1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حج و عمرہ کا مسنون طریقہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں !!!

'عمرہ اور حج' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اگست 27، 2013۔

  1. ‏اگست 27، 2013 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,860
    موصول شکریہ جات:
    6,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    1234979_680883131939455_1811460468_n.jpg
     
    Last edited: ‏اگست 15، 2016
  2. ‏اگست 27، 2013 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,860
    موصول شکریہ جات:
    6,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    حج و عمرہ کا مسنون طریقہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں :


    {وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا وَ مَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ}

    ''اللہ کے لیے ان لوگوں پر بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے جو اس کی طرف راستے کی استطاعت رکھتے ہوں اور جو کفر کرے تو بلاشبہ اللہ جہان والوں سے بے نیاز ہے۔''

    (آل عمران:97۔)

    'مَنْ حَجَّ لِلّٰہِ فَلَمْ یَرْفُثْ وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ أُمَّہٗ'

    ''جس نے اللہ کے لیے حج کیا، پس فحش کلامی اور اللہ کی نافرمانی سے بچا تو وہ (گناہ سے پاک ہو کر) ایسے لوٹے گا جیسے شکم مادر سے پیدا ہونے کے دن تھا۔''

    (صحیح البخاري: 1521، صحیح مسلم: 1350۔)

    'لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ، لَبَّیْکَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لَا شَرِیکَ لَکَ'

    ''میں بار بار حاضر ہوں، اے اللہ میں بار بار حاضر ہوں، میں بار بار حاضر ہوں، آپ کا کوئی شریک نہیں، میں بار بار حاضر ہوں۔ بے شک تعریف آپ ہی کے لیے ہے، نعمت آپ ہی کی ہے، بادشاہی آپ کے لیے ہے، آپ کا کوئی شریک نہیں۔''

    عمرہ کے ارکان :

    1 لباسِ احرام پہننے کے بعد نیت کرنا اور 'اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ عُمْرَۃً' کہنا۔

    عورت اپنے عام باپردہ لباس میں عمرہ کی نیت کرے 'اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ عُمْرَۃً' کہے۔

    2 بیت اللہ کا طواف کرنا۔ (سات چکر لگانا)

    3 صفا و مروہ کی سعی کرنا۔ (بخاری و مسلم)


    حج کے ارکان :

    1 نیت کرنا

    ('حج تمتع' کرنے والا میقات سے عمرہ کی نیت کر کے 'اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ عُمْرَۃً' کہے، پھر آٹھ ذوالحجہ کو دوبارہ مکہ میں اپنی منزل سے لباس احرام پہن کر حج کی نیت کرے اور 'اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ حَجًّا' کہے،

    'حج اِفراد کرنے والا اگر میقات سے باہر رہتا ہے تو میقات سے حج کی نیت کر کے 'اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ حَجًّا' کہے۔ اور اگر میقات کے اندر رہتا ہے تو اپنی رہائش سے حج کی نیت کر کے 'اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ حَجًّا' کہے۔

    'حج قِران کرنے والا میقات سے حج اور عمرہ دونوں کی نیت کر کے 'اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ عُمْرَۃً وَّ حَجًّا' کہے۔

    2 میدان عرفات میں ٹھہرنا۔

    3 عورتو اور ضعیفوں کے علاوہ باقی لوگوں کے لیے نمازِ فجر مزدلفہ میں ادا کرنا۔

    4 طواف زیارت کرنا۔

    5 صفا اور مروہ کی سعی کرنا۔ (بخاری و مسلم)


    عمرہ کے واجبات :

    1 میقات سے لباسِ احرام پہن کر احرام (نیت) باندھنا۔

    2 عمرہ کی تکمیل پر سارے سر کے بال چھوٹے کرانا یا سر منڈانا۔ (بخاری و مسلم)


    حج کے واجبات :

    1 میقات سے احرام (نیت) باندھنا۔

    2 غروب آفتاب تک عرفات میں ٹھہرنا۔

    3 دس ذوالحجہ (قربانی) کی رات مزدلفہ میں گزارنا۔

    4 دس ذوالحجہ کو صرف بڑے جمرہ کو اللہ اکبر کہہ سات کنکریاں مارنا اور گیارہ اور بارہ ذوالحجہ کو تینوں جمرات کو بالترتیب اللہ اکبر کہہ کر سات سات کنکریاں مارنا۔

    5 گیارہ اور بارہ ذوالحجہ کی رات منیٰ میں گزارنا۔

    6 سارے سر کے بال چھوٹے کرانا یا سر منڈانا اور یہی افضل ہے۔
    7 طوافِ وداع کرنا۔ (مسلم)


    نیت اور احرام باندھنے کا طریقہ :

    حج یا عمرہ کا ارادہ رکھنے والے کے لیے احرام (نیت) باندھنے سے پہلے میقات پر یا میقات سے پہلے غسل کرنا اور بدن کو خوشبو لگانا مستحب ہے اور اگر ممکن ہو تو بغلوں کے بال، زیر ناف بال بھی صاف کر لیے جائیں اور مونچھیں اور ناخن تراش لیں۔ مرد احرام کے لباس کے طور پر دو چادریں استعمال کریں افضل یہ ہے کہ یہ چادریں سفید رنگ کی ہوں۔ جبکہ عورتیں اپنے عام باپردہ لباس ہی میں حج یا عمرہ کی نیت کریں۔ دل سے اپنے حج یا عمرہ کی نیت کریں اور تلبیہ کہیں، نیز اگر کوئی آدمی کسی کی طرف سے حج کررہا ہو تو وہ نیت کرنے کے ساتھ 'اللہم لبیک حجا' کہتے ہوئے اس شخص کا نام بھی ذکر کرے۔ (بخاری، ابو داود، ترمذی)

    نوٹ: اگر حج و عمرہ کے لیے جانے والے کو مکہ مکرمہ تک پہنچنے میں کسی قسم کی رکاوٹ کا خدشہ ہو تو اسے نیت کرتے وقت یہ کہنا چاہیے 'اَللّٰہُمَّ مَحِلِّي حَیْثُ حَبَسْتَنِي' پھر اگر وہ مکہ نہ پہنچ سکا تو بغیر 'دم' دیے حلال ہوجائے گا۔ (یعنی احرام کھول سکتا ہے)۔
    (بخاری)

    حالت احرام میں ممنوع کام اور ان کا کفارہ :

    1 جسم کے کسی حصے سے بال اکھاڑنا، کاٹنا یا مونڈھنا۔

    2 ناخن تراشنا۔

    3 خوشبو لگانا۔

    4 مرد کا سر کو ڈھانپنا۔

    5 مرد کا جسمانی ڈھانچے کے مطابق بنے، یعنی سلے ہوئے کپڑے پہننا (جیسے شلوار قمیص، بنیان، کوٹ، سویٹر، پتلون، پاجامہ وغیرہ) جبکہ عورت کا دستانے اور نقاب پہننا۔
    (بخاری) تاہم اگر کسی کے پاس دو چادریں نہیں ہیں تو وہ شلوار قمیص وغیرہ بھی پہن سکتا ہے۔

    6 جنگلی (وحشی) جانور کا شکار کرنا یا شکار کرنے میں کسی کی مدد کرنا۔

    7 پیغامِ نکاح بھیجنا، نکاح کرنا یا کرانا۔
    (مسلم)

    8 بیوی سے بوس و کنار کرنا، شہوت کی باتیں کرنا۔

    9 بیوی سے ہم بستری (جماع) کرنا۔


    اگر یہ ہم بستری دس ذوالحجہ کو جمرہ کبریٰ کو کنکریاں مارنے سے پہلے تھی تو اس کا:

    1 حج باطل ہوجائے گا۔

    2 حج کے بقیہ کام پورے کرے گا۔

    3 اگلے سال دوبارہ حج کرے گا۔

    4 ایک اونٹ یا گائے حرم کی حدود میں ذبح کرکے فقرائے مکہ میں تقسیم کرے گا۔

    اور اگر ہم بستری دس تاریخ کو جمرہ کبریٰ کو کنکریاں مارنے کے بعد کی ہے تو اس کا حج تو صحیح ہوگا لیکن اس کو 'دم' دینا ہوگا۔
    (حاکم، بیہقی، مؤطا)

    نوٹ: اگر عورت کو حالت احرام میں حیض یا نفاس شروع ہو جائے تو وہ بیت اللہ کے طواف کے سوا حج اور عمرہ کے بقیہ تمام ارکان و واجبات ادا کرے گی۔
    (بخاری و مسلم)

    حاجی کے آٹھ تاریخ سے پہلے کرنیوالے کام:

    'حج اِفراد' کرنے والے کے کام:


    1 میقات سے حج کی نیت کرنا اور 'اَللّٰہُمَّ لَبَیْکَ حَجًّا' کہنا، مکہ والے لوگ حج کے لیے میقات کی بجائے اپنی رہائش گاہ ہی سے لباسِ احرام پہن کر نیت کریں گے، چاہے ان کی رہائش مستقل ہو یا عارضی، البتہ عمرہ کے لیے انہیں حدود حرم سے نکل کر لباسِ احرام پہن کر نیت کرنی ہو گی۔

    2 مکہ پہنچ کر طواف کرنا، یعنی بیت اللہ کے گرد سات چکر لگانا اس طواف کو طوافِ قدوم کہتے ہیں۔ اس طواف کے ابتدائی تین چکروں میں رَمل کرنا، یعنی کندھے ہلاتے ہوئے آہستہ آہستہ دوڑنا۔

    3 صفا اور مروہ کی 'سعی' کرنا، اگر 'حج اِفراد' کرنے اولے نے 'طواف قدوم' کے قت سعی نہ کی ہو یا پھر وہ اپنے گھر سے سیدھا منیٰ کی طرف چلا گیا ہو تو اسے 'طواف زیارت' کے بعد سعی کرنا ہوگی اور وہ قربانی کے دن تک اپنے احرام میں ہی رہے گا۔
    (بخاری و مسلم)

    'حج قِران' کرنے والے کے کام:

    1 قربانی ساتھ لے کر یا قربانی کا کوپن لے کر میقات سے لباسِ احرام پہن کر نیت کرے 'اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ عُمْرَۃً وَّ حَجًّا' کہے۔

    2 مکہ پہنچ کر 'طواف قدوم' کرنا۔

    3 صفا اور مروہ کی 'سعی' کرنا، اگر اس دن سعی نہ کرسکا تو اسے 'طواف زیارت' کے بعد بھی اسے کیا جاسکتا ہے۔

    4 یہ شخص قربانی کے دن تک احرام ہی میں رہے اور احرام کے ممنوع کاموں سے بچے۔
    (بخاری و مسلم)

    'حج تمتع' کرنے والے کے کام :

    1 میقات سے لباس احرام پہن کر نیت کر کے 'اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ عُمْرَۃً' کہنا۔

    2 'طواف قدوم' کرنا (یہی طواف عمرہ بھی ہے)

    3 صفا اور مروہ کی سعی کرنا۔

    4 سارے سر کے بال چھوٹے کرانا یا سر منڈانا۔

    5 حالت احرام سے نکل جانا (بخاری و مسلم)

    فائدہ1:

    بیت اللہ کا 'طواف' کرتے وقت ہر چکر میں 'رکن یمانی' اور 'حجر اسود' کے درمیان یہ دعا پڑھنا مستحب ہے:


    {رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ}

    '' نیز اس کے علاوہ ہر چکر کی کوئی دعا مخصوص نہیں، جو چاہیں اللہ تعالی سے دعائیں کریں۔''

    ( البقرۃ 201، أبوداود)

    فائدہ2:

    صفاپر یہ دعا پڑھنا مستحب ہے۔

    {اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰہِ}
    (سورئہ بقرہ: 158)

    اس کے بعد یہ الفاظ کہے:

    'أبْدَأُبِمَا بَدَأَ اللّٰہُ بِہٖ'

    پھر قبلہ رخ ہوکر تین مرتبہ 'اَللّٰہُ أَکْبَر' کہے،

    اور تین بار یہ دعا پڑھے

    'لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ لَہٗ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِي وَ یُمِیتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیرٌ، لَا إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ أنْجَزَ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وَھَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَہٗ'

    اور ان مذکورہ دعائوں کے درمیان میں قبلہ رخ ہوکر ہاتھ اٹھا کر جو دل چاہے دعا کرے۔ اور 'مروہ' پر بھی یہی دعا تین مرتبہ 'اَللّٰہُ أَکْبَر' کہہ کر پڑھے۔
    (مسلم، ابو داود، نسائی)

    یاد رہے کہ مردوں کے لیے دو سبز نشانوں کے درمیان دوڑنا مستحب ہے۔
    (نسائی، ابن ماجہ)

    آٹھ ذوالحجہ کا دن :
    منیٰ کی طرف جانا، یاد رہے کہ 'حج تمتع' کرنے اولا آٹھ تاریخ کو اپنی رہائش گاہ ہی سے لباسِ احرام پہن کر حج کی نیت کر کے یہ الفاظ کہے: 'اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ حَجًّا' منیٰ میں اپنے اپنے وقت پر ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نمازیں قصر کر کے دو دو رکعت ادا کرے، جبکہ مغرب کی تین رکعتیں پوری پڑھے۔ (بخاری و مسلم)

    نو ذوالحجہ(عرفہ) کا دن :
    1 مستحب ہے کہ سورج طلوع ہوجانے کے بعد تلبیہ اور تکبیریں کہتے ہوئے عرفات کی طرف جائیں (وہاں حجاج ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ ظہر ہی کے وقت میں ظہر اور عصر کی نماز، قصر کر کے دو دو رکعت اداکریں اور ہر نماز کے لیے الگ الگ تکبیر (اقامت) کہی جائے، پھر سورج غروب ہونے تک عرفات میں رہے اور اللہ کے ذکر، قرآن مجید کی تلاوت اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے میں مشغول رہے۔ دعا میں قبلہ کی طرف منہ کرنا مستحب ہے نہ کہ جبل رحمت کی طرف، نیز حاجی کے لیے نو ذوالحجہ (یوم عرفات) کا روزہ رکھنا غیر مشروع ہے۔ 'وادیٔ عرنہ' میدان عرفات کی حدود میں داخل نہیں، لہٰذا وہاں ظہر اور عصر کی نماز کے بعد ٹھہرنا صحیح نہیں۔ اسی طرح جبل رحمت پر چڑھنا بھی مستحب نہیں)۔ اس دن یہ دعا پڑھنا سابقہ انبیاء اور آپﷺ کی سنت ہے:
    'لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہٗ الْحَمْدُ یُحْیِي وَ یُمِیتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْئٍ قَدِیر'
    '' البتہ لیٹ ہونے والے اگر دس ذوالحجہ کی رات کو طلوع فجر سے پہلے میدان عرفات میں پہنچ جائیں اور پھر فجر کی نماز مزدلفہ میںادا کرے تو ان کا رکن بھی ادا ہوجائے گا۔''
    (صحیح البخاري و صحیح مسلم ۔)
    2 غروب آفتاب کے بعد مزدلفہ جانا۔ وہاں حاجی ایک اذان اور دو الگ الگ تکبیروں (اقامتوں) کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرکے قصر (یعنی مغرب کی تین رکعتیں، عشاء کی دو رکعتیں) ادا کرے۔ (بخاری و مسلم)
    (ا) حاجی مزدلفہ میں یہ رات آرام کرتے ہوئے گزارے، وہاں فجر کی نماز ادا کرے او فجر کے بعد کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر اور دعا کرے حتیٰ کہ خوب سفیدی ہوجائے اور سورج طلوع ہونے سے پہلے منیٰ کی طرف نکل جائے۔
    یاد رہے کہ مشعر حرام کے پاس ٹھہرنا اور دعا کرنا مستحب ہے۔ کمزور عورتوں، عمر رسیدہ اور معذور و ضرورت مند لوگوں کے لیے چاند کے غروب ہوجانے (آدھی رات) کے بعد بھی مزدلفہ سے منیٰ کو جانا جائز ہے۔ (بخاری ، مسلم، زاد المعاد)
    (ب) بڑے جمرے کو مارنے کے لیے سات کنکریاں اگر آسانی سے مل جائیں تو مزدلفہ سے لے لے، یہ کنکریاں منیٰ کے میدان سے بھی لی جاسکتی ہیں جن کا حجم چنے کے دانے سے کچھ بڑا ہو۔ واضح رہے کہ ان کنکریوں کو دھونا بدعت ہے۔


    دس ذوالحجہ کا دن :
    سورج طلوع ہونے سے پہلے منیٰ کی طرف جانا۔ وہاں حاجی یہ چار کام کرے:
    1 بڑے جمرہ کو ایک ایک کرکے سات کنکریاں 'اللہ اکبر' کہہ کر مارے اور اس کے بعد تلبیہ کہنا بند کردے۔
    2 قربانی کرنا۔
    3 سارے سر کے بال چھوٹے کرانایا منڈانا، اور یہی افضل ہے۔ (بخاری، مسلم، ابن خزیمہ)
    4 'طواف زیارت' کرنا، اگرچہ اس کو مجبوری کے تحت 'طواف وداع' تک مؤخر کرنا بھی جائز ہے لیکن اگر 'طواف وداع' کے ساتھ 'طواف زیارت' کی بھی نیت کرلے، دونوں ادا ہوجائیں گے۔
    وضاحت1: 'حج اِفراد' اور 'حج قران' کرنے والے نے اگر 'طواف قدوم' کے ساتھ 'سعی' نہیں کی تو وہ 'طواف زیارت' کے ساتھ 'سعی' کرے۔
    وضاحت2: 'حج قران' اور 'حج تمتع' کرنے والا قربانی کرے۔
    وضاحت3: مکہ کے رہائشی پر قربانی نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے حج تمتع یا قِران نہیں ہے۔
    وضاحت4: دس تاریخ کو جمرہ کبریٰ کو کنکریاں مار لینے سے حاجی پر احرام کی پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں۔ صرف اپنی بیوی سے ہم بستری نہیں کرسکتا البتہ 'طواف زیارت' اور 'سعی' کر لینے کے بعد یہ کامل طور پر حلال ہو جائے گا اور اب اسے بیوی سے ہم بستری کرنا بھی جائز ہے۔ یاد رہے کہ دس تاریخ کے چار کاموں کی مذکرہ ترتیب مستحب ہے شرط اور فرض نہیں اور نہ ہی ترتیب چھوڑنے سے 'دم' واجب ہوتا ہے۔ (بخاری و مسلم، ابو داود، ابن خزیمہ)


    گیارہ ذوالحجہ کا دن :
    1 گیارہ ذوالحجہ کی رات منیٰ میں گزارنا واجب ہے لیکن چرواہوں کے لیے اور حجاج کو پانی پلانے والوں کے لیے رخصت ہے۔
    2 زوال کے بعد تینوں جمرات کو اللہ اکبر کہہ کر ترتیب کے ساتھ ہر جمرے کو سات کنکریاں مارے، یاد رہے کہ صرف چھوٹے اور درمیانے جمرے کو کنکریاں مارنے کے بعد دعا کرنا مستحب ہے۔ (مسلم، ابو داود، مسند احمد، ابن خزیمہ)
    نوٹ: جس حاجی کو گنتی میں شک پڑ جائے تو جس گنتی پر اسے یقین ہے اس پر اعتماد کرتے ہوئے باقی گنتی مکمل کرے۔


    بارہ ذوالحجہ کا دن :
    1 بارہ ذوالحجہ کی رات بھی منیٰ میں گزارنا واجب ہے لیکن چرواہوں کے لیے اور حجاج کو پانی پلانے والوں کے لیے رخصت ہے کہ وہ مکہ یا اپنے ریوڑ کے پاس جائے۔
    2 گیارہ تاریخ کی طرح تینوں جمرات کو کنکریاں مارنا۔
    اب اگر کوئی مکہ جانا چاہے تو وہ غروب آفتاب سے پہلے پہلے منیٰ کی حدود سے نکل جائے اور جب اپنے ملک کو واپس جانا چاہے تو 'طوافِ وداع'' کرلے، البتہ تیرہ تاریخ کی کنکریاں مارنا افضل ہے۔ (سورئہ بقرہ: 203، ابوداود، مؤطا)


    تیرہ ذوالحجہ کا دن :
    1 گیارہ اور بارہ ذوالحجہ کی طرح تیرہ ذوالحجہ کو بھی تینوں جمرات کو کنکریاں مارنا۔
    2 مکہ چھوڑتے وقت 'طواف وداع' کرنا واجب ہے۔
    نوٹ: حیض اور نفاس والی عورتوں پر 'طواف وداع' کے لیے طہارت حاصل ہونے تک انتظار کرنا لازم نہیں۔ وہ بغیر طواف وداع کیے جاسکتی ہیں۔ (بخاری، مسلم، ابو داود)
    حاجی پر دم کب لازم آتا ہے؟
    1 حج تمتع یا قران کرنے والے پر دم لازم آتا ہے۔
    2 کسی بیماری یا تکلیف دہ چیز کی وجہ سے حاجی سر مونڈھ لے تو اس پر فدیہ لازم آتا ہے، یعنی وہ روزے رکھے یا صدقہ کرے یا خون بہائے (بکری وغیرہ ذبح کرے)
    3 خشکی کے جانور کے شکار کرنے پر دم لازم آتا ہے۔
    4 احرام (نیت) حج باندھنے کے بعد جب وہ کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے مناسک حج ادا نہ کر سکے اور نیت کرتے وقت حلال ہونے کی شرط بھی نہیں لگائی ہے تو اس پر دم دینا لازم ہے۔
    5 جمرئہ کبری کی رمی سے پہلے اگر حاجی نے اپنی بیوی سے جماع کر لیا۔ تو اس پر اونٹ ذبح کرنا لازم ہے اور اس کا حج فاسد ہو گیا اور اگر جمرئہ کبری کو کنکریاں مارنے کے بعد جماع کیا تو حج اس کا درست ہے۔ لیکن ایک بکری ذبح کرنا اس پر لازم ہے۔


    مدینۃ الرسولﷺ کا مبارک سفر:
    یہ بات اچھی طرح ذہن نشین رہے کہ حج مکہ مکرمہ میں پورا ہوجاتا ہے، لیکن جس شخص کو اللہ تعالیٰ حج جیسی عظیم سعادت نصیب فرمائے تو وہ مسجد نبوی اور مدینہ نبویہ کی زیارت سے کیوں محروم رہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے پیارے رسولﷺ کی مسجد اور آپ کا شہر ہے لہٰذا حاجی اگر مدینہ نبویہ کی طرف سفر کرنا چاہے تو مسجد نبوی کی زیارت کی نیت کرے۔
    'مسجد نبوی' کی زیارت: جب حاجی مسجد نبوی میں داخل ہو تو تحیۃ المسجد یعنی دو رکعتیں ادا کرے، البتہ ریاض الجنۃ میں دو نفل پڑھنا افضل ہیں۔ (بخاری و مسلم)
    البتہ مدینہ نبویہ پہنچ کر اس کے لیے درج ذیل زیارتیں مشروع ہیں۔ (بخاری و مسلم)


    1 'قبر رسولﷺ' کی زیارت:

    حاجی آپﷺ کی قبر مبارک کے پاس جائے، انتہائی ادب احترام کے ساتھ دھیمی آواز میں اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتہ کے الفاظ سے کہے پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو بھی اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَبَا بَکْرٍ، اَلسَّلَام عَلَیْکَ یَا عُمَرُ کے الفاظ کہے۔ (مؤطا)
    یاد رہے کہ اہل قبور کو مسنون سلام اور دعا کے الفاظ یہ ہیں:
    اَلسَّلَامُ عَلٰی أَھْلِ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤمِنِینَ وَالْمُسْلِمینَ، وَیَرْحَمُ اللّٰہُ الْمُسْتَقْدِمِینَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِینَ، وإنَّا إِنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَلَاحِقُونَ، اسی طرح یہ الفاظ بھی ثابت ہیں۔ 'اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَہْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَ الْمُسْلِمِینَ وَإِنَّا إنْ شَائَ اللّٰہُ بِکُمْ لَلَاحِقُونَ، أسْئَالُ اللّٰہَ لَنَا وَلَکُمْ الْعَافِیَۃَ' (مسلم، ابن ماجہ)


    2 'بقیع غرقد' کی زیارت:

    یہ مدینہ نبویہ کا قبرستان ہے۔ حاجی وہاں جائے، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اور تمام مؤمنین کے لیے استغفار اور بلندیٔ درجات کی دعا کرے۔ (مسلم)

    3 'شہدائے احد' کی زیارت:

    حاجی شہدائے احد کی قبروں کے پاس جائے، ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرے اور قبرستان والی دعا پڑھے۔

    4 'مسجد قبا' کی زیارت:

    حاجی باوضو ہوکر مسجد قبا جائے اور وہاں دو نفل ادا کرے جس کا ثواب ایک عمرہ کے برابر ہے۔(نسائی)
     
    Last edited: ‏جولائی 07، 2017
    • زبردست زبردست x 5
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 21، 2013 #3
    حق کی طرف رجوع

    حق کی طرف رجوع رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2013
    پیغامات:
    143
    موصول شکریہ جات:
    218
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    جزاک اللہ خیرا
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏ستمبر 05، 2014 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,860
    موصول شکریہ جات:
    6,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    10646830_442569375881329_682967934750536404_n.jpg
     
  5. ‏ستمبر 09، 2014 #5
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    کیا یہ باتیں احادیث سے ثابت ہیں
     
  6. ‏ستمبر 09، 2014 #6
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,860
    موصول شکریہ جات:
    6,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    مسجدنبوی کی زیارت کے وقت کی جانے والی غلطیاں !!!

    میں نےمسجد نبوی کی زيارت میں دیکھا ہے کہ بعض لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرہ مبارک کی دیواروں کوچھوتے ہیں ، اوربعض اس طرح کھڑے ہوتے ہیں کہ نماز ادا کررہے ہوں آپ دیکھیں گے کہ وہ اپنے ہاتھ سینہ پررکھے ہوئے قبر کی جانب چہرہ کئے ہوئے ہے ، توکیا جو کچھ وہ کرتے ہیں صحیح ہے ؟

    الحمد للہ:

    سوال نمبر ( 36863 ) کے جواب میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی زيارت کے آداب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، اورکچھ زائرین جن مخالفات کے مرتکب ہوتے ہیں وہ ذيل میں دی جاتی ہيں :

    پہلی مخالفت :

    رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوپکارنا اوران سے مدد مانگنا یا ان سے تعاون طلب کرنا ، جس طرح کہ بعض یہ کہتے ہیں : یا رسول اللہ! میرے مریض کوشفا نوازدیں ، یا رسول اللہ! میرا قرض ادا کردیں ، اے میرے وسیلہ ، اے میری ضرورت کے دروازے ، یا اس طرح کے دوسرے شرکیہ الفاظ وکلمات وغیرہ جوکہ ایسی خالص توحید کے منافی ہیں جوبندوں پراللہ تعالی کا حق ہے ۔

    دوسری مخالفت :

    نماز کی حالت کی طرح قبر کے سامنے کھڑے ہونا وہ اس طرح کہ دایاں ہاتھ اپنے بائيں ہاتھ پررکھ کرسینے یا اس سے نیچے باندھنا ، یہ فعل حرام ہے ، کیونکہ یہ حالت ذُل وعبادت کی حالت ہے اورعبادت اللہ تعالی کے علاوہ کسی اورکی جائز نہيں ۔

    تیسری مخالفت :

    قبر کے نزدیک جھکنا یا سجدہ کرنا یا اس کے علاوہ کوئى اورکام جواللہ تعالی کے علاوہ کسی اورکےلیے کرنا جائزنہيں ، چنانچہ انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( کسی بشر کے لیے جائز نہيں کہ وہ کسی بشر کوسجدہ کرے ) مسند احمد ( 3 / 158 ) البانی نے صحیح الترغیب ( 1936-1937 ) اورارواء الغلیل ( 1998 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

    چوتھی مخالفت :

    قبرکے نزدیک اللہ تعالی کوپکارنا ، یا پھریہ اعتقاد رکھنا قبر کے نزدیک دعا قبول ہوتی ہے ، ایسا فعل بھی حرام ہے اس لیے کہ یہ شرک کے اسباب میں سے ہے ، اوراگر قبروں کے پاس یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے نزدیک دعا افضل اوربہتر صحیح اوراللہ تعالی کوزيادہ محبوب ہوتی تونبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمیں اس کی ترغیب دیتے ۔

    اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کے قریب کرنے والی کسی بھی چيز کونہيں چھوڑا بلکہ اس پراپنی امت کو ترغیب دی ہے ، لہذا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام نہيں کیا تواس سے یہ علم ہوا کہ یہ فعل شرعی نہیں بلکہ حرام اورممنوع ہے ۔

    ابویعلی اورحافظ ضیاء نے المختارۃ میں علی بن حسین رضی اللہ تعالی عنہ سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے ایک شخص کودیکھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کے قریب ایک طاقچہ کے پاس آتا اوراس میں داخل ہوکر دعا کرتا توانہوں نے اسے منع کردیا اورکہنے لگے :

    "کیا میں تمہیں وہ حدیث نہ بیان کروں جومیں نے اپنے والد سے انہوں میرے دادا سے سنی وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( تم میری قبر کو میلہ نہ بناؤ اورنہ ہی اپنے گھروں کو قبریں بناؤ ، اور تم جہاں بھی ہو مجھ پردرود پڑھا کرو کیونکہ تمہارا سلام مجھ تک پہنچ جاتا ہے ) ابوداود ( 2042 ) البانی نے صحیح ابوداود ( 1796 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

    پانچویں مخالفت :

    جو شخص مدینہ نہیں جاسکتا وہ کسی دوسرے کے ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوسلام بھیج دیتا ہے، اورکچھ زائرین یہ سلام پہنچاتے بھی ہیں، یہ فعل بدعت ہے اورمن گھڑت ہے ، سلام بھیجنے والے! اوراسے پہنچانے والے! اس کام سے رک جاؤ تم دونوں کونبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کافی ہونا چاہیے : ( مجھ پردرود بھیجا کرو کیونکہ تم جہاں بھی ہومجھ پرتمہاراسلام پہنچ جاتا ہے )

    اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان : ( یقینا زمین میں اللہ تعالی کےفرشتے گھوم رہے ہیں جومیری امت کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں )

    مسند احمد ( 1 / 441 ) سنن نسا‏ئي حدیث نمبر ( 1282 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی صحیح الجامع ( 2170 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

    چھٹی مخالفت :

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کی کثرت اورتکرار سے زيارت کرنا ، جیسے کہ ہرفرض نماز کے بعد یا پھرروزانہ کسی معین نماز کے بعد قبر کی زيارت کرنا ، اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی مخالفت ہوتی ہے : ( میری قبرکوتہوار نہ بناؤ )

    ابن حجرہیتمی رحمہ اللہ نے مشکاۃ کی شرح میں کہا ہے کہ : حدیث میں مذکور"عید"، "اعیاد"میں سے اسم ہے ، کہا جاتا ہے : "عَادَہ واِعتَادَہ وتَعَوَّدہ صارلہ عادۃ "، یعنی اس کی عادت بن گئى، اورحدیث کا معنی یہ ہوگا کہ : میری قبر کوتکراراورباربار آنے والی جگہ نہ بناؤ کہ وہاں کثرت سے آؤ ، اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( مجھ پردرود پڑھا کرکیونکہ تم جہاں بھی ہو تمہارا سلام مجھ تک پہنچ جاتا ہے ) لہذا اس میں ہی ایسا کرنے سے کفائت ہے ۔ ابن حجر رحمہ اللہ کی کلام ختم ہوئی

    اورابن رشد کی کتاب "الجامع للبیان" میں ہے کہ :

    "امام مالک رحمہ اللہ تعالی سے کسی اجنبی کے بارےمیں پوچھا گیا جوروزانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پرحاضری دیتا تھاتووہ کہنے لگے : "اسکا حکم نہیں دیا گیا، اورانہوں نے یہ حدیث ذکر کی : ( اے اللہ میری قبر کوایسا بت نہ بنانا جس کی عبادت کی جانے لگے ) البانی نے اسے "تحذیرالساجد من اتخاذ القبورمساجد "صفحہ ( 24 - 26 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

    ابن رشد کہتے ہیں :

    لہذا قبر پرکثرت سے جانا اورسلام کہنا ، اورروزانہ قبر پرآنا مکروہ ہے تاکہ قبربھی مسجد کی طرح ہی نہ بن جائے جہاں روزانہ نماز کی ادائيگى کے لیے لوگ جاتے ہیں، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے :

    ( اے اللہ میری قبر کوایسا بت نہ بنانا جس کی عبادت کی جائے )

    دیکھیں البیان والتحصیل لابن رشد ( 18 / 444- 445 ) ابن رشدرحمہ اللہ کی کلام ختم ہوئى۔

    قاضی عیاض رحمہ اللہ تعالی سے مدینہ کے ان لوگوں کے بارہ میں سوال کیا گيا جوروزانہ ایک یا دوبار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پرکھڑے ہوکر اورسلام پیش کرتے ہیں اورکچھ دیر دعا کرتے ہیں توانہوں نے جواب دیا:

    "مجھے ایسی کوئی بات کسی بھی اہل فقہ کی جانب سے نہيں ملی، اور اس امت کے آخری حصہ کی اصلاح اسی طرح ممکن ہے جیسے پہلے لوگوں کی ہوئی تھی، اور امت کے ابتدائی لوگوں میں سے کسی کے بارے میں یہ نہيں ملتا کہ وہ ایسا کام کیا کرتے تھے ۔

    دیکھیں : "الشفا بتعریف حقوق المصطفی" ( 2 / 676 )

    ساتویں مخالفت :

    مسجد کی کسی بھی جانب سے قبرکی جانب متوجہ ہونا ، اورجب بھی مسجد میں داخل ہویا نماز سے فارغ ہو تو قبرکی جانب رخ کرلینا، اوراپنے ہاتھ بالکل سیدھے کرلینا اورسلام پڑھتے ہوئے اپنے سر اورٹھوڑی کوجھکا لینا ، یہ منتشر بدعات اورمخالفات میں سے ہیں۔

    اللہ کے بندو اللہ تعالی کا تقوی اختیار کرتے ہوئے اللہ سے ڈرو اوران سب بدعات اورمخالفات سے بچ جاؤ ، اورخواہشات اوراندھی تقلید کرنے سے اجتناب کرو اوراپنے معاملات میں ھدایت اوردلیل پرقائم رہو اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

    أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيّنَةٍ مّن رَّبّهِ كَمَن زُيّنَ لَهُ سُوء عَمَلِهِ وَاتَّبَعُواْ أَهْوَاءهُمْ

    { کیا وہ شخص جواپنے پروردگار کی طرف سے دلیل پر ہو اس شخص جیسا ہوسکتا ہے ، جس شخص کے لیے اس کا برا کام مزين کردیا گيا ہواوروہ اپنی نفسانی خواہشات کا پیروکار ہو؟ } محمد ( 14 )

    ہم اللہ تعالی سے دعا گوہيں کہ وہ ہمیں ہدایت یافتہ اورہدایت دینے والوں اور سیدالمرسلین کی سنت پرچلنے والا بنائے .

    http://islamqa.info/ur/36860




    الاسلام سوال وجواب
     
  7. ‏ستمبر 25، 2014 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,860
    موصول شکریہ جات:
    6,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    10620762_635610226554893_3419729336930127334_n.png
     
  8. ‏اگست 22، 2015 #8
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,860
    موصول شکریہ جات:
    6,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    السلام علیکم :

    شیخ محترم @اسحاق سلفی بھائی اس کی وضاحت کر دیں
     
  9. ‏اگست 22، 2015 #9
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,450
    موصول شکریہ جات:
    2,201
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی یہ روایت ’’ مصنف ابن ابی شیبہ ‘‘ میں ہے ؛
    اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے ۔۔تحقیق فضل الصلاۃ علی النبی ﷺ ۔۔میں اس کو صحیح کہا ہے :
    وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رضي الله عنهما إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ , دَخَلَ الْمَسْجِدَ , ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ فَقَالَ: السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا أَبَتَاهُ، ويُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ. (1)
    ترجمہ :
    سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب سفر سے واپس آتے تو مسجد نبوی میں حاضر ہوتے ،اور قبر نبوی علی صاحبہا الصلاۃ والسلام کے پاس آتے ،اور سلام پیش کرتے ‘‘
    __________
    (1) (مصنف ابن ابی شیبہ) 11793 , وصححه الألباني في (فضل الصلاة على النبي): 99
     
    Last edited: ‏جولائی 09، 2017
  10. ‏اگست 22، 2015 #10
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,860
    موصول شکریہ جات:
    6,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    جزاک اللہ خیرا - شیخ محترم
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں