1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حجیت حدیث پر ایک شاندار ، عالمانہ و محققانہ خطاب

'حجیت حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از حافظ محمد ظہیر, ‏جولائی 08، 2015۔

  1. ‏جولائی 08، 2015 #1
    حافظ محمد ظہیر

    حافظ محمد ظہیر مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 08، 2015
    پیغامات:
    12
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    خطاب : شیخ الحدیث مولانا محمد رمضان سلفی حفظہ اللہ تعالی
    تحریر :حافظ محمد ظہیر
    مقام : جامعہ لاہور الاسلامیہ ، نیوگارڈن ٹاؤن ، لاہور
    مناسبت : تقریب تکمیل صحیح بخاری 2013ء ۔​
    بسم الله الرحمٰن الرحيم​
    نحمد ه ونصلئ ونسلم علئ رسوله الكريم اما بعد :فاعوذ باالله من الشيطٰن الرجيم من همز ه ونفخه ونفثه (واعتصمو بحبل الله جميعاً ولا تفرّقو ا)
    ‘‘امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحيح بخاری میں ایک عنوان قائم کیا ہے ’کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ‘اور یہ عنوان انہوں نے قرآن کریم کی اس آیت سے اخذ کیا ہے’’واعتصموا بحبل اللہ جمیعًاوَّلاتفرّقُوا‘‘کہ اے لوگوں اللہ تعالیٰ عزوجل کی رسی کومضبوطی سےتھام لو‘‘امام بخاری نے اس بیان میں اس موضوع میں محدثین اور اھلحدیث کا مسلک واضح کیا ہے کہ محدثین اور ان کے نقش پر چلنے والے اھلحدیث ان کا نصاب‘ ان کا منہج‘ اللہ تعالیٰ کا قرآن اورنبی پاک حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اجماع کا دارومدار بھی کسی نہ کسی نص پر ہوتا ہے اور قیاس بھی جب علت منصوص ہویا بدیہی ہو پھر قیاس کیا جاتا ہے گویا اصل دارو مدارکتاب وسنت پر ہے اور آپ نے احادیث اورسنت رسولﷺ کے حجت شرعیہ ہونے کےبہت سے مقالے اور مضامین سنے ہيں۔ لیکن ایک بات جو یاد رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر حضرت محمد ﷺ کی حدیث وسنت اور قرآن آپس میں لازم وملزوم ہیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ قرآن کریم اپنےاوراق میں جا بجا حدیث کے حوالے دیتا ہےاور قرآن کریم ایسی چیز کا ہی حوالہ دے سکتا ہے جوشرعی اعتبار سے حجت ہو اور امت کیلئے دلیل ہودیکھیں قرآن کریم میں ہے ’’واذاَسرّالنّبیُ الیٰ بعض ازواجہ حدیثا‘‘نبی کریم نےاپنی کسی ایک بیوی کےپاسایک بات پوشیدہ طور پرکہی اب جولوگ حدیث کا انکار کرتے ہیں ان سے مطالبہ یہ ہے کہ اگر تم صرف قرآن کریم کو ہی حجت مانتے ہوحدیث کا انکار کرتے ہوتو بتلاؤ قرآن کریم نے جو یہ کہا ہے کہ نبی پاک ﷺنےاپنی کسی بیوی کےپاس ایک پوشیدہ بات کہی تھی وہ بات کیا ہے قرآن کریم میں اس کا کہیں ذکر نہیں ہے قرآن کریم نے اس آیت کوپیش کر کے آپ کوحوالے کردیا ہےسنت رسول ﷺکے ۔
    اور حدیث پاک میں اس کی وضاحت موجود ہے کہ نبی اکرم ﷺنے کسی وجہ سے اپنی ذات پر شہد کو حرام کر لیا تھا اور اس کی لمبی تفصیل ہے اور یہ وہ بات ہے جس کی وجہ سے حضرت عائشہ صدیقہ، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنھما انہوں نے آپس میں پلاننگ کی
    کہ نبی اکرمﷺ کو حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس جا کر شہد پینے سے روکا جائے اور انہوں نے آپس میں منصوبہ بندی کی کہ اے اللہ تعالیٰ کے رسولﷺ آپ کےمنہ مبارک سے بو آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺکو یہ لفظ بڑ ے نا گوار گزرےلیکن یہ پلاننگ تھی بو آتی نہیں تھی جس کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے (واذ اسر النبی الی بعض ازواجہ حدیثا)کہ اللہ تعالیٰ کے رسولﷺنے اپنی بیویوں سے کہا کہ اگربوآتی ہے تو باقی ازواج مطہرات کو نہ بتانا ان کے پاس اس بات کا اظہار نہ کرنا یہ وہ بات تھی جو اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ﷺنے اپنی بیویوں کے پاس راز کے طور پر کہی تھی قرآن کریم میں اس کا کہیں ذ کر نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم نے ہم کو حدیث کےحوالےکر دیا ہے ۔
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 08، 2015 #2
    حافظ محمد ظہیر

    حافظ محمد ظہیر مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 08، 2015
    پیغامات:
    12
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    حدیث پا ک میں ہی اس کی شرح اور وضاحت موجود ہے اسی طرح قرآن حدیث کے حوالے دیتا ہے اور حدیث حجت ہے اسی لیے تو قرآن اس کے حوالے دیتا ہے منکرین حدیث کے لیے یہ مقام عبرت ہے کہ وہ سوچیں کہ قرآن جب حدیث کے‘ سنت کے‘ حوالے دیتا ہے تو قرآن کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ﷺ کی سنت اور حدیث بھی حجت ہے اسی لیےتو قرآن اس کے حوالے کرتا ہے ۔
    قرآن کریم میں ہے (واذا نادیتم الی الصلاۃ اتخذوھا ھزوا)جب تم اذان دیتے ہو تو یہ مشرکین ، کافر آپ کی اذان کا مذاق اڑاتے ہیں‘ ٹھٹھہ کرتے ہیں‘ استہزاء کرتے ہیں‘ ہم منکرین حدیث سے پوچھتے ہیں کہ اگر تم قرآن کریم کے علاوہ حدیث کا انکار کرتےہو قرآن کو حجت سمجھتے ہو تو بتاؤ قرآن کریم میں اذان کے کلمات کونسے ہیں اذان کا طریقہ کہاں سکھلایا گیا ہے( قرآن کریم نے بھی ذکر کیا ہے کہ جب تم اذان دیتے ہوتو کافر ٹھٹھہ اور مذاق کرتے ہیں) اذان کن کلمات سے کہی جائے اذان کن اوقات میں کہی جائے اذان کس وقت میں کس مخصوص نماز کے لیے کہی جائے اذان کے اوقات اذان کے کلمات حدیث میں آپ کو ملیں گے اس کے علاوہ کہیں بھی نہیں ملیں گے ۔

    اس لیے ہمیں تفصیل بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے محدثین کرام نے کتاب الاذان کے عنوان کے تحت حدیث کے الفاظ جو اللہ تعالیٰ کے پیغمبرﷺ نے امت کو سکھلائے ہیں قرآن کریم میں اذان کے کلمات نہیں ملیں گے قرآن پاک نے یہ کہہ کر کہ( جب تم اذان دیتے ہو وہ مذاق کرتے ہیں )تمہیں حدیث کے حوالے کر دیا ہے حدیث کا حوالہ دیا ہے قرآن ایسی چیز کا حوالہ دیتا ہے جو شرعی اعتبار سے حجت ہوتی ہے جو شخص حدیث کا انکار کرتا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے قرآن کریم کی کسی آیت میں اذان کے کلمات دکھائے؟ نہیں دکھلا سکتا۔
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 08، 2015 #3
    حافظ محمد ظہیر

    حافظ محمد ظہیر مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 08، 2015
    پیغامات:
    12
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    اسی طرح قرآن کریم میں ہے ۔( سیقول السفھآ ء ما ولّہم عن قبلہتھم التی کانوا علیھا )

    جب قبلہ تبدیل ہو گا بیت المقدس سے ہٹا کر بیت اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کیا جائے گا تو کم سمجھ ‘بے عقل لوگ ‘باتیں بنائیں گے کہ دیکھو محمد ﷺکوتو اپنےقبلے پر ہی یقین نہیں ہے کبھی ادھر منہ کرتا ہے توکبھی ادھر . ہم ان لو گوں سے پوچھتے ہیں جو کہتے ہیں کہ قرآن کریم کے علاوہ حدیث حجت نہیں ہے قرآن ہی کافی ہے تبیان للناس ہے سب کچھ بیان کرتا ہے بتلاؤ وہ قبلہ کون سا ہے جس کا قرآن حوالہ دیتا ہے ٹھیک ہے بیت المقدس ہے لیکن قرآن کریم میں کہاں ذکر ہے قرآن کریم میں کہیں ذکر نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبرﷺ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے جب آپ حدیث کی کوئی کتاب اٹھائیں گے وہاں آپ کو ملے گا کہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر حضرت محمدﷺ مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے کے بعد مدینہ منورہ جا کر سولہ یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے اور آپ کی خواہش یہ تھی کہ میرا قبلہ بجائے بیت المقدس کے ابراہیم علیہ السلام میرے جد ّے اعلیٰ حضرت ابراہیم خلیل اللہ تعالیٰ والا قبلہ میرا قبلہ بنا دیا جائے تو دیکھیں وہ قبلہ جس پر وہ پہلے تھے وہ کون سا قبلہ تھا آپ کو قرآن میں نہیں ملے گا حدیث پاک میں ملے گا قرآن کریم حدیث کے حوالےدیتا ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ﷺ کی حدیث ‘آپ ﷺ کی سنت ‘قرآن کی شرح ہے ‘قرآن کریم کی وضاحت ہے ‘قرآن کریم کی طرح شرعی دلیل ہے‘ جیسے قرآن کریم سے شرعی مسائل اخذ کیے جاتے ہیں ایسےہی اللہ تعالیٰ کے پیغمبر حضرت محمد ﷺ کی سنت اور حدیث بھی شرعی دلیل ہے اس سے مسائل اور استنباط کیے جاتے ہیں میرے بھائیو! میں بتانا یہ چاہتا ہوں کہ اہلحدیث وہ خوش قسمت لوگ ہیں کہ جن کا منہج اللہ تعالیٰ کا قرآن اورمحمد رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے ۔
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 08، 2015 #4
    حافظ محمد ظہیر

    حافظ محمد ظہیر مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 08، 2015
    پیغامات:
    12
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    تیسری کوئی فقہ ان کے نزدیک شریعت کا درجہ نہیں رکھتی نو پید مسائل اور جدید مسائل کو کتاب و سنت کی نصوص کی روشنی میں حل کیا جائے گا لیکن وہ امت کا اجتہاد ہو گا ۔شریعت کیا ہے؟ جو اللہ تعالیٰ نے نازل کی ہے۔ اسی لیےتو فرما دیا ( اتبعوا ما انزل الیکم من رّبّکم ولا تتبعو امن دونہ اولیا ء) اے لوگو جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے اس کی پیروی کرنی ہے اولیاء کے پیچھے نہیں چلنا تو میرے بھائیو! ہمیں افسوس ہوتا ہے‘ بڑا تعجب ہوتا ہے کہ امت میں تقلید نے لوگوں کو کتنی گمراہیوں کا شکار کیا ہے اور یہ تقلید(شاہ ولی اللہ تعالیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ )کے قول کے مطابق چوتھی صدی میں جا کر شروع ہوئی ہے چار سو سال تک امت امۃ واحدہ بن کر زندگی گزار رہی تھی کتاب و سنت ان کا منہج تھا ‘کتاب و سنت ان کا نصاب تھا‘ خلفائے راشدین کتاب وسنت کے مطابق چلتے رہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کتاب و سنت کے خلاف کسی کی بات سننا گوارہ نہیں کرتے تھے ۔ شام سے ایک آدمی آیا (ترمذی شریف میں یہ حدیث ہے ) آکر عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا اے ابن عمر رضی اللہ عنہ کیا حج تمتع کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟
    عبد اللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی رسول فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ﷺ نے حج تمتع کیا ہے لہذا کیا جا سکتا ہے شامی آدمی( سائل )نے کہا اے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ آپ کا باپ تو اس سے روکا کرتا تھا توعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں (ارایت ان کان ابیک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔) مجھے بتلاؤ اگر میرے باپ نے حج تمتع سے روکا تھا اورمحمد رسول اللہ ﷺ نے حج تمتع کیا ہے تو کیا وحی میرے باپ پر آتی تھی یا محمد رسول اللہ ﷺ پر ؟۔
    اللہ تعالیٰ کے پیغمبرﷺ کی اتباع کی جائے گی یا میرے باپ کی اتباع کی جائے گی جب اللہ تعالیٰ کے پیغمبرﷺ نے حج تمتع کیا ہے تو کوئی اس سے روک نہیں سکتا تو لہذاحج تمتع کیا جا سکتا ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اللہ تعالیٰ کے پیغمبرﷺ کی سنت مبارکہ کو قرآن کریم کی طرح شرعی حجت سمجھتے تھے ۔
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏جولائی 08، 2015 #5
    حافظ محمد ظہیر

    حافظ محمد ظہیر مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 08، 2015
    پیغامات:
    12
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    حضرت ابو بکر صدیق‘حضرت عمر فاروق‘حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے دور خلافت میں یہی منہج (کتاب و سنت) کا تھا۔
    جب بھی کوئی اختلاف پیدا ہوتا کتاب وسنت کی دلیل آنے کے بعد اپنی رائے کو چھوڑ دیتے کتاب وسنت کے مطابق اعلان جاری فرما دیتے اس کے فیصلے کو نافذ کیا کرتے تھے لیکن دیکھئے تقلید نے امت کو مختلف فرقوں میں بانٹ کر رکھ دیا ہے یہ مختلف فرقے نتیجہ ہیں تقلید شخصی کا تقلید شخصی کا امتیوں کے پیچھے چلنےکا اگر کتاب و سنت کو اختیار کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کا قرآن کہتا ہے آؤ! تمہارے اختلافات حل کرنے کے لیے تمہیں ایک اصول سکھایاجاتاہے’’فان تنازعتم......................‘‘
    اگر تمہارا کسی مسئلے میں اختلاف پیدا ہو جائے عقیدے کا مسئلہ‘عمل کا مسئلہ‘سیاست کا مسئلہ‘معیشت و معاشرت کا مسئلہ‘عبادت کا مسئلہ‘زندگی کے کسی گوشے کا مسئلہ ہو۔جب بھی کسی مسئلے میں اختلاف ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے قرآن کی طرف لوٹاؤ نبی ﷺ کے فرمان کی طرف لوٹاؤ تمہارا مسئلہ حل ہو جائے گا اور اختلاف ختم ہو جائے گا امت بکھرے گی نہیں امت‘ امت واحدہ کی طرح زندگی گزارے گی ہمارا دعویٰ ہے‘ اعلان ہے آ جاؤ اللہ تعالیٰ کے قرآن اور نبیﷺ کے فرمان پر فیصلہ کرنے کے لیے مل بیٹھو۔سورج نکلنے سے پہلے پہلے سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں تقلید انسان کو کہاں پہنچاتی ہے دیکھیں جب انسان امتیوں کی تقلید کا پابند بن جاتاہے وہ یہاں تک پہنچ جاتاہے
    جیسا کہ عبد اللہ کرخی حنفی کہتے ہیں کہ ’کل آیۃ.............‘
    جو آیت قرآن پاک کی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے قرآن کی آیت ہے جو حدیث نبی پاک محمد رسول اللہﷺ کی ہمارے حنفی بزرگوں کے قول کے فتویٰ کے خلاف ہو گی اسکو ہم منسوخ سمجھیں گے ‘یا اس کی کوئی تاویل کریں گے میرے بھائیو! عبد اللہ کرخی نے سمجھا نہیں محمد رسول ﷺ تو وہ شحصیت ہیں کہ جن کے آنے سے تورات منسوخ ہو گئی‘ انجیل منسوخ ہو گئی ‘سارے نبیوں کے صحیفے منسوخ ہو گئے تم کون ہوتے ہو امتی ہو کر اللہ تعالیٰ کے پیغمبرﷺ کی حدیث کو منسوخ کہنے والے‘ تقلید یہی جُرم کرواتی ہے۔حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ ہم اپنے مذہبی مسائل کو کتاب و سنت پر پیش کریں جو کتاب و سنت کے موافق ہو اس کولے لیں اور جو موافق نہ ہو اس کو چھوڑ دیں۔ لیکن تقلید انسان کو یہ سکھلاتی ہے کہ کتاب و سنت کو اپنے مذہب کے بزرگوں کے اقوال پر پیش کیا جائے اقوال کے خلاف جو بھی بات ہو خواہ وہ قرآن کی ہو یا حدیث کی وہ رد کر دی جائے۔تقلید فتنہ ہے اسی طرح تقلید بہت سے فرقوں کی ماں ہے( جو فرقوں کو جنم دیتی ہے )مفتی تقی عثمانی  اپنی کتاب (تقلید) میں لکھتا ہے کہ اگر ایک طرف حدیث ہو‘ ایک طرف امام کی بات ہو تو ہم کیا کریں گے؟ہم یہ سمجھیں گے کہ ہمارے امام کے پاس کوئی دلیل ہو گی جس کی وجہ سے انہوں نے یہ حدیث قبول نہیں کی۔ یا اس کی کوئی تاویل ہو گی۔ ہم اپنے امام اور مجتہد کی بات کو لیں گے حدیث کو نہیں لیں گے میرے بھائیو! یہ دیکھیں تقلید کیا گل کھلاتی ہے قرآن کہتا ہے کہ حق بات کی پیروی کرو’’اتبعوا ما انزل........‘‘
    جو رب تعالیٰ نے اُ تارا ہے اس کی پیروی کرو ‘حنفی مذہب ما انزل اللہ نہیں ہے ‘شافعی مذہب ما انزل اللہ نہیں ہے‘ مالکی مذہب ما انزل اللہ نہیں ہے ‘حنبلی مذہب ما انزل اللہ نہیں ہے‘ جعفری مذہب ما انزل اللہ نہیں ہے اور وہابی مذہب ما انزل اللہ نہیں ہے۔ ما انزل اللہ وہ ہے جس کی پیروی کا قرآن کریم حکم دیتا ہے وہ کتاب و سنت ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے’’اتبعوا ما انزل ......‘‘رب تعالیٰ یہ حکم دیتا ہے اور اِدھر یہ تاولیں کی جاتی ہیں کہ حدیث کو نہیں لیا جائے گا بلکہ امام کی بات کو لیا جائے گا۔میرے بھائیو!حدیث یقینی چیز ہے اور یہ کہناکہ امام کے پاس بھی کوئی دلیل ہو گی جس کی وجہ سے انہوں نے یہ حدیث قبول نہیں کی تواس پر زجر و تو بیخ ہو گی یہ ایک انکار ہےیہ ایک یقینی بات کو چھوڑنا ہےتو یہ کہاں کی مسلمانی ہے اصول کی بات ہے محمود حنفی ’تقریرِ ترمذی‘ میں لکھتے ہیں ایک حدیث کی تشریع کرتے ہوئے بیع خیار کا مسئلہ آتا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم بیع خیار کے قائل ہیں لہٰذا آپ سے کوئی چیز خریدتا ہے یا بیچتا ہے تو تین دن تک اس کو اختیار ہےاگر پسند ہے تو رکھ لے وگرنہ واپس کر دے اللہ کے نبیﷺ کی حدیث ہے ’’البیعان بالخیار.....‘‘
    یہاں محمود الحسن حنفی لکھتے ہیں ’’والحق اصولنا الشافعی‘‘امام شافعی کا قول حدیث کے مطابق بیع و خیار میں اختیار ہونےکا ہے(حق بات بھی یہی ہے) اور حدیث بھی انکی تائید کرتی ہے لیکن ہم کیا کریں؟’’نحن مقلد ابی حنیفۃ یجب علینا التقلید الا مام‘‘ہم تو امام ابو حنیفہ کی تقلید کر چکے ہیں ہم پر تقلید واجب ہے حدیث بھی صحیح کہتی ہے اور امام شافعی بھی اسی کو حق کہتے ہیں ہم یہ واضح کہتے ہیں اور حدیث کے ساتھ انکی تائید بھی کرتے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ ہم حدیث نہیں مان سکتے کیونکہ ہمارے امام نے نہیں مانی۔
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  6. ‏جولائی 08، 2015 #6
    حافظ محمد ظہیر

    حافظ محمد ظہیر مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 08، 2015
    پیغامات:
    12
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    میرے بھائیو! مگر آج بھی ہم ساری امت مسلمہ کے فرقوں کو دعوت دیتے ہیں کہ آؤ اللہ تعالیٰ کے قرآن نے ایک اصول پیش کیا ہے اس پر جمع ہو جاؤ .‎’’فان تنازعتم ................‘‘
    اپنے اختلافات کو‘اپنے تنازعات کو ‘اپنے مسائل کو اللہ تعالیٰ کے قرآن پر پیش کرو۔نبیﷺ کی حدیث پر پیش کرو جو کتاب وسنت کے مطابق ہو اسکو دین بناؤ اور جو اسکے خلاف ہو اسکو چھوڑ دو ‘سارے مذاھب ختم ہو سکتے ہیں ‘سارے فرقے ختم ہو سکتے ہیں امت جیسے چار صدیوں تک ایک بن کر زندگی گزارتی رہی ہے آج بھی اسی طرح امت ایک بن سکتی ہے امام بخاری نے ’’کتاب الاعتصام والسنہ ‘‘میں یہی اصول دیا ہے امت کے مسائل کا حل ‘ہر جھگڑے کا حل‘قرآن ہےاورنبیﷺ کی حدیث ہے’’واعتصوا بحبل اللہ ..............‘‘
    اللہ تعالیٰ کی اُ تاری ہوئی رسی کو مضبوطی سے جب تک پکڑے رکھو گے ایک امت بن کر زندگی گزارو گےاور دشمن پر غالب رہو گے ‘دشمن کو مغلوب کرو گے دشمن تمہارے سامنے بھیڑ ‘بکریوں کی طرح ہو گا جیسے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین امت واحدہ تھی کہ ان کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں اللہ کے نبیﷺ کا فرمان تھا اور انہوں نے دنیا پر غالب ہو کر دکھلایا۔کافروں کو بھیڑ بکریوں کی طرح .................
    اگر آپ چاہتے ہوکہ امت ایک بن جائے‘ امت کے اختلاف ختم ہو جائیں ‘انکی ایک قوت ہو‘انکی ایک طاقت ہو ‘جس کے سامنے پورے دشمن زیر ہوں۔رستم او ر قیصرو کسرٰی کی طرح وہ سر جھکا کر چلیں تو آؤ ’’فان تنازعتم......اس اصول کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فرمان اور نبی ﷺ کی سنت کی اتباع کرو یہی امت کے اتفاق و اتحاد کا ایک ذریعہ ہے جب تک ہم تقلید کو نہیں چھوڑیں گے میں فلاں کی تقلید کرتا ہوں فلاں نے اسکو کھڑا کر لیا اور فلاں نے اسکو کھڑا کر لیا۔امتیوں کے پیچھے چلتے ہیں اور اس طرح امت فرقوں میں بٹتی جائے گی انتشار پیدا ہو گا اختلاف بڑھتا چلا جائے گا اور یہ شیطان کے وسوسے دیکھیں یہ لوگ فرقہ پرستی کرنے والے چشتی قادری وہ کہتے ہیں ہماری بزرگوں کی باتیں قرآن سے ہی لی گئی ہیں۔
    ’’محق الفقر‘‘صوفیوں کی کتاب(دو جلدوں میں یہ کتاب ہے سلطان باہو لکھتا ہے)کہ اس کے جتنےبھی اقوال ہیں سب کتاب و سنت سے ہی لیے گئے ہیں جو سلطان باہو کی کافیا اور انکی گزارشات کو نہیں مانے گا‘ انکے اقوال کو نہیں مانے گا وہ خبیث ہو گا’’محق الفقر‘‘ میں لکھا ہے تمہارے بزرگوں کی باتیں اگر کتاب و سنت سے لی گئی ہیں تو میں پو چھتا ہوں پھر آج اختلاف کیوں ہے؟انتشار کیوں ہے؟یہ بھی کہتا ہے کہ ہمارے بزرگوں کی باتیں کتاب و سنت کے موافق ہیں وہ بھی کہتا ہے ہمارے بزرگوں نے کتاب وسنت سے اپنے اقوال لیے ہیں سب کا یہ دعوٰی ہے کہ ہماری فقہ ہمارے اجتہادات کتاب وسنت سے لیےگئے ہیں۔کتاب وسنت کی ہی باتیں ہیں تو یہ امت میں انتشار کیوں ہے؟یہ اختلاف کیوں ہے ؟معلوم ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے سب کو چھوڑو اللہ تعالیٰ تعالی کے قرآن اورنبی پاکﷺکے فرمان پراتحاد کرلو اسی میں ہماری سرخروئی دنیا کی کامیابی اور آخرت کی نجات ہے اللہ تعالیٰ سےدعا ہے کہ وہ ہمیں صحیح معنوں میں کتاب وسنت پرگامزن ہوکر ان کو تھام کر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    اللہ تعالیٰ نے ان کو حبل اللہ کہا ہے۔یہ آسمان سے زمین پر اتاری ہوئی رسی ہے۔جیسے کنوئیں میں کوئی آدمی گر جائے تو رسی ڈالی جاتی ہے اگر وہ اس کو پکڑ لے گا تو باہر آجائے گا۔نجات پا جائے گا اور اگر اس رسی کو نہیں پکڑے گا تو کنوئیں میں ہی بھوکا پیاسا مر جائے گا جو اللہ تعالیٰ تعالیٰ کے قرآن اور نبیﷺ کی حدیث والی رسی کو تھام کر زندگی گزارتا ہے وہی کامیاب و کامران ہونے والا ہے جو اللہ تعالیٰ کے قرآن اور نبیﷺ کی سنت اور اسلام کو چھوڑ کر زندگی بسر کرنے والا ہے وہ نجات سے دور جانے والا ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں صحیح معنوں میں کتاب و سنت کو سمجھ کر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏جولائی 08، 2015 #7
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جزاکم اللہ خیرا۔
    شیخ محترم کا یہ خطاب میں نے بھی سناتھا ، اسی طرح استاد محترم @انس نضر صاحب بھی اس میں موجود تھے ۔
     
    • پسند پسند x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  8. ‏جولائی 09، 2015 #8
    حافظ محمد ظہیر

    حافظ محمد ظہیر مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 08، 2015
    پیغامات:
    12
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    10

    تمام ارباب علم کا مشکور ہو‎‎‎ں خصوصا شیخ خضر صاحب کا اللهم لا توخذني بما يقولون وغفرلي مالا يعلمون وجعلني خيرا مما يظنون
     
  9. ‏جولائی 09، 2015 #9
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,520
    موصول شکریہ جات:
    6,611
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    جزاک اللہ خیرا!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں