1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

حج کا آخری کام : طواف وداع

'عمرہ اور حج' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏ستمبر 14، 2016۔

  1. ‏ستمبر 14، 2016 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    878
    موصول شکریہ جات:
    285
    تمغے کے پوائنٹ:
    158

    مناسک حج میں بطور آخری کام خانہ کعبہ کا طواف کرناہے ۔ یہ اس وقت انجام دینا ہے جب حاجی حج کے تمام اعمال سے فارغ ہوجائے یعنی بارہ ذی الحجہ (اگر تعجیل کرنا چاہے) یا تیرہ ذی الحجہ کی رمی کرلے اور گھر واپسی کا ارادہ ہوتو طواف وداع کرے اور دو رکعت نماز طواف ادا کرے اور پھر مکہ میں سکونت اختیار نہ کرے بلکہ وہاں سے واپس ہوجائے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
    لا ينفرِنَّ أحدٌ حتى يكون آخرَ عهدِه بالبيتِ(صحيح مسلم:1327)
    ترجمہ: کوئی آدمی اس وقت تک نہ جائے جب تک وہ آخر میں کعبہ کا طواف نہ کرلے ۔
    اس لئے علماء نے طواف وداع کو واجب کہا ہے ۔ اگر اسے حاجی چھوڑدیتا ہے حج تو صحیح ہوگا پر دم لازم آئے گا۔
    جن کو ایام تشریق کی رمی کے بعد کچھ دن مکہ میں مزید ٹھہرنا ہو وہ اسی وقت طواف وداع نہ کرے بلکہ جب مکہ چھوڑنے لگے اس وقت طواف وداع کرے ۔

    طواف وداع کے دیگر مسائل
    (1) طواف وداع کے وقت اگر عورت کو حیض آجائے تو اس سے یہ طواف ساقط ہوجاتا ہے،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
    أمرَ الناسَ أن يكون آخرَ عهدهم بالبيتِ . إلا أنَّهُ خفَّفَ عن المرأةِ الحائضِ(صحيح مسلم:1328)
    ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ حکم دیا کہ آخری عمل بیت اللہ کا طواف ہونا چاہیے لیکن حائضہ عورت کو آپ نے اس سے مستثنیٰ قرار دیا۔
    اس میں ایک بات یہ دھیان میں رہے کہ اگر ایام تشریق کی رمی کے بعد عورت کو حیض آتاہےاور وہ عورت مکہ میں مزید چند دن رہنا چاہتی ہے یہاں تک کہ واپسی کے وقت حیض سے پاک ہوگئی تو اسے طواف وداع کرناہوگا۔
    (2) طواف وداع جیسے حیضاء سے ساقط ہے ویسے ہی نفاس والی عورت سے بھی ساقط ہے ۔
    (3) طواف دواع اصل میں ان مسافروں کے لئے ہے جو اپنے اہل وعیال کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں اس وجہ سے مکہ والوں کے لئے طواف دواع نہیں ہے کیونکہ وہ وہی مقیم رہیں گے ۔ ہاں اگر مکہ والے حج کی ادائیگی کے بعد کہیں سفر کرنا چاہتے ہوں مثلا مدینہ طیبہ کی زیارت تو پھر وہ بھی طواف وداع کریں گے کیونکہ نبی ﷺ کا فرمان ہے کوئی اس وقت نہ نکلے جب تک آخری کام کے طور پر کعبہ کا طواف نہ کرلے ۔
    (4) عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ جدہ والے نزدیک ہونے کی وجہ حج کرکے جدہ چلے جاتے ہیں اور بعد میں آکر طواف وداع کرتے ہیں اس سے دم لازم آئے گا۔ اس لئے انہیں چاہئے کہ حج کا آخری کام طواف وداع کرکے ہی جدہ جائیں ۔
    (5) طائف والوں میں بھی بعض جدہ والوں کی طرح بغیر طواف وداع کے واپس ہوجاتے ہیں جوکہ ترک واجب کی وجہ سے دم کو مستلزم ہے۔
    (6) جنہوں نے سفر کرنے تک طواف افاضہ نہیں کیا ہو(جوکہ یوم النحرکوکرنا ہوتاہے)وہ واپسی کے وقت ایک ہی نیت سے طواف افاضہ اور طواف وداع کرلے یعنی ایک ہی طواف دنوں کے لئے کفایت کرجائے گا۔
    (7) طواف کے ساتھ دو رکعت نماز مسنون ہے اس لئے طواف وداع کے وقت بھی طواف کے بعد دو رکعت نماز ادا کریں ۔
    (8) اسی طرح طواف کے لئے وضو بھی شرط ہے بغیر وضو کے طواف نہیں ہوگا۔
    (9) اگر حاجی نے طواف وداع کرلیا اور وہ جدہ گیا پھر اگر مکہ کے راستے کسی دوسرے شہر میں جانا پڑے تو دوبارہ طواف کی ضرورت نہیں۔
    (10) طواف وداع کے بعد آدمی اتنی دیر مکہ میں رہ سکتا ہے جس میں سفر کی تیاری وغیرہ کرلے ،اس کے لئے متعین گھنٹے نہیں مگر کئی دن رکنا صحیح نہیں ہے، لیکن اگر طواف وداع کے بعد مکہ میں رکنے کا کوئی عذرپیش آگیا تو دوبارہ طواف نہ کرے ۔ ہاں اگر طواف کے بعد بغیر عذر کے مزید ایک دو دن رکنے کا ارادہ کرلے تو دوبارہ طواف کرنا پڑے گا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں