1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حجاج بن یوسف رحمہ اللہ خدمات کا مختصر تعارف

'تذکرہ مشاہیر' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد فیض الابرار, ‏نومبر 14، 2015۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏جنوری 25، 2016 #151
    ابو حمزہ

    ابو حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 10، 2013
    پیغامات:
    383
    موصول شکریہ جات:
    139
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    امام بیہقی کی روایت کئ خلاف یہ روایت اس سے زیادہ صحیح ہے
    امام ابن سعد المتوفی 230ہجری نے یزید بن ہارون سے روایت کرتے ہیں
    أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَيَّاشٌ الْعَامِرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: لَمَّا أَصَابَ ابْنَ عُمَرَ الْخَبْلُ الَّذِي أَصَابَهُ بِمَكَّةَ، فَرُمِيَ حَتَّى أَصَابَ الأَرْضَ، فَخَافَ أَنْ يَمْنَعَهُ الأَلَمُ، فَقَالَ: " يَا ابْنَ أُمِّ الدَّهْمَاءِ اقْضِ بِيَ الْمَنَاسِكَ "، فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ بَلَغَ الْحَجَّاجَ، فَأَتَاهُ يَعُودُهُ، فَجَعَلَ يَقُولُ: لَوْ أَعْلَمُ مَنْ أَصَابَكَ لَفَعَلْتُ وَفَعَلْتُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ عَلَيْهِ، قَالَ: " أَنْتَ أَصَبْتَنِي حَمَلْتَ السِّلاحَ فِي يَوْمٍ لا يُحْمَلُ فِيهِ السِّلاحُ "، فَلَمَّا خَرَجَ الْحَجَّاجُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " مَا آسَى مِنَ الدُّنْيَا إِلا عَلَى ثَلاثٍ: ظِمَأِ الْهَوَاجِرِ، وَمُكَابَدَةِ اللَّيْلِ، وَأَلا أَكُونَ قَاتَلْتُ هَذِهِ الْفِئَةَ الْبَاغِيَةَ الَّتِي حَلَّتْ بِنَا
    تمام روات ثقہ و ثبت ہیں

    امام ذہبی سیار الاعلام میں سیدنا ابن عمر رضہ کے ترجمہ میں نقل کرتے ہیں

    فقال روح بن عبادة: حدثنا العوام بن حوشب، عن عياش العامري، عن سعيد بن جبير، قال: لما احتضر ابن عمر، قال: ما آسى على شيء من الدنيا إلا على ثلاث، ظمأ الهواجر، ومكابدة الليل، وأني لم أقاتل الفئة الباغية التي نزلت بنا، يعني الحجاج

    روح بن عبادہ ثقہ و مصنف کتب ہیں

    اس حدیث کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سیدنا ابن عمر رضہ کی وفات وقت کی ہے یعنی آپ رضہ وفات وقت یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ حجاج والے ہی باغی ہیں۔۔۔اس پہلے آپ نے کیا کہا اس کو حجت نہیں مانا جائے گا۔۔ امام بیہقی کی روایت سے یہ روایت زیادہ قوی ہے۔۔

    اور یہ صحیح بھی ہے کہ کیوں کہ مروان بن الحکم نے امیر المومنین ابن زبیر رضہ سے بغاوت کی تھی اور شام میں رھط کے مقام پر ابن زبیر رضہ کے گورنر ضحاک سے جنگ کی اور انہیں شہید کیا اس کے علاوہ سیدنا نعمان بن بشیر رضہ ابن زبیر رضہ کے گورنر حمص کو قتل کرہ حمص پر قبضہ کیا اور یہ ان بہت سے صحابہ میں سے پہلے ہیں جنہیں بنو مروان نے قتل کیا۔

    میں صرف حافظ امام ذہبی کے ہی قول پر اکتفا کرتا ہوں

    [FONT=Arial, sans-serif]تاریخ السلام عبداللہ بن زبیر رضہ [/FONT]​
    بُوِيعَ بِالْخِلافَةِ فِي سَنَةِ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ، وَحَكَمَ عَلَى الْحِجَازِ، وَالْيَمَنِ، وَمِصْرَ، وَالْعِرَاقِ، وَخُرَاسَانَ، وَأَكْثَرِ الشَّامِ
    فَوَلَّى عَلَى الْمَدِينَةِ أَخَاهُ مُصْعَبًا، وَعَلَى الْبَصْرَةِ الْحَارِثَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، وَعَلَى الْكُوفَةِ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُطِيعٍ، وَعَلَى مِصْرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جَحْدَمٍ الْفِهْرِيَّ، وَعَلَى الْيَمَنِ آخَرَ، وَعَلَى خُرَاسَانَ آخَرَ، وَأَمَّرَ عَلَى الشَّامِ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ، فَبَايَعَ لَهُ عَامَّةُ الشَّامِ، وأطاعه النّاس
    پھر معرکہ مرج میں ضحاک کے قتل کے بعد زہبی لکھتے ہیں
    قُلْتُ: ثُمَّ قَوِيَ أَمْرُ مَرْوَانَ، وَقُتِلَ الضَّحَّاكُ، وَبَايَعَهُ أَهْلُ الشَّامِ، وَسَارَ فِي جُيُوشِهِ إِلَى مِصْرَ فَأَخَذَهَا

    ۔چناچہ بنو مرون کی حکومت امیر المومنین سیدنا ابن زبیر رضہ کے شہادت کے بعد ہی ہوگی۔

     
  2. ‏فروری 28، 2016 #152
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,036
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

  3. ‏فروری 28، 2016 #153
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,036
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    اس لنک میں اس حوالے سے کچھ مفید تحقیقی پہلو ہیں ملاحظہ کیے جائیں
     
  4. ‏فروری 28، 2016 #154
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,387
    موصول شکریہ جات:
    715
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جزاك الله خيرا
     
  5. ‏مئی 31، 2016 #155
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    جناب
    آپ نے لکھا کہ"حدیث عمار رضی اللہ عنہ میں فئۃ باغیۃ کا مصداق نہ تو علی رضی اللہ عنہ کا گروہ ہے اور نہ ہی امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا گروہ کیونکہ ان لوگوں نے کسی کی بیعت کرکے ان کی بیعت نہیں توڑی ہے ۔

    البتہ عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین یہ پہلے عثمان رضی اللہ عنہ کی بیعت کرچکے ہیں اور بعد میں ان کی بیعت توڑدی حتی کہ عثمان رضی اللہ عنہ قتل بھی کردیا بعد میں یہ لوگ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل گئے اس لئے یہی لوگ حدیث میں مذکور فئۃ باغیہ کے مصداق ہیں ۔یہی لوگ جہنم کی طرف بلانے والے تھے"
    اس کا مطلب وہ جس گروہ میں شامل وہ باغی ہو گیا یعنی علی رضی اللہ عنہ کا گروہ باغی نعوذ باللہ اس پر میں آئمہ اہل سنت کے اقوال تو بعد میں پیش کروں گا مگر پہلے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ روایت موجود ہے کہ" انہوں جنگ صفین کے موقعہ پر فرمایا کہ ہم اہل حق ہے اور اپنی بھائیوں کو حق پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔(مصنف ابن ابی شیبہ)
    تو حدیث کو راوی حدیث سے ذیادہ کون جانتا ہے اور آئمہ اہل سنت کا اس پر اجماع ہے کہ علی حق پر تھے اور معاویہ رضی اللہ عنہ سے خطاہوئی اور وہ باغی تھے۔
    دوسری بات آپ نے جو یہ لکھا

    اس امت کے معاملات میں سے کسی معاملہ پرمجھے اتناافسوس نہیں ہواجنتااس بات پرافسوس ہوا کہ میں نے اس باغی جماعت سے قتال کیوں نہیں کیا۔جیساکہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔حسین بن القطان نے مزید بیان کیا کہ :حمزہ نے کہا: ہم نے عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے پوچھا

    محمد بن یحیی بن إسماعیل
    اس راوی کی وجہ سے یہ روایت کمزور ہے۔

    اللہ سب کو ہدایت دے
     
  6. ‏مئی 31، 2016 #156
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    725
    موصول شکریہ جات:
    135
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    کیا یزید، حجاج اور ان جیسوں کی تعریف اور دفاع سلف صالحین سے بھی ثابت ہے جن کا زمانہ قریب ہے ان افراد سے. حیرت ہے جن کو خیرالقرون نے ظالم یا فاسق قرار دے دیا ان کا دفاع ہمارے زمانے کے علماء کررہے ہیں
     
  7. ‏مئی 31، 2016 #157
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    725
    موصول شکریہ جات:
    135
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    اگر ہمارے اسلاف میں سے کسی نے ان حضرات کی توثیق کی ہے تو براہ کرم نقل فرمائیں. کسی فرد کے متعلق رائے ان کے مجموعی اعمال کو دیکھ کر قائم کی جاتی ہے.ضروری نہی ایک فاسق شخص نے کبھی کوئی نیک کام کیا ہی نہ ہو
     
  8. ‏مئی 31، 2016 #158
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    725
    موصول شکریہ جات:
    135
    تمغے کے پوائنٹ:
    104

    اور ان افراد کا ذکر کرنے کا فائدہ کیا ہے؟
     
  9. ‏مئی 31، 2016 #159
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    ان بدترین ظالموں اور فاسقوں کی تعظیم سلف سے ہرگز ثابت نہیں ہے؛ ان کے ظلم و فسق پر سلف متفق ہیں ـ

    Sent from my SM-E700F using Tapatalk
     
  10. ‏مئی 31، 2016 #160
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    ہماری اسلامی تاریخ کا ایک افسوس ناک پہلو یہ رہا ہے کہ اس کو ترتیب دینے والے زیادہ تر مورخ وہ تھے جو خاندان بنو امیہ سے حد درجہ نفرت و عداوت رکھتے تھے (یعنی عبد الله سبا کے حواری) - اور عرب مورخوں کی نسبت ہمیشہ ان کذاب راویوں کا پلڑا بھری رہا- نتیجہ یہ نکلا کہ اہل سنّت کی اکثریت کی محبّت و تعظیم بھی اہل بیت کی حد تک محدود ہو کر رہ گئی- اب ظاہر ہے کہ جو لوگ بھی بنو ہاشم کے مقابل آئے چاہے وہ کسی اجتہادی نظریہ کے تحت مقابل ہوے - وہ ہمارے علماء کے نزدیک ظالم و فاسق ٹہرے - (چاہے وہ امیر معاویہ رضی الله عنہ ہوں یا ام المومنین حضرت عائشہ رضی الله عنھما ہوں) ان پاک ہستیوں پر بھی ان رافضی نما علما ء کے لئے غاصب و فاسق کا الزام لگانا آسان ہو گیا- -تو ان سے کم تر درجے کے لوگ تو پھر کسی کھیت کی مولی نہیں-
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں