1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حدث اصغر کی صورت میں مصحف قرآنی کو ہاتھ لگانے کا حکم

'احکام ومسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از شاہد نذیر, ‏اکتوبر 12، 2014۔

  1. ‏اکتوبر 16، 2014 #51
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    جاء في المغني: مسألة: قال: ولا يمس المصحف إلا طاهر يعني طاهرا من الحدثين جميعا. روي هذا عن ابن عمر والحسن وعطاء وطاوس والشعبي والقاسم بن محمد وهو قول مالك والشافعي وأصحاب الرأي، ولا نعلم مخالفا لهم إلا داود فإنه أباح مسه.
     
  2. ‏اکتوبر 16، 2014 #52
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ایسے شخص کے لئے قرآن کی تلاوت کا حکم جسے حدث اصغر لاحق ہے

    سوال نمبر: - 2 فتوی نمبر:557س 2:

    کیا قضائے حاجت (یعنی بیت الخلاء) سے فراغت کے بعد پتھر سے جائے نجاست صاف کرنے والے کے لئے قرآن کریم کی تلاوت کرنا اور اسے اٹھانا جائز ہے، جیساکہ آج مدارس میں پانی فراہم نہ ہونے کی وجہ سے کرنا پڑتاہے، چنانچہ مدرس قضائے حاجت کے بعد درس قرآن دیتا ہے، تو کیا اس کے لئے پتھر سے صاف کر لینا کافی ہوگا یا وضو کرنا ضروری ہوگا اگرچہ اسے مشقت اٹھانی پڑے؟

    ج 2: جو صرف پتھر سے جائے نجاست صاف کرے اور وضو نہ کرے اس کے لئے قرآن کریم کی تلاوت کرنا جائز ہے چاہے مدرس ہو یا طالب علم، بشرطیکہ جنبی نہ ہو، لیکن وضو کرکے تلاوت کرنا افضل ہے، البتہ حدث اکبر یا حدث اصغر کے بعدوضو کئے بغیر مصحف چھونا جمہور علماء کے نزدیک جائز نہیں ہے، ان کی دلیل اللہ تعالی کا یہ قول ہے: [​IMG][​IMG] [​IMG]
    ﺟﺴﮯ ﺻﺮﻑ ﭘﺎﻙ ﻟﻮﮒ ﮨﯽ ﭼﮭﻮ ﺳﻜﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔

    [​IMG] ، اور جیساکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ عمرو بن حزم کو بھیجے گئے خط میں یہ حکم ہے: [​IMG]صرف پاک لوگ ہی قرآن کو چهو سكتے ہيں۔[​IMG] اور جزدان کے واسطے سے قرآن اٹھانا جائز ہے، کیونکہ اس سے چھونے کا تحقق نہیں ہوتا، یہی حنابلہ، ابو حنيفہ، حسن بصری، اور ایک جماعت کا قول ہے، لیکن اگر حدث اکبر یا حدث اصغر کے بعد کسی شخص کو قرآن چھونے کی ضرورت ہو اور پاکی حاصل کرنے کے لئے پانی نہ ہو تو تیمم کرلے، اس طور پر چھونا جائز ہے۔وبالله التوفيق۔ وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلَّم۔علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی
    ممبرنائب صدر برائے کمیٹیصدر
    عبد اللہ بن منیععبدالرزاق عفیفیابراہیم بن محمد آل شیخ

    http://alifta.com/Search/ResultDeta...032217130216177216162217134#firstKeyWordFound

     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏اکتوبر 17، 2014 #53
    قاھر الارجاء و الخوارج

    قاھر الارجاء و الخوارج رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2014
    پیغامات:
    393
    موصول شکریہ جات:
    235
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    ابو الحسن بھائی ایسی نقول کا فائدہ نہیں با سند ذکر کریں تا کہ علمی انداز میں بات ہو اگر ابن قدامہ رحمہ اللہ نے یہ لکھا ہے تو ادھر بھی دیکھیں قرطبی نے کیا لکھا ہے
    لسادسة : واختلف العلماء في مس المصحف على غير وضوء ، فالجمهور على المنع من مسه لحديث عمرو بن حزم . وهو مذهب علي وابن مسعودوسعد بن أبي وقاص وسعيد بن زيد وعطاء والزهري والنخعي والحكم وحماد ، وجماعة من الفقهاء منهم مالك والشافعي . واختلفت الرواية عن أبي حنيفة ، فروي عنه أنه يمسه المحدث ، وقد روي هذا عن جماعة من السلف منهم ابن عباس والشعبي وغيرهما .
    اور امام بغوی نے بھی لکھا ہے

    وقال قوم : معناه لا يمسه إلا المطهرون من الأحداث والجنابات ، وظاهر الآية نفي ومعناها نهي ، قالوا : لا يجوز للجنب ولا للحائض ولا المحدث حمل المصحف ولا مسه ، وهو قول عطاء وطاوس ، وسالم ، والقاسم ، وأكثر أهل العلم ، وبه قال مالك والشافعي . وقال الحكم ، وحماد ، وأبو حنيفة :يجوز للمحدث والجنب حمل المصحف ومسه . والأول قول أكثر الفقهاء .
    اور غالبا المغنی میں کچھ اور بھی نام لکھے ہیں داود ظاھری کے علاوہ بھی
    والذی علم حجۃ علی من جھل
    ان تجد عیبا فسد الخللا جل من لا عیب فیہ و علا
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 17، 2014 #54
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    میں تو اپنے تئیں سندیں بھی دیکھ لی ہیں اور اقوال بھی، باقی بات صرف حسن بصری رحمہ اللہ کے حوالہ سے آگے بڑھی ہے۔
    اور میرے مطالعہ میں ان کا کوئی ایسا قول نہیں ہے کہ بغیر وضو مس مصحف جائز ہے۔
    آپ سند کے ساتھ ان کا قول پیش کر دیں تو بات آگے بڑھا لیتے ہیں۔ میں نے تو اس مصدر کا مطالعہ کر لیا ہے کہ جس میں یہ سند کے ساتھ منقول ہے۔ چاہتا یہ ہوں کہ آپ ثانوی مصادر کی بجائے خود بھی اس اصل مصدر کا مطالعہ کر لیں یا پھر کوئی ایسا مصدر اور نکال لائیں جو ابھی میرے علم میں نہیں ہے تو اس میں میرا بھلا ہو جائے گا۔ جزاکم اللہ خیرا۔
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏اکتوبر 18، 2014 #55
    قاھر الارجاء و الخوارج

    قاھر الارجاء و الخوارج رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2014
    پیغامات:
    393
    موصول شکریہ جات:
    235
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏اکتوبر 18، 2014 #56
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    قاہرالارجاءوالخوارج!بے حد شکریہ
    فضائل القرآن کے محولہ بالا صفحے پر نیچے حاشیے میں لکھا ہے کہ عطاؒ کا بھی یہی قول ہے یعنی مس مصحف کے لیے وضو واجب نہیں اور حضرت سعید بن جبیرؒ کے متعلق مرقوم ہے کہ وہ بغیر وضو مصحف سے تلاوت کرتے تھے جس سے بہ ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی مصحف چھونے کے لیے وضو کو واجب نہیں سمجھتے تھے کیوں کہ دوران تلاوت اوراق بھی تو الٹنے ہوتے ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  7. ‏اکتوبر 18، 2014 #57
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    کتاب المصاحف کا جو حوالہ آپ نے نقل کیا ہے وہ درج ذیل ہے:
    (حديث مقطوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، " أَنَّهُ كَانَ لا يَرَى ذَلِكَ بَأْسًا " .
    کہ حسن بصری رحمہ اللہ اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے۔

    سوال یہ ہے کہ کس میں؟ یہ اثر غیر واضح اور نامکمل ہے۔ ایسے اثر سے استدلال کیسے ممکن ہے؟ جس میں ذلک کا معنی ہی نہ ذکر کیا گیا ہو۔ اگر اس ذلک پر سرچ کریں تو واضح ہو جاتا ہے کہ اس سے مراد مس مصحف نہیں ہے، بلکہ کچھ اور ہے جیسا کہ ہم آگے ایک اثر نقل کر رہے ہیں۔

    البتہ دوسرا اثر متعلق ہے۔ اس بارے اگلی پوسٹ میں بحث کر رہا ہوں۔
     
    Last edited: ‏اکتوبر 18، 2014
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏اکتوبر 18، 2014 #58
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    میری رائے میں حسن بصری رحمہ اللہ کسی آڑ کے ساتھ بغیر وضو حمل مصحف کو جائز سمجھتے تھے جیسا کہ ایک روایت کے الفاظ ہیں:
    حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: «لَا بَأْسَ أَنْ يَتَنَاوَلَ الرَّجُلُ الْمُصْحَفَ إِذَا كَانَ فِي وِعَائِهِ أَوْ فِي عِلَاقَتِهِ»
    یہ روایت ابو عبید کی روایت کی تشریح کر رہی ہے کیونکہ وہاں مس مصحف کا ذکر ہے جبکہ یہاں یہ ہے کہ وہ مس مصحف کو جائز سمجھتے تھے لیکن کسی آڑ یا رکاوٹ یا رحل کے ساتھ۔

    اور یہی بات الموسوعۃ الفقھیۃ کے مقالہ نگار نے بھی کی ہے جیسا کہ ان کے الفاظ ہیں:
    ذهب الحنفيّة والحنابلة , وهو قول الحسن وعطاءٍ والشّعبيّ والقاسم والحكم وحمّادٍ , إلى أنّه لا بأس أن يحمل الجنب أو المحدث المصحف بعلاقة , أو مع حائلٍ غير تابعٍ له , لأنّه لا يكون ماساً له فلا يمنع منه كما لو حمله في متاعه , ولأنّ النّهي الوارد إنّما هو عن المسّ ولا مسّ هنا

    ابو عبید رحمہ اللہ کی بات کا تسلسل بھی دیکھیں تو انہوں نے پہلے امام مالک رحمہ اللہ کا قول نقل کیا کہ وہ آڑ کے ساتھ بھی بغیر وضو مس مصحف کو جائز نہیں سمجھتے ہیں۔ پھر انہوں نے کہا کہ یہ تو معمول کی بات ہے اور پھر ساتھ ہی حسن بصری رحمہ اللہ کا قول نقل کر دیا اور اس کے بعد کچھ سلف کا اقوال نقل کیے جن میں تو آڑ کا ذکر الفاظ میں موجود ہے۔

    ایسا ہی قول سعید بن جبیر کا بھی ہے جس کے الفاظ ہیں:
    حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ يَعْنِي الْأَعْرَجَ، قَالَ: «رَأَيْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ قَرَأَ فِي الْمُصْحَفِ، ثُمَّ نَاوَلَ غُلَامًا لَهُ مَجُوسِيًّا بِعِلَاقَتِهِ»

    عطاء نے بھی حائضہ کے لیے اس کو جائز قرار دیا ہے کہ وہ کپڑے یا آڑ سے مصحف پکڑ لے جیسا کہ ایک قول ہے:
    حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَيْمَنَ بْنِ نَابِلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ: «لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَ الْحَائِضُ بِعِلَاقَةِ الْمُصْحَفِ»
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏اکتوبر 18، 2014 #59
    قاھر الارجاء و الخوارج

    قاھر الارجاء و الخوارج رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2014
    پیغامات:
    393
    موصول شکریہ جات:
    235
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    ابو الحسن بھائی نے لکھا
    اگر آپ اس اثر پر قائم باب دیکھتےتو یقینا یہ اعتراض ختم ہو جاتا دیکھیئے ص 212 پر باب کیا لکھا ہے یمس المصحف من لیس علی وضوء
    کتاب المصاحف http://muhammadanism.com/Arabic/book/dawud/kitab_masahif.pdf
    اور اس سے پچھلے آثار دیکھنے سے بھی معلوم ہو جائے گا کہ آڑ سے پکڑنا وہ پہلے گزر چکا ہے اور اس میں الحسن رحمہ اللہ کا قول بھی ہے یہاں بغیر آڑ کے چھونے کی بحث ہے
    جو آپ نے کہا کہ
    ایک فھم آپ کا ہے ایک اس کا جس نے یہ آثار جمع کیئے اور اس پر باب باندھا کس کا فھم مانیں؟؟؟
    آپکے بیان کردہ الفاظ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہیں اور اس اثر پر باب یہ ہے في الرجل على غير وضوء والحائض يمسان المصحف
    شروع کے آثار تو آڑ کے الفاظ ذکر کر رہے ہیں جبکہ بعد والے آثار میں کسی آڑ کا ذکر نہیں ہے اور یہاں وہ الفاظ بھی مذکور ہیں جو میں نے اوپر ذکر کیئے لا باس بہ اسی باب کے تحت جو غالبا دونوں مسئلوں میں ان کا موقف بیان کرنے کی غرض سے ذکر کیے ہیں
    اور جو آثار آپ نے ذکر کیئے سعید اور عطاء رحمھما اللہ کے وہ بھی المصاحف میں مذکور ہیں لیکن اس پر باب دوسرا ہے الحائض و الجنب یاخذان المصحف بعلاقتہ اور جو مجوسی والی روایت بیان کی ہے اس پر باب ہے الکافر یاخذ المصحف بعلاقتہ لہذا آپ کے ذکر کردہ آثار سے استدلال مناسب نہیں لگتا کیونکہ سعید بن جبیر اور عطاء رحمہ اللہ کے اقوال مجوسی کے بارے ہیں بے وضو کے بارے نہیں
    اور جو آپ نے کہا کہ
    یہ آپ کا ہی فھم ہے ورنہ تو اسی باب کے تحت وہ آثر بھی ہیں جس میں آڑ کا ذکر نہیں اور وہاں آڑ کا ہونا بھی ممکن ہی نہیں امام ابو عبید نے اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں دیا کہ یہ اقوال آڑ کے ساتھ مس مصحف کا حکم بیان کر رہے ہیں
    دوسری بات موسوعۃ فقھیۃ کے جامع نے یہ قول کہاں سے لیا ؟؟؟
    آپ نے جو جو اعتراض کیا اپنے فھم سے اس کا جواب المصاحف میں موجود ہے ان ابواب کی صورت میں جو ان آثار پر باندھے گئے
    ان تجد عیبا فسد الخللا جل من لا عیب فیہ و علا
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں