1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حدیث نبوی خلافت راشدہ میں

'علوم حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از اسلام ڈیفینڈر, ‏اپریل 30، 2013۔

  1. ‏اپریل 30، 2013 #1
    اسلام ڈیفینڈر

    اسلام ڈیفینڈر رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    368
    موصول شکریہ جات:
    1,003
    تمغے کے پوائنٹ:
    97

    ۱۔ خلافت راشدہ کے سیاسی حالات:


    رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے وفات پائی اور صحابہ میں سے کسی کو بھی اپنا جانشین مقرر نہ کیا ۔اس لئے مہاجرین وانصار کے درمیان نزاع پیدا ہوئی کہ آپ کا جانشین کن میں سے ہو؟ چنانچہ یہ سب لوگ سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ کر سب کو مطمئن کر دیاکہ مہاجرین سبقت فی الاسلام کی بنا پر خلافت کا اولین استحقاق رکھتے ہیں چنانچہ فاروق اعظم آگے بڑھے اور جناب صدیق کے دست حق پر بیعت کی یکایک دوسرے لوگوں نےبھی بیعت کر لی اور اس طرح اس نزاع کا خاتمہ ہوگیا۔

    حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلافت پر فائز ہوئے زیادہ عرصہ گزرنے نہ پایا تھا کہ مدینہ میں نفاق کی ہوائیں چلنے لگیں بہت سے قبائل مرتد ہوگئے کچھ قبیلے ایسے بھی تھے جنہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کردیا حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ ان کے خلاف اعلان جہاد کردیا۔ وہ کہنے لگے ہم نماز پڑ ھ لیا کریں گے مگر زکوۃ نہ دینگے بعض صحابہ نے حضرت صدیق کو یہ مشورہ دیا کہ ان کی بات قبول کر لی جائے اس لئے کہ ابھی آغاز اسلام ہے عربوں کی تعداد بہت ہے اور ہم معدودے چند آدمی ہیں ہم ان کا مقابلہ نہیں کرسکتے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی یہ حدیث پیش کی کہ آپ نے فرمایا :مجھے لوگوں سے اس وقت لڑنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لاالہ نہ کہیں جب وہ یہ کلمہ پڑھ لیں تو مجھ سے اپنا خون اور مال بچالیں اور ان کا حساب خدا کے ذمہ ہے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا ''زکوۃ بھی اسلام کا حق ہے اس لئے جہاد ناگزیر ہے۔

    حضرت عمر بھی ان لوگوں کے ہمنوا تھے جو ترک جہاد کا مشورہ دے رہے تھے چنانچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس ضمن ان کا مشورہ قبو ل نہ کیا اور اپنا یہ مشہور فقرہ کہا کہ جا ہلیت میں آپ جابر تھے مگر اسلام میں بزدل ہوگئے ۔اے ابن الخطاب!بخدا اگر منکرین زکوۃ ایک رسی دینے سے بھی انکار کرینگے جسے وہ عہد رسالت میں دیا کرتے تھے تو میں ان کے خلاف جہاد کرونگا اور اگر کوئی دوسرا شخص میرے ساتھ نہ ہوگا تو میں تنہا لڑوں گا ۔ یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر کردے ۔اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے ولاہے ۔حضرت عمر نے ابوبکر کا یہ خطبہ سن کر سر تسلیم خم کر لیا۔جناب ابو بکر رضی اللہ عنہ نہ جھکے نہ نرم پڑے اور اپنی راہ پر رواں دواں رہے آپ اپنے اطاعت شعائروں کو لے کر باغی قبائل کے خلاف نبر د آزما ہوئے ۔حتٰی کے سر کش قبیلے حکم خداوندی کے سامنے جھک گئے ۔ انہوں نے نخوشی یا نا خوشی دوبارہ اسلام قبول کرلیا اور باقاعدہ زکوۃ دینے لگے اس طرح حضرت ابو بکر کے فہم فراست سے اسلام کا بکھرا ہوا شیرازہ پھر مستحکم ہوگیا ۔ لوگ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے مدح سرا ہوئے اور آپ کے مرتبہ ومقام کو پہچان گئے ۔

    حضرت ابو بکر وعمر وعثمان رضی اللہ عنہم کی خلافت میں مسلمانوں کی سیاسی واجتماعی زندگی پورے امن سکون سے گزرتی رہی یہی وجہ ہے کہ اس عہد میں صغار صحابہ نے علوم دینیہ کی تکمیل کی اور اکثر تابعین نے احادیث نبویہ اور صحابہ کے احکام وفتاویٰ کا درس لیا۔
     
  2. ‏اپریل 30، 2013 #2
    اسلام ڈیفینڈر

    اسلام ڈیفینڈر رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    368
    موصول شکریہ جات:
    1,003
    تمغے کے پوائنٹ:
    97

    آگے چل کر جب لوگوں نے حضرت عثمان کو بلاوجہ ہدف بنایا تو چند لوگوںنے جو بظاہر مسلمان اور بباطن یہود تھے اسلام کا لباد ہ اوڑھ کر لوگوں کو اپنے دام فریب میں پھنسانا چاہا ان کا سرغنہ عبداللہ بن سبا نامی ایک یہودی تھا جو حمیر کے قبیلے سے تعلق رکھتا تھا یہود بے بہود نے فتنے کو ہوا دینا شروع کیا اور اطراف عرب کے لوگوں کو حضرت عثمان کے خلاف اکسانہ شروع کیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت عثمان بحالت مظلومی اپنے گھر میں شہید کردیے گئےاس وقت سے مسلمانوں میں شرارت کا ایسا دروازہ کھلا جو کثیر صحابہ کی موت کا باعث بنا۔

    جو نہی خلیفہ چہارم حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ مسند خلافت پر فائز ہوئے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا مطالبہ کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے دونوں کے دومیان لڑائیوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ جس نے مسلمانوں کے شیرازہ کو بکھیر کر رکھ دیا ۔ حرب ضرب کا یہ طویل سلسلہ جنگ صفین پر جاکر ختم ہوا نتیجہ کے طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے رفقاء شیعہ خوارج دو فرقوں میں تقسیم ہوگئے شکست خوردہ عناصر مثلاً یہود اور اہل فارس نے مسلمانوں کی نااتفاقی سے فائدہ اٹھایا اور مقدور بھر اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں میں لگ گئے ۔

    روایت حدیث میں صحابہ کا طرز و منہاج:


    جب تک سرور جہاں صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے درمیان بقید حیات رہ کر ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے رہے صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم دین و دنیا دونوں کے اعتبار سے کوش قسمت تھے اس عہد سعادت میں صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کو یہ خطرہ دامنگیر نہ تھا کہ منافق اور جھوٹے لوغ حدیث نبوی میں اپنی طرف سے کچھ ملا دیں گے جب تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی رہی اس کے ذریعے منافقین کے دجل و فریب کو طشت ازبام کرنے کا سلسلہ جاری رہا اور حدیث نبوی بھی ان کی کارستانیوں سے مامون و مصئون رہی۔ منافق اس بات سے خائف وہراساں رہا کرتے تھے کہ مبادا کوئی سورت حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کے باطنی کفر ونفاق سے مسلمانوں کو آگاہ کردے ۔مزید برآں حدیث کی نقد جرح کا اس کے سوا کوئی طریقہ نہ تھ اکہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اس کی تردید یا تصدیق سے آگاہ ہوں ۔صحابہ کے یہاں جب بھی کوئی نزاع واختلاف پیدا ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جانب رجوع کر کے اس کا حل دریافت کرتے۔

    ''فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللہ والرسول''(النساء :۵۹)

    ''اگر کسی بات میں تمہارے یہاں اختلاف پیدا ہو جائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو''۔

    حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہشان بن حکیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مختلف طریقہ سے سورۃ الفرقان کی تلاوت کرتے سنا تو ان کے گلے میں چادر ڈال کے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اوعر کہا کہ یہ شخص سورۃ الفرقان کی تلاست اس طریقہ سے نہیں کر رہا جیدے آپ نے مجھے یہ سورۃ پڑھائی تھی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے انہیں پرھنے کا حکم دیا اور سن کر فرماتے ہیں کہ یہ سورۃ یونہی نازل ہوئی تھی پھر آپ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسی سورت کو پڑھنے کاحکم دیا اور سن کر فرمایا ۔یہ سورۃ یونہی اتری تھی پھر فرمایا یہ قرآن سات طرح اتارا گیا ہے جیسے بھی آسان ہو پڑھ لیا کرو۔(صحیح بخاری)

    اس قسم کے حوادث وامثلہ کی کمی نہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فیصلہ صادر فرمایا۔ سابقہ بیانات سے یہ حقیقت منصئہ شہود پر جلوہ فگن ہوتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے عین حیات کسی خلاف ونزاع یا شک اور وسوسے کے ظہور وشیوع کا کوئی امکان نہ تھا اور اگر ایسی کوئی بات ظاہر ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے فورا ختم کردیتے۔
     
  3. ‏اپریل 30، 2013 #3
    اسلام ڈیفینڈر

    اسلام ڈیفینڈر رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    368
    موصول شکریہ جات:
    1,003
    تمغے کے پوائنٹ:
    97

    جب سرورکائنات نے وفات پائی تو صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سینوں کے سوا حدیث نبوی کا دوسرا کوئی محافظ نہ تھا وحی کا سلسلہ بند ہو چکا تھا نفاق کا دور دورہ تھا یہ کوئی عجیب بات نہ تھی کہ منافقین حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر افترا پردازی سے کام لیتے جو بدو یہ دعویٰ کر سکتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسوالت آپ کی موت ہی کے ساتھ ختم ہوگئی ان سے کچھ بعید نہ تھا کہ حدیث رسول کے ساتھ دل لگی کرنے لگیں مگتر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حزم واحتیاطکا شیوہ اختیار کیا انہوں نے جس طرح مرتدین اور مانعین زکوۃ کی ریشہ دوانیوں کا خاتمہ کیا اسی طرح قوانین روایت وجع کر کے حدیث میں دروغ گوئی کے راستہ کو مسدود کر دیا ان کے بعد فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا دور آیا تو انہوں نے جھوٹوں کو ڈرایا اور کثیر الروایت لوگوں کو خفزدہ کر دیا حدیث کی راہ میں انجام دی گئیں ان خدمات جلیلہ کا مختصر تذکرہ حسب ذیل ہے۔

    ۳۔صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تقلیل روایت کا حکم:


    خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی نگاہ میں حدیث نبوی ایک ایسا بیش قیمت خزانہ ہے جو اہل علم کے سینوں میں محفوظ ہے تاہم وہ اسے روایت کی منڈی میں فروخت کے لئے لے جانا نہ چاہتے تھے تاکہ منافقین کو اس میں اضافہ کرنے کا موقعہ نہ ملے اور وہ اس کو حدیثیں گھڑنے کا ذریعہ نہ بنالیں ۔نیز اس لئے کہ کثیر الروایت صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قدم پھسل نہ جائیں اور وہ خطا ونسیان کے گڑھے میں نہ جا گریں اور اس طرح غیر شعوری طور پر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر دروغ بانی کے مرتکب ہوں خلفائے راشدین نے کثرت روایت سے اس لئے بھی منع کیا تھا کہ مبادا لوگ حدیثوں میں منہمک ہو کر تلاوت قرآن کو خیر باد کہہ دیں اس لئےو ہ دیکھتے ہیں کہ خلفائے راشدین صرف انہی احادیث کی نقل و روایت پر متفق تھے جو پیش آمدہ مسائل و فتاویٰ کے لئے ناگزیر ہیں ۔

    حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھئے کہ کثرت سماع کے باوجود بہت کم احادیث روایت کرتے تھے یہی حال حضرت عمران بن حصین ،ابو عبیدہ اور عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا تھا ۔ حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو عشرہ مبشرہ میں سے تھے ان سے صرف دو یا تین احدیث منقول ہیں حضرت ابی بن عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے موزوں پر مسح سے متعلق صرف ایک حدیث مروی ہے۔

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کثیر الروایت صحابہ میں سے تھے تاہم خلافت فاروقی میں انہوں نے روایت حدیث کا مشغلہ ترک کردیا تھا عرصہ دراز یکے بعد جب ضرورت روایت حدیث کی مقتضی ہوئی توانہوں نے تواہت حدیث کا سلسلہ پھر شروع کر دیا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے '' لوگ کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کثیر الروایت ہے اگر قرآن کریم کی دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں ایک حدیث بھی روایت نہ کرتا پھر آپ نے وہ آیتیں تلاوت کیں یعنی''ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینات والھدی من بعد ما بینا ہ للناس'' یہ آیت آپ نے ''انا التواب الرحیم '' تک پڑھی ۔

    ''بے شک جو لوگ ہمارے نازل کردہ دلائل اور ہدایت کو چھپاتے ہیں اس کے بعد کہ ہم نے ان کو لوگوں کے لئے واضح کر دیا ہے ان پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے لعنت کرتے ہیں ''

    ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہمارتے مہاجر بھائی بازار میں خرید وفروخت کرتے رہتے انصار اپنے اپنے کاموں میں مشغول رہتے مگر مجھے شکم سیری کے سوا کسی بات کی فکر دامنگیر نہ ہوتی اور میں حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ لگا رہتا اور وہ حدیثیں یاد کرتا جو دوسروں کو محفوظ نہ ہوتیں۔(صحیح بخاری)

    حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اپنے والد حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا کہ آپ فلاں شخص کی طرح زیادہ حدیثیں روایت کیوں نہیں کرتے ؟ توا نہوں نے جواب دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی صحبت کا فخر تومجھے بھی حاصل ہے مگر میں نے سنا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا''جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا گھر دوزخ میں بنالے ''حضرت زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جب کہا جاتا کہ ہمیں حدیثیں سناؤ تو وہ کہتے ہم بوڑھے ہو کر حدیثیں بھول گئے حدیثیں بیان کرنا معمولی کام نہیں ۔
     
  4. ‏اپریل 30، 2013 #4
    اسلام ڈیفینڈر

    اسلام ڈیفینڈر رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    368
    موصول شکریہ جات:
    1,003
    تمغے کے پوائنٹ:
    97

    سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کتہے ہیں کہ سعد بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مدینہ سے مکہ تک رفیق سفر رہا اس دوران انہوں نے مجھے ایک حدیث بھی نہ سنائی امام شعبی کا قول ہے ''میں سال بھر تک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہم نشین رہا میں نے کبھی ان کو حدیثروایت کرتے نہ سنا ۔''

    حضرت انس بن مالک جب حدیث روایت کرکے فارغ ہوتے تو کہا کرتے تھے ''او کما قال''یا آپ نے جیسا بھی فرمایا۔ تاکہ جھوٹ سے احتراز کیا جائے ۔

    اور اس قسم کے کثیر اقوال وآثار جن سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ صحابہ حزم واحتیاط کی بنا پر حدیثیں کم روایت کرتے تھے ۔ مبادا منافقین حدیث کو اپنی اغراض خبیثہ پورا کرنے کا ذریعہ بناا لیں مزید برآں وہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اس حدیث سے بھی آگاہ تھے کہ ''کثرت حدیث سے پرہیز کرو۔ اور جو شخص حدیث روایت کرے وہ سچی روایت بیان کرے''۔ (احمد ،حاکم، ابن ماجہ)صحابہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اس ار شاد گرامی سے آگاہ تھے کہ میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کا دامن تھامے رکھو''۔

    ۴
    ۔ روایت حدیث میں حزم واحتیاط


    حضرات صحابہ جس طرح روایت حدیث میں قل کا حکم دیتے تھے اور کثرت سے منع کرتے تھے اسی طرح راوی اور مروی دونوں کے بارے میں حزم واحتیاط کی راہ پر گامزن تھے اس ضمن میں وہ کتاب اللہ اور احادیث متواترہ و مشہورہ سے استناد و احتجاج کرتے تھے حدیچ سے استدلال کرتے وقت حد در جہ حزم و احتیاط سے کام لیتے تھے جس حدیث سے اس کا دل مطمئن ہوتا مثلاً یہ کہ متواتر یا مشہور ہو یا اس قسم کی خبر واحد ہو جس کے راوی میں ایسا کوئی شخص نہ ہو جس کے حفظ و ضبط میں شک کی گنجائش ہو اس کو قبول کر کے عمل کرتے اور اس پر گواہ طلب کرنے کی ضرورت محسوس نہ کرتے جس حدیث میں شک محسوس کرتے اس پر گواہ طلب کرتے اگر مشکوک کی صداقت شہادت سے ثابت نہ ہوتی یا وہ حدیث کتاب اللہ کے مخالف ہوتی تو اس کو رد کردیتے ۔

    اس ضمن میں چند روایات ملاحظہ ہوں۔

    ۱۔ حافظ ذہبی تذکرۃ الحفاظ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں کہ اولین شخص تھے جنہوں نے قبولیت احادیث میں احتیاط سے کام لیا ۔ابن شہاب حضرت قبیصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دادی حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض پرداز ہوئی کہ اس کے پوتے کے ترکہ سے اسے ورثہ دلایا جائے کہنے لگے میں خدا کی کتاب میں تمہارے لئے کچھ نیہں پاتا اور مجھے نہیں معلوم کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تمہارے لئے ترکہ میں سے حصہ مقرر کیا ہے پھر اس ضمن میں لوگوں سے پوچھا تو حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہو گئے کہنے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم دادی کو ترکہ جمیں سے چھٹا حصہ دلایا کرتے تھے ۔ فرمایا کوئی شخص تمہاری تائید کرے گا؟چنانچہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے حق میں شہادت دی حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دادی کو چھٹا حصہ دلایا۔

    ۲۔
    حافظ ذہبی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں کہ وہ اولین شخص تھے جس نے روایت حدیث میں بیدار مغزی اور احتیاط کی راہ نکالی جب آپ کو شک پڑجاتا تو قبولیت میں توقف فرماتے ۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دروازہ کے شگاف میں سے تین مرتبہ سلام کیا اوع جب اندر آنے کی اجازت نہ ملی تو لوٹ گئے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے پیچھے آدمی بھیجا اور پوچھا کہ آپ لوٹ کیوں گئے تھے ؟کہنے لگے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے جب کوئی شخص تین مرتبی سلام کہے اوراسے جواب نہ دیا جائے تو واپس لوٹ جائے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اس حدیث کی تائید میں شہادت پیش کیجیے ۔ ورنہ میں تمہیں سزادوں گا حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے پاس آئے تو ان کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں ہم بیٹھے ہوئے تھے ہم نے پو چھا کیا بات ہے؟ انہوں نے ماجرا کہہ سنایا اور پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے یہ حدیث سنی ہے؟ ہم نے کہا ''یہ حدیث ہم سب نے سنی ہے'' چنانچہ ایک شخص ان کے ساتھ گیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے شہادت دی۔(تذکرۃ الحفاظ(

    ۳۔امام ذہبی روایت کرتے ہیں کہ ہشام کے والد نے جب ایک حدیث بیان کی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ شہادت پیش کیجئے وہ باہر نکلا تو چند انصاری صحابہ کھڑے تھے اس نے ماجرا بیان کیا وہ کہنے لگے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے حضررت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ سن کر کہنے لگے میں آپ پر جھو ٹ کی تہمت نہیں لگاتا میرا مقصد صرف تحقیق کرناتھا۔

    ۴۔امام ذہبی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ترجمہ میں اسماء بن حکم الفزاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ فرماتے ہو ئے سنا کہ '' جب میں براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کوئی حدیچ سنتا تو مستفید ہوتا اور جب کوئی دوسرا شخص مجھے حدیچ سناتا تو اسے حلف دیتا جب حلف اٹھا لیتا تو اس کی تصدیق کرتا ''۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے یہ حدیث سنائی اورابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سچ فرمایا ۔کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کر فرماتے سنا کہ جو مسلمان شخص کسی گناہ کا ارتکاب کر کے وضو کرے اور پھر دو رکعت نماز پڑھے اور اللہ سے بخشش مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے بخش دیاتا ہے۔

    ۵۔اسء طرغ غحرت عائشی رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس حدیث کو رد کر دیا جس میں ہے کہ سب معراج رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے رب کریم کو دیکھا کیونکہ قرآن میں اس کے خلاف مذکور ہے ارشاد فرمایا۔

    ''لا تدرکہ الابصار وھو یدرک الابصار''(الانعام:۱۰۳)

    ''آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ آنکھوں کا ادراک کر سکتا ہے''۔
     
  5. ‏اپریل 30، 2013 #5
    اسلام ڈیفینڈر

    اسلام ڈیفینڈر رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    368
    موصول شکریہ جات:
    1,003
    تمغے کے پوائنٹ:
    97

    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے شب معراج اللہ تعالیٰ کو دیکھا اس نے زبردست جھوٹ بولا یہ ان کے اجتہاد پر مبنی ہے بعض علماء حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف ہیں ان کے نزدیک مذکورہ صدر آیت کے معنہ یہ ہیں کہ آنکھیں ذات تعالیٰ کا احاطہ نہیں کر سکتیں اگر یہ مفہوم مراد لیا جئے توآیت و حدیث میں کسی قسم کا تعار ض باقی نہیںرہتا۔

    جس طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہامتن حدیث پر غور کر کے اس پر نقد وجرح کرتیں اور اسے قرآن کے معیار پر رکھ کر جانچتی پر کھتی تھیں اسی طرح وہ راوی کے حفظ و ضبط کا امتحان بھی لیا کرتی تھیں۔

    ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا اے بھانجے ! مجھے پتہ چلا ہے کہ عبداللہ بن عمر وبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے یہاں سے گزر کر حج کو جا رہے ہیں ان کو مل کر چند مسائل پوچھئے اس لئے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے بہت استفادہ کیا ےتھا جناب عروہ نے حسب ارشاد حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مل کر چند باتیں دریافت کیں ان کے جواب میں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو احادیث ذکر کیں ان میں سے ایک حدیچ یہ بھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ''اللہ تعالیٰ یوں لوگوں کے سینوں سے علم کو جھٹ پٹ کھینچ نہیں لے گا بلکہ وہ علماء کو وفات دے دے گا۔ اور اس طرح علم لوگوں کے درمیان سے اٹھ جائے گا لوگوں میں جاہل باقی رہ جائیں گے جو بغیر دلیل وبرہان فتویٰ دیں گے خود بھی گمرہ ہوں گے اور دوسریں کو بھی گمراہ کریں گے''۔

    عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے ''جب میں نے یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو سنائی تو انہیں بڑا تعجب ہوا اور اس سے انکار کر دیا کہنے لگیں کیا یہ حدیث عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنی ہے؟ عروہ نے کہا جی ہاں ۔ایک سال گزرنے پر جب پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عروہ سے کہا کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مل کر پھر اسی حدیث کے بارے پوچھئے ۔عروہ کہتے ہیں کہ میں جب حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مل کر جب پھر اسی حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے وہ حدیث من و عن بیان کر دی پھر میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو بتایا فرمانے لگیں ۔میرا خیال ہے کہ ان کی بیان کردہ حدیث درست ہے ۔عبداللہ نے (ایک سال گزرنے کے باوجود۹ اس کے الفاظ میں کچھ کمی بیشی نہیں کی۔ (اعلام الموقعین ج،۱ ص۴۳)

    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے گویا حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قوت حفظ و ضبط کا امتحان لیا پہلی مرتبہ انہیں شک گزرا جب دوسری مرتبہ معلوم ہوا کہ عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث کے الفاظ میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں کی حالانکہ پورا ایک سال گزر چکا تو انہیں یقین آگیا کہ ان کا حافظہ مضبوط ہے اس لئے ان کی تصدیق کی اور ان کی روایت کو قبو ل کر لیا ۔

    اس قسم کے آثار و اقوال جو بکثرت ہیں اس حقیقت پر روشنی ڈالتے ہیں کہ صحابہ حدیث کو بڑی لے دے کے بعد قبول کرتے تھے ۔وہ حدیث اور اس کے راوہ کو نقد وجرح کے ترازو میں رکھ کر جانچتے پرکھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کے بعد یہ ایک فطری امر تھا اس لئے کہ جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بقید حیات رہے اس وقت وہ آپ سے مل کر حدیث کے بارے میں سوال کرسکتے تھے مگر آپ کی وفات کے بعد اس کا امکان نہ تھا ۔

    عسیر الفھم احادیث روایت کرنے کی ممانعت :


    قبل ازیں بیان کر چکے ہیں کہ ذہیں وفطین صحابہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم خصوصی علوم سے بہرہ ور کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ عوام کو ان علوم سے آشنا نہ کیا جائے اس لئے کہ وہ ان کے سمجھنے سے قاصر رہ کر فتنے میں مبتلاء ہو جائیں گے۔

    ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اونٹ پر سوار تھے اور حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے ہم رکاب تھے فرمایا اے معاذ بن جبل!جو شخص بھی خلوص دل سے لا الہ اللہ کہہ دے اللہ اس پر آتش جہنم کو حرام کر دے گا ۔حضرت معاذ نے کہا یا رسول اللہ میں لوگوں کو بتانہ دوں وہ سن کر خوش ہو جائیں گے ۔فرمایا!نہیں اس طرح وہ کلمہ ہی پر بھرسہ کر لیں گے ۔اور اعمال صالحہ ترک کردیں گے ۔جب حضرت معاذ فوت ہونے لگے تو یہ حدیث بیان کی تاکہ وہ کتمان علم کے مرتکب نہ ٹھریں ۔(صحیح بخاری)

    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ مندرجہ صدر حدیث معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مضمون سے لوگوں کو آگاہ کردیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پتہ چلا توانہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس اقدام سے باز رکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض پرداز ہوئے کہ کیا آپ نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فلاں بات کا حکم دیا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اثبات میں جواب دیا ۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ایسا نہ کیجئے ،مجھے ڈر ہے کہ کہیں لوگ اسی پر بھروسہ نہ کرلیں لہذا آپ لوگوں کو عمل کرنے دیجئے۔(صحیح مسلم کتاب الایمان)

    امام مسلم نے مقدمہ صحیح مسلم میں روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ،آدمی کے لئے یہی جھوٹ کافی ہے کہ جو بات سنے اسے بیان کردے۔

    عوام کو ناقابل فہم باتیں بتانا اس لئے شرعا ممنوع ہے کہ وہ ایسی باتیں سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں جب وہ ایک بات کو سمجھ نہ پائیں گےتو اسے جھٹلا دیں گے اوران کا اعتماد اس راوی سے اٹھ جائے گا ۔اور اگر وہ اس کی تکذیب نہ کریں گے اور جو بات سمجھ میں آجائے اس پر عمل کریں گے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ جو بات سمجھ میں نہ آئے گی اس کو چھوڑ دیں گے اس سے بعض شرعی احکام کا ترک کرنا لازم آئے گا اور اس سے یہ ہوگا کہ جس شخص نے وہ حدیث بتائی تھی اس نے وہ حدیث بیان کر کے ان کو شرعی احکام پر عمل کرنے سے روک دیا ،بلکہ اس سے بڑھ کر ہم یہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو ایسی باتیں بتانا جو ان کی سمجھ میں نہ آئیں ان کو دین کے بارے میں شکوک شبہات میں مبتلاء کردینے کے مترادف ہے اسی لئے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ،

    ''لوگوں کو وہ بات بتائے جو ان کی سمجھ میں آجائے کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول ککو جھٹلایا جائے ۔''
     
  6. ‏اپریل 30، 2013 #6
    اسلام ڈیفینڈر

    اسلام ڈیفینڈر رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    368
    موصول شکریہ جات:
    1,003
    تمغے کے پوائنٹ:
    97

    خلافت راشدہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صحابہ آپ کی ہموار کردہ راہ پر گامزن رہے اور عوام کے لئے جو باتیں ناقابل فہم تھیں ان بتانے سے احتراز کرتے رہے مبادا وہ فتنے میں مبتلاء ہوکر بعض دینی فرائض کو چھوڑ بیٹھیں۔

    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ''جس قول کو بھی ایسی بات بتائیں گے جو ان کی سمجھ میں نہ آسکے وہ بعض لوگوں کے لئے فتنے کا موجب ہوگی۔''(مقدمہ صحیح مسلم)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سن کر دو باتیں یاد رکھیں ایک لوگوں کو بتادی اگر دوسری بھی بتا دوں تو میرا گلا کٹ جائے (صحیح بخاری)

    حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ''لوگوں کو وہ باتیں بتاؤ جو ان کی سمجھ میں آجائیں کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلایا جائے ۔''

    امام ابن عبدالبر نے اسی قسم کی ایک روایت حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی نقل کی ہے غرض یہ کہ حضرات صحابہ تابعین اور ائمہ کرام شروع ہی سے ایسی حدیثوں کو روایت کرنے سے روکتے رہے جو لوگوں کی کم فہم کی وجہ سے فتنہ وفساد کی موجب محرک ہو سکتی ہو۔ یا جن کو اصحابہ بدعت اور گمرہ سلاطین ان کے ظاہری الفاظ کی بناپر اپنے ناروا مقاصد اور جو روا استبداد کے لئے استعمال کر سکتے ہیں ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب حجاج ثقفی کو قبیلہ عرینہ کےواقعہ پر مشتمل حدیث سنائی تو حضرت حسن بصری اس پر معترض ہوئے اس لئے کہ حجاج نے تاویل کر کے اس سے ناروا خون ریزی کا جواز نکالا ےتھا ۔ امام احمد بن حنبل ان احادیث کی نقل وروایت سے منع کیا کرتے تھے ۔جن کے ظاہری الفاظ سے حاکم وقت کے خلاف بغاوت کرنے کا جواز ثابت ہوتا ہے۔ قاضی ابو یوسف ایسی احادیث کے روایت کرنے کو نا پسند کیا کرتے تھے جن میں کوئی نرالی یا انوکھی بات بیان کی گئی ہو۔

    ائمہ کرام نے ایسی احادیث کی نقل و روایت سے اسی لئے منع کیا تھا تاکہ دین اصحابہ بدعت کی ریشہ دوانیوں سے محفوظ رہے اور امت مسلمہ ان فتنہ بازوں کے دام فریب میں نہ آنے پائے اس لئے کہ باطل پرست اور اباحیت پسند لوگ احادیث کے ظاہری الفاظ سے استدلال کر کے اور دینی محرمات کو حلال ٹھہرا کر شعوری یا غیر شعوری طور پر کفر کا ارتکاب کرتے رہے ہیں یہ بات اکثر و بیشتر ان لوگوں میں پائی جا تی ہے جو اپنے آپ کو دین کا داعی ومبلغ قرار دیتے ہیں کسی نے سچ کہا ہے کہ جاہل داعیوں کی وجہ سے مذاہب آفات کی آماجگاہ بن جاتے ہیں ۔ اسی لئے صحابہ ایسی احادیث کی نشرواشاعت سے دامن بچاتے رہے جو کوتاہ نظری کے باعث غلط فہمی کی باعث بن سکتی ہوں یا جن سے اصحاب بدعات واہواء ناجائز فائدہ اٹھاسکتےہوں تاکہ اللہ کی زمین فتنہ وفساد کی آماجگاہ نہ بننے پائے۔(فتح الباری:ج ،۱ص۱۶۰)

    ۶۔صحابہ کے طرز روایت پر اعتراض اور اس کا جواب:

    معترض کہہ سکتا ہے کہ صحابہ روایت حدیث میں چنداں دلچسپی نہیں لیتے تھے اس لئے کہ وہ صرف نصوص قرآنی اور احادیث مشہورہ پر عمل کرتے تھے اس کے بعد اگر انہیں ضرورت لاحق ہوتی تو اپنی رائے پر عمل کرتے اسی لئے وہ حدیثیں کم روایت کرنے کا حکم دیا کرتے تھے صحابہ کے بارے میں یہ بھی منقول ہے کہ وہ اکثر نو پید مسائل میں اپنی رائے کو معمول بہا بناتے تھے ۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بعض احادیث کو رد کردیا تھا اور بعض کی صحت کے بارے میں شہادت طلب کی یا راوی کو حلف دلایا تھا کہ اس نے فلاں روایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنی ہے ۔مندرجہ صدر امور سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ اخبار احاد کو رد کرتے اور رائے کو نص کے مقابلہ میں ترجیح دیا کرتے تھے ۔

    اس اعتراض کے جوابات حسب ذیل ہیں ۔

    ۱۔ صحابہ نے تقلیل روایت کا حکم اس لئے دیا تھا کہ کثیر الروایت راوی سے غلطی کا احتمال رہتا ہے بخلاف ازیں قلیل الروایت راوی احادیث کو زیادہ محفوظ رکھ سکتا ہے ۔ صحابہ کے کثرت روایت سے روکنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ منافقین کو اس بات کا موقع نہ ملے کہ وہ اپنے حسب منشاء احادیث وضع کر کے احادیث صحیحہ میں شامل کردیں ۔ علاوہ ازیں کچھ لوگ ایسے بھی تھےجو اچھی طرح قرآن کریم بھی نہیں پڑھ سکتے تھےاور اس کا خطرہ دامن گیر تھا کہ وہ اگر کسی اور چیز میں مشغول ہوگئے تو قرآن کریم کی قرأت وتلاو سے محروم رہیں گے۔ حالانکہ وہ دین اسلام کا اولین ماخذ ہے۔

    ۲۔ جہاں تک سماع حدیث کے بارے میں گواہ طلب کرنے یا راوی کو حلف دینے کا تعلق ہے ۔ صحابہ ہمیشہ ایسا نہیں کرتے تھے بخلاف ازیں ایسا اس وقت کرتے تھے جب انہیں راوی کے حفظ وضبط کے بارے شک گزرتا، اس کی دلیل یہ ہے کہ وہ بعض صحابہ کی ایسی روایت بھی قبول کر لیا کرتے تھے جن کو ان کےسوا کسی دوسرے صحابی نے روایت نہ کیا ہو تا بشر طیکہ صحابہ کو راوی کے حافظہ پر اعتماد ہوتا ۔

    مثلا ًحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ضحاک بن سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ روایت قبول کر لی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ضحاک کو لکھا تھا کہ اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کی دیت سے ورثہ دلایا جائے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ضحاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کوئی گواہ طلب نہ کیا اسی طرح جب حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت بیان کی کہ جس جگہ وبا پڑچکی ہو وہاں جانا نہیں چاہیے ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو کہ عازم شام تھے یہ حدیث سن کر مقام سرغ سے واپس مدینہ لوٹ آئے حالانکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جو مہاجرین و انصار موجود تھے ان میں سے کسی کو بھی یہ حدیث معلوم نہ تھی جناب فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کوئی بھی تائیدی شہادت طلب نہ کی سابق الذکر حدیث میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ مقولہ مشہور ہے کہ (وحدثنی ابو بکر وصدق ابو بکر) ''ابو بکر نے مجھے یہ حدیث سنائی اور ابو بکر نے سچ کہا ''۔

    چونکہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صادق القول تصور کرتے تھے اس لئے انہوں نے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حلف نہ دیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابو موسٰی اشعر ی کو مخاطب کر کے کہا تھا ''میں آپ پر تہمت نہیں لگاتا صرف تصدیق کرنا چاہتا ہوں اس لئے میں نے گواہ طلب کیا ہے''۔

    ۳۔باقی رہی یہ بات کہ صحابہ حدیث کو چھوڑ کر رائے پر عمل کیا کرتےتھے تو یہ غلط ہے اور واقعات وآثار اس کی تردید کرتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتےہیں ۔

    ''رائے سے احتراز کیجئے۔اس لئے کہ اصحاب الرائے سنت کے دشمن ہوتے ہیں وہ احادیث کو حفظ کر نے سے قاصر رہتے ہیں عنقریب ایک ایسی قوم ظہور پذیر ہوگی جو قرآن کی آیات و متشابہات کا سہارا لے کر تم سے جھگڑے گی ۔ احادیث کے ذریعہ ان پر گرفت کرو اس لئے کہ اصحاب الحدیث کتا ب کو زیادہ بہتر ??تے ہیں جس طرح تم قرآن سیکھتے ہو اس طرح سنت اور فرائض سیکھو۔''

    رائے کے بارے میں صحابہ سے جو کچھ منقول ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب طلب تلاش کے باوجود صحابہ کو حدیث نہ ملتی تو وہ رائے سے کام لیتے اور کہا کرتے تھے۔

    ''یہ ہماری ذاتی رائے ہے اگر غلطی نکلی تو ہمارا اور شیطان کا قصور ہے اوراگر درست ثابت ہوئی تو عنایت خداوندی ہے۔''

    اگر اس کے بعد ان کو حدیث نبوی مل جاتی تو رائے کو ترک کر کے حدیث پر عمل کرتے جناب میمون بن مہرا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرماتے ہیں ۔

    ''جب کوئی نیا مسئلہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا جاتا تو اس کا فیصلہ کتاب اللہ میں تلاش کرتے اگر اس کا حل مل جاتا تو اس کے مطابق فیصلہ کرتے ورنہ حدیث رسول میں تلاش کرتے اگر تلاش کرنے میں کا میاب ہوجاتے تو اس کی روشنی میں فیصلہ کرتے اور اگر تلاش کرنے میں کامیابی نہ ہوتی تو لوگوں سے پوچھتے کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس معاملہ میں کیا فرمایا ؟ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا کہ کچھ لوگ کھڑے ہوکر کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس ضمن یہ فیصلہ دیا تھا۔ اگر سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں اس کا حل نہ ملتا تو سرکردہ لوگوں کو جمع کرتے اور ان سے مشورہ طلب کرتے جب وہ ایک مسئلہ پر متفق ہوجاتے تو اس کے مطابق فیصلہ کرتے ۔''

    میمون بن مہرا ن مزید فرماتے ہیں :


    حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا طریق کار بھی یہی تھا جب کسی مسئلہ کا حق انہیں کتاب وسنت میں نہ ملتا تو پوچھتے کہ کیا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا ہے؟اگر کسی فیصلہ کا پتہ چلتا تو اس کے مطابق فیصلہ دیتے ورنہ اہل علم صحابہ کو جمع کر کے مشورہ کرتے جب کسی بات پر ان کے یہاں اتفاق رائے ہوجاتا تو اس کے مطابق فیصلہ صادر کرتے ۔''
     
  7. ‏اپریل 30، 2013 #7
    اسلام ڈیفینڈر

    اسلام ڈیفینڈر رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    368
    موصول شکریہ جات:
    1,003
    تمغے کے پوائنٹ:
    97

    جناب فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب شریح کو کوفہ کا قاضی بنا کر بھیجا تو یہ نصیحت فرمائی :


    ''دیکھے جو بات آپ کو قرآن کریم میں نظر آئے اس کے بارے میں کسی سے مت پوچھئے ،اور بات سنت رسول میں نہ ملے اس میں سنت رسول کی پیروی کیجئے جو بات سنت رسول میں بھی نہ ملے اس کے بارے میں اپنی رائے سے اجتہاد کیجئے۔''

    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :


    ''جب کسی شخص کو کسی نئے مسئلہ کا سابقہ پڑے وہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کرے اگر کتا ب میں اس کا حل نہ ملے تو حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں حل کرے ۔اگر ایسا حادثہ رونما ہو جو کتاب اللہ میں بھی مذکور نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی اس ضمن میں کوئی فیصلہ صادر نہیں کیا ،تواس کو اس طرح حل کرے جس طرح خدا کے نیک بندوں نےکیا ہو ، اگر اس کی نظیر بھی نہ مل سکے تو اپنی رائے سے اجتہاد کرے اور شرمائے نہیں ۔''(اعلام اموقعین ج۱،ص۵۱،وحجۃ اللہ البالغہ ج۱۔ ص۱۲۹)

    اس قسم کے اقوال وآثار لاتعداد ہیں ملاحظہ فرمائے:


    صحابہ سے اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ انہوںنے سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے انحرا ف کر کے اپنی رائے سے عمل کیا ہو۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :

    ''اگر دین کا انحصار رائے پر ہوتا تو موزوں پر نچلی جانب مسح کرنا بالائی طرف کے مسحسے افضل ہوتا۔''

    حضرت عبداللہ بن عباس، معاذ بن جبل، عبداللہ بن عمر ،سہل بن حنیف ،معاویہ ،ابوبکر،عمر او عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم یہ تمام اکابر صحابہ رائے کی مذمت فرماتے اور اتباع سنت کی تاکید کرتے تھے۔

    مندرجہ صدر بیانا ت سے یہ حقیقت منصہ شہود جلوہ گر ہوتی ہے کہ حدیث نبوی صحابہ کا اوڑھنا بچھونا تھی وہ حدیث نبوی کی روشنی میں چلتے اور آخری درجہ کی اہمیت دیتے تھے۔ اور اگر صحیح مقصد کی خاطر وہ روایت حدیث کم کرنے کا مشورہ دیں تو اس کے معنی یہ نہیں کہ وہ سنت کو کچھ اہمیت نہیں دہتے تھے۔اگر یہ بات ہوتی تو روایت کی قلت ہو یا کثرت دونوں ان کے نزدیک شجرہ ممنوعہ ہوتیں،یہ حقیقت قبل ازیں واضح ہو چکی ہے کہ صحابہ حدیث نبوی کے مرتبہ مقام سے آشنا تھے اور اسی لئے وہ اس کو بے حد قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتےتھے۔یہ دوسری بات ہے کہ وہ قرآن کی طرح سنت کی جمع تدوین انجام نہ دے سکے اس میں شبہ نہیں کہ احادیث نبویہ کی انہوں نے اپنے سینوں میں جگہ دی اور اس کے حفظ وضبط کا پورا پورا اہتمام کیا اس پر مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عدیم النظیر قوت حافظہ سے بہرہ ور کیا تھا۔

    صحابہ کے بارے میں یہ جو مشہور ہے کہ انہوں نے بعض احادیث کو تسلیم نہیں کیا تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ یا تو وہ اس حدیث کے روای کو ضعیف سمجھتے تھے یا ان کے نزدیک دوسری قوی تر حدیث اس کی ناسخ یا معارض ہوتی جس طرح حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس حدیث کو تسلیم نہیں کیا تھا جس میں مذ کور ہے کہ شب معراج رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اللہ تعالٰی کو دیکھا تھا ۔اور جس طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فاطمہ بنت قیس کی اس روایت کو رد کیا تھا کہ مطلقہ ثلاثہ ہونے کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کو نان ونفقہ اور سکونت نہیں دلوائی تھی،فاطمہ کے بیان کے برعکس حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ فتویٰ دیا کہ جس عور ت کو تین طلاقیں ہو جائیں اس کو نفقہ اور سکونت ملے گی۔ اس کی دلیل میں وہ یہ آیت پیش کرتے تھے۔

    '' لا تخرجوھن من بیوتھن ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ''(لطلاق:۱)

    ''ان عورتوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں بجز اس صورت کے جب کہ وہ بظاہر بے حیائی کے مرتکب ہوں''۔

    حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے ''ایک عورت (فاطمہ بنت قیس)کے کہنے پر ہم اللہ کی کتاب اور نبی کی سنت کو نہیں چھوڑ سکتے جب کہ یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ سچ بولتی ہے یا جھوٹ اسے یاد بھی ہے یا نہیں''۔

    اور اس قسم دیگر واقعات جن میں صحابہ کسی حدیث کو تسلیم نہ کرنے کے لئے مجبورو معذور تھے مگر حقیقت الامر سے ناآشنا شخص یہ سمجھتا ہے کہ صحابہ سنت پر عمل نہیں کرتے حالانکہ صحابہ کا دامن اس تہمت سے پاک ہے۔

    اس بات کی تردید کہ صحابہ خبر واحد پر اعتماد نہیں کرتےتھے :


    بعض لوگوں کے نزدیک اخبار آحاد اس لئے قابل احتجاج نہیں کہ صحابہ ان کے قبول کرنے میں توقف سے کام لیتے تھے۔ اور ان پر عمل کرنے سے گریز کیا کرتے تھے جمہور علماء کے نزدیک اخبار آحاد دین میں حجت ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں