1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حدیث کا انکار شوق سے کیجئے لیکن .......؟؟؟

'دفاع حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏مئی 11، 2017۔

  1. ‏مئی 11، 2017 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    حدیث کا انکار شوق سے کیجئے لیکن .......؟؟؟


    جی حضور جیسے چاہے شوق پورے کیجئے کسی نے آپ کا ہاتھ تو نہیں روکا ..
    لیکن ذرا اس شوق کے پورا کرنے سے پہلے یہ بھی سوچ لیجئے کہ انکار حدیث کا مطلب انکار قران ہے ، انکار رسول ہے ، انکار اسلام ہے اور انکار عقل ہے -
    اب کچھ دن بات چلتی رہے گی ان شا اللہ ...
    مدت گذری ایک منکر صاحب سے بات چلتی رہی ..ان نے ایک کتا بچہ لا کر دیا ...جس میں کچھ احادیث پر اعتراض تھا - ایک اعتراض نے پاؤں تھام لیے ، کچھ طبیعت الجھ سی گئی - حدیث مسلم شریف کی تھی کہ جس میں سیدہ عائشہ کے پاس ایک نوجوان آتے ہیں اور رسول کے غسل کا پوچھتے ہیں ، جب آپ بتاتی ہیں کہ آپ محض دو صاع پانی سے بھی غسل کر لیتے تھے تو حیرانی میں سوال ہوتا ہے کہ کیسے ممکن ؟- تو سیدہ کہتی ہیں لو میں ابھی کر رہی ہوں - قصہ مختصر انہوں نے غسل کیا - اور کتا بچے کے مصنف نے لکھا کہ اس غسل کے بیچ ان میں اور نوجوان میں باریک پردہ حائل تھا ....... میں نے جب اصل متن دیکھا تو "منکر " کی کاریگری سامنے آ گئی جو کسی بھی صاف دل والے کا دماغ خراب کرنے کے لیے کافی تھی
    وہ نوجوان سیدہ کے محرم تھے جس رشتے کا حدیث میں ذکر نہ تھا مگر جس کے دماغ میں گند ہو وہ سوچے گا نہیں اعتراض ضرور جڑ دے گا - دوسرا حدیث میں لفظ حجاب کا تھا ...اب غسل خانے کی دیوار کہیں ، یا کپڑے کی اوٹ میں بنا حمام ، جو بھی کہیں ، لیکن حجاب کا ترجمہ پردہ ہو گا .-
    اور " منکر " صاحب ترجمہ فرما رہے ہیں "باریک پردہ " ...
    بس جی اوبھ گیا کہ جو محض اپنا نقطہ نظر ثابت کرنے کے لیے ام المومنین کی بھی شرم نہ کریں ان کا اسلام سے کیا علاقہ اور قران سے کیا تعلق ؟؟-

    عقل منفی ہی کیوں سوچتی ہے یہ کیوں نہ سوچا کہ :

    ****چلو میں دیکھوں وہ نوجوان سیدہ کا بھانجا یا بھتیجا نہ ہو ، اگر یوں ہو تو بیٹا ہی کہا جائے گا نا ؟؟

    یہ کیوں نہ سوچا کہ سیدہ غسل کرنے جا رہی تھیں ، بیٹا آیا تو موضوع کی مطابقت سے سوال پوچھ لیا اور جواب میں آپ نے کہا کہ "لو میں ابھی کر کے دکھا دیتی ہوں "-

    حدیث میں حجاب کا لفظ تھا اس معانی اوٹ ، موٹا پردہ ، دیوار کیوں نہ ذہن میں آئی ؟؟

    لیکن گند تو دماغ میں بھرا تھا مثبت سوچ کہاں سے آتی ؟؟

    ناک کے نتھنے میں گوبر کا ٹکرا رکھ کے عطار کی دکان میں چلے جائیے اور خوشبو نہ آئے تو کیا کیجئے ؟؟-

    یہ ایک مثال میں نے صرف اپنے ان بھائیوں کے لیے دی ہے جو ان کے دام ہم رنگ زمین کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنا ایمان اور عقیدہ کھو بیٹھتے ہیں ...جان لیجئے یہ جو منکر حدیث ہوتے ہیں ان میں سے اکثر جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں ..اور اگر کوئی جھوٹ نہ بھی بول رہا ہو تو اس کا علم محض اردو کتب اور ان کے تراجم تک محدود ہوتا ہے - اور جابجا ٹھوکریں کھاتا ہے اور دوسروں کو گمراہ کرتا ہے-

    آپ نے اگر ان کے جھوٹ پر اعتماد کر کے انکار حدیث ہی کرنا ہے تو یہ سوچ لیجئے کہ :

    آپ کی زندگی میں نماز سے مستقل محرومی ہو گی ...کہ نماز حدیث کو مانے بنا آپ پڑھ ہی نہیں سکتے -

    آپ کے ابّا حضور مریں گے تو ہم تو شاید آ کے جنازہ پڑھ لیں ، آپ ایک طرف ہو کے منہہ میں گھنگنیاں ڈال کے تماشا دیکھیں گے کہ جنازے کا کوئی طریقہ قران میں نہیں ملتا -

    اگر ہم کبھی آپ کی دعوت کریں گے تو آپ کے لیے "اصلی کتا " پکائیں گے کیونکہ کتا ، سانپ اور بہت کچھ کے حرام ہونے کا ذکر صرف آپ کو حدیث میں ملے گا -

    اور ہاں اگر آپ شادی شدہ ہیں تو غسل سے بھی جان چھوٹ جائے گی بیوی کے پاس جائیے اور واپسی پر بھلے مسجد چلے جائیں یا تلاوت فرمائیں آپ کا ضمیر ہی مر چکا ہو گا ، کیا کر لیں گے -

    مچھلی آپ پر حرام ہو گی کہ قران میں حکم ہے مردار حرام ہے اور مچھلی کیا آپ کے لیے ابو ظہبی سے ذبح ہو کے آئے گی ؟....


    اور ... اور .... اور بہت کچھ ایسا ہے کہ آپ کی دماغ "روشن " ہو جائے گا ...اب آپ بھی یہ فراڈ نہ کیجئے گا :

    " نہیں جی میں احکام کی حدیثوں کو مانتا ہوں "

    سوال یہ ہے کہ کس پیمانے سے ، کس اصول کے تحت ؟

    اگر شرم دل کے دامن سے بالکل ہی رخصت ہو گئی ، حیاء کو دماغ کے گھروندے سے دیس نکالا دے چکے تو اس کے لیے ہی کہا گیا ہے کہ " جب حیاء نہ ہو تو جی چاہے کرو "

    تو جناب آپ راویان حدیث کو سانپ کہیں اژدھے لکھیں ، سیدنا ابو ہریرہ کو جھوٹی حدیث لکھنے والا کہیں ..اور اس کے بعد انہی راویان کی کچھ احادیث کو مان لیں کہ "جی یہ احکام کی حدیثیں ہیں" ...تو میں مکرر کہوں گا کہ شرم اور حیاء کو آپ تیاگ چکے ورنہ کچھ تو خیال ہوتا - کہ ایک بندے کو میں جھوٹا کہہ رہا ہوں ، اس کے بارے میں بد زبانی کر رہا ہوں اور اسی کی بیان کردہ ایک حدیث کو مان رہا ہوں اور دوسری کو جھوٹ کہہ رہا ہوں -

    ...اور ہاں کوئی دوست اس پوسٹ کو لائیک نہ کرے ، کہ لائیک کرنا ایک بے کار شے ہے ، پوسٹ لکھنے کا مقصد آگے share کرنا ہوتا ہے ، سو حدیث رسول کی محبت کا تقاضا پیغام آگے پہنچانا ہے .

    ابوبکر قدوسی
     
    Last edited: ‏مئی 11، 2017
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 2
    • لسٹ
  2. ‏مئی 14، 2017 #2
    طارق اقبال

    طارق اقبال رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 28، 2011
    پیغامات:
    44
    موصول شکریہ جات:
    79
    تمغے کے پوائنٹ:
    58

    ماشاء اللہ اچھا لکھا ہے
     
  3. ‏مئی 18، 2017 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    منکر حدیث اپنے نسب کو مشکوک قرار دیتا ہے.


    قاری حنیف ڈار ساب نے آپ نے لکھا ہے:

    "راوی کا دعوی ھے کہ رسول کریم ﷺ نے یہ کہا تھا. اب یہ دعوی ثبوت مانگتا ھے اور جو چیز خود ثبوت کی محتاج ھو وہ ثبوت نہیں ھو سکتی. راوی ثبوت میں اپنے جیسا راوی پیش کرتا ھے اور وہ مسکین بھی ثبوت کا محتاج ھے. جو کہہ رہا ھے کہ راوی سچا ھے وہ بھی مجرد دعوی ھی کر رھا ھے. ثبوت پیش نہیں کر رھا. ان پچاس اپنے جیسے انسانوں کی بات کو اگر یقینی بنانا ھے تو اس دعوے کو قرآن کے ترازو میں تول لو..."

    اب بات ذرا کڑوی ہے, لیکن پیار سے آپ ہی کے الفاظ میں کہے دیتا ہوں, قاری ساب ناراض مت ہوئیے گا... اگر آپ ناراض نہ ہونے کی ضمانت دیں تو کہہ دوں؟ اوہ, آپ تو "آزادی اظہار" کے پرچارک ہیں نا, آپ تو بزرگان امت اور محدثین کرام کو سانپ کہہ دیتے ہیں, آپ صحابہ کرام کو معاذ اللہ جھوٹا کہہ جاتے ہیں, آپ کیوں ناراض ہوں گے؟ چلیے اپنے الفاظ میں سنیے پھر...

    [​IMG]منکر حدیث کا دعوی ہے کہ میں حلالی ہوں. اب یہ دعوی ثبوت مانگتا ہے اور جو چیز خود ثبوت کی محتاج ہو وہ ثبوت نہیں ہو سکتی. منکر حدیث ثبوت میں اپنے جیسی انسان اپنی والدہ پیش کرتا ہے, وہ مسکین بھی ثبوت کی محتاج ہے. منکر کا والد کہہ رہا ہے کہ اس کی بیوی سچی ہے, وہ بھی مجرد دعوی ہی کر رہا ہے, ثبوت پیش نہیں کر رہا. پچاس افراد خاندان, جو اپنے جیسے انسان ہیں, ان کی بات کو اگر یقینی بنانا ہے تو اس دعوے کو ... ترازو میں تول لو...[​IMG]


    دیکھا قاری ساب انکار حدیث کا اس بھونڈے طریقے سے انکار کرنے سے منکر کا اپنا حلالی ہونا مشکوک ہو جاتا ہے... اب بتائیے کہ منکر کے دعوے کو کس ترازو میں تولا جائے؟

    میرے خیال میں آپ [​IMG]ڈی این اے ٹیسٹ[​IMG] کا نام لیں گے... ارے قاری ساب اس ٹیسٹ کا رزلٹ بھی کسی مشین سے کسی انسان نے بنانا ہے, مشین بھی تو خراب ہو سکتی ہے اور مشین آپریٹر بھی تو جھوٹا رزلٹ دے سکتا ہے... اب کیا بنے گا؟

    قاری ساب اگر آپ راوی کی نقل پر یقین کرنے اور اس کے دعوے کے سچا ہونے کے لیے اس کی سچائی کو معیار بناتے تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا.

    [​IMG]♒قاری ساب اللہ کے لیے اپنا نسب مشکوک نہ بنائیے...[​IMG]

    آپ کا خیر خواہ:
    حافظ ابو یحییٰ نورپوری

    #قاری_حنیف_ڈار
    #انکار_حدیث_کا_انجام
     
  4. ‏جون 29، 2017 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    حدیث ایسے ہی محفوظ ہے جیسے قران :

    .
    اچھلیے نہیں بھائی ، بات " لاجک " کی ہے - پرانی دلیل ہے کہ جو ہم سمیت سب دوست دیتے آئے ہیں کہ قران میں نماز کا حکم ہے ، زکاہ ، روزے کا حکم ، حج عمرے ، جہاد سب کچھ کا اجمالی حکم ہے ...تفصیل کہاں سے لیں گے ؟
    ظاهر ہے قران سے - یہ پرانی دلیل ہے ، ہمارے احباب کی اور ہماری بھی جو ہم دیتے آئے ہیں اور آپ سنتے آئے ہیں -
    اب "منکرین حدیث" حدیث کو غیر محفوظ قرار دیتے ہیں مگر قران کو محفوظ کہتے ہیں - ہمارا ان سے اگلا سوال یہ ہے کہ :
    چلیے قران تو ہو گیا محفوظ ، کہ خود خدا نے وعدہ کر لیا -
    انا نحن نزلنا الذكر وانا له لحافظون -
    دیکھئے ہمارا آپ کا یہاں پر اتفاق ہو گیا ، آگے چلتے ہیں ....
    اللہ نے اس محفوظ قران میں احکامات نازل کرنا شروع کیے - تب کی امت مسلمہ یعنی صحابہ کرام نے ان احکامات کی تفصیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ پوچھ کر عمل شروع کر دیا - اب نبی ان میں موجود تھے ، وحی ان پر نازل ہوتی تھی ، سو شرح کا اصلی حق بھی انہی کا تھا ، جو وہ کرتے رہے -
    کیا یہاں تک کسی بات میں اختلاف ہے ؟؟
    بولئے نا بھائی ؟؟
    عقل کی بات ہے ، کوئی مشکل تو ہے نہیں ، اتفاق کیے بنا آپ کا گزارا کیسے ؟
    اب برادر محترم ! جس اللہ نے قران کو محفوظ کرنے کا اہتمام کیا ، اور اس میں موجود احکام کو محفوظ کرنے کا ایسا اہتمام کیا کہ آج چودہ سو برس گذر گئے کہ نقطہ نقطہ محفوظ ہے - اس اللہ نے انہی احکامات کی تفصیل کو یوں ہی لاوارث چھوڑ دیا ہو گا ؟؟
    کیا یہ بات آپ کی عقل میں آتی ہے ؟
    نماز کا حکم دیا کہ ضرور پڑھو ، حج کرو ، زکات دو ، نکاح ان سے کرو ان سے نہ کرو ، ...ان کی تفصیل ظاهر ہے حدیث میں ملتی ہے ، اب حدیث بقول " مفکرین " محفوظ نہیں .....تو بتائیے اللہ کا وعدہ کیا ہوا ؟
    قرآن محفوظ مگر اس کی تفصیل غیر محفوظ کیسے ممکن ہے ؟...
    ذرا "عقل" کا یہاں بھی استعمال کیجئے نا - صرف پانچ منٹ دماغ کو ٹرانس سے نکالیے اور سوچیے کہ اگر حدیث غیر محفوظ ہے تو قرآن کیسے محفوظ رہا ؟-
    کیا ہم کہہ سکتے ہیں جی قران تو محفوظ ہے ، احکام بھی محفوظ ہیں ، ہاں جی مگر نماز پڑھنی کیسے ہے یہ معامله مشکوک ہے نہ محفوظ -؟
    کیا الفاظ ، نقطے ، اعراب کا محفوظ ہونا ہی کافی تھا یا معانی مفھوم ، تفصیل شرح کی بھی کوئی اہمیت تھی ...ہاں آج سوچیے گا ضرور

    ............ابوبکر قدوسی
    .
    **اپنے الجھے الجھے بھائیوں کے لیے اس پوسٹ کو آگے share کیجئے
     
  5. ‏جون 29، 2017 #5
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    کیا صحاح ستہ میں جھوٹ لکھے گئے ہیں ؟


    ...
    احادیث میں تو جو جھوٹ شامل کیے گئے ائمہ محدثین نے دن رات کی محنت شاقہ سے پکڑ لیے .. سچ اور جھوٹ کو الگ الگ کر دیا
    اب جس کے جی میں آئے وہ پائے روشنی
    لیکن کچھ ایسے بد بخت "فنکار" ہوتے ہیں کہ خود مسلسل جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں ، پکڑے بھی جاتے ہیں لیکن شرم و حیاء ان سے کچھ ایسے رخصت مانگ کر عید منانے جا چکی ہوتی ہے کہ پکڑے جانے پر بھی ہنس رہے ہوتے ہیں - اور خواجہ آصف بھی وہاں بے بس دکھائی دیتے ہیں -
    فیس بک پر جو لوگ بیٹھے ہوتے ہیں وہ ظاهر پر اعتماد کرتے ہیں ، چکنی چپڑی باتوں میں آ جاتے ہیں اور واہ واہ کرنے لگتے ہیں - مولوی حنیف ڈار جو اک مسجد کے امام ہیں ، اور منکر حدیث ہیں ، ان کی زبان سے نہ صحابہ محفوظ ہیں نہ ائمہ کرام نہ محدثین .... انہوں نے ایک جھوٹ لکھا ہے کہ :
    >>>>>>>>>
    صحاح ستہ میں درجنوں جھوٹ لکھے گئے ہیں جو نبئ کریم ﷺ کی طرف منسوب کئے گئے. پکڑے بھی گئے. ان کو موضوع اور ضعیف بھی کہا گیا. کیا کسی محدث یا اس کے بیٹے یا ورثاء یا اس کو دیوتا بنا کر پوجنے والوں میں سے کسی نے اس جسارت پر اس امت سے معافی مانگی؟ یا ان کی توبہ یا رجوع کا کوئی ثبوت؟ اس امت کو بھول بھلیوں میں ڈالنے کی ایف آئی آر کس کے نام کٹے گی؟
    >>>>>>>>>>
    مولوی صاحب ایف آئی آر کی فکر میں مت دبلے ہوں ، نہ امت ایسی بے پرواہ تھی نہ حدیث ایسی لاوارث .... ہمارے ائمہ کرام نے دن رات کی محنت کے بعد ان جھوٹوں کی اور ان کی بنائی ہوئی احادیث کی مکمل نشان دہی کر دی ہوئی ہے ...
    جائیے ! میرا چیلنج ہے کہ ایک حدیث ، جی ہاں کوئی ایک حدیث ، کوئی ایک راوی ، جی ہاں ! مکرر کہتا ہوں کہ کوئی ایک راوی لے کر آئیے کہ جس کے بارے میں ، اس کے حالات کے بارے میں ، اس کی اٹھک بیٹھک ، سچ ، جھوٹ عادات و اطوار اور مقام مرتبہ ، ائمہ کرام نے جمع اور مرتب نہ کیا ہو .... یوں فیس بک پر جذباتی جملے اور جھوٹ بنا کے پیش کرنا بہت آسان ہے - رہا معافی مانگنا جس دن آپ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں جھوٹ کی تہمت پر معافی مانگیں گے ہم بھی ایسے جھوٹے راویوں کے بچوں کو جا ڈھونڈ لیں گے کہ چلو بھائی معافی مانگو ..
    اور بچگانہ مطالبہ کہ ان کے رجوع یا توبہ کا ثبوت ...مولوی صاحب ! جھوٹے راوی کو ہم سب بھی جب جھوٹا ہی کہتے ہیں تو توبہ کا ثبوت کیوں ، اس کی کیا ضرورت -؟؟
    ..اس سے آگے مولوی چکڑالوی عرف ڈار صاحب لکھتے ہیں :
    >>>>>>>>>>>>>
    بڑے بڑے بھگوان راویوں سے جھوٹ ثابت ھو جانے کے باوجود کسی نے اس جھوٹے سے روایت لینا چھوڑا؟ ابن شھاب زہری نے بلاغیات کے نام پر جھوٹ کی فیکٹری لگا رکھی تھی اور خود محدثین کے بقول ابن شھاب کی بلاغیات سب سے خطرناک زھر ہیں جس کا ڈسا پانی نہیں مانگتا کیونکہ یہ ظالم حدیث سازی میں اس قدر ماھر تھا کہ آدھی اصلی حدیث میں اپنا جھوٹ کا ٹوٹا اس مہارت سے جوڑتا تھا کہ سمجھ نہیں لگتی تھی کہ قول رسولﷺ کہاں ختم ھوا اور قول دجال کہاں سے شروع ھوا . رسول اللہ ﷺ کی خودکشی کی خبر بھی اس کی بلاغت کا کمال تھا کہ سمجھ نہیں لگتی کہ یہ " بلغنا " حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا ھے یا ابن شہاب کا. بلغنا کا مطلب ھے کہ ھم کو خبر پہنچی ھے.
    >>>>>>>>>>>>>
    مولوی صاحب ابن شہاب پر اعتراض وہ کرے جو سچا ہو ...آپ خود جھوٹے انسان ہیں - آپ کو وہ رات یاد ہو گی جب میں نے آپ کو رنگے ہاتھوں پکڑا تھا ...آپ نے اپنی ہی ایک پوسٹ پر کمنٹ کیا تھا جس میں ابو ہریرہ رض کو جھوٹا اور احادیث گھڑنے والا کہا تھا - میں نے آپ کو فورا ہی جواب دیا تو مولوی جی آپ نے کمنٹ ایڈٹ کر دیا ، ابو ہریرہ رض کے نام کے ساتھ فورا رضی اللہ عنہ لگا دیا ، "تو " کی جگہ "آپ " کر دیا ، جھوٹ والا جملہ حذف کر دیا ، مگر آپ کی قسمت کہ احباب اس کی تصویر لے چکے تھے ...وہ ہوتا ہے نا اشتہار
    "گنجا آپریشن سے پہلے اور بال لگوانے یعنی آپریشن کے بعد "
    تو جناب وہ آپ کے دنوں جھوٹ بمعہ تصویر محفوظ پڑے ہیں یعنی
    "کمنٹ ایڈٹ کرنے سے پہلے اور ایڈٹ کرنے کے بعد "
    ... سو دو رکعت کے امام صاحب ! جن کی نماز بھی ابن شہاب کی روایت کے بغیر مکمل نہیں ہوتی ، جھوٹ کی بات وہ کرے جو خود سچا ہو .......
    اور ہاں دوستو ! جب موصوف کا ننگا چٹا جھوٹ پکڑا گیا تو بولے کہ
    "جی وہ کمنٹ میرا نہ تھا کسی کا کاپی کیا تھا "-
    یعنی موصوف جھوٹ کے ہی نہیں چوری کے بھی عادی ہیں -
    ...اور کمال یہ ہے اپنی پوسٹ پر کمنٹ کر رہے ہیں ، وہ بھی کسی کا کاپی شدہ اور ایڈٹ بھی کر رہے ہیں ، مولوی صاحب کو اتنی فیس بک نہیں آتی تھی کہ کمنٹ جب ایڈٹ کرتے ہیں تو اس کی ہسٹری بنتی ہے جو سب دیکھ سکتے ہیں ....
    خیر ہمارا مقدمہ اتنا ہے کہ جو بندہ خود جھوٹ کا عادی ہو اس کو کسی کو جھوٹا کہنے کا کیا حق ؟
    دوسرا ابن شہاب اگر بقول ان کے " دجال " ہیں تو اس کا ثبوت دیں - دلیل دیں -
    مزید یہ کہ اپنی نوکری سے استعفی دیں جہاں ابن شہاب کی حدیثوں کے مطابق نماز پڑھاتے ہیں -
    اب آپ احباب کے لیے لکھتا ہوں کہ محدثین کرام نے ایسے تمام راوی جن پر جھوٹ کا شبہ تھا ان کو ضعیف اور کذاب قرار دے کر ہمیشہ کے لیے بلیک لسٹ کر دیا ہوا ہے اس لیے مولوی کے جھوٹوں سے "ارتھ " نہ ہو جایا کریں ، اور نہ غم اور فکر کیا کریں کہ کہیں بھی کوئی جھوٹ سچ سے آگے نہیں بڑھ گیا -
    اور جو راوی جھوٹے تو نہ تھے لیکن بھول جاتے تھے ، گاہے تدلیس کرتے تھے ، اخیر عمر میں حافظہ کمزور ہو گیا تھا ، ان کی روایات کی مکمل چھان پھٹک کے بعد درجہ بندی کر دی ہوئی ہے
    اور مولوی نے ایف آئی آر کی بات کی ......اس سے بڑی ایف آئی آر کیا ہو گی کہ ایک بندے نے جھوٹ بولا ، اور اس کا نام ہزار برس ہو گئے جھوٹوں کی فہرست میں درج ہے ...کتابیں لکھ دی گئیں ... ان کی فہرستیں بنا دی گئیں .. نبی پر جھوٹ باندھا ، قیامت تک بدنامی کا طوق گلے میں لٹکا دیا گیا
    دوستو ! اب میں بتاتا ہوں کہ ان کی ابن شہاب رح سے کیا دشمنی ہے ؟
    ابن شہاب بخاری کے بنیادی راوی ہیں ، اگر ابن شہاب کو جھوٹا ثابت کر دیا جائے تو بخاری شریف جھوٹ کا پلندہ ٹہرے گی ،اور یہی ان مولوی کا مشن ہے ...اور میری بات لکھ لیجئے ان کا اگلا ٹارگٹ قران ہے

    ..........ابوبکر قدوسی

    صحاح ستہ حدیث کی بنیادی چھ کتب کو کہتے ہیں - ان میں بخاری مسلم پہلے اور دوسرے نمبروں پر آتی ہیں جب کہ بقیہ کتب بعد میں - بخاری کی صحت پر امت کا اعتماد ہے ، مسلم کی دو تین احادیث پر کلام ہے ..جب کہ باقی کی چھ کتب میں بلاشبہ ضعیف احادیث بھی پائی جاتی ہیں ، لیکن زیادہ تر احادیث صحیح ہیں -
     
  6. ‏جولائی 06، 2017 #6
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ابراہیم علیہ السلام کے "کذبات ثلاثہ" ، اور انکار حدیث
    .
    حدیث کی باری تو بہت بعد میں آئے گی ، پہلے قران کی بات ہو گی - جذباتی جملے بول کر کے لوگوں کو مشتعل تو کیا جا سکتا ہیں لیکن علم کی دنیا دلائل کی دنیا ہوتی ہے نہ کہ جذبات کی اور نہ دشنام کی -

    نادان دوست کی اس سے بڑی مثال کیا ہو گی ؟ - مالک سو رہا تھا ، مکھیاں تنگ کر رہی تھیں ،پاس بیٹھا محافظ جو "اتفاق " سے بندر تھا کچھ دیر تو مالک کی اس بے آرامی کو سہتا رہا پھر بے تاب ہو کر اٹھا اور ہتھوڑا لے کر تاک میں بیٹھ گیا ، ادھر مکھی مالک کی ناک پر آ کر بیٹھی ادھر ہتھوڑا حرکت میں آیا - ہاں مالک کا ہاتھ اپنی ناک پر بعد میں پہنچا ، اور مکھی ؟ جی ہاں وہ تیز تھی اڑ چکی تھی -

    ابراہیم علیہ السلام بارے وارد حدیث کو لے کر احباب بہت تیزی سے حملہ آور ہوتے ہیں لیکن جب چوٹ لگتی ہے تو نظر نہیں پڑتے - اور خدا لگتی کہوں کہ اگر محدثین اور اہل حدیث اس حدیث کی وضاحت نہ کریں اور "کذب ہے کیا " کی خبر نہ دیں تو ان احباب سے قرآن کا دفاع بھی مشکل ہو جائے کیوںکہ اس حدیث میں نشان زدہ دو واقعات تو بیان ہی قرآن میں ہووے ہیں -

    حدیث کا خلاصہ ہے کہ جب مومنین شفاعت کے واسطے روز قیامت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو وہ اپنے جھوٹوں کو یاد کر کے معذرت طلب کریں گے -

    بس لفظ "تین جھوٹ " یہی ہمارے ان دوستوں کی جان کو آیا ہوا ہے ، لیکن نادان دوست ہیں ہر وقت ہتھوڑا ہاتھ میں لیے ، دراصل قران کے در پے ہیں -

    آپ احباب ان کے اعتراضات سے ایسے ہی پریشان نہ ہو جایا کریں ، ان کے پلے کچھ بھی نہیں ہوتا حتی کہ قران کی عمدہ تفہیم سے بھی محروم -

    تین "جھوٹ " یہ تھے

    بستی کے لوگوں نے کہا آو ہمارے ساتھ تو آپ نے کہا "انی سقیم " یعنی میں بیمار ہوں - اب آپ کا ارادہ تھا کہ یہ لوگ میلے پر چلے جائیں تو ان کا بت کدہ برباد کر دوں گا - سو آپ نے اک نگاہ ستاروں پر ڈالی اور کہا کہ
    "انی سقیم ...... میں بیمار ہوں "

    وہ لوگ چل دئیے اور آپ نے بعد میں بت کدے کے تمام بت کلہاڑے سے توڑ دئیے اور ایک بڑے بت کے کاندھے پر کلہاڑا ٹکا دیا اور اپنے گھر چلے آئے -

    سو حدیث میں "انی سقیم " کی طرف اشارہ ہے کیونکہ کوئی ایسا بیمار کہ جو اٹھ نہ سکے کیسے تمام بت کدہ تہس نہس کر سکتا ہے؟ - اب ظاهر ہے کہ آپ بیمار تو تھے اور بستی والوں کو بھی علم تھا سو اسی وجہ سے آپ نے ان کے ساتھ نہ جانے کی وجہ بیان کی تو انہوں نے بھی فورا اس وجہ کو قبول کیا اور آپ کو چھوڑ کر چل دئیے -

    اب صورت حال یہ تھی کہ آپ بیمار تو تھے لیکن ایسے نہ تھے کہ جا نہ سکتے - سو اس بیماری کو ناجانے کی وجہ کے لیے استعمال کیا اور جب سب چلے گئے تو آپ نے بت کدے کے تمام بت برباد کر دئیے -

    دوسرا واقعہ اس "تعریض" کا کہ جب بستی کے لوگ واپس آئے تو اس تباہی پر لامحالہ خیال آپ کی طرف گیا اور سب آپ کی طرف چلے آئے - مشتعل ہو کر پوچھا تو آپ نے جواب میں کہا کہ :
    "یہ کام تو اس بڑے بت نے کیا ہے "
    اور اشارہ تھا اس کلہاڑے کی طرف کہ جو بڑے "خدا " کے کندھے پر تھا - اس حدیث میں اس معاملے کی طرف اشارہ ہے
    ہم یہں رک کر کے انہی دو واقعات پر بات کریں گے - پھر آگے چلیں گے -

    سوال یہ ہے کہ یہ دونوں واقعات قرآن میں موجود ہیں - تو حدیث پر کاہے کا اعتراض ؟

    سوال تو یہ ہے کہ ایک بندہ جو انی سقیم کہے اور اٹھ کر تمام بت کدہ ڈھا دے ظاهر ہے وہ ایسا بیمار نہیں ہو گا - لیکن بستی کے لوگوں کی سوچ کا رخ دوسری طرف موڑنا تھا ، سو اس میں کوئی جھوٹ نہ تھا کہ بھلے معمولی بیماری ہی رہی ہو لیکن تھا تو سچ کہ "انی سقیم " - یہ محض ایک "توریہ" تھا جو کذب کی ایک قسم ہی ہے ، لیکن مخصوص حالت میں روا ہے -

    اب رہا دوسرا قصہ اس کی بھی سن لیجئے :

    بستی والے جب واپس آئے اور تباہی دیکھی تو ابراہیم کی طرف پلٹے اور یہ سوال جواب ہووے :

    قَالُـوٓا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِـهَتِنَا يَآ اِبْـرَاهِيْـمُ (62)

    کہنے لگے اے ابراہیم کیا تو نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کیا ہے۔

    قَالَ بَلْ فَعَلَـهٝ كَبِيْـرُهُـمْ هٰذَا فَاسْاَلُوْهُـمْ اِنْ كَانُـوْا يَنْطِقُوْنَ (63)

    کہا بلکہ ان کے اس بڑے نے یہ کیا ہے سو ان سے پوچھ لو اگر وہ بولتے ہیں۔

    ....میں نے شروع میں کیا مثال دی تھی ؟

    آپ کو یاد ہے نا ، یہی ان ناداں دوستوں کا قصہ ہے - اصولی طور پر تو ان کو قرآن پر بھی یہی الزام دھرنے چاہیں - دیکھئے قران میں صاف طور پر لکھا ہوا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ "ان کے اس بڑے (بت ) نے یہ کیا ہے -جب کہ اصل میں واقعہ کیا تھا ....
    دراصل یہ سب ان کو شرمندہ کرنے کے لیے تھا اور یہی وجہ ہے کہ ان کے سر جھک گئے اور بولے کہ :

    ثُـمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِـمْ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰٓؤُلَآءِ يَنْطِقُوْنَ (65)


    پھر انہوں نے سر نیچا کر کے کہا تو جانتا ہے کہ یہ بولا نہیں کرتے۔

    ہم کہتے ہیں کہ یہ جو جھٹ سے راگ الاپتے ہیں کہ ہم ایسی حدیث کو نہیں مانتے کہ جو نبی پر جھوٹ کا الزام لگائے ، تو اس واقعہ کو کیا کہیں گے -؟

    اب کیا قران کی ان آیات کا انکار کریں گے ؟

    اس کو بھی کسی ابن شہاب زہری کی سازش قرار دیں گے ؟

    نہیں بے بس ہیں یہ ..ابراہیم کی بستی کے ان بتوں کی طرح بے بس ہیں - یہ معاملہ بھی حدیث ہی حل کرے گی ...ان بے چاروں کو علم ہی نہیں کہ یہاں کذب کا ترجمہ جھوٹ کیا ہی نہیں جائے گا ..اور اگر جھوٹ کیا جائے گا تو پہلے الزام قرآن پر آئے گا پھر حدیث کی باری آئے گی -

    "کذب" کے معنی محض جھوٹ کے ہوتے ہی نہیں یہ ایک وسیع المفھوم لفظ ہے - اس کی تفصیل کتب میں موجود ہے -

    عربی میں ایک لفظ ہوتا ہے توریہ یا تعریض - یعنی ذومعنی بات کر کے مراد سچ لینا ...اور سچ بول کے مگر دوسرے کی سوچ کا رخ بدل دینا -

    ویسے ہی جیسے سفر ہجرت میں نبی کریم کی معیت میں سیدنا ابوبکر صدیق نے کہا تھا ، اور صدیق کی مہر افتخار بھی رکھتے تھے کہ جب راہ میں کوئی جاننے والا ملا اور پوچھا ساتھ کون ہے تو جھٹ سے بولے کہ
    " یہ میرے رہبر ہیں "

    بتائیے گا کیا اس میں کوئی جھوٹ تھا ، لیکن مخاطب اس کو کس معانی میں لے رہا ہے کہ وہ اسے "گائیڈ " سمجھے گا کہ جو ابوبکر صدیق کو سفر میں راستہ سمجھانے کے لیے لیے جا رہا ہو -

    اور مخصوص حالت میں یہ "توریہ " جائز ہی نہیں ضروری ہو جاتا ہے - ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ حالت جنگ میں تھے - تب تو بہت ضروری ہو جاتا ہے -

    ...حدیث کے تیسرے حصے کا کل لکھوں گا ان شا اللہ ،اور یہ بھی کہ اگر یہ کذب نہ تھے محض توریہ اور تعریض تھی تو ابراہیم علیہ السلام روز محشر شرمندہ کیوں ہوں گے ....... اب دفتر کے لیے نکل رہا ہوں .آپ تب تک اس پوسٹ کو احباب کے لیے share کر دیجئے ....

    ابوبکر قدوسی
     
  7. ‏جون 22، 2018 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    سنت کے تواتر کا قصہ :

    ابوبکر قدوسی

    .....
    .حدیث کے " جزوی انکار " کے بعد " خالی جگہ " پر کرنے کے لیے سنت کے تواتر کی دلیل تراشی گئی - اس کے لیے "سنتوں " کی فہرست تیار کی گئی ، جو روز افزوں ترقی پزیر ہے - کہا گیا کہ سنت نسل در نسل کے عمل کے سبب محفوظ ہے اور یوں دین قران و سنت کی صورت میں مکمل ہوا - یہ تمام تر تگ و تاز مقام حدیث کو گرانے کے واسطے رہی -
    کمال ہے جس "سنت " کو آپ محفوظ کہتے ہیں اس سے نماز کا طریقہ ہی بتا دیا ہوتا ؟
    اور اگر معیار حق " نسلا بعد نسلا " کو مانا جائے گا تو یقین کیجئے آپ الجھ جائیں گے - وہ یوں کہ نماز کا طریقہ شوافع کا لگ ، احناف کا الگ ، مالکیہ کا الگ ..اور جس جس خطے میں ان کا مذھب موجود ہے وہاں یہ نسل در نسل رائج ہے -
    اب میں مثال دوں گا ، میرے چھوٹے بھائی انجینئر ہیں ، وہ پانچ سال ملائیشیا میں رہے ، وہاں نماز کا طریق الگ تھا ، اور آپ جانتے ہیں کہ ملائیشیا دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں اسلام بنا کسی جنگ و جہاد کے پہنچا ، اور پہنچا بھی قرون اولی میں - اب وہاں کے مسلمان نسل در نسل جس طرح نماز پڑھتے ہیں اصولی طور پر میری بھائی کو بھی وہی اختیار کرنا چاہیے - کہ دلیل " نسل در نسل " ہے -
    پچھلے ماہ وہ بھائی سعودی عرب منتقل ہو گئے ہیں ، اب وہاں کا طریقہ بدل گیا ، وہاں عجیب لطیفہ ہوا ہے ..کہ نسل در نسل کا معامله صرف چار یا پانچ نسلوں تک چل سکتا ہے ...کیونکہ آل سعود کی حکومت سے پہلے " وہاں نسل در نسل " پڑھائی جانے والی نماز طریقہ احناف کے مطابق تھی ...لیکن اقتدار کی بے رحمیاں اور شقاوتیں کہ اب سلفی طریقہ رائج ہے ...
    اب ٹھنڈے دل سے سوچئے :
    اگر نسل در نسل چلنے والے طریقے کو سنت قرار دیا جائے اور حدیث کو بطور " معیار " ترک کر دیا جائے تو ایسے ہی کتنے لطیفے جنم لیں گے ؟
    اسی طرح اگر کبھی کہیں دو افراد کے مابین طریقہ نماز پر اختلاف ہو جائے تو ان کے پاس اس کے علاوہ کیا دلیل ہو گی کہ " میرے اجداد درست تھے "
    "نہیں بھائی میرے اجداد حق پر تھے "
    برادر !
    اس معاملے کا ایک ہی حل ہے کہ حدیث کی طرف رجوع کیا جائے -
    ممکن ہے آپ کہیں کہ نماز پڑھنا سنت اور تواتر سے ثابت ہے طریق ایسا اہم نہیں ، لیکن آپ کی یہ بات کمزور ہو گی ..
    .
     
  8. ‏جون 22، 2018 #8
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    حدیث تو سچی تھی لیکن "قصہ گو" دروغ گو تھا


    ابوبکر قدوسی

    حدیث رسول کے معاملے میں دو طرح کے رویے سامنے آ رہے ہیں - ایک یہ کچھ خالی برتن ہوتے ہیں جو شور بہت کرتے ہیں ، دوسرے وہ جو سب سمجھتے ہیں ، جانتے ہیں ، لیکن ان کی گھٹی میں حدیث دشمنی یوں پاؤں جما چکی ہے کہ ہوائے نفس کے سبب خوف خداۓ پاک ان کے دلوں سے نکل گیا اور آنکھوں سے شرم سرور کون مکان گئی -
    اب رہے عام لوگ ، طالب علم و دیگر تو وہ ان " مفکرین " میں سے کسی ایک سے متاثر ہو جاتے ہیں اور بسا اوقات کسی ایک کے ہی ہو جاتے ہیں اور پھر اس کے بعد اسی کے دماغ سے سوچتے ہیں ، اپنے دماغ کو آئندہ کے لیے زیادہ زحمت نہیں دیتے -
    ایسے احباب اوپر بیان کردہ شاطروں کا آسان شکار ہوتے ہیں - خود پر اعتماد کا اور لوگوں میں موجود حدیث بیزاری کا یہ " مفکرین " کہاں تک جا کے فائدہ اٹھاتے ہیں اس کی مثال اگلے روز سامنے آئی جب ایک صاحب رفیع رضا نامی نے ایک جھوٹی پوسٹ بنائی اور دوسرے لوگوں نے آگے چلا دی - صبح عرض کی تھی کہ شام کو اس حوالے سے تفصیل سے لکھوں گا -
    پوسٹ میں ایک واقعہ تھا کہ سیدنا عمر بن عبد العزیز کے پاس ایک مجرم لایا گیا کہ جو جھوٹی حدیثیں گھڑتا تھا آپ نے اس کو شرم دلاتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں رسول کریم صلی اللہ علیه وسلم کی یہ حدیث بھی نہ یاد آئی کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ " جو مجھ پر جھوٹ منسوب کرے گا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں سمجھے " - اس پر اس جھوٹے نے سر جھکا کے کہا کہ " حضرت یہ حدیث بھی میں نے بنائی تھی "-
    حوالہ (طبقات اکبری جلد ہشتم ، ملفوظات جلد چہار دھم صفحہ ٤٢٦ )
    ایک صاحب نے یہ پوسٹ رفیع رضا کے حوالے سے آگے چلا دی - رفیع رضا ایک مذھب دشمن آدمی ہے ، جس کا مقصد ہی حدیث رسول کو مشکوک بنانا ہے - موصوف ملحدین کا ایک پیج بھی چلاتے ہیں - بارہا مذھب کے بارے اپنے غلیظ خیالات کا اظہار کر چکے ہیں -
    ایسے لوگ قران و حدیث کو بدنام کرنے کے لیے ایسے جھوٹ گھڑتے ہیں اور آگے چلا دیتے ہیں - لیکن "دروغ گو را حافظہ نہ باشد" کہ اس حوالے میں بھی عقل کا استعمال نہ کر سکے - طبقات اکبری فارسی میں لکھی گئی تاریخ کی کتاب ہے ، جو ہندستانی تاریخ میں اگر مستند ہو تو ہو ، حدیث سے اس کا کوسوں دور کا بھی تعلق نہیں - اس حوالے سے انتہائی معتبر نام جناب ڈاکٹر وحید الزمان طارق صاحب کا ہے - آپ فارسی ادب و تاریخ پر موجودہ وقت میں ایک بڑا نام ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ آپ کا کسی بات کی تصدیق کرنا ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے تو بے جا نہ ہو گا - ان کا کہنا ہے کہ فارسی میں اس کے کئی اڈیشن شائع ہوے ، لیکن آخری مستند نسخہ نول کشور کا ملتا ہے جو ایک جلد میں تقریبا ساڑھے چھے سو صفحات کی ضخامت کا ہے - اس کا ایک نسخہ تہران سے بھی ایک جلد میں شائع ہوا ہے - جب کہ تین جلدوں میں اس کا اردو ترجمہ لاہور سے اردو سائنس بورڈ کے زیر اہتمام چھپ چکا اور دستیاب بھی ہے - یہ تصویر جو آپ دیکھ رہے ہیں اس کا لنک بھی انہوں نے میری درخواست پر بھجوا دیا ہے -
    اس کتاب کا حوالہ دینا ایسا ہی ہے جیسے حدیث کی صحت کی بحث ہو اور حوالہ مطالعہ پاکستان کا دیا جائے - کم ترین لفظوں میں ایسا کرنے والے کو اجہل ہی کہا جائے گا -
    اب اگلا لطیفہ سنیے کہ حوالہ دیا جا رہا ہے جلد ہشتم کا ، اب مولوی نظام الدین صاحب نے تو ایک جلد لکھی اور عالم بالا کو رخصت ہوئے ، لیکن کمال یہ ہے کہ یہاں فیس بکی مفکرین نے ان کے نام آٹھ جلدیں کر دیں ، ممکن ہے مولوی صاحب قبر میں سے لکھ لکھ ان دانش وروں کو بھیج رہے ہوں - مزید دوسرا حوالہ کسی ملفوظات کی جلد چودہ یعنی چہار دھم کا ہے اور ساتھ صفحہ بھی درج کر دیا ....اندازہ کیجئے کہ جھوٹ بولنے کا سلیقہ تک نہیں - ملفوظات نام کی بیسیوں کتب اردو زبان میں موجود ہیں - سوال یہ ہے کہ کون سی ، کس کی ، کہاں کی ؟؟؟
    اب آتے ہیں دوسرے امکان کی طرف کہ اگر یہ حوالہ طبقات اکبری میں واقعی موجود ہوتا .... تو جناب پھر بھی یہ جھوٹ ہی ہونا تھا ، کیونکہ قصہ بنانے والے کو اصطلاحات الحدیث کی خبر ہی نہیں - یہ حدیث متواتر حدیث ہے اور ایک نہیں دو نہیں کتنی ہی کتب میں الگ الگ راویوں سے بیان کردہ ہے ...ایک قول کے مطابق ستر صحابہ نے اس کو روایت کیا - اس لیے اس سے بڑا مذاق کوئی ہو ہی نہیں سکتا کہ ستر صحابہ اور پھر اس کے بعد ان کے سینکڑوں شاگرد اور شاگرد در شاگرد ایک روایت کو بیان کریں اور ان کے سو سال بعد کوئی اٹھ کے یہ درفنتنی چھوڑ دے کہ جی یہ حدیث تو میں نے بنائی ہے -
    رفیع رضاء سے یا جس نے بھی یہ اختراع کی ، اس سے غلطی ہو گئی کہ حدیث غلط چن لی -
    دوستو ! اصل معامله اور ہے . ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دین اسلام کے گردا گرد شکوک و شبہات کے جال بچھائے جا رہے ہیں - ان کو معلوم ہے کہ قران کے حوالے سے یہ امت کوئی بات برداشت نہیں کرتی ، سو یہ پچھلی دو صدیوں سے مولوی کے پیچھے پڑے رہے ..اس میں ان کو بہت حد تک کامیابی ہو گئی اب ان کا اگلا قدم حدیث رسول کی حیثیت کو مجروح کرنا ہے - اور ان کی کامیابی ہے کہ ابھی آپ حدیث کی کسی کتاب کا انکار کریں ، راویان حدیث کا مذاق بنائیں ، ان پر اتہام بازی کریں ، آپ کو بہت سے افراد ایسے مل جائیں گے جو ان کی تائید کر رہے ہوں گے - بظاہر یہی کہہ رہے ہوتے ہیں کہ جی بخاری ہمارے ایمان کا حصہ نہیں ، لیکن بباطن ان کو آسان سا مذھب درکار ہوتا ہے - سو آسانی سے ان کے جال میں آ جاتے ہیں - بھائی بخاری اور امام بخاری آپ کے ایمان کا حصہ نہیں لیکن اللہ کے نبی کے فرمان تو ایمان کا حصہ ہے ...آپ جب ان کے چکر میں آ کے بخاری کا انکار کر رہے ہوتے ہیں تو اصل میں آپ امام کا انکار نہیں کر رہے ہوتے ، اس فرمان رسول کا انکار کر رہے ہوتے ہیں کہ جو وہاں مذکور ہے -
    ........
    ہاں ! اگر آپ نے پوسٹ مکمل پڑھی ہے تو آگے بھی شئر کیجئے گا ، تا کہ امکان ہو کہ ان احباب تک پہنچے جو وہ گمراہ کن پوسٹ پڑھ چکے تھے
     
  9. ‏جون 22، 2018 #9
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    قران کی کوئی آیت "حسن ، ضعیف ، صحیح" وغیرہ کیوں نہیں ہے ؟

    ابوبکر قدوسی

    دوست کا سوال تھا کہ جب میرا اصرار تھا کہ حدیث بھی ایسے ہی محفوظ ہے جیسے قران - حدیث کے محفوظ ہونے پر میں پرسوں رات کو لکھ چکا ، تکرار مناسب نہیں لیکن اتنا ضرور لکھتا ہوں کہ حدیث کا محفوظ رکھنا اس لیے ضروری تھا کہ قران کی تشریح کا واحد سورس اور ذریعہ یہی ہے - بعض احباب سنت کے تواتر عملی کو اس کی جگہ دیتے ہیں جو درست نہیں -
    اب سوال یہ ہے کہ قران کی کوئی آیت حسن ، ضعیف اور صحیح کی بحث کی نذر کیوں نہیں ہوئی ، جب کہ حدیث کی تمام تر کتب ایسے مباحث سے بھری ہوئی ہیں -
    بھائی بہت آسان سی بات ہے کہ جس کو نظر انداز کیا جاتا ہے -
    پہلے یاد رکھیے کہ حدیث کلام اللہ نہیں ، بشر کا کلام ہے ، حدیث قران کی شرح ہے خود قران نہیں ، حدیث شارح کے الفاظ ہیں بذات خود شریعت کا نزول کرنے والے کے الفاظ نہیں -
    ہاں مگر حدیث کا ماننا لازمی اس لیے ہے کہ یہ قران کی وہ تشریح ہے جو خود اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایات کی روشنی میں اللہ کے رسول نے کی - اللہ نے قران میں نبی کو حکم دیا کہ ہماری آیات کھول کھول کے بیان کر دو ، یہ واضح اشارہ ہے شرح کی طرف - پھر دوسری جگہ فرمایا کہ نبی ہماری مرضی کے بغیر نہیں بولتے ، قران کی اس آیت میں صاف صاف کہہ دیا گیا کہ نبی کی ، کی گئی شرح اللہ کی مرضی کے بغیر نہیں ہے -
    اب آتے ہیں سوال کی طرف - اللہ نے کلام پاک کو محفوظ کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا ، حدیث کے معاملے میں وہ اختیار نہیں کیا -
    نوٹ کرنے کی بات مگر یہ ہے کہ الگ الگ طریقوں کے باوجود دونوں کام اللہ نے انسانوں سے ہی کروائے -
    میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا قران کی حفاظت کے لیے اللہ نے آسمانوں سے کوئی فرشتے نازل کیے یا خود اتر کے آئے ؟
    آپ بھی کہیں گے کہ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ کام انسانوں نے ہی کیا ہے - اور بھائی جب انسانوں کی محفوظ کی ہوئی ایک چیز کو آپ اللہ کا وعدہ تصور کرتے ہیں تو دوسری کے باب میں آپ کو کیوں ضرورت پیش آتی ہے کہ کہ اس کے لیے کوئی آسمان سے الگ سے اتر کے آئے -
    رہا قران کا صحیح ضعیف ، حسن وغیرہ نہ ہونا ...بھائی شاید آپ جانتے نہیں کہ کبھی کسی دور میں جب قران مدون ہوا تھا کچھ ایسی ہی بحوث ہو چکی- کچھ آیات پر ایسی ہی بحثیں ہوئی تھیں، حتی کہ موجودہ صورت میں قران ہو گیا اور اللہ کا وعدہ پورا ہوا - خیر ان کا ذکر اس وقت طوالت کا سبب ہو گا - بس میں یہی کہتا ہوں کہ کلام اللہ کا مقام ایک بندے کے کلام سے بلند تر تھا سو اس کا اہتمام اور انداز ذرا الگ سے تھا -
    اور یہ جو حدیث کے یوں درجات ہیں جو کسی دوست کو اس کے غیر محفوظ ہونے کی طرف سوچنے پر مجبور کرتے ہیں تو برادر اسی بات کو ذرا دوسرے انداز سسے سوچئے -
    ایک وقت تھا کہ جب حدیث کی تدوین کا عمل جاری تھا ، درست نا درست آپس میں اکٹھے ہونے کو تھے ، نئی نئی اقوام اسلام میں آ رہی تھیں ، کچھ سازشی بھی تھے ، کچھ تقوے کے مارے صوفی بھی - لاپرواہی سے حدیث بیان کر جاتے اور سازشی حدیث بنا بھی چھوڑتے سو ایسے میں حدیث کے محفوظ کرنے کا عمل شروع ہوا - بھائی یہ ہے نکتے کی بات کہ ایسے میں جو ائمہ کرام کی محنتیں تھیں ، ان کے بناء کردہ سخت ترین اصول تھے ، صحیح ، ضعیف اور حسن کی تقسیمیں تھیں ...وہ کس کا انتظام تھا ؟
    کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اللہ کی مشیت کے بغیر سب کچھ ہوا ؟
    کوئی ایک آدھ دن کا قصہ تو نہ تھا ، کوئی دو چار برس کی کہانی تو نہ تھی ، برس ہا برس ایک نہیں بیسیوں ائمہ نے محنتیں کیں ، ایک ایک بندے پر تحقیق کی ، اس کی عادات و اطوار کو جانچا ، آپس میں ملاقاتیں چیک کیں ، قصہ مختصر ہر طرح کے احتمال کو دیکھا ، پرکھا ، جانچا اور اس کے بعد صحیح ضعیف کے فیصلے کیے -
    آپ کو کیوں یہ سادہ سی بات سمجھ نہیں آتی کہ یہ بھی اصل میں اللہ کا حدیث کو محفوظ رکھنے کا ایک انداز اور اہتمام تھا -
    دوست دوسروں پر اعتماد کرتے ہیں ، کبھی خود سے اس معاملے کو گہری نظر سے دیکھیں تو ان کو اللہ کا حفاظت کا وعدہ سچ ہوتا نظر آئے گا ....صرف ایک مثال دے کے بات ختم کرتا ہوں :...
    مشھور حدیث جس پر کل میں پوسٹ بھی کی کہ نبی کریم نے فرمایا کہ جو مجھ پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں کر لے ......یہ حدیث متواتر ہے .... چلتے چلتے کسی صوفی نے اپنی ضرورت کے واسطے اس میں ایک ایک اضافہ کر دیا کہ ..لیضل بہ الناس ....اس اضافے سے بات یوں بن گئی کہ :
    "جو کوی مجھ پر اس لیے جھوٹ باندھے کہ لوگوں کو گمراہ کرے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے "
    بظاہر اس میں کیا غلط ہے ؟
    لیکن آئمہ نے اس اضافے کی بھی نشاندھی فرمائی - جی ہاں ! یہ اضافہ موضوع قرار دیا گیا - موضوع کہتے ہیں من گھڑت کو ، حدیث کی اصطلاح میں یہ انتہائی گھٹیا اور رذیل عمل ہے -
    لیکن دوستو ! اتنی بظاہر چھوٹی سی بات پر اتنی گرفت جانتے ہیں کیوں ؟
    اس لیے اس طرح حدیث کو مان لینے سے ، نوٹس نہ کرنے سے کوئی بھی اس کا یہ مطلب نکالتا کہ جی ہاں لوگوں کو گمراہ کرنے کے واسطے حدیث بنانا جہنمیوں کا فعل ہوا ، لیکن اگر کوئی نیکی کی نیت سے ایسا کرے تو جائز ہے -
    جناب ! یہ تھا ائمہ کرام کی دقت نظر اور محنتوں کا انداز ...لیکن اصل میں یہ سب کیا تھا ؟
    میرے بھائی اصل میں یہ اللہ کا انتظام ہے حدیث کو محفوظ رکھنے کا ...
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں