1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حدیث کی تصحیح وتضعیف میں اختلاف ، عام آدمی کیا کرے ؟؟

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏اکتوبر 10، 2012۔

  1. ‏اکتوبر 10، 2012 #1
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ایک روایت کو ایک محدث ضعیف قرار دیتا ہے اور اُسی روایت کو دوسرے محدث نے صحیح یا حسن قرار دیا ہوتا ہے تو ایک عام آدمی جو احادیث کی تحقیق کے اصولوں سے واقف نہیں تو وہ کس کی بات مانے؟
    ایک عام آدمی ایک روایت کی سند کو ضعیف سمجھتے ہوئے اس پر عمل نہیں کرتا کچھ عرصہ بعد اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ حدیث صحیح ہے تو جتنا عرصہ وہ عمل سے محروم رہا اس کا کیا ثواب ملے گا؟یا دوسری صورت میں ایک حدیث کو ایک عام آدمی صحیح سمجھ کر عمل کرتا رہا لیکن بعد میں اسے پتہ چلا کہ وہ ضعیف ہے تو کیا اس کا گناہ ہو گا؟
    اس اہم مسئلے کی قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت کریں۔
     
  2. ‏اکتوبر 17، 2012 #2
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    تحقیق حدیث سے متعلق جو سوال آپ نے پیش کیا ہے یہی سوال فہم حدیث سے متعلق بھی پیش کیا جاسکتا یعنی یوں کہا جاسکتا:
    میرے خیال سے تحقیق حدیث ہو یا فھم حدیث دونوں میں اختلافات ہوتے ہیں اس لئے دونوں سے متعلق مذکورہ سوال پیداہوتاہے ، جیساکہ میں نے درج ذیل لنک پر بھی کہا:
    حدیث کو صحیح وضعیف کہنے میں محدثین کا اختلاف ،عام آدمی کیا کرے؟

    اب رہا مسئلہ یہ کہ اس سوال کا جواب کیا ہے تو میں اپنی طرف سے کچھ نہ کہتے ہوئے علامہ البانی رحمہ اللہ کا کلام اوراس کاترجمہ پیش کردینا کافی سمجھتاہوں۔
    جرح وتعدیل میں ایک مسئلہ اٹھتا ہے کہ ابن حبان رحمہ اللہ کی توثیق کے بارے میں کیا موقف اپنایا جائے ، تو اس سلسلے میں دارانی نامی ایک صاحب نے اپنا موقف پیش کیا جس پر علامہ البانی رحمہ اللہ نے رد کیا اور اسی ضمن میں یہ عمومی اصول پیش کیا کہ کسی بھی فن میں اختلاف ہو تو لوگوں کو کیا کرنا چاہئے ، ملاحظہ ہو علامہ البانی رحمہ اللہ کا کلام اردو ترجمہ کے ساتھ:

    علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    میں سمجھتاہوں کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے بہت ہی عمدہ اورزبردست بات کہی ہے ۔
    علامہ البانی رحمہ اللہ کی وضاحت کی روشنی میں ہرشخص اپنے ساتھ انصاف کرے اوردیکھے کہ وہ اوپرذکردہ کس قسم میں سے ہے ، پھر وہ اپنے آپ کو جس قسم میں سے پائے اس قسم سے متعلق پیش کردہ اصول پرعمل کرے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 9
    • پسند پسند x 6
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  3. ‏اکتوبر 17، 2012 #3
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    جب تک وہ عمل سے محروم رہا جب تک اسے ثواب نہیں ملے گا ، لیکن ایک عمل کسی کے لئے ثابت نہیں ہوا تو اس کا یہ مطلب تو نہیں اب عمل کرنے کے لئے کچھ بچا ہی نہیں اس لئے جس شخص کی نظر میں کوئی عمل ثابت نہ تو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ نہ جائے بلکہ دوسرے اعمال انجام دے ، چنانچہ اگرایسا کرے گا تو دوسرے اعمال کا ثواب اسے ملے گا، اورجب کچھ بھی نہیں کرے گا تو ظاہرہے اسے ثواب بھی نہیں مل سکتا۔
    ارشاد ہے:
    {وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى } [النجم: 39]۔
    اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
    وَمَنْ بَطَّأَ بِهِ عَمَلُهُ، لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ»، [صحيح مسلم 4/ 2074 رقم 2699]۔
    رہا دوسری صورت میں گناہ کا معاملہ تو ترک کی صورت میں کوئی گناہ نہ ملے گا کیونکہ ترک کرنے والے نے جان بوجھ کرایسا نہیں کیا بلکہ اس سے ایسا انجانے میں ہوا ہے۔

    { لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ } [البقرة: 286]۔
    عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ، وَالنِّسْيَانَ، وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ»[سنن ابن ماجه 1/ 659 رقم 2045 والحدیث صحیح]
     
    • شکریہ شکریہ x 11
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏اگست 21، 2013 #4
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,776
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 2
    • متفق متفق x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں