1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حدث اصغر کی صورت میں مصحف قرآنی کو ہاتھ لگانے کا حکم

'احکام ومسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از شاہد نذیر, ‏اکتوبر 12، 2014۔

  1. ‏اکتوبر 15، 2014 #41
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    بات دلیل کی قوت یا کمزوری کی نہیں بلکہ دلیل کے فہم کی ہے۔ میں نے جو اب تک دین کا علم حاصل کیا ہے اس محدود علم کے مطابق میں کسی شخص کے اپنی ذاتی عقل اور فہم سے قرآن و حدیث سمجھنے کو گمراہی تصور کرتا ہوں خصوصاً جب وہ فہم سلف کے فہم سے ٹکرا جائے۔ دینی مسئلہ میں قلیل کے مقابلے میں جمہور کا فہم ہی راجح ہے کیونکہ زیادہ لوگوں کے غلطی پر ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔ اور میں نوری پوری رحمہ اللہ اور حافظ زبیرعلی زئی رحمہ اللہ کے اس نعرہ سے سوفیصد متفق ہوں کہ ’’ہم تو بس ایک ہی بات جانتے ہیں کہ سلف کا خلاف جائز نہیں‘‘
     
  2. ‏اکتوبر 15، 2014 #42
    قاھر الارجاء و الخوارج

    قاھر الارجاء و الخوارج رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2014
    پیغامات:
    393
    موصول شکریہ جات:
    235
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    عن الحسن البصري ، رحمه الله ، أنه كان لا يرى بأسا أن يمس المصحف على غير وضوء ، ويحمله إن شاء(
    (4) أثر صحيح . أخرجه أبو عبيد في ( الفضائل ) ( ص : 401 ) قال : حدثنا يزيد ، عن هشام ، عن الحسن ، به .
    منقوووووووول
     
  3. ‏اکتوبر 15، 2014 #43
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    ائمہ اربعہ سمیت جمہور علما طلاق ثلاثہ بہ یک مجلس کو تین ہی قرار دیتے ہیں ؛کیا آپ ان سے متفق ہیں؟؟
    فہم سلف کا میں نے کب انکار کیا ہے؟؟؟کیا امام حسن بصریؒ سلف میں شامل نہیں؟؟؟
    یہ اصول کہ دینی فہم میں جمہور کا فہم ہی راجح ہے،کیا کتاب و سنت اور سلف کی تصریحات سے ثابت ہے؟؟
    اگر ہاں تو اس کی کوئی سند پیش فرمادیں ؛جزاکم اللہ خیراً
    میرا خیال ہے آپ فرط جذبات میں اصل نکتے کو شاید سمجھے ہی نہیں؛محل نزاع چیز سلف کا فہم نہیں بل کہ یہ ہے کیا جمہور کی پیروی لازم ہے یا نہیں؟؟فافھم و تدبر ولا تکن من العاجلین۔
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 15، 2014 #44
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    جزاکم اللہ خیراً،میں نے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے اوپر اپنی کسی پوسٹ میں۔
     
  5. ‏اکتوبر 15، 2014 #45
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    حضرت محدث نورپوری صاحب مرحوم کی بھی عجیب ہی کہی شاہد نذیر صاحب نے کہ ان کی طرف بعض لوگوں نے یہ منسوب کیا ہے کہ وہ اجماع تک کو سرے سے حجت نہیں سمجھتے!!!
     
  6. ‏اکتوبر 15، 2014 #46
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    یہ بات میں نے براہ راست پیس ٹی وی پر ان ہی کی زبانی ایک سے زائد مرتبہ سنی ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏اکتوبر 15، 2014 #47
    قاھر الارجاء و الخوارج

    قاھر الارجاء و الخوارج رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2014
    پیغامات:
    393
    موصول شکریہ جات:
    235
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    و ایاک
    جی بھائی ابو الحسن بھائی نے حوالہ مانگا تھا کہ ان کے خیال میں حسن بصری رحمہ اللہ کا ایسا قول نہیں ہے اس لیئے دیا یہ شیخ رفیق طاھر فک اللہ اسرہ کی طرف بھی منسوب ہے اور غالبا پایہ ثبوت کو پہنچتا ہے کہ ان کے نزدیک اجماع کس پر کب ہوا ہے پہلے دکھا تو دیں
    اگر میرا حافظہ ساتھ دے رہا ہے تو
     
  8. ‏اکتوبر 15، 2014 #48
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے بھی منسوب ہے کہ حدث اصغر کی صورت میں قرآن کو چھونا جائز ہے ،وضو واجب نہیں؛سند کی حالت و کیفیت ابھی مجھے معلوم نہیں؛تحقیق جاری ہے؛واللہ اعلم
    مرجیوں اور خارجیوں پر قہر مسلط کرنے والے بھائی اگر توجہ فرمائیں تو۔۔۔ابتسامہ
     
  9. ‏اکتوبر 15، 2014 #49
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,940
    موصول شکریہ جات:
    6,202
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    میں تو محض طالب علم ہوں میں آپ جیسے اہل علم کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ جتنا علم تھا اتنی بحث کرلی لیکن آپ نے بحث کو جو اب رخ دیا ہے اس کے متعلق مجھے فی الحال کچھ علم نہیں اس لئے میں معذرت چاہتا ہوں کہ اس کے جواب کے لئے مجھے تحقیق کرنی پڑے گی اور فی الوقت میرے پاس اتنا وقت نہیں۔ قرآن و حدیث اور فہم سلف کی روشنی میں آپ ہی بتادیں کہ کسی دینی مسئلہ میں جمہور کے فہم کی پیروی کی شریعت میں کیا حیثیت ہے؟
     
  10. ‏اکتوبر 16، 2014 #50
    قاھر الارجاء و الخوارج

    قاھر الارجاء و الخوارج رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2014
    پیغامات:
    393
    موصول شکریہ جات:
    235
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    جی طاھر بھائی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کا اثر ہے کہ وہ جنبی کیلئے بھی تلاوت قرآن جائز سمجھتے تھے صحیح بخاری میں یہ دیکھیں http://library.islamweb.net/newlibrary/display_book.php?flag=1&bk_no=52&ID=593
    اور ابن حجر نے جو باب کی مطابقت بیان کی ہے حدیث سے وہ بھی دیکھیں
    اوپر شاھد بھائی نے ھرقل والی روایت بارے کہا تھا کہ پھر تو یہ بھی کہیں کہ قرآن نجس کیلئے چھونا بھی جائز ہے تو پہلی بات یہ ہے کہ انما المشرکون نجس بعد میں نازل ہوئی تھی اور دوسری یہ کہ اسلام کی دعوت دینا کفار کو واجب ہے تو کیسے ان کو بغیر قرآن کے دعوت دے دیجائے؟؟؟ یعنی بقدر ضرورت آیت لکھ دینی یا مقصود صفحہ یا جزء دے دینا دعوت کی بنیاد پر واللہ اعلم بظاھر اس میں حرج نہیں
    اور فھم سلف تو حجت ہے لیکن کیا فھم جمھور کا حجت ہے یا کہ جس کا فھم دلیل کے موافق ہے ؟؟؟ قاعدہ یہ نہیں کہ جمھور کا فھم حجت ہے کبھی کبھی حق جمھور کے فھم کے خلاف بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ اذا وافقت الحق فانت الجماعۃ و لو کنت وحدک
    اس موضوع پر کئی کتب لکھی گئی ہیں الشیخ عمر الحدوشی حفظہ اللہ کی یہ کتاب بھی ایک اھم کتاب ہے اسی موضوع پر http://elibrary.mediu.edu.my/books/MAL05724.pdf
    اعلام الخائض بجواز مس المصحف للجنب و الحائض
    عرصہ قبل ایک کتاب دیکھی تھی جس کا موضوع اس حدیث کا ضعف بیان کرنا تھا لا احل المسجد لحائض
    لا یمسہ الا المطھرون تفسیر طبری میں دیکھیئے سند صحیح کے ساتھ اقوال میں مراد کون ہیں صرف ملائکہ اور دوسرے قول پر ان کی مثل اور انبیاء اور ان کی مثل بلکہ رد بھی ہے اقوال میں ان پر جنہوں نے اس سے مراد عام مسلمانوں کو لیا
    ان تجد عیبا فسد الخللا جل من لا عین فیہ و علا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں