1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حصول علم کے مقاصد قرآن کی روشنی میں ((ظفر اقبال ظفر))

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از ظفر اقبال, ‏جون 29، 2018۔

  1. ‏جون 29، 2018 #1
    ظفر اقبال

    ظفر اقبال رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 22، 2015
    پیغامات:
    238
    موصول شکریہ جات:
    18
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    حصول علم کے مقاصد قرآن کی روشنی میں
    علم کے حصول کاپہلا مقصد
    حصول علم کی ابتداء اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ کرنی چاہیے۔

    جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد پہلی وحی سے معلوم ہوتا ہے۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے -

    اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ(سورۃ العلق:1)
    ترجمہ: پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔
    اس سے معلوم ہوا کہ تعلیم وعلم کی ابتداء اللہ کے نام (بسم اللہ الرحمن الرحیم)سے شروع کرنی چاہیے جس سے اللہ کی نصرت اور مدد کے ساتھ ساتھ علم میں اضافہ اور برکت بھی ہو گئی۔
    اس میں ’
    ’ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ‘‘ سب سے پہلےجو سبق دیا گیا ہے وہ ہے اللہ کے نام کے ساتھ ہمیشہ ہر چیز حتیٰ کہ علم حاصل کرتے وقت سب سے پہلے اللہ کا نام لینا ہے پھر حصول علم کا آغاز کرنا ہے ۔
    حصول علم کا دوسرا مقصد
    معرفت الہی کا حصول

    ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
    اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ(سورۃ العلق:1))
    ’’ الذی خلق ‘‘دوسر ی بات جو پہلی وحی میں بیان کی گئی ہے وہ ہے انسان کی پیدائش کے حقیقی خالق برحق کی کہ اس ذات کے نام سے پڑھ جس نے انسان کو پیدا کیا۔
    سب سے پہلے جس بات کا علم دیا گیا ہے وہ ہےکہ تعلیم و تعلیم کا آغاز اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ ہونا چاہیے۔اس کے بعد حصول علم کا دوسری بات جس کی طرف مذکورہ آیت میں اشارہ کیا گیا ہےوہ ہے’’معرفت الہی کا حصول ‘‘کہ انسان کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے وہ یہ جانے کہ اس دنیا اور اس میں بسنے والے انسان کو پیدا کس ذات نے کیا ہے ۔
    اس سے پتا چلا کہ حصول علم کا دوسرا بڑامقصد اللہ کی ذات کی پہچان حاصل کرنا ہے ناکہ دولت ‘ شہرت اور منصب کا حصول یعنی کہ دنیا کے حصول کے لیے تعلیم کو حاصل کرنا سوائے گمراہی کے اورکچھ نہیں ۔ وہ علم بے فائدہ اور بے مقصد ہے جس کے حصول کا بنیادی مقصد ہی دنیا کمانا ہو ۔

    علم کے حصول کا تیسرامقصد
    انسان کا حقیقی خالق کون ہےاورانسانی زندگی کی ابتداء کس طرح سے ہوئے۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
    خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ(سورۃ العلق:2)
    ترجمہ:جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔
    اس آیت میں اللہ تعالیٰ انسانی تخلیق کے مراحل کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ میں وہ رب ہو ں جس نے انسان کو ایک خون کے لوتھڑے سے پیدا فرما یا۔یہ رحم مادر میں نر اور مادہ کے ملاپ کے بعد زائگوٹ کی جانب اشارہ ہے جو ایک خون کے لوتھڑے یا جمے ہوئے خون کی مانند ہی ہوتا ہے۔وہ علم بے فائدہ ہے جو انسان کو خود انسان کی حقیقت سے بے خبر رکھے اور اس کے حقیقی خالق کی پہچان سے نا بلد رکھے ۔بلکہ علم وہ ہی انسان کے لیے فائدہ مند ہے جو علم انسان کے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی کا ضامن ہو ۔

    علم کے حصول کا چوتھامقصد
    استاد کو بہت ہی شفیق‘نرم دل ہونا چاہیے۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
    اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ(سورۃ العلق:3)
    ترجمہ: تو پڑھتا ره تیرا رب بڑے کرم وا ہے۔
    اس آیت میں اللہ تعالیٰ آپ ﷺکی حوصلہ افزائی کر رہا ہے کہ پریشانی کی کوئی بات نہیں تیرا رب بڑے کرم اور شفقت والا ہے ۔
    فرشتہ آپ ﷺ سے مخاطب ہے تو وہ دوبارہ ہدایت کرتا ہے کہ اس مقام حیرت اور ان سوالات کو فی الحال پس پشت ڈالیے اور پھر پڑھیے۔اور گھبرائیے نہیں ، یہ کلام جس ہستی کی جانب سے آرہا ہے وہ کوئی جابر، قاہر ،ظالم اور متشدد قسم کی ہستی نہیں ۔ بلکہ وہ تو انہتائی کریم ، شفیق ، مہربان اور خیال رکھنے والی ذات ہے۔
    اس بات سے پتہ چلا کہ کوئی استاد کسی طالب علم کو کند ذہن یا کمزور سمجھ کر طعن و تشنیع اور بلا وجہ مارپیٹ سے کام نہ لے بلکہ اس پر بچے کی حوصلہ افزائی کرے۔ اس پر محنت اور خصوصی توجہ دے وقتاً فوقتاً اس کواپنے مقصد حیات کے ساتھ ساتھ اس بات سے بھی آگاہ کرے کہ بیٹا محنت کر لو کچھ نہ کچھ حاصل کر لوتاکہ آنے والے وقت میں کسی پریشانی سے بچ سکو۔مطلب طالب علم کو احساس دلایا جائے اور آنے والے وقت میں کسی بڑے مقصد سے آگاہ کیا جائے اس مقصد کے حصول کے لیے محنت کرنے پرابھارے۔
    استاد طالب علم کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بیٹھا دے کہ بیٹا استاد کسی صورت ظالم و جابر نہیں ہوتا بلکہ وہ تو بچے کا خیرخوا ہوتا ہے ۔
    علم کے حصول کا پانچواں مقصد:
    ’’تعلیم بالقلم ‘‘یعنی قلم کے ذریعےعلم کو محفوظ کر لینا چاہیے ۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
    الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ(سورۃ العلق:4)
    ترجمہ: جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا۔
    اس آیت کا ترجمہ بھی کچھ اس طرح ہے’’جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا‘‘ صرف یہی نہیں بلکہ ایک اور آیت میں خداوند کریم نے قلم کی اہمیت کو یوں اجاگر کیا۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ لکھتے ہیں۔ قرآن کریم جب نازل ہوا تو اس کو قلم کے ذریعے لکھ کر ہی محفوظ کیا گیا۔ قلم ہی کا کمال تھا کہ چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود قرآن مجید آج بھی اسی حالت میں موجود ہے جس حالت میں یہ نازل ہوا تھا۔ حضور نبی کریمﷺ نے اشاعت اسلام کے سلسلہ میں بڑے بڑے بادشاہوں کو قلم کے استعمال سے ہی اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ تاریخ شاہد ہے کہ قلم نے ہی قلم کار پیدا کیے جو قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں، قلم کار ہی کی بدولت تاریخ زندہ ہے۔ معاشرے میں توازن برقرار رکھنے کے لیے اٹھا ہوا قلم قوموں کی تقدیر بدلنے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ قلم کو جہاد کے ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایک استاد‘قاضی‘اور نیک نیت کلم کار ہی قلم کےصحیح استعمال سے معاشرے کو صحیح خطوط پر استوار کرنے میں ممدومعاون ثابت ہو سکتا ہے، معاشرے کی تربیت کر سکتا ہے۔

    علم کے حصول کا چھٹا مقصد:
    علم نافع کےحصول کی کوشش کرنا۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

    عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ(سورۃ العلق:5)
    ترجمہ: جس نے انسان کو وه سکھایا جسے وه نہیں جانتا تھا۔
    اس آیت میں یہ بتادیا کہ انسان کو جو کچھ بھی علم ملا ہے وہ خدا کی جانب سے ملا ہے۔انسان کو اللہ تعالی نے جو علم دیا ہے وہ اس کی فطرت و جبلت اور وجدان کے ساتھ ساتھ وحی کے ذریعے بھی دیا ہے۔ اسی طرح انسان اپنے تجربات سے بھی بہت کچھ سیکھتا اور اپنا علم اگلی نسل کو منتقل کرتا ہے۔ اگر ہم دنیا کے علم کو دیکھیں تو کھیتی باڑی کرنا، کھانا پکانا، شکار کرنا، جنسی تعلق قائم کرنا، رہائش تعمیر کرنا ، لباس پہننا ، اسلحہ بناناوغیرہ وہ علوم ہیں جو انسان کو جبلت ، فطرت ، وجدان اور وحی کے ذریعے ملے ہیں۔
    علم جاننے کا نام ہے۔ پہچان ، فنون ، معلمومات کو علم نہیں کہا جاتا ۔ علم کی بنیادی طور پر دو اقسام ہیں ۔ نافع اور غیر نافع ۔ دین اسلام وہ واحد دین ہے جس نے علم کی مکمل بنیاد رکھی، علم کی حیثیت و حقیقت ، معلم کی فضیلت اور ذمہ داریاں ، طالب علم کی اہمیت و مقام، علم سیکھنے کے آداب، نظام تعلیم کے خدوخال، نصاب تعلیم کے ضروری امور کو پیش کیا ۔ مدون کیا ، اور اسکے عملی تقاضوں کی طرف رہنمائی کی ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلم بناکر مبعوث کیا گیا۔ آپ جو علم لیکر آئے وہی علم نافع ہے ۔ اسی علم نافع کی وجہ سے انسان شرک و بدعت ، گمراہی وضلالت ، پستی و ذلت اور شیطانی مکر و فریب سے بچ سکتا ہے اور دنیا میں امن، سکون، اللہ کا تقرب اور رحمت کا مستحق بن سکتا ہے ، بلکہ اس سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ انسان جو بھی عمل کریگا اسے یہ یقین ہوگا کہ وہ اللہ کی رضا اور حکم پر عمل پیرا ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے عین مطابق عمل کر رہا ہے ۔ اور اس سے آپس کے اختلافات ختم ہو جائیں گے ، اور اتحاد و اتفاق پیدا ہوجائے گا ، گمراہ فرقوں کی شناخت و پہچان اور ان سے بچاؤ ممکن ہوجائے گا۔ دنیا میں امن و محبت قائم ہوگا ۔ آخرت میں اللہ کی رضا اور اسکی نعمتوں کی رسائی ، اور جنت مین داخلہ ہوسکے گا۔

    علم کے حصول کا ساتواںمقصد:
    علم حاصل کرنے کے بعد اگلا کام لوگوں تک علم منتقل کرنا ہے۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
    هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ(سورة التوبة :33)

    ترجمہ: اسی نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا ہے کہ اسے اور تمام مذہبوں پر غالب کر دے اگر چہ مشرک برا مان ہیں۔
    یعنی جو کچھ حاصل کیا اس کو لوگوں تک من و عن پہنچانا تا کہ ان پرحجت قائم ہو جائے اور نبی اکرمﷺ کی بعثت کا مقصد بھی یہی تھا۔
    اس سے معلوم ہوا کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اگلا کام لوگوں تک علم منتقل کرنا ہے ۔علم حاصل کرنے کے بعد فارغ نہیں بیٹھ رہنا بلکہ لوگوں کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے کام کرنا ہے اس سے حصول علم کا مقصد بھی پورا ہو گا اور علم میں اضافہ بھی ہو گا۔کیونکہ علم عمل کے بغیر اور دہرانے کے بغیر دیمک زدہ ہو جاتا ہے جو کہ علم کی تباہی و بربادی ہے ۔جیسا کہ مندرجہ ذیل آیت میں اللہ تعالیٰ نبی اکرم ﷺکوعلم کی دولت مل جانے کے بعد جو ذمہ داری لگا رہے ہیں وہ ہے باہم علم لوگوں تک پہنچانا۔

    ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ» کے نازل ہونے کے بعد سے میرا خیال تو آج تک یہی رہا کہ یہ پوری بات ہے“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں پوری ہو گئی اور مکمل ہی رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو پھر اللہ ٰ رب العالمین ایک پاک ہوا بھیجیں گے جو ہر اس شخص کو بھی فوت کرلے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو۔ پھر وہی لوگ باقی رہ جائیں گے جن میں کوئی خیر و خوبی نہ ہو گی۔ پس وہ اپنے باپ دادوں کے دین کی طرف پھر سے لوٹ جائیں گئے“۔ (صحیح مسلم:2907)
    تعلیم کے حصول کا آٹھواں مقصد
    ایک استاد کو دانشمندی ‘حکمت اور اچھے انداز کے ساتھ لوگوں تک علم پہنچانا چاہیے۔

    ارشاد یاری تعالیٰ ہے۔
    ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ(سورة النحل:125)

    ترجمہ:اپنے رب کی راه کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلا
    یئے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے،یقیناً آپ کا رب اپنی راه سے بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور وه راه یافتہ لوگوں سے بھی پورا واقف ہے۔
    حکمت سے مراد بقول امام ابن جریر رحمہ اللہ ”کلام اللہ اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے، اور اچھے وعظ سے مراد جس میں ڈر اور دھمکی بھی ہو کہ لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں، اور اللہ کے عذابوں سے بچاؤ طلب کریں“۔ ہاں یہ بھی خیال رہے کہ اگر کسی سے مناظرے کی ضرورت پڑ جائے تو وہ نرمی اور خوش لفظی سے ہو۔
    منصب ِاستادکی عظمت اوراہمیت جس قدر بلند ہے ،اسی قد ر اس منصب پر فائز ہونے والے شخص کے کندھوں پر بھاری ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔جس طرح ایک استاد اور معلم کے لیےحضور ﷺ کی ذات گرامی آئیڈیل ہے۔
    اسی طرح ہر شاگر د کے لیے اپنا استاد آئیڈیل ہوتا ہے
    ۔اور جو شخصیت جس قدر مثالی یاآئیڈیل ہوگی اس پر ذمہ داریاں بھی اتنی ہی سخت عائدہوں گی۔
    (تفسیر ابن کثیر‘تفسیر سورۃ النحل‘ آیت نمبر:125)
    استاد کو مندرجہ ذیل صفات کا حامل ہونا چاہیے۔
    ٭ جوچیز طلبہ کے لیے مفید ہو اس کو فوراً بتادے۔
    ٭
    استاد کو شفیق مہربان اور نرم دل ہوناچاہیے۔
    ٭ استاد کو عاجزی اور تواضع والے اسلحے سے لیس ہونا چاہیے۔
    ٭ استاد کے اندر وسعت ِقلبی اور کشادہ دلی کا مادہ ہونا چاہیے۔
    ٭ استاد کو نرم دل ہوناچا
    ہیے ۔
    ٭ اگر کسی بات کا علم نہ ہوتو محض اندازے سےبیان نہ کرے ،بلکہ یا تو معذرت کرلےیا آئندہ بتانے کا وعدہ کرلے۔
    ٭
    استاد کو ہر عیب دارچیزسے بچنا چاہیے۔
    ٭ استاد کو خلوص نیت
    ،ایمانداری، نیک نیتی سے اپنے فرض منصبی نبھانا چاہیے۔
    علم کے حصول کا نواں مقصد:
    غیر مسلم اوراللہ کے نافرمان کو بھی نرمی ‘حکمت اور اچھے انداز کے ساتھ دعوت دینی چاہیے۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    «فَقُولَا لَهُ قَوْلًا لَيِّنًا لَعَلَّهُ يَتَذَكَّرُ أَوْ يَخْشَى» (-طه:44)
    ” اسے نرم بات کہنا تاکہ عبرت حاصل کرے اور ہوشیار ہو جائے‘‘
    عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں نرم بات کہنے سے مراد اللہ کی وحدانیت
    کی طرف دعوت دینا ہے کہ وہ «لَا إِلَه إِلَّا اللَّه» کا قائل ہو جائے۔ حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں، اس سے کہنا کہ تیرا رب ہے، تجھے مر کر اللہ کے وعدے پر پہنچنا ہے جہاں جنت دوزخ دونوں ہیں۔ سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اسے میرے دروازے پر لا کھڑا کرو۔ الغرض تم اس سے نرمی اور آرام سے گفتگو کرنا تاکہ اس کے دل میں تمہاری باتیں بیٹھ جائیں۔(تفسیر ابن کثیر‘تفسیر سورۃ طہ‘ آیت نمبر:44)
    علم کے حصول دسواں مقصد:
    علم کی نعمت پر اللہ کو یاد کرنا اور اللہ کاشکر ادا کرنا۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
    اُذْكُرْ نِعْمَتِي عَلَيْكَ وَعَلَى وَالِدَتِكَ إِذْ أَيَّدْتُكَ بِرُوحِ الْقُدُسِ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلًا وَإِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ(سورۃ المائدہ:110)
    ترجمہ: جب کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا
    کہ اے عیسیٰ بن مریم! میرا انعام یاد کرو جو تم پر اور تمہاری والده پر ہوا ہے، جب میں نے تم کو روح القدس سے تائید دی۔ تم لوگوں سے کلام کرتے تھے گود میں بھی اور بڑی عمر میں بھی اور جب کہ میں نے تم کو کتاب اور حکمت کی باتیں اور تورات اور انجیل کی تعلیم دی۔
    مراد کلام کرنے سے اللہ کی طرف بلانا ہے ورنہ بڑی عمر میں کلام کرنا کوئی خاص بات یا تعجب کی چیز نہیں۔ لکھنا اور سمجھنا آپ کو سکھایا۔
    تورات جو کلیم اللہ علیہ السلام پر اتری تھی اور انجیل جو آپ پر نازل ہوئی دونوں کا علم آپ کو سکھایا۔آپ علیہ السلام مٹی سے پرندوں کی صورت بناتے پھر اس میں دم کر دیتے تو وہ اللہ کے حکم سے چڑیا بن کر اڑ جاتا، اندھوں اور کوڑھیوں کے بھلا چنگا کرنے کی پوری تفسیر سورۃ آل عمران میں گزر چکی ہے، مردوں کو آپ علیہ السلام بلاتے تو وہ بحکم الٰہی زندہ ہو کر اپنی قبروں سے اٹھ کر آ جاتے۔اللہ کی طرف سے اس نعمت پراللہ کا شکر ادا کیجیے۔
    (تفسیر ابن کثیر‘تفسیر سورۃ المائدہ‘ آیت نمبر:110)
    علم کے حصول کا گیارواں مقصد:
    علم میں اضافے کےلیے دور دراز کا سفر کرنا۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
    فَوَجَدَا عَبْدًا مِنْ عِبَادِنَا آتَيْنَاهُ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنَا وَعَلَّمْنَاهُ مِنْ لَدُنَّا عِلْمًا(سورۃ الکہف:65)
    ترجمہ:
    پس ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا، جسے ہم نے اپنے پاس کی خاص رحمت عطا فرما رکھی تھی اور اسے اپنے پاس سے خاص علم سکھا رکھا تھا۔
    اس آیت میں جس واقع کی طرف اشارہ ہے وہ سیدنا
    خضر علیہ السلام اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا واقع ہے ۔ موسیٰ علیہ السلام کا علم کے حصول کے لیے دور درازکا سفر کر کے اللہ کے حکم کے مطابق خضر علیہ السلام کی طرف سفرحصول علم کا آغاز کرنا ہے۔اس واقع سے یہ بھی معلوم ہوا کہ استاد آنے والے شاگرد کو پورا وقت دے اور شاگرد خاموشی کے ساتھ علم حاصل کرتا جائے ۔جہاں ضروری خیال کرے علم کی وضاحت کی غرض سے سوالات و جوبات کا اہتمام بھی کیا جا سکتا ہے مگر یہ استاد کی اجازت سے ہو گا ۔تاکہ استاد کے تعلیم دیتے وقت کسی قسم کا حرج نہ ہو ۔
    علم کے حصول کا باہرواں مقصد:
    علم کے حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے علم میں اضافے کی دعا کرنا۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
    وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا(طہ:114)
    ترجمہ:
    اور آپ کہہ دیں: میرے پروردگار! مجھے مزید علم عطا فرما۔
    علم کے حصول کا تہرواں مقصد:
    مجلس کے آداب کا خیال رکھنا اور اہل علم کی عزت و توقیر کرنا۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
    يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ(سورۃ المجادلۃ:11)
    ترجمہ:
    اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان ئے ہیں اور جو علم دیئے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا، اور اللہ تعالیٰ ’’ہر اس کام سے‘‘جو تم کر رہے ہو ’’خوب‘‘ خبردار ہے۔
    یہاں ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ مجلس کے آداب سکھاتا ہے۔ انہیں حکم
    دیتا ہے کہ نشست و برخاست میں بھی ایک دوسرے کا خیال و لحاظ رکھو۔ تو فرماتا ہے کہ جب مجلس جمع ہو اور کوئی آئے تو ذرا ادھر ادھر ہٹ ہٹا کر اسے بھی جگہ دو۔ مجلس میں کشادگی کرو۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہیں کشادگی دے گا۔ اس لیے کہ ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے۔
    ایک صحیح حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے کہ تین شخص آئے ایک تو مجلس کے درمیان جگہ خالی دیکھ کر وہاں آ کر بیٹھ گئے دوسر
    نے مجلس کے آخر میں جگہ بنا لی تیسرے واپس چلے گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں تمہیں تین شخصوں کی بابت خبر دوں، ایک نے تو اللہ کی طرف جگہ لی اور اللہ تعالیٰ نے اسے جگہ دی، دوسرے نے شرم کی۔ اللہ نے بھی اس سے حیاء کی، تیسرے نے منہ پھیر لیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔“(صحیح بخاری:66)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں