1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حدیث قدسی کی وضاحت

'فقہی سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن خلیل, ‏اگست 10، 2011۔

  1. ‏اگست 10، 2011 #1
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    اسلام و علیکم

    حدیث قدسی اور باکی حدیث کے درمیاں ہم کیسے فرک رکھ سکتے ہیں بیان کرتے وقت

    مطلب حدیث ایک ام آدمی کیسے سمجھے گا ؟ دوسری حدیث وو بھی تو وہی ہے اور حدیث قدسی بھی
    تو اسکو کیسے سمجھایا جائے ؟

    اور اسکو قدسی نام کسنے دیا وضاحت کریں

    جزاک الله خیر
     
  2. ‏اگست 10، 2011 #2
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,486
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    وعلیکم السلام
    حدیث قدسی میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سبحانہ وتعالی سے نقل کرتے ہیں یعنی سند اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اس سے آگے اللہ سبحانہ وتعالی تک پہنچتی ہے جبکہ دوسری احادیث میں سند اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتی ہے۔

    اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ حدیث قدسی ہو یا دوسری احادیث، سب اللہ ہی طرف سے ہیں۔

    حدیث قدسی کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اکثر و بیشتر احادیث قدسیہ میں اللہ سبحانہ وتعالی کی تقدیس، حمد وثنا اور صفات وغیرہ کا تذکرہ ہوتا ہے اور احکام کا ذکر کم ہی ہوتا ہے لہذا اسے حدیث قدسی کہتے ہیں۔
    واللہ اعلم بالصواب
     
  3. ‏اگست 12، 2011 #3
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    جزاک الله خیر جناب
    کیا مثال کے طور پر دو حدیثیں یہاں بتاینگے ایک قدسی اور ایک جو ام ہوتی ہے ؟
     
  4. ‏اگست 12، 2011 #4
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,486
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    حدیث قدسی
    عن أبي هريرة - رضي الله عنه - قال : قال النبي - صلى الله عليه وسلم - : يقول الله تعالى : ( أنا عند ظن عبدي بي ، وأنا معه إذا ذكرني ، فإن ذكرني في نفسه ذكرته في نفسي ، وإن ذكرني في ملإ ذكرته في ملإ خير منهم ، وإن تقرب إلي بشبر تقربت إليه ذراعا ، وإن تقرب إلي ذراعا تقربت إليه باعا ، وإن أتاني يمشي أتيته هرولة ) .
    [h=3]تخريج الحديث

    رواه البخاري و مسلم .

    حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: میں اپنے بندے کے ساتھ ویسا ہی ہوتا ہوں جیسا کہ وہ میرے بارے میں گمان کرتا ہے۔جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عام حدیث:

    [/h][h=3]عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : ( من رأى منكم منكرا فليغيره بيده ، فإن لم يستطع فبلسانه ، فإن لم يستطع فبقلبه ، وذلك أضعف الإيمان ) رواه مسلم .[/h][h=3]حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ فرما رہے تھے: جو بھی تم میں سے کسی منکر کو دیکھے تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے تبدیل کر دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    [/h]
     
  5. ‏اگست 12، 2011 #5
    ابن خلیل

    ابن خلیل سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 03، 2011
    پیغامات:
    1,383
    موصول شکریہ جات:
    6,746
    تمغے کے پوائنٹ:
    332

    جزاک الله خیر ابو الحسن علوی بھائی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں