1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حسن اور ضعیف احادیث کی وضاحت؟

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از نسیم احمد, ‏جنوری 22، 2019۔

  1. ‏جنوری 22، 2019 #1
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    705
    موصول شکریہ جات:
    114
    تمغے کے پوائنٹ:
    79

    محترم
    @خضر حیات صاحب و
    محترم
    @اسحاق سلفی صاحب
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاۃ

    برائے مہربانی اس بات کی وضاحت فرمائیں۔ جب ہم کسی روایت کو ضعیف کہتے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمائی اور اس سے استدلال جائز نہیں ہے۔؟کافی علماء سے سنا ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کیا جاسکتا ہے ۔ تو اس کا کیا مطلب ہوا ؟ جس چیز کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک نہیں پہنچ رہی ہے وہ اعمال میں حجت کیسے ہوسکتی ہے۔
    اگر ایسا ہی ہے جیسا میں سمجھ رہا ہوں تو اس کو موضوع کیوں نہیں کہتے کیوں کہ جو بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی نہیں ہے اور کسی اور کی بات ہے تو وہ وضع کی گئی ہے ۔
    اسی طرح حسن روایت کے بارے میں ارشاد فرمائیں کہ یہ حدیث کا کونسا درجہ ہے ۔ میں اس معاملے میں بہت زیادہ تردد کا شکار ہوں۔
    کیا یہ بات صحیح ہے کہ حسن روایت کی اصطلاح صرف امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ نے اختیار کی ہے ؟
    میری سمجھ میں تو یہ بات آتی ہے کہ ہم جس کو حدیث رسول کہیں وہ صحیح ہونی چاہیے اس کے علاوہ ہم کسی بات کو حدیث رسول کا درجہ کیسے دے سکتے ہیں ۔
     
  2. ‏جنوری 22، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,311
    موصول شکریہ جات:
    2,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    محترم بھائی !
    آپ کا یہ سوال بہت بڑا اور بنیادی اہمیت کا حامل ہے
    اس کا جواب دو چار سطور میں ممکن نہیں ،کیونکہ یہ تفصیل طلب ہے
    اس لئے آپ کیلئے ایک کتاب پیش ہے جو اس سوال کے کئی گوشوں پر مشتمل ہے
    کتاب :
    ضعیف احادیث کی معرفت اور ان کی شرعی حیثیت
     
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں