1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حجاج اور اعرابی کی راز کی بات ؟

'طنز ومزاح' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو حسن, ‏اپریل 12، 2018۔

  1. ‏اپریل 12، 2018 #1
    ابو حسن

    ابو حسن رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 09، 2018
    پیغامات:
    146
    موصول شکریہ جات:
    17
    تمغے کے پوائنٹ:
    57


    حجاج بن یوسف ایک دن اپنے لشکر سے الگ ہوگیا اور ایک اعرابی (دیہاتی) سے ملا اور کہا

    حجاج: اے معزز عرب! حجاج کیسا ہے ؟

    اعرابی: ظالم ہے غاصب ہے

    حجاج: پھر تم عبدالملک ( خلیفہ) کے پاس اسکی شکایت کیوں نہیں کرتے ؟

    اعرابی: اللہ اس پر لعنت کرے وہ اس سے بھی بڑا ظالم ہے اور غاصب ہے

    اتنے میں حجاج کا لشکر آپہنچا تو حجاج نے حکم دیا کہ اس بدوی کو بھی سوار کرلو

    انہوں نے سوار کرلیا، اعرابی نے لشکر والوں سے پوچھا یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا حجاج

    اعرابی نے یہ سن کر حجاج کے پیچھے گھوڑا دوڑایا اور آواز دی اے حجاج!

    حجاج: کیا ہے ؟

    اعرابی: دیکھنا وہ جو ہمارے اور تمہارے درمیان ایک راز کی بات ہوئی تھی وہ کسی سے کہہ نہ دیجیے گا

    اس پر حجاج ہنس پڑا اور اعرابی کوچھوڑ دیا
     
    Last edited: ‏اپریل 12، 2018
  2. ‏اپریل 12، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہ واقعہ ابن عبد ربہ نے "العقد الفرید " میں نقل کیا ہے :
    "خرج الحجاج متصيدا بالمدينة، فوقف على أعرابي يرعى إبلا له، فقال له: يا أعرابي، كيف رأيت سيرة أميركم الحجاج؟ قال له الأعرابي: غشوم ظلوم! لا حيّاه الله! فقال: فلم لا شكوتموه إلى أمير المؤمنين عبد الملك؟ قال: فأظلم وأغشم! فبينا هو كذلك إذ أحاطت به الخيل، فأومأ الحجاج إلى الأعرابي، فأخذ وحمل؛ فلما صار معه قال: من هذا؟ قالوا له: الحجاج! فحرك دابته حتى صار بالقرب منه، ثم ناداه: يا حجاج! قال: ما تشاء يا أعرابي؟ قال: السر الذي بيني وبينك أحب أن يكون مكتوما! قال: فضحك الحجاج وأمر بتخلية سبيله "

    ترجمہ :
    حجاج بن یوسف ایک دن شکار کیلئے شہر سے باہر گیا اور اونٹ چراتے ایک اعرابی (دیہاتی) سے ملا اور کہا
    حجاج: اے معزز عرب! حجاج کیسا ہے ؟
    اعرابی: ظالم ہے غاصب ہے
    حجاج: پھر تم عبدالملک ( خلیفہ) کے پاس اسکی شکایت کیوں نہیں کرتے ؟
    اعرابی: وہ اس سے بھی بڑا ظالم ہے اور غاصب ہے
    اتنے میں حجاج کا لشکر آپہنچا تو حجاج نے حکم دیا کہ اس بدوی کو بھی سوار کرلو
    انہوں نے سوار کرلیا، اعرابی نے لشکر والوں سے پوچھا یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا حجاج
    اعرابی نے یہ سن کر حجاج کے پیچھے گھوڑا دوڑایا اور آواز دی اے حجاج!
    حجاج: کیا ہے ؟
    اعرابی: دیکھنا وہ جو ہمارے اور تمہارے درمیان ایک راز کی بات ہوئی تھی وہ کسی سے کہہ نہ دیجیے گا
    اس پر حجاج ہنس پڑا اور اعرابی کوچھوڑ دیا ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  3. ‏اپریل 12، 2018 #3
    ابو حسن

    ابو حسن رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 09، 2018
    پیغامات:
    146
    موصول شکریہ جات:
    17
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    یہ واقعہ
    ابن جوزی رحمہ اللہ
    نے "
    کتاب الاذکیا
    ء
    " میں نقل کیا ہے
     
  4. ‏اپریل 13، 2018 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اسی سے ملتا جلتا اور واقعہ بھی سناتھا، جب اس بوڑھے کو پتہ چلاکہ یہ حجاج ہے ، تو کہنے لگا: میں لوگوں کے ہاں دیوانہ مشہور ہوں۔
    یعنی میری بات کو سنجیدہ نہ لیا جائے ۔ ابتسامہ ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں