1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حجراسود اور سیدناعمر رضی الله عنہ کی دعوت توحید

'عقیدہ اہل سنت والجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از اسحاق سلفی, ‏ستمبر 14، 2018۔

  1. ‏ستمبر 14، 2018 #1
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,311
    موصول شکریہ جات:
    2,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    حجراسود اور حضرت عمر رضی الله عنہ کی دعوت توحید

    ((انّ عمر بن الخطّاب رضی اللہ عنہ قال للرّکن؛ أما واللّٰہ انّی لأعلم أنک حجر، لا تضرّ ولا تنفع ، ولولا أنی رأیت رسول اللّٰہ صلّی اللہ علیہ وسلم استلمک ما استلمک، فاستلمہ، ثمّ قال؛ ما لنا و للرّمل ؟انّما کنّا راءینا المشرکین ، وقد أھلکھم اللّٰہ، ثمّ قال ؛ شییٔ صنعہ النّبیّ صلی اللہ علیہ وسلم، فلا نحبّ أن نّترکہ.))

    سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رکن (حجرِ اسود) سے مخاطب ہو کر فرمایا، یقیناً میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے ، نفع و نقصان کا مالک نہیں، اگر میں نے نبی کریم ﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو کبھی تجھے بوسہ نہ دیتا، پھر آپ نے اس کو بوسہ دیا، پھر فرمایا، ہمیں رمل سے کیا واسطہ تھا، ہم تو صرف مشرکین کو دکھانے کےلئے ایسا کرتے تھے ، اللہ نے ان کو ہلاک کردیا ہے ، پھر فرمایا، یہ ایسا کام ہے جسے نبیٔ کریم ﷺ نے کیا ہے، لہٰذاہم اسے چھوڑنا پسند نہیں کرتے۔
    (صحیح بخاری: ۱۶۰۵، صحیح مسلم: ۱۲۷۰)

    ٭ حجرِ اسود کی فضیلت کا ثبوت ہے ، نبیٔ کریم ﷺ نے فرمایا:
    ((الحجر الأسود من الجنّۃ، وکان أشد بیاضا من الثّلج، حتی سوّدتہ خطایا أھل الشّرک.))
    حجر اسود جنت سےآیا ہے ، یہ برف سے زیادہ سفید تھا، مشرکین کے گناہوں نے اسے سیاہ کردیا ہے ۔ (مسند الامام أحمد: ۳۰۷/۱ ، وسندہ حسن)

    نیز فرمایا:
    ((لولا ما مسّہ من أنجاس الجاھلیّۃ ما مسّہ ذو عاھۃ الا شفیٰ وما علی الارض شییٔ من الجنّۃ غیرھا))
    اگر اسے جاہلیت کی نجاستیں نہ لگی ہوتیں تو جو بھی مصیبت زدہ اسے چھوتا ، نجات پاتا، نیز اس کے علاوہ جنت کی کوئی چیز روئے زمین پر موجود نہیں۔ (السّنن الکبریٰ للبیہقی: ۷۵/۵، وسندہٗ صحیح)

    اور فرمایا:​
    ((لیبعثنّ اللّٰہ الحجر یوم القیامۃ، لہ عینان یبصر بھما ولسان ینطق بہ و یشھد علی من استلمہ بحقّ))
    اللہ تعالیٰ حجرِ اسود کو روزِ قیامت یوں اٹھائے گا کہ اس کی دیکھی دو آنکھیں اور بولتی زبان ہوگی، وہ اپنے چومنے والے مسلمان کے حق میں گواہی دے گا۔ (مسندالامام أحمد: ۳۰۷/۱، وسندہٗ حسن)​

    ٭ اللہ اکبر کہہ کر (صحیح بخاری : ۱۶۱۳) طواف میں حجرِ اسود کو بوسہ دیناسنت اور مستحب ہے۔
    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجرِ اسود کو بوسہ دیا اور اس سے چمٹ گئے اور کہا، میں نے دیکھا کہ نبیٔ کریم ﷺ تجھے بہت چاہتے تھے۔ (صحیح مسلم: ۱۲۷۱)
    فائدہ : ایک روایت میں ہے :
    وھو یمین اللّٰہ الّتی یصافح بھا خلقہ.
    یہ زمین میں اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے مصافحہ کرتا ہے ۔
    (مسند الامام أحمد: ۲۱۱/۲، عن عبداللہ بن عمرو، صحّحہ ابن خزیمہ: (۲۷۳۷) و الحاکم (۴۵۷/۱))

    یہ سند ضعیف ہے ، اس میں عبداللہ بن المومل راوی ضعیف الحدیث ہے ۔ (التقریب: ۳۶۴۸)

    اس کی دوسری سند (تاریخ بغداد : ۲۳۸/۶، الکامل لابن عدی : ۳۴۲/۱) موضوع (من گھڑت) ہے ، اس میں اسحاق بن بشیر کذاب ہے ۔

    سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:​
    الحجر الأسود یمین اللّٰہ فی الأرض.
    حجرِ اسود زمین میں اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے ۔ (غریب الحدیث لابن قتیبہ: ۹۶/۲ ، تاریخ مکۃ للأزرقی: ۳۲۴/۱، قال ابن حجر: ھذا موقوف صحیح (المطالب العالیۃ: ۳۷/۲) یہ قول جمیع سندوں کے ساتھ ضعیف ہے۔​

    ٭ بوسہ صرف حجرِ اسود کے لئے مشروع ہے ۔

    ٭ پتھر نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

    فائدہ : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا :
    یا أمیر المؤمنین انّہ یضرّ و ینفع.
    اے امیر المؤمنین! یہ نفع و نقصان دیتا ہے ۔
    (مستدرک الحاکم : ۴۵۷/۱ ۴۵۸، شعب الایمان للبیہقی: ۳۷۴۹)
    یہ موضوع (من گھڑت) روایت ہے ، اس میں ابو ہارون العبدی راوی کذاب ہے

    ٭ حجرِ اسود کو بوسہ اس کی تعظیم کی بنا پر نہیں، بلکہ اتباعِ سنت کی بنا پر دیا جاتا ہے۔
    (منقول )​
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں