1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حرام جہیز اور حلال جہیز میں تمیز کیجئے

'جہیز' میں موضوعات آغاز کردہ از یوسف ثانی, ‏نومبر 30، 2013۔

  1. ‏نومبر 30، 2013 #1
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    1. شادی کے موقع پر اپنی بیٹی کو ساز و سامان (خواہ جہیز کے نام پر ہو یا کسی اور نام پر)، کیا اسلام میں ایسا کرنا حرام ہے؟ اگر ہے تو کوئی مجھے قرآن و صحیح حدیث سے بتلادے۔ ممنون ہوں گا۔
    2. "جہیز" سے کسی کو نفرت نہیں ہے۔ نہ خوشی سے دینے والے ماں باپ کو اور نہ ہی بخوشی لینے والی بیٹی یا داماد کو۔
    3. جس چیز سے سب کو نفرت ہے، اور جو قابل مذمت شئے ہے اور جو اسلام میں بھی کارِحرام اور گناہ ہے، وہ درحقیقت لڑکا یا لڑکے والوں کی طرف سے "مطالبہ جہیز" ہے، خواہ یہ مطالبہ لڑکی کے والدین کی استطاعت کے مطابق ہو یا اُن کی استطاعت سے باہر ہو۔ دوسری صورت میں یہ گناہ، بدترین گناہ بن جاتا ہے۔
    4. اس کے علاوہ بیٹی داماد کو دئے جانے والے جہیز (خواہ خوشی سے ہی کیوں نہ دیا جائے) کی "نمائش" بھی اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ نمود و نمائش تو عمومی حالت میں بھی منع ہے، لیکن اگر شادی کے موقع پر صاحب حیثیت والدین، اپنی بیٹی کو دئیے جانے والے "جہیز" کی خاندان یا اہل محلہ میں اس طرح نمائش کریں کہ اس کی استطاعت نہ رکھنے والے والدین کو اپنی بیٹیوں کی شادی بیاہ میں مشکلات کھڑی ہوجائیں تو یقیناً یہ دُہرا گناہ ہوگا۔
    اہل علم سے درخواست ہے کہ اگر مندرجہ بالا بیانات میں کوئی شرعی خامی یا کمی ہو تو اس کی نشاندہی قرآن وصحیح حدیث کے حوالہ سے ضرور کریں۔ دیگر احباب سے گذارش ہے کہ جہیز سے "نفرت برائے نفرت" کے اظہار کی بجائے اس بات پر دھیان دیں کہ جہیز قابل نفرت کب اور کیوں ہوتی ہے۔ اور وہ خود کو ایک صاحب حیثیت باپ کی جگہ رکھ کر سوچیں کہ کیا وہ شادی کے موقع پر یا شادی کے فوراً بعد اپنی بیٹی کو تحفہ تحائف یا جہیز یا کسی اور نام سے کچھ بھی دینا پسند نہیں کریں گے اور اس بات کا انتظار کریں گے کہ جب وہ مرجائیں تب ان کی وراثت میں بیٹی کو حصہ دیا جائے۔ خواہ تب تک ان کی بیٹی مالدار باپ کے ہوتے ہوئے اپنی روز مرہ کی ضروریات کے لئے ترستی رہے، اگر اس کے سسرال والےمیکہ جتنے مالدار نہ ہوں تو۔ دوسری طرف آپ ایک ایسی بیٹی کی جگہ خود کو رکھ کر سوچیں کہ اگر آپ کا مالدار باپ آپ کو گھر سے رخصت کرتے ہوئے " نام نہاد اینٹی جہیز مہم" سے متاثر ہوکر آپ کو ایک تنکا تک نہ دے تو آپ کو کیسا لگے گا۔ جب تک ہم متعلقہ فرد (جہیز دینے والے باپ اور لینے والی بیٹی) کی جگہ اپنے آپ کو رکھ کر نہیں سوچیں گے، اپس وقت تک ایک متوازن رائے قائم کرنے مین ناکام ہی رہیں گے۔
     
  2. ‏دسمبر 01، 2013 #2
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    سوال: میرا ایک مسئلہ ہے جس نے مجھے ذہنی انتشار کا شکار بنا رکھا ہے۔ یہ کہ "جہیز کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ "۔ میں نے کہیں سے سنا کہ جہیز ایک لعنت ہے، ایک دوسرے صاحب فرما رہے تھے کہ جہیز سنت رسول ہے۔ کس کی مانیں؟ جناب عادل سہیل سے خصوصی درخواست ہے کہ مجھے اس مخمصے سے نکالنے کے لیے راہنمائی فرمائیں۔
    علی عمران

    بسم اللہ و صلاۃ و السلام علی من لا نبی بعدہ ، و اما بعد ،​

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،

    اِس کے بعد آپ کے سوال کا جواب :::
    محترم بھائی ، علی عمران شادی کے وقت بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ شادی کے بعد بہن یا بیٹی کی رخصتی کے وقت اس کو دنیاوی مال اور سامان وغیرہ میں سے کچھ دینا ، جسے ہمارے معاشرے میں "جہیز " کہا جاتا ہے ، محض ہماری معاشرتی عادت نہیں ، جیسا کہ ہمارے کچھ بھائی مختلف فلسفوں کا شکار ہو کر دینی دنیاوی ، معاشرتی اُخروی معاملات میں فرق روا نہیں رکھتے ، اللہ ہم سب پر حق واضح کرے اور اس کو قبول کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔

    بھائی علی عمران ، اب ہم اس "معاشرتی عادت" کو دین کے روشنی میں سمجھتے ہیں ، کسی بھی عمل کو جائز یا نا جائز قرار دینے کے لیے ہمیں اللہ ، یا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا کوئی حکم درکار ہے ، عادات کے امت کے اماموں اور علماء کا یہ قانون ہے کہ

    " العادات اصل فیھا الاباحیۃ :: عادات کا بنیادی حکم جائز ہونا ہے ::
    اِلا ما نَھیٰ عنھا اللہ و رسولہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم :: سوائے اس کے جس سے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے منع فرمایا ہو "

    اور بھائی علی عمران ، ممانعت کا حکم کئی صیغوں اور انداز میں پایا جاتا ہے ،

    بہرحال ، وہ عادات جن پر ممانعت وارد نہیں جائز ہیں ان عادات کی تکمیل میں ادا کیے گئے ہر ایک فعل کو دیکھا جائے گا جہاں تک کوئی کام کسی شرعی ممانعت میں داخل نہیں ہوتا اسے ناجائز نہیں کہا جائے گا ،

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز میں چار چیزیں عنایت فرمائیں ، جیسا کہ صحیح احادیث میں ملتا ہے کہ

    ( أَنَّ رَسُولَ صلى اللَّهِ عليه وسلم لَمَّا زَوَّجَهُ فَاطِمَةَ بَعَثَ مَعَهَا بِخَمِيلَةٍ وَوِسَادَةٍ من آدم حَشْوُهَا لِيفٌ وَرَحَيَيْنِ وَسِقَاءٍ وَجَرَّتَيْنِ :
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کیا تو ان کے ساتھ ایک مخملی کپڑا (چادر یا پہننے کا ) اور تکیہ جس پر پتوں کی رگوں کا غلاف تھا اور دو چکییاں (یعنی دو پاٹ والی چکی ) اور دو چھوٹے مشکیزے بھیجے )
    مسند احمد ، الاحادیث المختارہ ،

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اس عمل مبارک کی روشنی میں جہیز دینا کوئی " مقامی کلچر " نہیں رہتا ، بلکہ اسلامی شریعت میں ایک جائز کام قرار پاتا ہے ، اسے " کسی معاشرے کا مقامی کلچر" قرار دینا یا کہنا درست نہیں ، اور نہ ہی اسے یکسر ناجائز کہا جا سکتا جب تک کہ اس کام کی کیفیت میں کوئی اور ناجائز یا حرام کام شامل نہ ہو جائے ، مثلا جہیز ، اگر حرام مال سے دیا جائے ، یا ، اپنی اولاد میں سے دوسروں کا حق مار کر دیا جائے ، یا ، معاملہ فضول خرچی کی حدود میں داخل ہو جائے ، یا بلا ضرورت دیا جائے ، تو یقینا ایسی صورت میں نا جائز ہو گا ،

    رہا معاملہ سنت ہونے کا تو یہ کہنا کئی طور پر درست نہیں کہ یہ سنت ہے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنی دو بیٹیاں رضی اللہ عنہما جنہیں عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں دیا تھا ، کو جہیز دیا اس کی کوئی روایت نہیں ملتی ، فاطمہ رضی اللہ عنھا کو دینا ضرورت تھی کیونکہ علی رضی اللہ عنہ کے پاس گھر کے سامان میں کچھ نہ تھا جیسا کہ خود ان کا فرمان ہے جو عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

    ( جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے میرے ساتھ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح فرمایا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے عرض کیا

    " یا رسول اللہ أِبتنی : اے اللہ کے رسول مجھے میری بیوی کے پاس جانے کی اجازت دیجیے "

    تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا "
    عندك شيء تعطيها : تمہارے پاس اسے (مہر میں ) دینے کے لیے کچھ ہے ؟ "


    میں نے عرض کیا " لا : جی نہیں "

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا


    "أين درعك الحطمية : تمہاری حطمیہ درع کہاں ہے ؟

    " میں نے عرض کیا " عندی ::: میری پاس ہے "

    تو فرمایا " وہ اسے (مہر میں ) دے دو " )

    یہ مندرجہ بالا حدیث ، الاحادیث المختارہ /حدیث 610 /جلد 2 / صفحہ 231 ، مطبوعہ مکتبہ النھضہ الحدیثہ ، میں ہے ، اور مختلف الفاظ اور صحیح اسناد کے ساتھ مندرجہ ذیل کتب میں بھی ہے ، التعلیقات الحِسان علی صحیح ابن حبان بترتیب ابن بلبان/حدیث 6906 /کتاب 60 أخبارہ صلی اللہ علی وعلی آلہ وسلم عن مناقب الصحابہ / ذکر ما أعطی علی رضی اللہ عنہ فی صداق فاطمہ رضی اللہ عنھا ، مطبوعہ دار باوزیر /جدہ /السعودیہ ، سنن النسائی / حدیث 3375 کتاب النکاح / باب 60 ، جز 6 داخل جلد 3 ، مطبوعہ دار المعرفہ ، بیروت ، لبنان ، عون المعبود شرح سنن ابی داود / حدیث 2126 / کتاب النکاح / باب 36 ، مطبوعہ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ، بیروت ، لبنان ، سنن البیہقی الکبریٰ / مسند ابی یعلی / حدیث 2433 / مسند ابن عباس کی روایت 110 ، جلد 3 ، صفحہ 43 ، مطبوعہ دار القبلہ ، جدہ ، السعودیہ ، مسند احمد / حدیث 603 / مسند علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی حدیث 41 ،جلد اول ، مطبوعہ عالم الکتب ، بیروت ، لبنان ،
    اور دیگر کتب احادیث میں صحیح اسناد کے ساتھ موجود ہے ، اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنھا کو ضرورت کی جو چار چیزیں دی تھیں ان کی وجہ "معاشرتی عادت " تھی نہ یہ " کسی مقامی کلچر " کی وجہ سے تھا ، بلکہ ضرورت تھی ، پس اسے سنت کا درجہ نہیں دیا جا سکتا ،

    اور یہ بھی پتہ چلا کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی عملی اجازت کی بنا پر جہیز دینے کو یکسر ناجائز بھی نہیں کہا جا سکتا ،

    اور یہ بھی پتہ چلا کہ ، أمیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی اپنی درع شادی کی تیاری کے لییے نہیں فروخت کی تھی بلکہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے حکم کے مطابق بطور مہر دی تھی ،

    اور یہ بھی پتہ چلا کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُس درع کی قیمت سے سامان خرید کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دیا تھا ،

    فاطمہ رضی اللہ عنھا کو جو سامان دیا گیا اس کے انتظام یا مہیا کرنے کے بارے میں امام ابن سعد کی طبقات الکبریٰ میں ایک روایت ہے جس میں علی رضی اللہ کی سواری کا جانور فروخت کرنے کا ذکر ہے اور اس کی قیمت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے تقسیم کیا گیا کہ دوتہائی کو ولیمے کے استعمال ہو اور ایک تہائی کو سامان ضرورت کے لیے ، لیکن علی بھائی مجھے فی الوقت اس روایت کی صحت کا اندازہ نہیں اس لیے میں اس کو اپنی بات کا حصہ نہیں بنا رہا ، صرف معلومات کے لیے ذکر کر رہا ہوں ،
    اگر یہ روایت صحیح ہو تو معاملہ مرد حضرات کے لیے اور زیادہ سخت ہو جاتا ہے کہ وہ لڑکی والوں کو سامان کی تیاری کے لیے مال فراہم کریں نہ کہ ان سے مانگیں ،

    یہ معاملہ تو جہیز دینے والے کے لیے ہوا ، اور لینے والے کے لیے خود سے سوال کر کے یا فرمائش کر کے جیسا کہ اب ہمارے معاشرے میں ہوتا ہے جائز نہیں ، کیونکہ یہ اکثر اوقات ظلم میں شامل ہوتا ہے ، اور دوسری طرف اسلام میں عورت کو اس کی طلب کے مطابق مہر ادا کرنے کا حکم ہے نہ کہ عورت یا وارثین سے مال لینے کا ، یہ غیر اسلامی طریقہ ہے اور غیر ملسموں کی نقالی جائز نہیں ، خاص طور پر ان کی عادات اپنانے کی اجازت نہیں ، اگر میں اس موضوع پر بات کروں تو بات کافی طویل ہو جائے گی ، لیکن اگر آپ جاننا چاہیں تو ان شاء اللہ تعالی کسی اور وقت اس کی تفصیل بیان کردوں گا ،

    اب اگر کوئی خود سے اپنی بہن یا بیٹی یا کسی بھی اور کو اس کی شادی و رخصتی پر جائز حدود میں رہتے ہوئے کچھ دیتا ہے تو مرد کے لیے وہ لینا جائز ہے ۔

    امید ہے کہ بھائی علی عمران یہ معلومات ان شاء اللہ آپ کی سوال کے جواب کے طور پر کافی ہوں گی ، اگر مزید کچھ جاننا چاہیں تو ضرور پوچھیے ، اسی طرح سب یعنی پوچھنے ، بتانے ، سننے پڑھنے والوں کے علم میں اضافہ ہوتا ہے ، اللہ تعالی ہمیں حق جاننے ، پہچاننے ، ماننے ، اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، و السلام علیکم۔

    عادل سہیل
     
    • پسند پسند x 6
    • زبردست زبردست x 3
    • متفق متفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 01، 2013 #3
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    اس موضوع پر کنعان بھائی کے جواب سے متفق ہوں۔۔۔۔
    یوسف بھائی آپ اس موضوع کو صرف ایک رخ سے دیکھ رہے ہیں،یعنی "مالدار باپ" کی خواہش پر۔۔
    اس سے پہلی پوسٹ میں بھی یہ یہی بتانا مقصود تھا کہ آج کل تو مطالبہ کا رجحان ہی بدل رہا ہے بلکہ لڑکی کے والدین خود بخود جہیز تیار کرنے لگتے ہیں ۔کیونکہ جس گھر میں لڑکی نے جانا ہے وہ چاہے کچھ نہ بھی کہیں اوپر کے لوگ ہی کافی ہوتے ہیں۔۔۔اپنی بیٹی کو اس صورتحال سے بچانے کے لیے والدین خاموشی سے یہ کام سر انجام دے دیتے ہیں اور سسرال والے بھی مطمئن رہتے ہیں کہ ہمیں مطالبے کی ضرورت ہی نہیں پیش آئی۔۔!!
    کیونکہ اب یہ بیماری سرایت کر چکی ہے۔
    اور یوسف بھائی ایک مالدار باپ بیٹی کو تعلیم دلوائے اور شادی تک اس کی ضروریات زندگی اور خواہشات بھی پوری کرے تو اس کی کوئی اہمیت نہیں؟ کیا ضروری ہے کہ شادی پر ہی دولت سے اظہار محبت سامنے آئے؟؟کیا محبت کا اظہار صرف دولت سے ہوتا ہے؟؟
    یوسف بھائی میں بھی ایک بیٹی ہوں اور اس جگہ پر خود کو رکھ کے سوچتی ہوں تو بھی اس بات سے اتفاق نہیں کرتی ۔۔۔
    برائے مہربانی ایک اور رخ سے بھی سوچیں کہ جو مالدار باپ شادی کے بعد بھی بیٹی کو "تحائف" کے نام پر ضرویات زندگی کے سازوسامان مہیا کرتا رہے گا ۔۔۔ تو ایسے داماد کو کمانے کی ضرورت کیسے پیش آئے گی؟ اور سسرالی مطالبات نہ بھی کرنے والوں تب بھی انہیں موقعہ ملتا رہے گا۔۔۔
    معذرت کے ساتھ میں نے ایسے بہت گھر بھی دیکھیں ہیں۔۔۔جہاں مالدار باپ ایسے "تحائف " بیٹی کو دیتے تو رہتے ہیں اور بیٹی فخر اور غرور سے شوہر کی عزت نفس مجروح کرتی ہے۔
    اگر آپ کو اپنی بیٹی سے محبت ہے تو اسے کچھ وقت تک اپنے شوہر کی صلاحیتوں پر سٹینڈ لینے دیں۔
     
    • پسند پسند x 6
    • شکریہ شکریہ x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏دسمبر 01، 2013 #4
    ام عبدالرحمٰن

    ام عبدالرحمٰن رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 10، 2013
    پیغامات:
    365
    موصول شکریہ جات:
    314
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    بالکل درست فرمایا Dua بہن آپ نے ۔۔ بیٹی ہونے کہ ناتے وہ اپنے ماں باپ کو منع بھی نہیں کر پا رہی ہوتی اور جس کی وجہ سے اس کے شوہر کی عزت نفس بھی مجروح ہوتی ہے ۔۔
    اور اگر یہی سلسلہ چلتا رہے تو انسان ڈپینڈنٹ بھی ہو جاتا ہے جو کہ صحیح نہیں ہے ۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 01، 2013 #5
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا یوسف ثانی بھائی
    اس موضوع پر میں آپ سے بالکل متفق ہوں، کچھ عرصہ پہلے میری اسی موضوع پر گفتگو ہوئی تھی محدث فورم پر، اور وہی موقف میں نے اپنایا تھا جو آپ نے اپنے اس تھریڈ میں بیان کیا ہے۔میں بھی اس حوالے سے یہ موقف ہے کہ:

    (1) تحفہ دینا سنت ہے، اگر کوئی اپنی بہن بیٹی کو تحفہ دیتا ہے (بشرطیکہ نمائش نہ کرے) تو یہ غلط نہیں ہے، اگر یہ غلط ہے تو اس کی دلیل قرآن و حدیث سے چاہیے۔

    (2) لازمی نہیں کہ ہر والدین مجبور ہو اپنی اولاد کو سامان دینے سے، کچھ لوگ جن کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے وہ بخوشی بھی دیتے ہیں، فرض کریں ایک لڑکی سات آٹھ بھائیوں کی اکلوتی بہن ہو، اور اس کے سات آٹھ بھائیوں کی آمدنی بھی اچھی ہو تو ہر بھائی یہی کوشش کرے گا کہ وہ اپنی اکلوتی بہن کو کچھ نہ کچھ ضرور لے کر دے۔ تو اس میں کیا حرج ہے؟

    (3) اور لازمی نہیں کہ جہیز صرف والدین ہی دیں یا بہن بھائی ہی دیں، جہیز تیسرا بندہ دے سکتا ہے، فرض کریں میرا کوئی دوست ہو وہ غریب ہے جس لڑکی سے شادی کر رہا ہے وہ بھی غریب ہے دونوں نکاح کر کے زندگی گزارنا چاہتے ہیں اب کیا کیا جائے ؟ اب اگر اس صورت حال میں میں اس لڑکی کو گھر کی تمام ضروریات کا سامان خرید کر دیتا ہوں اور وہ دونوں ہنسی خوشی رہتے ہیں تو کیا یہ ناجائز ہے؟

    (4) اس موضوع پر شیخ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ نے ایک مضمون لکھا ہے جو مکتبہ دارالسلام کی طرف سے شائع کردہ مجلہ "ضربِ حدیث" میں شائع ہوا ہے، اور انہوں نے وہی موقف اپنایا ہے، جو میرا اور یوسف ثانی بھائی کا ہے۔ الحمدللہ

    تو لہذا معتدل رہیں، شادی کے موضوع پر دیے گئے سامان (جہیز) کو ہر صورتحال میں دیکھیں۔ کہاں غلط ہے اور کہاں نہیں، یہ تمام صورتحال مدنظر رکھنی چاہیے۔ہاں البتہ جو نقطہ اتفاق ہے وہ لڑکے کا لڑکی والوں سے سامان کا مطالبہ کرنا ہے جو بالکل ناجائز ہے، لڑکی مکلف نہیں ہے لڑکا نان و نفقے کا ذمہ دار ہے، لیکن اگر لڑکی کو خوشی سے اس کے والدین دے دیں تو کوئی حرج نہیں، لڑکی کے والدین کو روکنا بھی نہیں چاہیے،اگر لڑکے کے پاس اتنی جائیداد ہے کہ وہ خود خرید سکتا ہے تو وہ اپنے گھر کا سامان خود ہی خریدے یہ زیادہ اچھی بات ہے۔
     
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏دسمبر 01، 2013 #6
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ہمارے معاشرے میں جہیز ایک المیہ (حصّہ اوّل)

    آج کل نفسہ نفسی کا دور ہے ہمارے معاشرے میں لاتعداد مسائل نے لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا ہے ان مسائل میں ایک اہم اور بڑا مسئلہ جہیز بھی ہے جو موجودہ دور میں وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ عام طور پر سلیقہ مند ،پڑھی لکھی ،خوب رو اور خوب سیرت لڑکیاں بھی قیمتی جہیز نہ ہونے کے باعث آنکھوں میں دلہن بننے کے خواب بسائے ساری زندگی اپنے ماں باپ کے گھر گزار دیتی ہیں اور پھر ایک خاص عمر کے بعد تو یہ سہانا خواب بھی دیکھنا چھوڑ دیتی ہیں اور اپنی تقدیر سے سمجھوتہ کرکے بقایا زندگی اک جبر مسلسل کی طرح کاٹنے پر مجبور ہو جاتی ہیں دلہن بننا ہر لڑکی کا خواب ہی نہیں اسکا حق بھی ہے لیکن افسوس اسے اس حق سے محض غربت کے باعث محروم کر دیا جاتا ہے سرمایہ داروں کے اس دور میں‌ لڑکیوں کو بھی سرمایہ سمجھا جاتا ہےاور اس سرمایہ کاری کے بدلے انکے گھر والے خصوصا مائیں بہنیں اور زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کےلئے سرگرداں رہتی ہیں۔ وہ لڑکی کا رشتہ لینے جاتی ہیں یا یوں کہیں اپنے بیٹے ،بھائی کا کاروبار کرنے نکلتی ہیں لڑکی سے زیادہ اس کی امارات دیکھتی ہیں، لڑکی والوں کے ہاں جا کر انکا زہنی کیلکولیٹر بڑی تیزی سے حساب کتاب مکمل کر لیتا ہے اور وہاں‌ سے کچھ ملنے یا نہ ملنے کے بارے میں وہ پوری طرح سے آگاہ ہوجاتی ہیں گاڑی،کوٹھی اور دیگر قیمتی سازوسامان تو ان کی فہرست میں‌لازمی مضامین کی طرح شامل ہوتے ہیں ان کے بعد کہیں جا کر لڑکی کی باقی خوبیوں (جن میں اسکا خوش شکل ہونا بھی شامل ہے) کو پرکھا جاتا ہے چنانچہ جس خوش قسمت لڑکی کے پاس دینے کو قیمتی اور‌ڈھیر سارا جہیز ہو نیز خوبصورت بھی ہو وہ تو بیاہی جاتی ہے اور جن بدقسمت لڑکیوں کے پاس یہ سب کچھ موجود نہیں ہوتا وہ سوائے اپنی تقدیر سے گلہ کرنے کے اور کچھ نہیں کر سکتی۔


    میرے ایک دوست شکستہ دلی کے ساتھ بتا رہے تھے کہ ان کی خوش شکل و نیک سیرت بیٹی(جو فائنل ائیر کی طالبہ ہے ،کو دیکھنے لڑکے کے ماں باپ اور انکی شادی شدہ بیٹی اپنے شوہر سمیت ان کے گھر گئے لڑکے کے ماں باپ پانچ وقت کے نمازی ہیں اور دوران گفتگو زیادہ تر اسلام ہی کے حوالے سے باتیں کرتے رہتے لیکن ساتھ ہی ساتھ وہ اور ان کی شادی شدہ بیٹی گھر کے درودیوار اور ہر چیز کا بغور جائزہ بھی لیتے رہے خوب خاطر تواضع کروا کر بغیر کوئی جواب دیئے واپس چلے گئے ۔

    بعد ازاں انہوں‌نے کسی کے ذریعے کہلوا بھیجا کہ انہیں لڑکی اور لڑکی کے گھر والے تو بے حد پسند آئے لیکن لڑکی پڑھی لکھی زیادہ ہے اس لئے وہ رشتہ نہٰيں کر رہے حالانکہ انکے بقول انکا بیٹا ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے۔ پھر خود وہ یعنی لڑکے کے ماں باپ بھی علمی ذوق رکھتے تھے۔

    سوچنے کی بات ہے کہ لڑکی اگر ان پڑھ مہذب ہوتی ہے تو اس قسم کی پڑھی لکھی فیملی کا اسے اپنی بہو بنانے سے انکار ایک معقول وجہ ہوسکتی تھی لیکن اسکا تعلیم یافتہ ہونا ہی ایک عیب کیوں بن کر رہ گیا ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
     
  7. ‏دسمبر 01، 2013 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    ہمارے معاشرے میں جہیز ایک المیہ (حصّہ دوّم)

    بات دراصل یہ ہے کہ میرے وہ شریف النفس دوست کے پاس انہیں دینے کےلئے وہ مال و جواہر نہیں ہیں جن کا عکس انہوں نے لڑکے کے نیک والدین کی آنکھوں میں حرص ‌بن کر چمکتے ہوئے دیکھا اور محسوس کیا تھا-

    ہم بطور مسلمان اٹھتے بیٹھتے" اسلام یہ کہتا ہے اسلام وہ کہتا ہے"

    دہراتے نہیں تھکتے ہر معاملے میں اسلام کے بارے میں زبانی جمع خرچ ہماری عادت بن چکی ہے لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو کچھ نہیں کرتے ہم صرف اپنے مفادات اور پسند نہ پسند ہی کو عزیز جانتے ہیں لیکن اسلامی ملک میں اور بحثیت مسلمان جب ہم جہیز کی لمبی چوڑی فہرست تیار کر کے لڑکی کا رشتہ دیکھنے جاتے ہیں تو ہمارا ضمیر کہاں سویا ہوتا ہے؟


    اس جرم اس گناہ پر نہ تو ہماری بدنامی ہوتی ہے اور نہ ہی ہمیں قانون و معاشرہ کوئی سزا دیتا ہے۔ ہم بیٹوں کا کاروبار کر رہے ہیں اور دھڑلے سے کر رہے ہیں کوئی ہمیں پوچھنے والا نہیں اور ان بے بس لڑکیوں کےلئے جو جہیز نہ ہونے کے باعث ادھوری زندگی گزارنے پر مجبور ہیں رحم و ہمدردی کا ضفیف سا جذبہ بھی ہمارے دلوں میں موجزن نہیں ہے۔

    مال و زر کی ہوس نے تو لوگوں کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت بنا ڈالے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جہیز کی لعنت ختم کرنے کےلئے باقاعدہ سیمینار منعقد کروائے جائیں نیز میڈیا بھی جہیز کے‌خلاف منظم مہم چلاۓ تاکہ نوجوان لڑکوں میں بالخصوص اور معاشرے میں‌اجتماعی طور پر جہیز کے خلاف ردعمل بیدار ہو جہیز کی لعنت سمیت تمام ایسی رسومات جو غریبوں کےلئے باعث عذاب کا باعث ہیں سے ترک تعلق ہم پر فرض بھی ہے اور معاشرے کی ضرورت بھی۔
     
  8. ‏دسمبر 01، 2013 #8
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    لاہور: کم جہیز کا جرم ، دلہن پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی
    June 18, 2013 - Updated 210 PKT

    لاہور...لاہور کے علاقے بادامی باغ میں سسرالیوں نے دوماہ قبل پیا گھر آنے والی لڑکی کو جہیز میں موٹرسائیکل نہ لانے پر تیل چھڑک کر آگ لگا دی ، اسپتال میں بیڈ پر پڑی بری طرح جھلسی بدنصیب بشریٰکو والدین نے دو ماہ قبل بادامی باغ کے رہائشی قاسم کے ساتھ شادی کر کے رخصت کیا ،چند ہی روز گزرے تھے کہ کم جہیز کے طعنوں سے پیا گھر جہنم بن گیا،ایک روز بری طرح جھلس کر اسپتال پہنچ گئی ، بشریٰ نے الزام لگایا کہ سسر، ساس اور شوہر موٹرسائیکل اورزیور نہ لانے پر ناراض رہتے،اس رنجش میں اسے آگ لگا دی ،بشریٰ کو اس کے والدین نے شدید زخمی حالت میں اسپتال پہنچایا جہاں زندگی اور موت کے دوراہے پر پڑی ہے ،بشریٰ کے والدین نے حکومت سے انصاف کی اپیل کی ،بشریٰ کے اہلخانہ کے مطابق مقدمے کے اندراج کے لیے پولیس کو درخواست دے دی گئی ہے ۔

    http://urdu.geo.tv/UrduDetail.aspx?ID=105852
     
  9. ‏دسمبر 01، 2013 #9
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    یمن میں کنواروں کی جہیز کے خلاف مہم
    اتوار 27 اکتوبر 2013

    یمن میں غریب والدین کے لیے اپنی بیٹیوں کی شادی کرنا کارمحال ہوگیا ہے۔ فوٹو : فائل

    جہیز کی لعنت برصغیر ہی کا مسئلہ نہیں بلکہ عرب ممالک میں بھی یہ روایت ایک گمبھیر صورت اختیار کرچکی ہے۔ غریب والدین کے لیے اپنی بیٹیوں کی شادی کرنا کارمحال ہوگیا ہے۔ عرب دنیا میں جہیز کی لعنت کے خلاف نوجوان نسل میں شعور بیدا ہورہا ہے جس کا ثبوت گذشتہ دنوں یمن میں کنوارے نوجوانوں کی جانب سے جہیز کے خلاف شروع کی جانے والی مہم کی صورت میں ملا۔
    یمن میں غیر شادی شدہ نوجوانوں نے بیش قیمت جہیز کے خلاف مہم شروع کی ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ حد ایک ہزار ڈالرز تک مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق عیدالاضحیٰ کے دوسرے روز بیسیوں نوجوانوں نے دارالحکومت صنعا سے جنوب میں واقع گورنری تعز کے ایک گاؤں الجرف میں جہیز کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور شادی پرکم مالیت کا جہیز دینے کی پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔

    نوجوانوں نے یہ مظاہرہ ایک لڑکی کے والد کی جانب سے جہیز کی مالیت پانچ لاکھ یمنی ریال (ڈھائی ہزار ڈالرز) تک بڑھانے کے خلاف کیا ہے۔ مظاہرین گاؤں کے گھر گھر گئے اور انھوں نے والدین اور قبائلی زعماء کو ایک دستاویز پر دستخط کرنے پر مجبور کیا جس میں ان سے وعدہ لیا گیا ہے کہ وہ جہیز کی مالیت کو دولاکھ ریال (ایک ہزار ڈالرز) سے نہیں بڑھائیں گے۔

    کنوارے نوجوانوں نے دھمکی بھی دی کہ اگر دستاویز پر دستخط کرنے والوں نے اس کی خلاف ورزی کی تو وہ اپنے مطالبات میں اضافہ کردیں گے۔ جہیز کی لعنت کے خلاف مہم چلانے والے نوجوان گاؤں میں غیر شادی شدہ لڑکیوں کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیش نظر یہ مہم چلا رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ جہیز کے لیے اخراجات کی زیادہ سے زیادہ حد کم ہونے سے والدین اپنی بیٹیوں کو جلد بیاہ سکیں گے۔

    یمن میں غربت اور بے روزگاری کی بلند شرح کی وجہ سے لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد غیرشادی شدہ ہی رہ جاتی ہے۔اس کے علاوہ قبائلی روایات کے تحت زیادہ جہیز دینے کی لعنت کی وجہ سے بھی بہت سے والدین اپنی بیٹیوں کے بروقت ہاتھ پیلے نہیں کرسکتے اور شادی کے انتظار میں ان کے سروں میں چاندی اتر آتی ہے۔ یمن کے ایک سماجی محقق مجیب عبدالوہاب کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں جہاں قبائلی اثرورسوخ زیادہ ہے،لڑکی کے والد سے تیس لاکھ ریال (پندرہ ہزار ڈالرز) مالیت تک کا جہیز دینے کے لیے کہا جاتا ہے۔

    http://www.express.pk/story/189586/
     
  10. ‏دسمبر 01، 2013 #10
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,950
    موصول شکریہ جات:
    6,501
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    جہیز کا شرعی حکم :

    سوال: جہیز کا اسلامی شریعت میں کیا تصور ہے؟ قرآن و سنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں.

    جواب :

    شادی سے قبل رشتہ کی بات چیت کے وقت لڑکے والوں کی طرف سے لڑکی کے سرپرستوں سے کسی بھی چیز کا مطالبہ کرنا خواہ وہ جائیداد منقولہ یا غیر منقولہ کی صورت میں ہو یا نقدی اور مختلف سامان کی صورت میں ہو اور رشتہ کی منظوری کو اس پر معلق و موقوف کرنا شرعاً ناجائز ہے اسی طرح لڑکی والوں کی طرف سے پیش قدمی کرتے ہوئے لڑکے والوں سے یہ کہنا کہ اگر آپ یہ رشتہ منظور کر لیں تو ہم جہیز میں نقد اور فلاں فلاں اشیاء دیں گے سراسر غلط اور شریعت کے خلاف ہے ۔ اس لین دین کی رسم کا نام چاہے جو بھی رکھا جائے یہ شرعاً ناجائز اور واجب الترک ہے ۔
    اس کی کئی وجوہات ہیں:

    1) ہر ایک مسلمان کے لئے رسول اللہ کی حیات طیبہ پر عمل کرنا اور زندگی کے تمام معاملات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ پر پرکھنا ضروری ہے کیونکہ ارشاد باری تعالٰی ہے :

    پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ ۖکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا اسوۂ ھسنہ عملی نمونہ ہے جس کی پیروی اور اتباع و اقتداء سب کے لئے ضروری ہے ۔ پیدائش سے لے کر موت تک زندگی کے تمام افعال ، ختنہ ، عقیقہ ، منگنی اور شادی وغیرہ کی تقریبات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ ۖکے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے انجام دیا ہے لیکن ان کے ایام ہائے زندگی میں یہ رسومات اور مطالبات ہمیں نہیں ملتے۔ غرضیکہ شرع میں اس کا وجود تک نہیں ہے۔

    2) ہر مسلمان کے لئے شریعت مطہرہ میں شادی کے موقع پر یا رشتہ طے کرتے وقت یا شادی کے بعد لڑکی والوں پر کسی قسم کا خرچ اور بوجھ نہیں رکھا گیا۔ بلکہ یہ سارا بوجھ لڑکی کا لڑکے پر رکھا گیا ہے کہ یہ اس کو ضروریات زندگی کے اسباب مہیا کرے اس لئے شوہر کو قرآن میں قوام کہا گیا ہے-

    جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

    اس آیت سے معلوم ہوا کہ نان و نفقہ مہر وغیرہ تمام اخراجات بذمہ مرد ہیں بس لڑکے والوں کی طرف سے لڑکی کے سرپرستوں سے کسی مال و متاع کا مطالبہ شریعت کی منشاء کے خلاف ہے۔

    3) ہندو مذہب میں لڑکی کو والدین سے وراثت نہیں ملتی س لئے لڑکے والے چاہتے ہیں کہ جیسے بھی ہو اور جس شکل میں ہو لڑکی والوں سے زیادہ سے زیادہ مال و متاع حاصل کر لیا جائے اس لئے وہ شادی کے موقع پر مذکورہ مطالبہ کرتے ہیں اور لڑکی والے ان کے مطالبہ کو پورا کرتے ہیں ان ہی کی دیکھا دیکھی مسلمان بھی اپنی بیٹیوں کو وراثت سے محروم کرتے ہیں حالانکہ وراثت کی ادائیگی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور قرآن نے انہیں حدود اللہ کہا ہے اور اس کے ادا کرنے پر فوز عظیم کی خوشخبری سنائی ہے اور وراثت سے محروم کرنے پر ہمیشہ جہنم میں رہنے کی وعید فرمائی ہے۔

    چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:


    اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ وراثت کو ادا کرنا اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ہے اور جو لوگ اس کی ادائیگی نہیں کرتے وہ اللہ کی قائم کردہ حدود سے تجاوز کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے ابدی جہنم کی وعید ہے اور جہیز در حقیقت وراثت کی نفی ہے۔

    ۴) ان وجوہات کے علاوہ جہیز کے نقصانات اس قدر ہیں کہ عام طور پر غریب لوگوں کی بیٹیوں کا نکاح جہیز کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے منعقد ہی نہیں ہوتا اور نوجوان لڑکیاں اسی طرح گھر میں بیٹھ کر اپنی عمر برباد کر دیتی ہیں اور کئی لڑکیاں نکاح نہ ہونے کے باعث مختلف جرائم کا شکار ہو جاتی ہیں جس کے معاشرے پربہت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں خلاف شرع کاموں سے محفوظ فرمائے اور جہیز جیسی لعنت سے بچنے کی توفیق بخشے۔

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں