1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حدیث مسلم عن طاوس کے ۱۷ جواب

'طلاق' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوحنظلہ, ‏مئی 22، 2018۔

  1. ‏مئی 22، 2018 #1
    ابوحنظلہ

    ابوحنظلہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 20، 2018
    پیغامات:
    163
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    23

    طلاق کی حدیث مسلم بروایت طاوس کے ۱۷ جواب

    “طاوس سے روائت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دو سالوں تک تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھی”، (مسلم شریف)

    جواب ۱: یہ روائت شاذ ہے، اس لیے کہ یہ روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے اورحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے جملہ شاگرد آپ سے تین طلاق کا تین ہونا ہی روایت کرتے ہیں، صرف طاؤس ایسے ہیں جو مذکورہ روایت نقل کرتے ہیں۔ تصریحات محققین ملاحظہ ہوں:

    قال الامام احمد بن حنبل: كل أصحاب ابن عباس رووا عنه خلاف ما قال طاوس.
    *امام احمد بن حنبلؒ فرماتے ہیں کہ : ابن عباسؓ سے تمام راویوں نے طاؤوس کے برخلاف روایت کیاہے*
    (نیل الاوطار للشوکانی ج6ص245 باب ما جاء فی طلاق البتۃ)

    جواب۲: قال الامام محمد ابن رشد المالکی: بأن حديث ابن عباس إنما رواه عنه من أصحابه طاوس ، وأن جلة أصحابه رووا عنه لزوم الثلاث منهم سعيد بن جبير ومجاهد وعطاء وعمرو بن دينار وجماعة غيرهم.
    امام محمد بن رشدالمالکی فرماتے ہیں کہ : حدیث ابن عباس کہ اسے ابن عباسؓ کے تمام ساتھیوں میں سے طاؤوس نے اس طرح روایت کیا ہے اور جب کہ بڑے بڑے راویوں سعید بن جبیرؓ اور مجاھد اور عطاء اور عمرو بن دینار اور مزید ایک جماعت نے تین طلاقوں کے لزوم کو ابن عباسؓ روایت کیا ہے* ۔۔
    (بدایۃ المجتہد ج2ص61 کتاب الطلاق، الباب الاول)

    جواب۳:قال البیہقی الشافعی: فَهٰذِهِ رِوَايَةُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَعَطَاءِ بْنِ أَبِى رَبَاحٍ وَمُجَاهِدٍ وَعِكْرِمَةَ وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَمَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ وَمُحَمَّدِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ وَرُوِّينَاهُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِى عَيَّاشٍ الأَنْصَارِىِّ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَجَازَ الطَّلاَقَ الثَّلاَثَ وَأَمْضَاهُنَّ
    *امام بہیقیؒ فرماتے ہیں : سعید بن جبیر ،عطاء بن ابی رباح ،مجاھد ، عکرمہ ، عمرو بن دینار ،مالک بن حارث ،محمد بن ایاس بن البکیر کی روایات کو ہم نے معاویہ بن ابی عیاش انصاری سے روایت کیا ہے۔ ان تمام کا ابن عباسؓ سے متعلق یہی کہنا تھا کہ انہوں نے تین طلاقوں کے وقوع کو جائز قرار دیا اور انہیں نافذ کرایا*
    (السنن الکبریٰ للبیہقی: ج7 ص338 باب مَنْ جَعَلَ الثَّلاَثَ وَاحِدَةً)
    جواب۴۔ وَتَرَكَهُ الْبُخَارِىُّ وَأَظُنُّهُ إِنَّمَا تَرَكَهُ لِمُخَالَفَتِهِ سَائِرَ الرِّوَايَاتِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
    امام بخاریؒ نے اسے ترک کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ ان کے ترک کرنےکا سبب ابن عباسؓ کی وہ تمام روایات ہیں جو اس کے مخالف ہیں*
    ( السنن الکبریٰ للبیہقی ج7 ص338 باب مَنْ جَعَلَ الثَّلاَثَ وَاحِدَةً)

    جواب۵۔ خود حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اپنا فتوی اس روایت کے خلاف ہے۔ کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ تین طلاق کو تین ہی فرماتے ہیں:
    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ أَنَّہُ أَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ طَلَّقْتُ اِمرَأتِیْ ثَلاَ ثًا فَقَالَ عَصَیْتَ رَبَّکَ وَحَرُمَتْ عَلَیْکَ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاًغَیْرَکَ.
    *ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا “میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں”
    *ابن عباسؓ نے فرمایا تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے وہ تجھ پر حرام ہے یہاں تک کہ وہ تیرے علاوہ کوئی دوسرا شوہر نہ کرلے* (ابوداود حدیث ۲۱۹۷، جامع المسانید ج 2ص148، السنن الکبری للبیہقی: ج7 ص337 واسنادہ صحیح)
    اور اصول حدیث کا قاعدہ ہے:
    عمل الراوی بخلاف روایتہ بعد الروایۃ مما ہو خلاف بیقین یسقط العمل بہ عندنا۔
    * راوی کا اپنا عمل اگر اس کی روایت کے خلاف ہو تو اس کا یہ عمل اس کے قول پر عمل کو یقینی طور پر ساقط کردیتا ہے*(المنار مع شرحہ ص194، قواعد فی علوم الحدیث للعثمانی ص 202)

    جواب۶: خود غیر مقلدین کے فتاوی میں ہے :’’امام حازمی و تفسیر ابن جریر و ابن کثیر وغیرہ کی تحقیق سے ثابت ہے کہ صحیح مسلم یہ حدیث بظاہرہ کتاب و سنت صحیحہ و اجماع صحابہ رضی اللہ عنہم وغیرہ ائمہ محدثین کے خلاف ہے لہذا حجت نہیں‘‘ (فتاوی ثنائیہ ج2 ص219)

    جواب۷: اسی طرح کی ایک حدیث صحیح مسلم میں متعہ کے بارے میں بھی ہے جسے اہلحدیث حضرات شاذ ہونے کی بنا پر خود مسترد کرتے ہیں۔
    قال عطاء قدم جابر بن عبد الله معتمرا فجئناه في منزله فسأله القوم عن أشياء ثم ذكروا المتعة فقال نعم استمتعنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر. و فی روایۃ اخری: حتى نهى عنه عمر۔
    عطاء نے کہا ہے کہ : حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ عمرے کے لیے آئے تو ہم ان کی رہائش گاہ پر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ، لوگوں نے ان سے مختلف چیزوں کے بارے میں پوچھا ، پھر لوگوں نے متعے کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا : ہاں ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے عہد میں متعہ کیا۔۔*
    *اور ایک دوسری روایت میں ہے : یہاں تک کہ عمرؓ نے اس سے روک دیا*۔(صحیح مسلم ج 1ص451 باب نكاح المتعة وبيان أنه أبيح ثم نسخ ثم أبيح ثم نسخ واستقر تحريمه إلى يوم القيامة )

    جواب۸۔ اس روایت میں ہے “تین طلاق کو ایک سمجھتے تھے” کون سی تین طلاق ایک مجلس و ایک طہر کی یا تین طہر کی؟ اس کی صراحت نہیں۔ اس لئے یہ غیر صریح ہے۔ اس عدم صراحت کی وجہ سے کوئی تین طہر کی تین طلاق دے کر بھی ایک قرار دے سکتا ہے۔

    جواب۹۔اس روایت کی ایک سند میں ایک راوی’’طاؤس یمانی‘‘ ہے۔ امام سفیان ثوری ، امام ابن قتیبہ،اور امام ذہبی نے اسے شیعہ قرار دیا ہے۔
    (سیر اعلام النبلاء ج5 ص26،27، المعارف لابن قتیبہ ص267،268)
    طاوس کو کتب شیعہ میں بھی شیعہ کہا گیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں
    “رجال کشی لابی جعفر طوسی ص55، ص101، رجال طوسی لابی جعفر طوسی ص94)

    جواب۱۰۔ اس روایت کی ایک روایت میں ایک راوی ’’ابن جریج‘‘ ہے۔ یہ بھی شیعہ ہے اور اس پر متعہ باز ہونے کی جرح بھی ہے۔(تذکرۃ الحفاظ ج1ص128، سیر اعلام النبلاءج5ص497،میزان الاعتدال للذہبی ج2ص509)
    ابن جریج کو شیعہ کتب میں بھی شیعہ لھا گیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں
    ‘ رجال کشی ص280، رجال طوسی ص233 اور اصحاب صادق رقم 162
    اصول حدیث کا قاعدہ ہے جسے حافظ ابن حجر عسقلانی یوں بیان کرتے ہیں:
    الا ان روی ما یقوی بدعتہ فیرد علی المختار.
    کہ بدعتی راوی کی روایت اگر اس کی بدعت کی تائید کرتی ہو تو نا قابل قبول ہوتی ہے۔
    (شرح نخبۃ الفکر مع شرح ملا علی القاری ص159، مقدمہ فی اصول الحدیث لعبد الحق الدہلوی ص67)

    جواب۱۱۔امام نووی رھ شارح مسلم اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں۔
    (اگر اس حدیث کو صحیح مان لیا جائےتو) حدیث حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی صحیح مراد یہ ہے کہ شروع زمانہ میں جب کوئی شخص اپنی بیوی کو ”انت طالق، انت طالق، انت طالق“ کہہ کر طلاق دیتا اور دوسری اور تیسری طلاق سے اس کی نیت تاکید کی ہوتی نہ کہ تین کی ، تو چونکہ لوگ تین کا ارادہ کم کرتے تھے اس لیے غالب عادت کا اعتبار کرتے ہوئے محض تاکید مراد لی جاتی۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا اور لوگوں کی نیت طلاق کے دوسرے اور تیسرے لفظ سے تین طلاق ہی کی ہوتی تھی، اس لئے اس جملہ کا جب کوئی استعمال کرتا تو ان کی نیت کی بناء پر تین طلاقوں کا حکم لگایا جاتا تھا۔( شرح مسلم للنووی: ج1ص478)

    جواب۱۲: امام نووی کا دوسرا قول ملاحظہ فرمائیں۔
    “مراد یہ ہے کہ پہلے ایک طلاق کا دستور تھا (دوسری اور تیسری محض تاکید کے لئے تھی) اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں لوگ تینوں طلاقیں بیک وقت دینے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں نافذ فرما دیا۔ اس طرح یہ حدیث لوگوں کی عادت کے بدل جانے کی خبر ہے نہ کہ مسئلہ کے حکم کے بدلنے کی اطلاع ہے۔( شرح مسلم للنووی: ج2ص478)

    جواب۱۳: امام مازری رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
    حقائق سے بے خبر لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ ”تین طلاقیں پہلے ایک تھیں، پھر منسوخ ہو گئیں“یہ کہنا بڑی فحش غلطی ہے، اس لیے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پہلے فیصلہ کو منسوخ نہیں کیا، -حاشا-اگر آپ منسوخ کرتے تو تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اس کے انکار کے در پے ضرور ہو جاتے۔۔(شرح مسلم للنووی: ج2ص478)

    جواب۱۴:اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ لوگ تین طلاقیں دینے کے بجائے ایک طلاق دینے پر اکتفاء کرتے تھے، (دوسری و تیسری محض تاکید کے لئے ہوتی تھی) تین طلاقیں جو کہ خلاف سنت ہیں نہیں دیتے تھے۔ یہ معاملہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت تک چلتا رہا یہاں تک کہ لوگ خلافِ سنت تین طلاقیں اکٹھی دینے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان تین طلاقوں کو نافذ فرما دیا۔ حدیث کا یہی مطلب امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے۔(معارف السنن: ج5 ص471)

    جواب۱۵: عہد نبوی علی صاحبہا الصلوٰۃ و السلام سے لے کر ابتدائے عہد فاروقی تک لوگ یکجا تین طلاقیں دینے کے بجائے ایک طلاق دیا کرتے تھے، (دوسری تیسری سے ان کی مراد تین کی نہیں ہوتی تھی) خلافت فاروقی کے تیسرے سال سے لوگوں نے جلد بازی شروع کردی کہ ایک طلاق دینے کے بجائے تین طلاقیں اکٹھی دینے لگےتو وہ تینوں طلاقیں نافذ کردی گئیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے الفاظ اس پر واضح قرینہ ہیں، آپ فرماتے ہیں:
    إن الناس قد استعجلوا في أمر قد كانت لهم فيه أناة
    کہ لوگوں کو جس کام میں سہولت تھی انہوں نے اس میں جلد بازی شروع کر دی ہے۔
    اگر ابتداء سے تین طلاق کا رواج ہوتاتو پھر استعجال اور اناۃ کا کوئی معنی نہیں بنتا۔ لہذا اس حدیث میں ”۔۔۔طلاق الثلاث واحدة“ کا مطلب ”تین طلاقوں کے بجائے ایک طلاق دینا“ ہے۔ یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں آ کر مسئلہ بدل گیا تھا بلکہ مطلب یہ ہے کہ طلاق دینے کے معاملے میں لوگوں کی عادت بدل گئی تھی۔ (مصنف)

    جواب۱۶: اگر یہ مراد لیا جائے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پہلے فیصلے کو منسوخ فرما کر تین طلاقوں کو تین شمار کیا ہے تو یہ مطلب انتہائی غلط ہے، کیونکہ اگر یہی معاملہ ہوتا تو صحابہ رضی اللہ عنہم اس پر اجماع نہ فرماتے بلکہ اس فیصلہ کا انکار کرتے حالانکہ کسی سے بھی انکار منقول نہیں۔ تو اس معنی میں عمر ‫رضی اللہ عنہ پر شریعت بدلنے اور تمام صحابہ پر مداہنت کا بہت بڑا الزام ہے جو کہ حرام ہے اور “علیکم بسنة الخلفاء الراشدین“ اور “ما انا علیہ واصحابی” کے خلاف ہے۔

    جواب۱۷: اس روایت کی ایک شرح اس کے غیر مدخول بھا کے متعلق ہونے کی بھی ہے۔
    حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث سنن ابی داود میں ہے، جس میں راوی سے سوال کرنے والا شخص ایک ہی ہے یعنی ابو الصَّہباء، اور دونوں روایتوں کے الفاظ بھی ملتے جلتے ہیں۔ روایت یہ ہے:
    قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بَلَى كَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا جَعَلُوهَا وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبِى بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ.
    (سنن ابی داؤد: ج1 ص317 باب نسخ المراجعۃ بعد التطليقات الثلاث)اس روایت کی اسناد صحیح ہے۔
    (زاد المعاد لابن القیم: ج4 ص1019-فصل: فى حكمہ صلى الله علیہ وسلم فیمن طلق ثلاثا بكلمۃ واحدۃ، عمدۃ الاثاث: ص94)

    اسی طرح صحیح مسلم کے راوی طاؤوس یمانی کی خود اپنی روایت میں بھی غیر مدخول بہا کی قید موجود ہے۔ علامہ علاء الدین الماردینی (م745ھ) لکھتے ہیں:
    ذكر ابن أبى شيبة بسند رجاله ثقات عن طاوس وعطاء وجابر بن زيد انهم قالوا إذا طلقها ثلاثا قبل ان يدخل بها فهى واحدة.
    (الجوہر النقی: ج 7ص331)
    ان دونوں روایات میں ”قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا“ (غیر مدخول بہا) کی تصریح ہے۔ معلوم ہوا کہ حدیث صحیح مسلم مطلق نہیں بلکہ ”غیر مدخول بہا“ کی قید کے ساتھ مقید ہے۔ غیر مدخول بھا کی عدت نہیں ہوتی اس لئے ایک ہی طلاق سے وہ مطلقہ ہو جاتی ہے۔ اگر دوسری یا تیسری دفعہ بھی کہا جائے تو وہ لغو جاتی ہے اور ایک ہی امجھی جاتی ہے۔ لیکن بعد میں لوگوں نے ایک ہی دفعہ انت طالق ثلاثہ کہنا شروع کردیا تو ان پر تین ہی نافذ ہو گئیں اور وہ دوسری تیسری کے حق سے محروم ہو گئے۔
    وما علینا الا البلاغ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں