1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

حرم مکی کو 45 منٹ میں کیسے صاف کیا جاتا ہے؟

'عمرہ اور حج' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏فروری 14، 2017۔

  1. ‏فروری 14، 2017 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,644
    موصول شکریہ جات:
    6,456
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,055

    حرم مکی کو 45 منٹ میں کیسے صاف کیا جاتا ہے؟

    fe977ea8-917d-48e0-a4d7-9484109a996e_16x9_600x338.jpg

    ابھا ۔۔۔ مریم الجابر

    مسجد حرام اور خانہ کعبہ کی صفائی ستھرائی اور حجاج ومعتمرین کی شبابہ روز خدمت میں 1245 ملازمین مصروف عمل رہتے ہیں۔ حج کے موسم میں حرم مکی صفائی اور دیگر لوازمات کے لیے 470 ملازمین کا اضافہ کردیا جاتا ہے جس کے بعد کل 1715 بن جاتے ہیں۔ ان میں 210 خواتین ملازمائیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ ماہ صیام میں عمرہ سیزن کے دوران 131 اضافی خواتین کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں جو مسجد حرام کی طہارت ونظافت میں کام کرتی ہیں۔

    حرم شریف کی نظافت کے لیے کیا استعمال ہوتا ہے؟

    مسجد حرام کی صفائی اور طہارت کے لیے 200 گیلن عرق گلاب استعمال ہوتا ہے۔صفائی کے روایتی طریقوں سے ہٹ کر جدید آلات اور مشینوں سے بھی مدد لی جاتی ہے۔ ان میں عراق گلاب بھر کر مسجد کے فرش، راہ داریوں اور گیلریوں میں چھڑکا جاتا ہے۔ خادمین بیت اللہ حرم مکی کے فرش کی دھلائی کے ساتھ الشاذروان، غلاف کعبہ، حجر اسود اور دیگر اہم مقامات پر روزانہ پانچ بار خوشبو کا چھڑکاؤ کرتے ہیں۔ یہ چھڑکاؤ پانچوں نمازوں کےساتھ کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر ہرجگہ کے لیے الگ الگ یونیفارم میں ملوث رضا کار کام کرتے ہیں۔ الگ الگ ٹولیوں کی شکل میں کام کرنے والے رضاکاروں میں سے کچھ غلاف کعبہ، کچھ شاذوران، بعض دیوار کعبہ اور حجر اسود کی صفائی کے ساتھ وہاں پرعطریات چھڑکتے ہیں۔

    غسل کعبہ شریف :

    خانہ کعبہ کے غسل کا عمل متعدد مراحل پر مبنی ہوتا ہے۔ غسل کعبہ سے ایک روز پہلے تک صفائی کے سامان کی تیاری کی جاتی ہے۔ خانہ کے غسل کے لیے زمزم،طائف کے گلاب کا عراق اور گراں قیمت عود کی خوشبو کو باہم ملایا جاتا ہے۔ دیوار کعبہ کو پونچھنے اور اسے خشک کرنے کے لیے تولیے تیار کیے جاتے ہیں۔ جب کعبہ کے وسط سے زائرین نکل جاتے ہین تب سے اس کے سنگ مرمرکو دھونے کا عمل شروع ہوتا ہے۔

    دیوار کعبہ کی صفائی کے لیے 45 لیٹر زمزم، 50 تولہ طائفی عرق گلاب، کمبوڈیا کے عود کی خوشبو، اور روئی استعمال کی جاتی ہے۔ روئی کے سوا باقی تمام اشیاء کو باہم ملایا جاتا ہے۔ دیوار کعبہ کا مرحلہ ایک سےڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہتا ہے۔ اس دوران مکہ مکرمہ کے گورنر طواف کی سعادت بھی حاصل کرتے ہیں۔ یوں غسل کعبہ کے لیے اس مقام کے تقدس کے پیش نظر زمزم، گلاب کا پانی، عنبر اور عود سمیت کئی اقسام کے عطریات، برتن، تولیے، بخارات نکالنے والے ایگزاسٹ اور کئی دیگر چیزیں استعمال کی جاتی ہیں۔

    پانی کا ذخیرہ اور اس کی کھپت :

    مسجد حرام کی نظافت کے حوالے سے جاری کردہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مسجد کی صفائی کے لیے صرف 45 منٹ کافی ہیں۔ پونے گھنٹے میں باریکی کے ساتھ مسجد کی صفائی کا کام مکمل کرلیا جاتا ہے۔ فی الوقت مسجد کی کل 550 مربع میٹر جگہ کی صفائی کی جاتی ہے۔ مطاف کی صفائی بھی پیشہ وارانہ انداز میں کی جاتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ افراد کی مدد سے بیس منٹ میں مطاف کو صاف کرلیا جاتا ہے۔

    مسجد حرام کی صفائی کے مدارالمہام ذمہ داران کا کہنا ہے کہ مسجد کی صفائی کے لیے پانی کا ذخیرہ کرنے کا اندازہ روزانہ کی بنیاد پر لگایا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق مطاف کی صفائی کے لیے 400 لیٹر پانی کافی ہے جو کہ پانچ ہزار مربع میٹر کی جگہ کے لیے کافی ہے۔ یوں 12.5 میٹر جگہ کے لیے ایک لیٹر پانی کافی ہوتا ہے۔

    ماحول دوست :

    حرمین شریفین کی صفائی کے لیے نقصان دہ مالیکیول پر مشتمل کیمیائی ڈیٹرجنٹس کے بجائے ماحول دوست مواد کا استعمال کیا جاتا ہے۔ صفائی کے عمل کے لیے انسان اور جگہ کے تحفظ کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ ایسی کوئی چیز استعمال میں نہیں لائی جاتی جو کسی بھی طور پرمقدس مقامات کے ماحول کے لیے ضرر رساں ثابت ہو۔

    ڈیٹرجنٹس سے تانبے کی پلیٹوں، کالینوں اور ٹوائلٹس کی صفائی کی جاتی ہے۔ مسجد حرام اور مسجد نبوی کی طہارت کے لیے پہلی بار نباتات، دودھ، کھجور اور اس قبیل کی دیگر اشیاء پر مشتمل مفید بیکٹیریا خارج کرنے والے مواد کا استعمال کیا جاتا ہے۔

    صفائی کے لیے استعمال ہونے والے اس مواد کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ گندگی کو اکھاڑنے، گردو غبار، دھوئیں، خوناور پیشاب سے پیدا ہونے والے مضرصحت بیکٹریاز کو تلف کرنے میں مدد دیتا ہے۔ چودہ دن کےبعد یہ منفی بیکٹیریا قدرتی مواد میں تبدیل ہو کر بدبو کو ختم کرنے میں مدد گار ہوتے ہیں۔
    ماحول دوست مواد کے استعمال سے رضاکاروں کے ہاتھ، آنکھیں اور جلد بھی متاثر نہیں ہوتی۔ روزانہ 150 قالینیں مکہ مکرمہ کے سب سے بڑے لانڈری سے صفا کی جاتی ہیں۔

    کئی ٹیمیں اور شفٹوں میں کام :

    مسجد حرام کی صفائی کا کام روزانہ چار شفٹوں میں کیا جاتا ہے۔ ہرشفٹ میں الگ الگ رضاکار اپنے مخصوص مقامات کی صفائی میں سرگرم رہتا ہے۔ ستونوں، دیواروں، چھت اور گنبدوں کے لیے الگ گروپ ہے۔ ایک گروپ برقی زینوں اور عام سیڑھیوں کی صفائی پرمامور ہوتا ہے۔ ایک ٹیم تانبے کی پلیٹوں کی صفائی کرتی ہے۔ ایک کی ذمہ داری مسجد کے بیرونی حصے میں بارش کے پانی کے لیے بنائی گئی نالیوں کی صفائی ہوتی ہے۔ بیرونی کھڑکیوں، کبوتروں کے بیٹھنے کی جگہ اور ٹوائلٹ کی صفائی الگ گروپ کے ذمہ ہوتی ہے۔

    مسجد حرام کے اندرونی حصے کی صفائی جگہ کے نقشوں کے مطابق مربع میٹروں میں تقسیم کی جاتی ہے۔ ضروری اور ہنگامی سروسز کی چوبیس گھنٹے کے اعتبار سے نظام الاوقات کا تعین، مرکزی اور اور فروعی مقامات میں مختلف کاموں کے لیے مزدوروں کا تقرر، ان کی روزانہ نگرانی اور صفائی پروگرام جیسے تمام کام بن لادن کمپنی کے ذمہ ہیں۔

    ہرشفٹ انچارج حرم کے اندرونی اور بیرونی مقامات پر سپر وائز مقرر کرتا ہے۔ مسجد حرام کی دیواروں، اطراف، پیدل چلنے کے راستوں، صفائی، سروسز، یومیہ کی رپورٹس کی تیاری اور مسجد حرام کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد سامنے آنے والے اہم واقعات کا ریکارڈ اور معلومات کی تدوین ان کی اہم ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔

    سپر وائزی اسٹاف کی ذمہ داریوں میں واشنگ مشینوں کی دیکھ بحال، فالتو سامان کو مسجد سے باہر نکالنے کے عمل، سامان کے لیے جگہ کے تعین، دیگر متعلقہ حکام سے مل کر مسجد حرام کی اندرونی صفائی کی نگرانی، صفائی کے سامان ، عطریات،کی حفاظت، جراثیم کش مرکبات اشیا کی حفاظت، جمعہ کے روز منبر کی تیاری اور اس کی تحفظ کو یقینی بنانے، مسجد کے اندر سے فالتو چیزوں کا اخراج، قالینیں بچھانے کی نگرانی، مسجد کے بیرونی حصے کی صفائی کی نگرانی، مقام ابراہیم، قرآن پاک کے لیے بنائی گئی الماریوں کی صفائی اور ان کی دیکھ بحال اور مسجد کے صحن میں ہنگامی وہیل چیئرز کو تیار رکھنے کا اہتمام شامل ہیں۔

    یاد رہے کہ مسجد حرام میں مختلف امور کی انجام دہی کے لیے 301 مختلف مشینیں اور آلات استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں واشنگ مشنیں، کرینیں، ویکیوم کلینرز، پانی خشک کرنے کی مشینیں، کاریں، صفائی کی ریڑھیاں اور سامان کی متنقلی کے لیے استعمال ہونے والے آلات شامل ہیں۔

    معتمرین کی متروکہ اشیاء کی منتقلی :

    حرم مکی کے منتظمین کا کہنا ہے کہ مسجد حرام میں آنے والے معتمرین کے زیراستعمال اشیاء کی باقیات کی منتقلی بھی ایک اہم ذمہ داری ہے اور یومیہ قریبا100 سے 300 ٹن تک متروکہ چیزیں مسجد سے باہر منتقل کی جاتی ہیں۔

    ًٰمزید تصاویردیکھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں