1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حسن لغیرہ کی حجیت کی بحث و تحقیق

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالحسن علوی, ‏ستمبر 30، 2011۔

  1. ‏ستمبر 30، 2011 #1
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,484
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

    ایک وقت میں ہمارے اس فورم میں حسن لغیرہ کی حجیت کی ایک بحث شروع ہوئی تھی اور اس وقت راقم کی طرف سے یہ کہا گیا تھا کہ اس بارے محدث فورم کی انتظامیہ کی طرف سے ایک مضمون شائع کیا جائے گا جو اس لنک میں شائع کر دیا گیا ہے۔ اس مضمون کا ایک مختصر سا خلاصہ بھی ساتھ ہی پیش خدمت ہے:

    ابتدائیہ
    حدیث، روایت یا خبر کو ایک اعتبار سے تین اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
    ۱۔خبر صحیح یا حسن
    ۲۔ خبر ضعیف
    ۳۔ خبر موضوع
    صحیح یا حسن حدیث جمیع اہل علم کے نزدیک دینی مسائل میں قابل احتجاج اور حجت ہے جبکہ موضوع روایت بالاتفاق علماء کے نزدیک مردود ہے۔ خبر کی تیسری قسم ضعیف روایت کے ِمختلف احوال میں حجت ہونے یا نہ ہونے کے بارے اہل علم کے ہاں تفصیل ہے۔ ہماری اس تحریر کا موضوع یہ ہے کہ ایک ضعیف روایت یا خبر کتاب و سنت اور سلف صالحین کے فکر کی روشنی میں کن قرائن و شواہد یا حالات و کیفیات یا شروط و قیود کی روشنی میں صالح یا حسن یا قابل احتجاج قرار پاتی ہے۔

    آسان فہم الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک موضوع روایت کی مثال ایک مردہ شخص کی سی ہے کہ جس میں حیات کو امکان کے درجہ میں پانے کی بھی امید نہیں ہوتی ہے جبکہ ضعیف روایت کی مثال ایک بیمار شخص کی سی ہے کہ جس کے بعض احوال و کیفیات میں تندرستی اور صحت کے امکانات ہوتے ہیں۔ زیر نظر تحریر میں ان قرائن و شواہد کو موضوع بحث بنایا گیا ہے کہ جن کی روشنی میں ایک خبر کے بارے وہم، ظن غالب یا علم کے درجہ کو پہنچ جاتا ہے یعنی ضعیف روایت قابل احتجاج یا حسن درجہ کو پہنچ جاتی ہے۔ یہ مضمون سہ ماہی حکمت قرآن کے آئندہ شمارہ میں اشاعت کے لیے بھی دیا گیا ہے۔

    حرف آخر
    آخر میں ہم اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ مضمون ایک علمی مسئلہ میں اہل علم کی ایک غالب جماعت کی ترجمانی کے لیے تحریرکیا گیا اور اس سے مقصود کسی مناظرہ ومباحثہ کا آغاز کرنا نہیں ہے جیسا کہ ہمارے ہاں بعض رسائل میں اس موضوع سے متعلق ایک بحث 'حسن لغیرہ' کے ضمن میں فریقین کی جانب سے شدید نقد وتعاقب اور بعض اوقات تو طعن وطنز بھی دیکھنے میں آیا ہے۔ امکان ہے بعض اصحاب علم وفضل کو اس نقطہ نظر سے اختلاف بھی ہو اور ان کے پاس اپنے موقف کے اثبات کے دلائل بھی ہوں۔

    پس اس مسئلہ میں ضرورت اس امر کی ہے کہ جانبین ایک دوسرے کے موقف کے لیے تحمل اور برداشت کا رویہ پید اکریں اورممکن حد تک کسی مناظرانہ اور مباحثانہ فضا سے اجتناب کرتے ہوئے اپنے موقف اور اس کے دلائل کو مثبت انداز میں بیان کر دیا جائے، جس کے موقف اور استدلال میں جان ہو گی، وہ اہل علم اور خواص میں عام ہو جائے گا۔اور اپنا موقف واضح کر دینے کے بعد اتنا کہہ دینا کافی ہے:
    اللَّـهُ رَ‌بُّنَا وَرَ‌بُّكُمْ ۖ لَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ ۖ لَا حُجَّةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ ۖ اللَّـهُ يَجْمَعُ بَيْنَنَا ۖ وَإِلَيْهِ الْمَصِيرُ‌ ﴿١٥
    ٭٭٭٭٭
     
  2. ‏اکتوبر 01، 2011 #2
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    جزاک اللہ خیرا شیخ، نہایت ہی مفید مضمون ہے۔
    دونوں طرف سے دلائل دیکھنے کے بعد فیصلہ کرنا بہت ہی مشکل ہو گیا ہے، اس لیے میں نے اس مسئلے پر استخارہ کرنے کا ارادہ کیا ہے، اللہ سے دعا ہے کہ وہ مجھے صحیح فیصلے تک رہنمائی فرمائے۔ آمین!
     
  3. ‏اکتوبر 01، 2011 #3
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    اختلافی مسائل کا حل استخارہ سے نہیں بلکہ دلائل اور تعلیم وتعلّم سے ہوتا ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ سے وضوح حق اور اصابت رائے کی دُعا کرتے رہتا چاہئے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 01، 2011 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ضعیف روایت پر عمل کرنے کے حوالے سے جو شرائط بیان کی جاتی ہیں ، ان کے بارے سوال ہے کہ :
    اگر کوئی مجہول الحال ہو تو اس کی روایت معتبر سمجھی جائے گی ؟
    ثابت شدہ اصل سے کیا مراد ہے ؟ مثال مطلوب ہے .
    کسی حدیث کے صحیح ہونے میں یا تو ظن غالب ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو اس کی نسبت إلی الرسول کیوں نہیں ؟ اگر ظن غالب نہیں ہے تو پھر اس کو حجت جاننے کی کیا وجہ ہے ؟
    یہ چند باتیں ذہن میں خلش کا باعث تھیں . اگر کوئی بھائی رہنمائی فرمادے تو نوازش ہو گی .
     
  5. ‏اکتوبر 01، 2011 #5
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    انس بھائی جب دلائل دیکھ کر بھی فیصلہ نا ہو سکے تو استخارہ میں کیا مضائقہ ہے؟
     
  6. ‏اکتوبر 02، 2011 #6
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    جزاک اللہ علوی بھائی ۔
    میں بھی چاہ رہاتھاکہ اس موضوع پرایک تحریر لکھوں جس میں اس خیال کی اصلاح کی جائے کہ ضعیف حدیث موضوع حدیث کی طرح ہیں۔آپ کی تحریر ماشاء اللہ بڑی عام فہم ہے۔ جس سے اس مسئلہ کو ہرایک سمجھ سکے گا۔
     
  7. ‏اکتوبر 03، 2011 #7
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    محترم بھائی!
    استخارہ دو ایسے امور ومعاملات میں ہوتا ہے، جو دونوں مباح یا مستحسن ہوں لیکن فیصلہ نہ ہو رہا ہو کہ کیا کیا جائے تو اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کی جاتی ہے، جبکہ اختلافی مسائل میں اکثر حلت وحرمت، سنت وبدعت اور جواز وعدمِ جواز کا معاملہ ہوتا ہے، ان کا فیصلہ صرف اور صرف دلائل سے ہو سکتا ہے، مثلاً مطلّقہ عورت کی عدت حیض ہے یا طہر؟ یا نمازِ استسقاء سنت ہے یا بدعت؟ اس کا فیصلہ استخارہ سے نہیں بلکہ کتاب وسنت کے دلائل کی بناء پر ہی کیا جائے گا، فرمانِ باری تعالیٰ ہے: ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ‌ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُ‌دُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّ‌سُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ‌ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ‌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا ﴾ ... سورة النساء: 59
    کہ ’’اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے لوٹاؤ، اللہ تعالیٰ کی طرف اور رسول کی طرف، اگر تمہیں اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے۔ یہ بہت بہتر ہے اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔‘‘
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں