1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

حدیث اور قرآن

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالوفا محمد حماد اثری, ‏جون 02، 2017۔

  1. ‏جون 02، 2017 #1
    ابوالوفا محمد حماد اثری

    ابوالوفا محمد حماد اثری مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2017
    پیغامات:
    35
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    حدیث اور قرآن
    تحریر : غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ
    دینِ اسلام کی بنیاد عقیدہئ توحید اور عقیدہ ئ رسالت پر استوار ہے ، یہ شریعت کے دو اساسی اور بنیادی اصول ہیں ، جن کا ماخذقرآن و حدیث ہے ، اہل اسلام کا اجماعی عقیدہ ہے کہ قرآن و حدیث دونوں وحی اور دین ہیں ، نیز اللہ نے ان کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے ۔اس لئے ان پر وارد ہونے والے اعتراضات کی علم کی جولان گاہوں میں کوئی حیثیت نہیں۔
    قرآن اللہ کا کلام ہے ، جس کے وحی ہونے میں تو شبہ نہیں ، لیکن کفار نے اس کا بھی انکار کیا ہے۔قرآن اس انکار کو یوں بیان کرتا ہے ۔
    (اِنْ ھٰذَا اِلَّا سِحْرٌ یُّؤْثَرُ ، اِنْ ھٰذَا اِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ\) (المدثر : ٢٤۔٢٥)
    ''یہ تو ایک مؤثر جادو ہے ، یہ تو کسی بشر کا کلام ہے َ''
    نیز فرمایا: (اِنْ ھٰذَا اِلَّا اخْتِلَاقُ) (ص : ٧)
    ''یہ ایک گھڑنتل ہے۔''
    تواس سے قرآن میں کیا نقص واقع ہوا ؟ عیسائی مشنریوں اور آریوں نے قرآن میں شکوک و شبہات پیدا کیے ، قادیانی تنسیخ کے قائل ہیں ، روافض نے اس میں تواتر کی حد تک تحریف اور کمی و بیشی کا دعویٰ کیا ہے ، وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اصلی قرآن سترہ ہزار آیات پر مشتمل ہے ، تو ان کی باتوں سے قرآن مشکوک ہو جائے گا؟اگر نہیں تو احادیث کا بھی یہی معاملہ ہے۔
    قرآن اور انکار حدیث :
    انکار حدیث در اصل انکار قرآن ہے، منکرینِ قرآن اور منکرینِ حدیث دونوں کے مقاصد ایک ہیں کہ عقیدہئ توحید اور عقیدہئ رسالت کا انکار کیا جائے، یہ قرآن و حدیث کے انکار سے ہی ممکن ہے ، قرآن کی آڑ میں حدیث کو نشانہ بنایا جائے ، حدیث پر اعتراضات وارد کیے جائیں ، اس میں شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں ، حدیث کو تاریخی حیثیت دے کر اسوہئ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتمہ کی سازش کی جائے ، حدیث کو عجمی شازش قرار دے کر سرے سے انکار ہی کر دیا جائے ، دین کی پیروی کی بجائے خواہشات کی پیروی کو ہوا دی جائے ، وہ یوں کہ حدیث کو قرآن پر پیش کریں ، اگر یہ قرآن کے موافق ہے تو حدیث ، ورنہ جھوٹی داستان! کبھی یہ راگ الاپا جاتا ہے کہ قرآن قطعی ہے اور حدیث ظنی ہے ، لہٰذااس سے عقیدہئ توحید اور عقیدہئ رسالت ثابت نہیں ہو سکتا ، کبھی احادیث ِ صحیحہ اور ائمہ کی متفقہ تصریحات کے خلاف قرآنی نصوص میں باطل تاویلات کر کے انہیں خواہشات کا تختہ مشق بنا یا جاتا ہے ، کبھی یہ شور اٹھتا ہےکہ حدیث تو دو سو سال بعد لکھی گئی ہے ، اس پر کیا اعتبار ؟ کبھی حدیث کو عقل سقیم کی بھینٹ چڑھا کر اس کا انکار کر دیا جاتا ہے ۔
    باطل کی پہچان ہے کہ وہ دین کو صرف عقل کی کسوٹی پر پرکھتا ہے ،حالاں کہ عقل وحی پہ حاکم کسی صورت نہیں ہو سکتی ۔
    فرق باطلہ اور قرآن و حدیث :
    یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جنہوں نے احادیث کا انکار کیا وہ قرآن سے بھی گئے۔
    جہمیہ نے حدیث کا رد کیا ، قرآن کے کلام ِ الٰہی ہونے کا بھی انکار کیا۔
    معتزلہ نے جہاں حدیثیں رد کیں ، وہاں قرآن کو بھی مخلوق کہاہے ۔
    امام نعیم بن حماد خزاعی رحمہ اللہ (م ٢٢٨ھ) فرماتے ہیں :
    ''معتزلہ دو ہزار یا اس کے لگ بھگ احادیث کا انکار کرتے ہیں ۔''
    (سنن ابی داو،د ، تحت حدیث : ٤٧٧٢، وسندہ، صحیح)
    اشاعرہ نے حدیث کو چھوڑا اورقرآن کو اللہ کا حقیقی کلام ماننے سے بھی منکر ہوئے۔
    خوارج جب احادیث سے منکر ہوئے تو نصوص قرآنیہ میں تحریف وتاویل کرنے لگے۔
    کلابیہ نے احادیث ِ صحیحہ کو خواہشات کی بھینٹ چڑھایا تو قرآن کو اللہ کا مجازی کلام قرار دیا
    مرجیہ نے بعض احادیث کا رد کیا اورقرآن کی بعض آیات کو مہمل سمجھ لیا ۔
    روافض جب کوئے حدیث سے نکلے توقرآن کو محرف و مبدل کہنے لگے ۔
    قادیانیوں نے احادیث کا انکار کیا توتنسیخ قرآن کے قائل ہوئے ۔
    معلوم ہوا کہ ہر گمراہ جوحدیث پر ظلم ڈھاتا ہے ، وہ قرآن کو بھی خواہشات کے حوالے کر دیتا ہے ، فرق اتنا ہے کہ رنگ و روپ مختلف ہے ، کردار ایک ہے ۔
    انکار قرآن و حدیث کا ایک نقصان :
    قرآن یا حدیث کے انکار کا ایک بر اپہلو یہ بھی ہے کہ بعض مقدس ہستیوں کو ہدف ٹھہرا لیا جاتا ہے۔
    منکرینِ قرآن نے نبی ئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔
    منکرینِ حدیث روافض نے صحابہ ]کی کردار کشی کی ، بعض جبریل کے دشمن ہوئے۔
    خوارج نے صحابہ کی شان میں تنقیص کی ۔
    ناصبیوں نے اہل بیت کی ذات ِ باصفات پر زبان طعن دراز کی ۔
    موجودہ دور کے منکرینِ حدیث نےثقہ ائمہ محدثین اورسلف صالحین کی تذلیل و توہین کی ، محدثین کو جاہل ، کم فہم اور قرآن کا دشمن و مخالف قرار دیا ۔
    اگر نبی ئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس ، صحابہ ]کے وجود ِ مقدس اور محدثین SSکے وجود ِ مبارک کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے تو اسلام کا وجود باقی نہیں رہ سکتا ، منکرینِ حدیث یہی چاہتے ہیں کہ دینِ اسلام کا نام و نشان تک نہ رہے (العیاذ باللہ!)، اس لیے وہ ان نفوسِ قدسیہ کو ہدف تنقید بناتے رہتے ہیں ۔
    کیا حدیث کی حیثیت تاریخی ہے ؟
    اس سے بڑی ناانصافی نہیں ہو گی کہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت کو محض تاریخ سمجھا جائے، اوردین کے بڑے حصے سے دستبردار ہوجایا جائے ؟ جبکہ حدیث کے وحی ہونے پر اجماع ہے ، قرآن اس پر شاہد ہیں ۔
    فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
    ( لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوْ اللّٰہَ وَالْیَوْمَ الْآخِرَ وَذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیْراً\) (الاحزاب : ٢١)
    ''اگر آپ اللہ اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں اور کثرت سے اللہ کو یاد کرتے ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لئے اسوہ حسنہ ہیں۔''
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ اگر کہیں سے مل سکتا ہے تو وہ حدیث ہے ، اگر حدیث کی حیثیت غیر تشریعی اور تاریخی ہے تو اسوہئ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیسے معلوم ہوگا؟اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ نے اپنی عبادت کا حکم تو دیا ،لیکن اس کی ادائیگی کا طریقہ تاریخ کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ۔ثابت ہوا کہ حدیث کا انکار اصل میں شریعت کا انکار ہے۔
    فرمانِ باری تعالیٰ ہے : ( وَأَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ )(النحل : ٤٤)
    ''ہم نے آپ پر قرآن نازل کیا تاکہ آپ کی تفسیر وتشریح کریں۔''
    کیا نبی ئ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآنِ کریم کی تفسیر کی ؟ اس کی تبیین و توضیح فرمائی ؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو وہ کہاں ہے ؟
    اگر حدیث کی تشریعی حیثیت کا انکار کر دیا جائے تو اس آیت کی تکذیب لازم آئے گی ، بھلا یہ کہنا کہاں تک جائز ہو گا کہ ''حدیث کی حیثیت دینی نہیں ، محض تاریخی ہے ، جو صبح سے شام تک تبدیل ہو کر کچھ سے کچھ ہو جایا کرتی ہے ۔''
    تاریخ جو صبح وشام بدلتی رہتی ہے، اس میں یہ صلاحیت کہاں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو محیط ہو سکے، یہ حدیث ہی ہے جو پوری انسانیت کے لیے سامانِ ہدایت واصلاح مہیا کرتی ہے اور اصلاح وفلاح کے حوالے سے زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہے ۔ معیشت و سیاست اور ادب و اخلاق کے دائمی ضابطوں سے مالا مال ہے۔فصاحت وبلاغت ، اسلوب و احکام کی بلندی اور دقت ِ تعبیر سے لبریز ہے۔حلال وحرام اور طیب وخبیث میں فرق کرتی ہے ۔
    یہ حدیث ہی ہے جو قرآن کی تصدیق کرتی ہے ، اس کو وحی برحق قرار دیتی ہے ، اس پر عمل کرنے کو کہتی ہے، اس میں اختلاف کرنے سے منع کرتی ہے ، اس کی فضیلت بیان کرتی ہے ، اس کا معجزہ خالدہ ہونا تسلیم کرتی ہے اور قرآنِ کریم نے جو تمام اساسی عقائد و عبادات واخلاق بیان کیے ہیں ، ان سے سرمو انحراف نہیں کرتی ۔
    یہ حدیث ہی ہے جو عبادات کے طریقہئ ادائیگی کی تفصیل بیان کرتی ہے۔یہ حدیث ہی ہے جو رشتوں کی حرمت بیان کرتی ہے۔
    یہ حدیث ہی ہے جس کی ایک بات کے خلاف بھی مسلمانوں کا اجماع نہیں ہوا، عقل سلیم اور فطرت ِ سلیمہ ہر صحیح حدیث کو تسلیم کرتی ہے ، اس سے پہلے دنیا ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر رہی ہے ۔یہ حدیث ہی ہے جوکلمہ لَا اَلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کا ثبوت فراہم کرتی ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں