہتے ہیں کہ آپ پردہ کو چھوڑ دیں. کیونکہ آپکا پردہ کرنا انکے اخلاقی زوال کا سبب بنتا ہے اور پردہ انکے معاشرتی انحطاط پر کاری ضرب لگاتا ہے.

    جب سے کافر مغرب نے عورت کو مالی جنس سمجھتے ہوئے اسکی تجارت شروع کی ہے، تو اسکی عزت و آبرو محفوظ نہیں ہے، بلکہ عورت انکے فسق و فجور اور فحاشی کے کاروبار کا ایک ذریعہ بن چکی ہے.
    انکی معصیت سے ہم اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں.

    جبکہ ایک پردہ دار خاتون گھر کے اندر اور گھر سے باہر بھی محفوظ اور باعزت ہے. وہ ایک چھپا ہوا ہیرا اور قیمتی موتی کی مانند ہے.

    یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿الأحزاب ۵۹﴾
    "اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتیں سے کہہ دو کہ وه اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی پھر نہ ستائی جائیں گی، اور اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے"


    اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے ہوئے ازواج، بیٹیوں اور مومن عورتوں کو پردہ کا حکم دے رہے ہیں.
    پس میری ایمان والی بہنو! ہمیں پردہ کے شرعی حکم کی پاسداری کرنا ہے. یہی ہماری دنیوی و آخروی زندگی کے لیے سراسر بھلائی ہے.


    ( مسلم خواتین کو پیغام، امائمہ ایمن الظواہری حفظھم اللہ )
     
  3. ‏نومبر 12، 2018 #3
    بنتِ تسنيم

    بنتِ تسنيم رکن
    جگہ:
    کوہ قاف
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2017
    پیغامات:
    269
    موصول شکریہ جات:
    33
    تمغے کے پوائنٹ:
    55

    IMG_20181112_141831_019.jpg
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں