1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حدیث اعمی کا تحقیقی جائزہ

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از difa-e- hadis, ‏نومبر 12، 2017۔

  1. ‏نومبر 12، 2017 #1
    difa-e- hadis

    difa-e- hadis رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 20، 2017
    پیغامات:
    203
    موصول شکریہ جات:
    22
    تمغے کے پوائنٹ:
    31

    حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرَ الْبَصَرِ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي قَالَ إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ وَإِنْ شِئْتَ صَبَرْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَکَ قَالَ فَادْعُهْ قَالَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ وُضُوئَهُ وَيَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَائِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْکَ بِنَبِيِّکَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِکَ إِلَی رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَی لِيَ اللَّهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ
    عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک نابینا شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میرے لئے عافیت کی دعا کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر چاہو تو میں دعا کرتا ہوں اور اگر چاہو تو اسی (نابینا پن) پر صبر کرو۔ اور یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ اس نے عرض کیا، آپ میرے دعا ہی کر دیجئے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ اچھی طرح وضو کرنے کے بعد اس طرح دعا کرو اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْکَ بِنَبِيِّکَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِکَ إِلَی رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَی لِيَ اللَّهُمَّ فَشَفِّعْهُ فِيَّ (یعنی اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں۔ اے اللہ ! میرے بارے میں ان کی شفاعت قبول فرما)

    محترم ساتھیو :۔ السلام علیکم
    یہ حدیث وسیلہ کے باب میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس روایت سے وسیلہ بذات کا قائل ہے اور دوسری جانب جو اس وسیلہ کا انکار کرتے ہیں وہ اس حدیث کے حوالے سے ایک خاص نقطے کی نشاندہی کرتے ہیں مگر جو اس حدیث سے وسیلہ بذات کے قائل ہے وہ اس خاص نقطے کو بیان ہی نہیں کرتے جس سے اس حدیث کا یہ عقدہ کھل جاتا ہے کہ اس حدیث میں نبی ﷺ کی دعا کو وسیلہ بنایا گیا ہے اور دوسری اہم بات وہ اس روایت میں ایک واقعہ کا بھی تذکرہ کرتے ہیں جو ہم آگے بیان کریں گے مگر سب سے پہلے ہم یہ ثابت کریں گے کہ اس روایت میں نبی ﷺ کی دعا کو وسیلہ بنایا گیا ہے اور اس کی دلیل ہم ذیل میں نقل کر رہے ہیں ۔
    اس روایت کے آخر میں جو الفاظ نقل ہوئے ہیں (فَشَفِّعْهُ فِيَّ)(یعنی میرے بارے میں ان کی شفاعت قبول فرما)اس کے ساتھ وہ الفاظ بھی نقل ہوئے ہیں جن کو متعدد کتب حدیث میں نقل کیا گیا ہے اور ان الفاظ کو وسیلہ کے باب میں ماننے والے بیان ہی نہیں کرتے کیونکہ وہ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ الفاظ ان کے خلاف برہان قاطع ہیں جن سے ان کا باطل استدلال ریت کا ڈھیر ثابت ہو گا اب ہم وہ الفاظ آپ کے سامنے بیان کیے دیتے ہیں۔
    - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ خُزَيْمَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي. فَقَالَ: «إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتَ ذَلِكَ وَهُوَ خَيْرٌ، وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ» . قَالَ: فَادْعُهُ. قَالَ: فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ وُضُوءَهُ، وَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وَيَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ فَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ، وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ فَتُقْضَى لِي، اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ وَشَفِّعْنِي فِيهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "
    (مسند احمد رقم 17241، صحیح ابن خزیمہ 1219، مستدرک الحاکم1180)
    حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نابینا آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے عافیت عطاء فرمائے (میری آنکھوں کی بینائی لوٹا دے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم چاہو تو میں تمہارے حق میں دعاء کر دوں اور چاہو تو اسے آخرت کے لئے مؤخر کر دوں جو تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے؟ اس نے کہا کہ دعاء کر دیجئے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کہ نبی الرحمۃ ہیں کے وسیلے سے آپ سے سوال کرتا اور آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں ، اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم! میں آپ کو لے کر اپنے رب کی طرف توجہ کرتا ہوں اور اپنی یہ ضرورت پیش کرتا ہوں ، تاکہ آپ میری یہ ضرورت پوری کر دیں ، اے اللہ!میری سفارش ان کے حق میں قبول کر میرے حق میں ان کی سفارش کو قبول فرما اس نے ایسا ہی کیا اور اللہ نے اس کی بینائی واپس لوٹا دی۔
    یہ الفاظ واضح کرتے ہیں کہ اس حدیث میں نبیﷺ کی دعا کو وسیلہ بنایا گیا ہے کیونکہ نبی ﷺ کی سفارش تو نابینا شخص کے حق میں سمجھ آتی ہے مگر نابینا شخص کی سفارش نبیﷺ کے بارے میں یہ وہ الفاظ ہیں جو وہ لوگ بیان نہیں کرتے جو اس حدیث سے نبیﷺ کی ذات مبارک کو وسیلہ بناتے ہیں ان الفاظ کا اس کے علاوہ اور کوئی مفہوم نہیں ہوسکتا کہ ّ" اے اللہ نبیﷺ کی دعا کو میرے حق میں قبول کر اوراس دعا کی برکت سے میری بصارت لوٹادے " ان الفاظ سے اس کے علاوہ اور کوئی مفہوم نہیں کیا جاسکتا ہے ، کہ یہاں نبی ﷺ کی دعا کو ہی وسیلہ بنایا گیا ہے اور اس کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اگر یہاں نبیﷺ کی ذات مبارک کو وسیلہ بنانا مقصود ہوتا تو نابینا شخص اپنے گھر سے ہی دعا کر سکتا تھا کہ اے اللہ نبیﷺ کے وسیلہ سے میری بصارت لوٹادے مگر اس نے نبیﷺ کی خدمت میں آ کر عرض کی " کہ اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے عافیت عطاء فرمائے (میری آنکھوں کی بینائی لوٹا دے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم چاہو تو میں تمہارے حق میں دعاء کر دوں اور چاہو تو اسے آخرت کے لئے مؤخر کر دوں جو تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے؟ اس نے کہا کہ دعاء کر دیجئے" یہ الفاظ گواہ ہیں کہ نبیﷺ نے اس کے لئے دعا کی تھی اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ نبیﷺ کے وصال کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے اس دعا کو نہیں پڑھا اور اس سے اپنی کسی حاجت کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کی ہے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ الفاظ نبیﷺ کی دعا کو وسیلہ بنانے پر دل ہیں اور نبیﷺ کے وصال کے بعد یہ ممکن ہی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی نبیﷺ کے وصال کے بعد اس دعا کو اپنی حاجت روائی کے لئے پڑھا ہو۔
    ایک ضعیف واقعہ
    اس زمن میں جو واقعہ بیان کیا جاتا ہے جس کا تذکرہ ہم نے سطور بالا میں بھی کیا تھا اور بعض لوگ اسے دلیل کے طور پر پیش ہیں کہ نبیﷺ کے وصال کے بعد بھی اس دعا کو پڑھ کر نبیﷺ کی ذات مبارکہ کا وسیلہ حاصل کیا جاسکتا ہے اب ہم وہ واقعہ بھی پیش کیے دیتے ہیں۔
    حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ عِيسَى بْنِ قَيْرَسَ المُقْرِي الْمِصْرِيُّ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ الْمَدَنِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ " أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَاجَةٍ لَهُ , فَكَانَ عُثْمَانُ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ , وَلَا يَنْظُرُ فِي حَاجَتِهِ , فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حَنِيفٍ , فَشَكَا ذَلِكَ إِلَيْهِ , فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ حَنِيفٍ: ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ , ثُمَّ ائْتِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ , إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّكَ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقْضِي لِي حَاجَتِي , وَتَذْكُرُ حَاجَتَكَ , وَرُحْ إِلَيَّ حَتَّى أَرُوحَ مَعَكَ , فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ , فَصَنَعَ مَا قَالَ لَهُ عُثْمَانُ , ثُمَّ أَتَى بَابَ عُثْمَانَ , فَجَاءَ الْبَوَّابُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ , فَأَدْخَلَهُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ , فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَى الطِّنْفِسَةِ , وَقَالَ: حَاجَتُكَ؟ فَذَكَرَ حَاجَتَهُ , فَقَضَاهَا لَهُ , ثُمَّ قَالَ لَهُ: مَا ذَكَرْتَ حَاجَتَكَ حَتَّى كَانَتْ هَذِهِ السَّاعَةُ , وَقَالَ: مَا كَانَتْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ , فَأْتِنَا , ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ , فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ , فَقَالَ: لَهُ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا , مَا كَانَ يَنْظُرُ فِي حَاجَتِي , وَلَا يَلْتَفِتُ إِلَيَّ حَتَّى كَلَّمْتَهُ فِي , فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ: وَاللَّهِ , مَا كَلَّمْتُهُ وَلَكِنْ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَتَاهُ ضَرِيرٌ , فَشَكَا عَلَيْهِ ذَهَابَ بَصَرِهِ , فَقَالَ: لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «أَفَتَصْبِرُ؟» , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ , وَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ , فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «ائْتِ الْمِيضَأَةَ , فَتَوَضَّأْ , ثُمَّ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ ادْعُ بِهَذِهِ الدَّعَوَاتِ» قَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ: فَوَاللَّهِ , مَا تَفَرَّقْنَا وَطَالَ بِنَا الْحَدِيثُ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْنَا الرَّجُلُ كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ ضَرَرٌ قَطُّ " لَمْ يَرْوِهِ عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ إِلَّا شَبِيبُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو سَعِيدٍ الْمَكِّيُّ وَهُوَ ثِقَةٌ وَهُوَ الَّذِي يُحَدِّثُ عَنِ أَحْمَدَ بْنِ شَبِيبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الْأُبُلِّيِّ , وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ وَاسْمُهُ عُمَيْرُ بْنُ يَزِيدَ , وَهُوَ ثِقَةٌ تَفَرَّدَ بِهِ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ بْنِ فَارِسِ عْنِ شُعْبَةَ، وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ , عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهِمَ فِيهِ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ وَالصَّوَابُ: حَدِيثُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ
    ایک آدمی اپنی ضرورت کے تحت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آتا جاتا تھا مگر آپ رضی اللہ عنہ اس کی جانب توجہ نہیں کرتے تھے نہ اس کی حاجت پوری کرتے تھے وہ شخص عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مل کر ان سے اس بات کی شکایت کی تو انہوں نے فرمایا وضو کرو اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پرھو اور پھر یہ دعا کرو (اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اپنے نبی ﷺ کے وسیلہ کے ساتھ متوجہ ہوتا ہوں اور اے محمد میں آپ کے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کہ وہ میری حاجت کو پوارا فرمادے ۔۔۔۔آخر۔

    تحقیق:
    یہ واقعہ طبرانی الصغیر ، دلائل النبویٰ للبیہقی میں نقل ہوا ہے اور اسے کا مدار شبیب بن سعید پر ہے اور اسی نے اس اضافی واقعہ کو بیان کیا ہے اب اس راوی کے بارے میں محدثین کے اقوال بھی نقل کیے دیتے ہیں ۔
    صدوق يغرب.
    ذكره ابن عدي في كامله، فقال: نسخة عن يونس بن يزيد مستقيمة.
    حدث عنه ابن وهب بمناكير.
    قال ابن المديني.
    شبيب بن سعيد ثقة، كان يختلف في تجارة إلى مصر، وكتابه صحيح، قد كتبته عن ابنه أحمد.
    وقد روى ابن وهب عنه،
    قال ابن عدي: كان شبيب لعله يغلط ويهم إذا حدث من حفظه، وأرجو أنه لا يتعمد.
    فإذا حدث عنه ابنه أحمد بأحاديث يونس، فكأنه شبيب آخر - يعنى يجود(میزان الاعتدال ترجمہ 3658)
    سچا ہے مگر اس سے غریب روایات نقل ہوئی ہے ابن عدی فرماتے ہیں : اس سے پاس یونس بن یزید کا صحیح نسخہ موجود ہے اور ابن وھب سے اس کی روایات منکر ہوتی ہے
    ابن المدینی فرماتے ہیں : شبیب بن سعید ثقہ ہے وہ تجارت کی غرض سے مصر گیا تھا اور اس کے پاس جو کتاب ہے وہ صحیح ہے جس کو میں نے اس کے بیٹے احمد نقل کیا ہےاور ا س سے ابن وھب نے بھی روایت کی ہے
    ابن عدی فرماتے ہیں : شیب نے اپنے حفظ سے روایت بیان کی ہو جس میں شاید وہ وہم اور اخلاط کا شکار ہوا ہے اس نے جان بوجھ کر جھوٹ نہیں بولا ہے جب اس سے اس کا بیٹا یونس کی سند سے روایت بیان کرے تو وہ جید ہوتی ہے ۔
    حدث عنه بن وهب بالمناكير وحدث شبيب عن يُونُس، عنِ الزُّهْريّ نسخة الزُّهْريّ أحاديث مستقيمة.
    حَدَّثَنَا ابن الْعَرَّادِ، حَدَّثَنا يَعْقُوبُ بْنُ شَيْبَةَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدْيَنِيِّ يَقُولُ شبيب بن سَعِيد بصري ثقة كان من أصحاب يُونُس كان يختلف في تجارة إلى مصر وكتابه كتاب صحيح قال علي وقد كتبها عن ابنه أحمد بن شبيب.
    ولشبيب بن سَعِيد نسخة الزُّهْريّ عنده عن يُونُس، عنِ الزُّهْريّ وهي أحاديث مستقيمة وحدث عنه بن وهب بأحاديث مناكير وكان شبيب إذا روى عنه ابنه أحمد بن شبيب نسخة يُونُس، عنِ الزُّهْريّ إذ هي أحاديث مستقيمة ليس هو شبيب بن سَعِيد الذي يحدث عنه بن وهب بالمناكير الذي يرويها عنه ولعل شبيب بمصر في تجارته إليها كتب عنه بن وهب من حفظه فيغلط ويهم وأرجو ان لا يتعمد شبيب هذا الكذب.(الکامل فی الضعفاء جلد 5 ص49 ترجمہ 891)
    اس سے ابن وھب نے منکر روایات نقل کی ہیں جب شیب یونس سے زھری کے نسخہ سے روایت بیان تو وہ احادیث صحیح ہوگی۔
    علی بن المدینی فرماتے ہیں شیب بن سعید ثقہ ہے وہ یونس کے پاس بیٹھنے والوں میں سے ہے وہ تجارت کی غرض سے مصر گیا تھا اور اس کے پاس جو کتاب ہے وہ صحیح ہےجس کو اس کے بیٹے احمد سے نقل کیا ہے ۔
    شبیب بن سعیدکے پاس نسخہ زھری جو یونس کی سند سے ہے وہ احادیث صحیح ہیں اور شبیب بن سعید سے جو ابن وھب نے مناکیر نقل کی ہیں کیونکہ شبیب تجارت کی غرض سے مصر جاتا تھا اور اس نے حافظہ سے روایات بیان کی ہیں جس میں شاید وہ وہم اور اختلاط کا شکار ہوا ہے شبیب نے جان بوجھ کر جھوٹی روایات بیان نہیں کی ہیں۔
    قال ابن المديني ثقة كان يختلف في تجارة إلى مصر وكتابه كتاب صحيح وقال أبو زرعة لا بأس به وقال أبو حاتم كان عنده كتب يونس بن زيد وهو صالح الحديث لا بأس به وقال النسائي ليس به بأس وقال ابن عدي ولشبيب نسخة الزهري عنده عن يونس عن الزهري أحاديث مستقيمة وحدث عنه بن وهب بأحاديث مناكير وذكره ابن حبان في الثقات قال بعده ولعل شبيبا لما قدم مصر في تجارته كتب عنه ابن وهب من حفظه فغلط ووهم وأرجو أن لا يتعمد الكذب وإذا حدث عنه ابنه أحمد فكأنه شبيب آخر يعني يجود وقال الطبراني في الأوسط ثقة.(تھذیب التھذیب جلد4 ص307ترجمہ 534)
    ابن المدینی فرماتے ہیں وہ تجارت کی غرض سے مصر جاتا تھا اور اس کی صحیح ہے ابو زرعہ فرماتے ہیں اس میں کو حرج نہیں ابو حاتم فرماتے ہیں اس کے پاس یونس بن یزید کی کتاب ہے حدیث میں اچھا ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں النسائئ فرماتے ہیں کوئی ھرج نہیں ابن عدی فرماتے ہیں: شبیب بن سعیدکے پاس نسخہ زھری جو یونس کی سند سے ہے وہ احادیث صحیح ہیں اور شبیب بن سعید سے جو ابن وھب نے مناکیر نقل کی ہیں ابن حبان نے اس کو ثقات میں نقل کیا ہے اور اس کے بعد فرماتے ہٰں کہ شبیب تجارت کی غرض سے مصر جاتا تھا اور اس نے حافظہ سے روایات بیان کی ہیں جس میں شاید وہ وہم اور اختلاط کا شکار ہوا ہے شبیب نے جان بوجھ کر جھوٹی روایات بیان نہیں کی ہیں، اور جب اس کا بیٹا اس سے روایت کرے تو وہ حدیث جید ہے طبرانی نے اسے ثقہ کہا ہے۔
    قال عَلِيّ ابْن المديني (1) : ثقة، كَانَ من أصحاب يونس بْن يزيد، كَانَ يختلف فِي تجارة إلى مصر، وكتابه كتاب صحيح وقد كتبتها عَنِ ابنه أَحْمَد.
    وَقَال أبو زُرْعَة : لا بأس به.
    وَقَال أَبُو حاتم :كَانَ عنده كتب يونس بْن يزيد، وهو صالح الحديث لا بأس به.
    وَقَال النَّسَائي:ليس به بأس.
    وَقَال أبو أحمد بْن عدي : ولشبيب نسخة الزُّهْرِيّ عنده عَنْ يونس، عَنِ الزُّهْرِيّ أحاديث مستقيمة، وحدث عنه ابن وهب بأحاديث مناكير.(تھذیب الکمال جلد12ص361 ترجمہ2690)
    شبيب ابن سعيد التميمي الحبطي بفتح المهملة والموحدة البصري أبو سعيد لا بأس بحديثه من رواية ابنه أحمد عنه لا من رواية ابن وهب من صغار الثامنة مات سنة ست وثمانين(تقریب تھذیب جلد1 ص263 ترجمہ2730)
    شبیب بن سعید کی اس کے بیٹے سے روایت میں کوئی حرج نہیں مگر ابن وھب سے اس کی روایت قبول نہیں ہے۔

    تبصرہ راوی: اس راوی کے بارے میں محدثین کے اقوال ہم نے نقل کیے ہیں جن کے مطابق یہ روای ثقہ ضرور ہے مگر اس کےحافظ میں خرابی ہے اور یہ اپنے حفظ سے روایت بیان کرنے میں وہم اور اختلاط کا شکار ہو جاتا ہے اور دوم یہ کہ اس کی روایت جب قبول ہو گی جب اس کا بیٹا احمد بن شبیب اس سے یونس کی سند سے روایت بیان کرے کیونکہ اس کے پاس زھری کا نسخہ موجود ہے جو صحیح ہے اور اس کی ابن وھب سے روایات کو قبول نہیں کیا گیا ہے ۔
    ان اصول کے تحت اگر ہم اس واقعہ پر نظر ڈالیں تو یہ واقعہ ازخود اپنے ضعیف ہونے کا ثبوت پیش کر رہا ہے
    اس روایت میں ابن وھب موجود ہے اور اس روایت میں شبیب بن سعید سے ابن وھب نے روایت کی ہے اور اس نے روح بن قاسم نے روایت کی ہے جبکہ ہم اصول بالا سطور میں درج کرچکے ہیں اس کے مطابق یہ واقعہ کسی طرح بھی قابل حجت نہیں ہو سکتاہے یہ واقعہ شبیب کے دوسرے بیٹے اسماعیل نے بھی شبیب سے نقل کیا ہے جس کو امام بیہقی نے دلائل النبویٰ میں نقل کیا ہے (دلائل النبویٰ جلد 6 ص 167)شبیب کے بیٹے اسماعیل کا حال ہمیں کتب رجال میں نہیں ملا اور نہ محدثین نے اس کو شبیب سے روایت کرنے والے رواۃ میں شامل کیا ہے اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اسماعیل بن شبیب ان رواۃ میں سے ہے جس کا حال محدثین کو نہ ملااور سب سے اہم بات کہ اس روایت میں شبیب بن سعید موجود ہے جو اس واقعہ کی قبولیت میں سب سے بڑی روکاوٹ ہے چنانچہ بعض اصول حدیث سے ناپید لوگ اس اصول کو ماننے سے انکاری ہے اور وہ اس کی دلیل کے لئے وہ کہتے ہیں کہ حافظ ابن حجر نے تقریب میں نقل کیا ہے کہ شبیب کی اس کے بیٹے سے ہر روایت قبول ہے اس لئے وہ کہتے ہیں کہ واقعہ شبیب کے دوسرے بیٹے اسماعیل نے بھی شبیب سے روایت کیا ہے جس کو امام بیہقی نے دلائل النبویٰ میں نقل کیا ہے اور شبیب کو محدثین نے ثقہ قرار دیا ہے ۔
    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ شبیب بن سعید ثقہ روای ہے مگر اس نے جب اپنے حافظہ سے روایت بیان کی ہے تو اس میں وہم اور اختلاط کا شکار ہوا ہے اسی بنا پر اس کی ابن وھب سے روایات کو ضعیف کہا گیا ہے اگر شبیب مطلق طور پر ثقہ ہوتا تو اس کے بارے میں ابن حجر کو یہ نقل کرنے کی ضرورت نہ پڑتی کہ اس کی صرف وہ روایات قبول ہیں جو اس کے بیٹے احمد بن شبیب نے اس سے نقل کی ہیں اور دوسری بات اگر وہ مطلق ثقہ ہوتا تو اس کی ابن وھب کے علاوہ ہر روایت قبول ہوتی توابن حجر رحمہ اللہ کچھ اس طرح نقل فرماتے کہ'لا باس بحدیثہ لامن روایۃ ابن وھب''
    اس کی روایت میں کوئی حرج نہیں ہے اور ابن وھب سے اس کی روایت قبول نہیں ہے مگر انہوں نے اس سے روایت قبول کرنے کی دو شرائط بیان کی ہیں (1) اس کی روایت ابن وھب سے نہ ہو(2) اس سے اس کےبیٹے نے روایت کی ہے، اس پر بعض اصول حدیث سے ناپید لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اس کی اپنے بیٹے سے ہر روایت قبول ہے مگراصول وہی ہے جو ہم نے درج بالا سطور میں بیان کیا ہے کہ اس کابیٹا اسے سے یونس کی روایت بیان کرے گا تو وہ صحیح ہو گی اور ابن حجر نے بھی اسی اصول کو اپنایا ہے اس لئے انہوں نے فتح الباری میں بخاری کے رواۃ پر جو طعن ہوا ہے اس کے جواب میں شبیب کے بارے میں اسی اصول کو واضح کیا ہےچنانچہ وہ فرماتے ہیں"
    شبيب بن سعيد الحبطي أَبُو سعيد الْبَصْرِيّ وَثَّقَهُ بن الْمَدِينِيّ وَأَبُو زرْعَة وَأَبُو حَاتِم وَالنَّسَائِيّ وَالدَّارَقُطْنِيّ والذهلي وَقَالَ بن عدي عِنْده نُسْخَة عَن يُونُس عَن الزُّهْرِيّ مُسْتَقِيمَة وروى عَنهُ بن وهب أَحَادِيث مَنَاكِير فَكَأَنَّهُ لما قدم مصر حدث من حفظه فغلط وَإِذا حدث عَنهُ ابْنه أَحْمد فَكَأَنَّهُ شبيب آخر لِأَنَّهُ يجود عَنهُ قلت أخرج البُخَارِيّ من رِوَايَة ابْنه عَن يُونُس أَحَادِيث وَلم يخرج من رِوَايَته عَن غير يُونُس وَلَا من رِوَايَة بن وهب عَنهُ شَيْئا(فتح الباری جلد1 ص409)
    اس کے پاس یونس سے زھری کا نسخہ صحیح ہے اور ابن وھب نے اس سے مناکیر بیان کی ہیں اور جب وہ مصر گیا تو اس نے اپنے حفظ سے روایت بیان کی ہے اور اختلاط کا شکار ہوا ہے اس سے اس کابیٹا جب روایت کرے تو وہ حدیث صحیح ہے اور میں کہتا ہیں کہ بخاری نے اس کے بیٹے کی سند سے یونس کی روایات بیان کی ہیں اور ایک روایت بھی یونس کے علاوہ نہیں لی ہے اور نہ ابن وھب سے روایت لی ہے۔
    اس بیان سے وہ عقد ہ کھل گیا جس سے بعض اصول حدیث سے عاری ہیں دلیل لیتے ہیں اگر حافظ ابن حجر صرف اس کے بیٹے کی تمام روایات کو صحیح کہتے توان کے لئے یہی فرمانا کافی ہوتا کہ امام بخاری نے شبیب کے بیٹے سے تمام روایات لی ہیں مگر انہوں سے اس بات کو پوری طرح واضح کیا کہ امام بخاری نے یونس سے ہی روایت لی ہے کیونکہ وہ بھی یہ جانتے تھے کہ شبیب کے بیٹے کے پاس ہی وہ نسخہ ہے جس پر تمام محدثین متفق ہیں کہ یہ صحیح ہے ۔
    اب اس کے بعد بھی اگر کسی کو کوئی شک ہوتا ہے کہ شبیب کی اس کے بیٹے سے ہر روایت قبول ہے تو ہم یہ ثابت کریں گے کہ اس واقعہ کو بیان کرنے میں شبیب اختلاط اور وہم کا شکار ہوا ہے اور اس لئے بھی یہ واقعہ نا قابل حجت ہے ۔
    شبیب سے یہ نابینا والی حدیث اس کے بیٹے احمد بن شبیب نے روح بن قاسم کی سند سے بیان کی ہے مگر اس میں اس واقعہ کا کو تذکرہ موجود نہیں ہے سند درج ذیل ہے
    أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ الدَّبَّاسُ، بِمَكَّةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ الْحَبَطِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدَنِيِّ وَهُوَ الْخَطْمِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَهُ رَجُلٌ ضَرِيرٌ، فَشَكَا إِلَيْهِ ذَهَابَ بَصَرِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ لِي قَائِدٌ، وَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ، ثُمَّ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ، وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّكَ فَيُجَلِّي لِي عَنْ بَصَرِي، اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ، وَشَفِّعْنِي فِي نَفْسِي (مستدرک حاکم رقم1930)


    - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ الدَّبَّاسُ، بِمَكَّةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبِ بْنِ سَعِيدٍ الْحَبَطِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدَنِيِّ وَهُوَ الْخَطْمِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَمِّهِ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ،(دلائل النبویٰ للبیہقی جلد 6 ص 167)

    ان روایات میں شبیب بن سعید موجود ہے اور اسکے بیٹے احمد نے اس سے روح بن قاسم کی سند سے روایت کی ہے مگر عثمان رضی اللہ عنہ والے واقعہ کا کوئی تذکرہ اس نے نہیں کیا ہے اس حدیث کو روح بن قاسم نے بھی دوسری سند سے روایت کیا ہے مگر اس نے بھی ایسے کسی واقعہ کا ذکر نہیں کیا ہے(مستدرک الحاکم رقم 1929عمل الیوم اللیۃ النسائی رقم659 ) اگر بالفرض ان لوگوں کی بات مان لی جائے جو یہ کہتے ہیں کہ شبیب کی ہر وہ روایت قبول ہے جو اس کے بیٹۓ نے اس سے بیان کی ہے تو بھی یہ واقعہ صحیح نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ اس واقعہ کا اضافہ شبیب نے کیا ہے اور اس نے اپنے ثقہ رواۃ کی مخالفت کی ہے یہاں تک کہ اس نے خود اپنی بھی مخالفت کی ہے اور دو اسناد میں اس واقعہ کو بیان نہیں کیا ہے اور کسی روایت میں اضافہ اس وقت قبول ہوتا ہے جب وہ راوی دیکر رواۃ سے اوثق یا ان کے برابر کا ثقہ ہو جن کی روایت میں وہ اضافہ کر رہا ہے چنانچہ اس کے بارے میں حافظ ابن حجر فرماتے ہیں۔فحاصل كلام هؤلاء الأئمة أن الزيادة إنما تقبل ممن يكن حافظا متقنا حيث يستوي مع من زاد عليهم في ذلك، فإن كانوا أكثر عددا منه أو كان فيهم من هو أحفظ منه أو كان غير حافظ ولو كان في الأصل صدوقا فإن زيادته لا تقبل. (النکت لابن حجرجلد 2 ص690 باب معرفۃ زیادات)
    حاصل کلام یہ ہے کہ ائمہ حدیث نے اضافہ کو صرف اس صورت میں قبول کیا ہے کہ اس سےزیادہ حفظ واتقان والا ہو یا حفظ میں اس کے برابر ہو جس کی روایت میں وہ اضافہ کررہا ہے اور اگر وہ غیر حافظ ہے پھر چاہے وہ سچا (صدوق)ہی کیوں نہ ہو اس کا اضافہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
    اور ابن عبدالبر فرماتے ہیں کہ "وقال ابن عبد البر في "التمهيد": "إنما تقبل الزيادة من الحافظ إذا ثبت عنه وكان أحفظ وأتقن ممن قصر أو مثله في الحفظ، لأنه كأنه حديث آخر مستأنف. وما إذا كانت الزيادة من غير حافظ، ولا متقن، فإنها لا يلتفت إليها(حوالہ ایضا)
    یہ اضافہ صرف اس صورت میں قبول کیا جائے گا جب یہ ثابت ہو جائے کہ اس کو بیان کرنے والا زیادہ حفظ و اتقان رکھتا یا اس جیسا ہی ہے جس کی روایت میں اضافہ کر رہا ہے گویا یہ دوسری حدیث ہے اگر یہ اضافہ غیر حافظ اور اتقان کی جانب سے ہے تو اس کی جانب دیکھا بھی نہیں جائے گا۔
    اس اصول کے مطابق بھی یہ واقعہ کسی صورت قابل قبول نہیں ہے کیونکہ ہم شبیب کے بارے میں محدثین کے اقوال آپ کے سامنے رکھ چکے ہیں اور انہوں نے شبیب کے حفظ پر کلام کیا ہے مگر ہم اس سے قبل جو اصول شبیب کی روایت کو قبول کرنے کے حوالے سے بیان کیا ہے وہ اپنی جگہ مسلمہ اصول ہے جس سے فقط وہی انکار کریں گےجو اصول حدیث سے قطعی طورپر ناپید اور عاری ہیں چنانچہ یہ واقعہ کسی صورت اس قابل نہیں ہے کہ اس بر اعتماد کیا جاسکے اللہ ہمیں قرآن اور سنت کا متبع بنائے ۔ آمین
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 13، 2017
  2. ‏نومبر 13، 2017 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,061
    موصول شکریہ جات:
    8,172
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

  3. ‏نومبر 13، 2017 #3
    عبدالعزيز

    عبدالعزيز مبتدی
    جگہ:
    الله کے رحمت کے سائے تلے ان شاء الله
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 24، 2017
    پیغامات:
    169
    موصول شکریہ جات:
    78
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    جزاک اللہ خیر
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں