1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حدیث درکار ہے (کیا سیدنا ابن عباس ؓکے گھر تصویر کا وجود ثابت ہے )

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از عثمانی, ‏جولائی 10، 2017۔

  1. ‏جولائی 10، 2017 #1
    عثمانی

    عثمانی مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 24، 2017
    پیغامات:
    11
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    13

    اسلام و علیکم !
    ایک روایت ہے جس میں کچھ یوں ہے "عبدللہ بن عباس کے گھر کچھ صحابی ائے اعر انہوں نے عبدللہ بن عباس کی تصویر گھر میں لگی دیکھی۔۔۔۔

    دوسری روایت ہے " امیر معاویہ رضی اللی عنہ کے دور میں اشرفیوں پر تصویریں بنی ہوتی تھی ۔۔

    ان دو روایت کی سند اور عربی متن درکار ہے !
     
  2. ‏جولائی 11، 2017 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    السلام علیکم
    ایسی کوئی روایت مجھے نہیں ملی ۔
    بعض کتب تاریخ میں یہ عبارت ملتی ہے :
    و ضرب معاوية دنانير عليها تمثال متقلدا سيفا
    (النقود للمقريزي )
    لیکن یہ حتمی بات نہیں ، اس میں کافی تفصیل ہے ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 16، 2017 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,361
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    سیدنا عبداللہ بن عباس کے گھر میں تصویر لگی ہو ایسی تو کوئی روایت کسی جگہ منقول نہیں ، جیسا کہ محترم شیخ خضر حیات صاحب نے بتایا،
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    تاہم
    سیدنا عبداللہ بن عباس کے متعلق ایک روایت مسند احمد میں مروی ہے کہ :
    حدثنا يزيد، أخبرنا ابن أبي ذئب، عن شعبة، قال:دخل المسور بن مخرمة على ابن عباس يعوده في مرض مرضه، فرأى عليه ثوب إستبرق، وبين يديه كانون عليه تماثيل، فقال له: يا أبا عباس، ما هذا الثوب الذي عليك؟ قال: وما هو؟ قال: إستبرق، قال: "
    والله ما علمت به، وما أظن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عنه إلا للتجبر، والتكبر، ولسنا بحمد الله كذلك " قال: فما هذا الكانون الذي عليه الصور؟ قال ابن عباس: ألا ترى كيف أحرقناها بالنار؟

    مسند احمد ( مسند عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما )

    ترجمہ :
    شعبہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جناب مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لائے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس وقت استبرق کی ریشمی چادر اوڑھ رکھی تھی اور ان کے سامنے ایک انگیٹھی پڑی تھی جس میں کچھ تصویریں تھیں، حضرت مسور کہنے لگے اے ابو العباس ! یہ کیا کپڑا ہے ؟ انہوں نے پوچھا کیا مطلب ؟ فرمایا یہ تو استبرق (ریشم) ہے، انہوں نے کہا بخدا ! مجھے اس کے بارے پتہ نہیں چل سکا اور میرا خیال ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پہننے سے تکبر اور ظلم کی وجہ سے منع فرمایا تھا اور الحمد للہ ہم ایسے نہیں ہیں۔ پھر حضرت مسور ؒ نے پوچھا کہ یہ انگیٹھی میں تصویریں کیسی ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ ہم نے انہیں آگ میں جلا دیا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حدثنا أبو النضر، عن ابن أبي ذئب، عن شعبة: أن المسور بن مخرمة دخل على ابن عباس، يعوده من وجع، وعليه برد إستبرق، فقال : يا أبا عباس، ما هذا الثوب؟ قال: وما هو؟ قال:هذا الإستبرق قال: والله ما علمت به " وما أظن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن هذا حين نهى عنه، إلا للتجبر والتكبر "، ولسنا بحمد الله كذلك. قال: فما هذه التصاوير في الكانون؟ قال: " ألا ترى قد أحرقناها بالنار؟ فلما خرج المسور، قال: انزعوا هذا الثوب عني، واقطعوا رءوس هذه التماثيل. قالوا: يا أبا عباس، لو ذهبت بها إلى السوق، كان أنفق لها مع الرأس؟ قال: لا. فأمر بقطع رءوسها

    شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لائے،
    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس وقت استبرق کی ریشمی چادر اوڑھ رکھی تھی، حضرت مسور کہنے لگے اے ابو العباس ! یہ کیا کپڑا ہے ؟ انہوں نے پوچھا کیا مطلب ؟ فرمایا یہ تو استبرق (ریشم) ہے، انہوں نے کہا بخدا ! مجھے اس کے بارے پتہ نہیں چل سکا اور میرا خیال ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے پہننے سے تکبر اور ظلم کی وجہ سے منع فرمایا تھا اور الحمدللہ ! ہم ایسے نہیں ہیں۔ پھر حضرت مسور (رض) نے پوچھا کہ یہ انگیٹھی میں تصویریں کیسی ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ آپ دیکھ ہی رہے ہیں کہ ہم نے انہیں آگ میں جلا دیا ہے، بہرحال ! حضرت مسور رضی اللہ عنہ جب چلے گئے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس چادر کو میرے اوپر سے اتارو اور ان مورتیوں کے سر کا حصہ کاٹ دو ، لوگوں نے کہا اے ابو العباس ! اگر آپ انہیں بازار لے جائیں تو سر کے ساتھ ان کی اچھی قیمت لگ جائے گی، انہوں نے انکار کردیا اور حکم دیا کہ ان کے سر کا حصہ کاٹ دیا جائے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لیکن اس روایت کی دونوں اسناد ضعیف ہیں ، کیونکہ اس کا مرکزی راوی شعبہ بن دینار ضعیف ہے
    مسنداحمد کی تحقیق میں علامہ شعیب ارناؤط لکھتے ہیں :
    إسناده ضعيف، شعبة- وهو ابن دينار مولى ابن عباس- سيىء الحفظ، (یعنی جناب ابن عباسؓ کے غلام شعبہ حافظہ میں ناکارہ ہونے کے سبب ضعیف ہیں )

    اور مزید حالات کیلئے اکمال تھذیب دیکھئے :
    شعبة بن دينار الهاشمي مولاهم أبو عبد الله، ويقال: أبو يحيى مدني.
    قال أحمد بن صالح العجلي: جائز الحديث، وقال العقيلي: ليس بثقة.
    وذكره أبو العرب، وابن الجارود في «جملة الضعفاء».
    وقال أبو حاتم في كتاب «الجرح والتعديل»: ليس بالقوي، وقال أبو زرعة: ضعيف الحديث.
    ( إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے تصویر کی حرمت باسناد صحیح منقول ہے ،


    عن سعيد بن أبي الحسن، قال: جاء رجل إلى ابن عباس، فقال: إني رجل أصور هذه الصور، فأفتني فيها، فقال له: ادن مني، فدنا منه، ثم قال: ادن مني، فدنا حتى وضع يده على رأسه، قال: أنبئك بما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «كل مصور في النار، يجعل له، بكل صورة صورها، نفسا فتعذبه في جهنم» وقال: «إن كنت لا بد فاعلا، فاصنع الشجر وما لا نفس له»
    صحیح مسلم ، کتاب اللباس والزینۃ
    سعید بن ابی الحسن سے روایت ہے، ایک شخص عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں تصویر بناتا ہوں (یہی میرا ذریعہ معاش ہے )،
    تو اس کا کیا حکم ہے بیان کیجئیے مجھ سے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے پاس آ۔ وہ گیا، پھر انہوں نے کہا: پاس آ۔ وہ اور پاس گیا یہاں تک کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا اور کہا: میں تجھ سے کہتا ہوں وہ جو میں نے سنا ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:
    ”ہر ایک تصویر بنانے والا جہنم میں جائے گا اور ہر ایک تصویر کے بدل ایک شخص جاندار بنایا جائے گا جو تکلیف دے گا اس کو جہنم میں۔“
    اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اگر تو نے تصویر ہی بنانا ہے تو درخت کی یا کسی اور بےجان چیز کی تصویر بنا۔))
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسلئے یہ کہنا کہ جناب عبداللہ بن عباس کے گھر تصویریں تھیں بالکل غلط ہے ،
     
    Last edited: ‏جولائی 16، 2017
    • علمی علمی x 7
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں