1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حدیث نبوی سننے ، یاد رکھنے اور دوسروں کو سنانے کی عظمت

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو شحمہ, ‏دسمبر 26، 2017۔

  1. ‏دسمبر 26، 2017 #1
    ابو شحمہ

    ابو شحمہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 18، 2017
    پیغامات:
    42
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    ایک حدیث چاہیے؛
    نضر الله امرأ سمع مقالتي فحفظها ووعاها وأداها كما سمعها

    ہوبہو ان الفاظ کے ساتھ کس نے روایت کیا ہے ترجمہ مکمل حوالہ اور کسی محدث کا حکم۔
     
  2. ‏دسمبر 26، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,438
    موصول شکریہ جات:
    2,201
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    یہ حدیث کئی محدثین نے نقل فرمائی ہے ؛
    امام ابو داودؒ فرماتے ہیں :
    حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، حدثني عمر بن سليمان، من ولد عمر بن الخطاب، عن عبد الرحمن بن أبان، عن أبيه، عن زيد بن ثابت، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «نضر الله امرأ سمع منا حديثا، فحفظه حتى يبلغه، فرب حامل فقه إلى من هو أفقه منه، ورب حامل فقه ليس بفقيه»
    سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ (آباد و شاد ) رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور اسے یاد رکھا یہاں تک کہ اسے دوسروں تک پہنچا دیا کیونکہ بہت سے حاملین فقہ ایسے ہیں جو فقہ کو اپنے سے زیادہ فقہ و بصیرت والے کو پہنچا دیتے ہیں، اور بہت سے فقہ کے حاملین خود فقیہ نہیں ہوتے ہیں“۔

    تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/العلم ۷ (۲۶۵۶)، (تحفة الأشراف: ۳۶۹۴)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المقدمة ۱۸ (۱۲۳۰)، مسند احمد (۱/۴۳۷، ۵/۱۸۳)، سنن الدارمی/المقدمة ۲۴(۲۳۵) (صحیح)
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    اور امام ترمذیؒ نے روایت کیا :
    حدثنا محمود بن غيلان قال: حدثنا أبو داود قال: أخبرنا شعبة قال: أخبرنا عمر بن سليمان، من ولد عمر بن الخطاب قال: سمعت عبد الرحمن بن أبان بن عثمان، يحدث عن أبيه، قال: خرج زيد بن ثابت، من عند مروان نصف النهار، قلنا: ما بعث إليه هذه الساعة إلا لشيء يسأله عنه، فقمنا فسألناه، فقال: نعم، سألنا عن أشياء سمعناها من رسول الله صلى الله عليه وسلم، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «نضر الله امرأ سمع منا حديثا فحفظه حتى يبلغه غيره، فرب حامل فقه إلى من هو أفقه منه، ورب حامل فقه ليس بفقيه»
    وفي الباب عن عبد الله بن مسعود، ومعاذ بن جبل، وجبير بن مطعم، وأبي الدرداء، وأنس: «حديث زيد بن ثابت حديث حسن»

    ابان بن عثمان کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی الله عنہ دوپہر کے وقت مروان کے پاس سے نکلے (لوٹے)، ہم نے کہا: مروان کو ان سے کوئی چیز پوچھنا ہو گی تبھی ان کو اس وقت بلا بھیجا ہو گا، پھر ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہاں، انہوں نے ہم سے کئی چیزیں پوچھیں جسے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو مجھ سے کوئی حدیث سنے پھر اسے یاد رکھ کر اسے دوسروں کو پہنچا دے، کیونکہ بہت سے احکام شرعیہ کا علم رکھنے والے اس علم کو اس تک پہنچا دیتے ہیں جو اس سے زیادہ ذی علم اور عقلمند ہوتے ہیں۔ اور بہت سے شریعت کا علم رکھنے والے علم تو رکھتے ہیں، لیکن فقیہہ نہیں ہوتے“
    امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- زید بن ثابت کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، معاذ بن جبل، جبیر بن مطعم، ابو الدرداء اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔

    سنن الترمذی 2656 ، سنن ابی داود/ العلم ۱۰ (۳۶۶۰)، سنن ابن ماجہ/المقدمة: ۱۸ (۲۳۰) (تحفة الأشراف: ۳۶۹۴)، و مسند احمد (۱/۴۳۷)، و (۵/۱۸۳)، وسنن الدارمی/المقدمة ۲۴ (۲۳۵) ​
     
    • علمی علمی x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 26، 2017 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,438
    موصول شکریہ جات:
    2,201
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    ہوبہو ان الفاظ کے ساتھ مشکاۃ میں موجود ہے
    عن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «نضر الله عبدا سمع مقالتي فحفظها ووعاها وأداها فرب حامل فقه غير فقيه ورب حامل فقه إلى من هو أفقه منه. ثلاث لا يغل عليهن قلب مسلم إخلاص العمل لله والنصيحة للمسلمين ولزوم جماعتهم فإن دعوتهم تحيط من ورائهم»
    ( رواه الشافعي والبيهقي في المدخل) مشکاۃ المصابیح ،کتاب العلم )
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو مجھ سے کوئی حدیث سنے پھر اسے اچھی طرح یاد رکھ کر اسے دوسروں کو پہنچا دے، کیونکہ بہت سے احکام شرعیہ کا علم رکھنے والے اس علم کو اس تک پہنچا دیتے ہیں جو اس سے زیادہ ذی علم اور عقلمند ہوتے ہیں۔ اور بہت سے شریعت کا علم رکھنے والے علم تو رکھتے ہیں، لیکن فقیہہ نہیں ہوتے ،تین چیزیں ایسی ہیں جن مں مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا ، خالص اللہ کیلئے عمل ،دوسرا مسلمانوں کی خیرخواہی ،مسلمانوں کی جماعت کو لازم پکڑنا ،کیونکہ انکی دعاء ان کو گھیرے ہوتی ہے“
    ھدیۃ الرواۃ (جلد اول ،صفحہ 157 ) میں علامہ البانیؒ نے اسے صحیح کہا ہے ؛
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
     
    • علمی علمی x 4
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  4. ‏دسمبر 27، 2017 #4
    ابو شحمہ

    ابو شحمہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 18، 2017
    پیغامات:
    42
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    الفاظ الگ ہے شیخ۔ مشکاۃ میں کما سمعہا لفظ نہیں۔
     
  5. ‏دسمبر 27، 2017 #5
    ابو شحمہ

    ابو شحمہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 18، 2017
    پیغامات:
    42
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    ان دونوں کے الفاظ بتا سکتے؟
     
  6. ‏دسمبر 27، 2017 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,438
    موصول شکریہ جات:
    2,201
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    امام شافعی ؒ کی (المتوفى: 204ھ) مسند میں بالاسناد مکمل حدیث حسب ذیل ہے :
    أخبرنا سفيان بن عيينة، عن عبد الملك بن عمير، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن أبيه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " نضر الله عبدا سمع مقالتي فحفظها ووعاها وأداها، فرب حامل فقه غير فقيه، ورب حامل فقه إلى من هو أفقه منه، ثلاث لا يغل عليهن قلب مسلم: إخلاص العمل لله، والنصيحة للمسلمين، ولزوم جماعتهم، فإن دعوتهم تحيط من ورائهم "(مسند امام شافعیؒ ،دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان )

    امام حمیدیؒ (المتوفى: 219هـ)جو امام شافعی ؒ کے شاگرد ہیں انہوں نے یہ حدیث انہوں نے امام سفیان بن عیینہؒ ہی سے سنی ہے مسند حمیدی میں ہے :
    حدثنا الحميدي، ثنا سفيان، ثنا عبد الملك بن عمير غير مرة عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " نضر الله عبدا سمع مقالتي فوعاها فحفظها وبلغها، فرب حامل فقه غير فقيه، ورب حامل فقه إلى من هو أفقه منه، ثلاث لا يغل عليهن قلب مسلم: إخلاص العمل، ومناصحة أئمة المسلمين، ولزوم جماعتهم فإن الدعوة تحيط من وراءهم "(حدیث 88 )

    اور مصنف ابن ابی شیبہؒ (المتوفى: 235ھ)میں ہے :
    نا يزيد بن هارون، عن شعبة، عن سماك بن حرب، عن عبد الرحمن بن عبد الله، عن أبيه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «نضر الله امرءا سمع منا حديثا فبلغه كما سمعه، فإنه رب مبلغ أوعى لها من سامع» (حدیث 296 )

    اور "کما سمع " کے الفاظ سنن الترمذیؒ کی روایت میں موجود ہیں :
    حدثنا محمود بن غيلان قال: حدثنا أبو داود قال: حدثنا شعبة، عن سماك بن حرب، قال: سمعت عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، يحدث عن أبيه، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «نضر الله امرأ سمع منا شيئا فبلغه كما سمع، فرب مبلغ أوعى من سامع»: «هذا حديث حسن صحيح» سنن الترمذیؒ 2657
     
  7. ‏دسمبر 27، 2017 #7
    ابو شحمہ

    ابو شحمہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 18، 2017
    پیغامات:
    42
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    11

    جزاک اللّہ خیر
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں