• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حضرت ابن مسعود سے رفع الیدین کی حدیث بسند صحیح

شمولیت
مارچ 04، 2019
پیغامات
156
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
29
مذکورہ روایت میں محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی کے حافظہ کی خرابی کا اثر کس طرح واقع ہوسکتا ہے؟
اس کی وضاحت دلیل سے کیجئے گا اور تقلیدی بیان سے پرہیز کیجئے گا۔



ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کہیں تو حجت نہیں اور امام ذہبی کہیں تو حجت!!!؟؟؟
یہ کیا ڈرامہ بازی ہے؟
اندھی تقلید چھوڑو اور عقل استعمال کرو۔




جب کوئی مدلس راوی عنعنہ سے ایسے راوی سے روایت کرے جس سے اس کا سماع ثابت نا ہو تو کیا سمجھا جائے گا؟
اس نے جھوٹ بولا؟؟؟
اگر ایسا ہے تو کیا سماع کی صراحت کسی جھوٹے کی بات کو صحیح قرار دلوا دے گی؟؟؟
اندھی تقلید عجیب گل کھلاتی ہے اور منکر حدیث بناتی ہے۔



جناب کے لئے امتیوں کے اقوال حجت اور دوسروں کو امتیوں کے اقوال کی طعن تشنیع!!!؟؟؟
یہ عجیب تقسیم ہے جناب کی۔
اگر سند صحیح ہونے کے باوجود حدیث صحیح نہیں تو کسی حدیث کے صحیح ہونے کے لئے پھر کونسا کلیہ استعمال کیا جائے گا؟
یعنی جس کو ماننے کو دل چاہے وہی صحیح دیگر ناقابل قبول :)



انہوں نے اس پر کوئی دلیل دی؟؟؟
بلا دلیل کسی کی بات ماننا ـــ تمہارے نزدیک تقلید ہے ـــ جسے تم لوگ شرک کہتے ہو۔


یہ اتفاق کس نے کیا اور کہاں ہؤا؟
تیسری رکعت کو اٹھتے وقت کی رفع الیدین نا کرنے پر چاروں اہلسنت کے اتفاق کو تسلیم کرتے ہو؟
محدثین تو کہتے ہیں کہ فلاں حدیث روایتاً ضعیف مگر متن صحیح اور تم ہو کہ راوی کی تدلیس کے سبب اسے جھوٹا ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہو۔
افسوس کی بات ہے۔
باقی اتنی بونگیاں ہیں آپ کی اس تحریر میں کہ شاید آپ کو خود بھی سمجھ نا آئے

Sent from my SM-J510F using Tapatalk
 
شمولیت
جولائی 22، 2018
پیغامات
637
ری ایکشن اسکور
12
پوائنٹ
62
کس کی مانی جائے؟؟؟


مسند أحمد : (رجاله ثقات رجال الشيخين غير عاصم بن كليب، فمن رجال مسلم)
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " فَصَلَّى، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً "

سنن الترمذي:[حكم الألباني : صحيح]
دَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَصَلَّى، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ» . وَفِي البَابِ عَنْ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ. حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَبِهِ يَقُولُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالتَّابِعِينَ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الكُوفَةِ

سنن أبي داود: [حكم الألباني : صحيح]
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ يَعْنِي ابْنَ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً "، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا حَدِيثٌ مُخْتَصَرٌ مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَلَيْسَ هُوَ بِصَحِيحٍ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ

 
شمولیت
جولائی 22، 2018
پیغامات
637
ری ایکشن اسکور
12
پوائنٹ
62
رہی بات تقلید کی تو آپ کو سمجھا دوں یہ تقلید نہیں تحقیق ہے۔
کیوں کہ حدیث میں اسماء الرجال میں انہیں محدثین کی باتیں حجت ہیں
تحقیق میں کسی کی بات (سوائے قرآن و حدیث کے) حجت کس دلیل سے؟
 
شمولیت
مارچ 04، 2019
پیغامات
156
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
29
تحقیق میں کسی کی بات (سوائے قرآن و حدیث کے) حجت کس دلیل سے؟
دین میں اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ کسی کی بات حجت نہیں

لیکن یہ اسماء الرجال اور اصول حدیث یہ شریعت و دین نہیں بلکہ دین تک پہنچنے کے ذرائع ہیں

اور ان میں ان کی بات بالاتفاق حجت ہے



Sent from my SM-J510F using Tapatalk
 
شمولیت
مارچ 04، 2019
پیغامات
156
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
29
کس کی مانی جائے؟؟؟


مسند أحمد : (رجاله ثقات رجال الشيخين غير عاصم بن كليب، فمن رجال مسلم)
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " فَصَلَّى، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً "

سنن الترمذي:[حكم الألباني : صحيح]
دَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَصَلَّى، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ» . وَفِي البَابِ عَنْ البَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ. حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَبِهِ يَقُولُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ العِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالتَّابِعِينَ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الكُوفَةِ

سنن أبي داود: [حكم الألباني : صحيح]
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ يَعْنِي ابْنَ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ: " أَلَا أُصَلِّي بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً "، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: هَذَا حَدِيثٌ مُخْتَصَرٌ مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ وَلَيْسَ هُوَ بِصَحِيحٍ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ

اس روایت کو امام بخاری امام احمد امام ابو داود امام ابن مبارک امام ابن حبان امام ابو حاتم وغیرھما نے ضعیف قرار دیا ہے



Sent from my SM-J510F using Tapatalk
 
شمولیت
جولائی 22، 2018
پیغامات
637
ری ایکشن اسکور
12
پوائنٹ
62
مسند أحمد : (رجاله ثقات رجال الشيخين غير عاصم بن كليب، فمن رجال مسلم)
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " فَصَلَّى، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً "
اس روایت کو امام بخاری امام احمد امام ابو داود امام ابن مبارک امام ابن حبان امام ابو حاتم وغیرھما نے ضعیف قرار دیا ہے
ان سب سے مذکورہ روایت کے ضعیف ہونے کا ثبوت؟؟؟
یاد رہے کسی اور روایت پر جرح کو اس روایت پر چسپاں کرنے کی دیرینہ مذموم کوشش مت کیجئے گا۔
 
شمولیت
مارچ 04، 2019
پیغامات
156
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
29
ان سب سے مذکورہ روایت کے ضعیف ہونے کا ثبوت؟؟؟
یاد رہے کسی اور روایت پر جرح کو اس روایت پر چسپاں کرنے کی دیرینہ مذموم کوشش مت کیجئے گا۔
جی جی اسی روایت کو کہا ہے

Sent from my SM-J510F using Tapatalk
 
شمولیت
مارچ 04، 2019
پیغامات
156
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
29
ان سب سے مذکورہ روایت کے ضعیف ہونے کا ثبوت؟؟؟
یاد رہے کسی اور روایت پر جرح کو اس روایت پر چسپاں کرنے کی دیرینہ مذموم کوشش مت کیجئے گا۔
اب آپ کو کیا پتا

آپ کو عام اصول نہیں پتا تو بات کرتے ہو
اسی لئے پہلے مطالعہ کر لیں
پھر مباحثہ کریں
یہ علم حدیث کوئی بچوں کا کھیل نہیں
جسے آپ کھیل سمجھ رہے ہیں

Sent from my SM-J510F using Tapatalk
 
شمولیت
جولائی 22، 2018
پیغامات
637
ری ایکشن اسکور
12
پوائنٹ
62
مسند أحمد : (رجاله ثقات رجال الشيخين غير عاصم بن كليب، فمن رجال مسلم)
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " فَصَلَّى، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً "
اس حدیث پر کیا اعتراض ہے؟
بحثیت محقق بدلائل لکھیئے گا تقلیداً نہیں۔
اس کے تمام روات ثقہ ہیں اور سوائے عاصم بن کلیب کے شیخین (بخاری و مسلم) کے راوی ہیں۔
عاصم بن کلیب صحیح مسلم کا راوی ہے۔
 
شمولیت
مارچ 04، 2019
پیغامات
156
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
29
مسند أحمد : (رجاله ثقات رجال الشيخين غير عاصم بن كليب، فمن رجال مسلم)
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " فَصَلَّى، فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً "
اس حدیث پر کیا اعتراض ہے؟
بحثیت محقق بدلائل لکھیئے گا تقلیداً نہیں۔
اس کے تمام روات ثقہ ہیں اور سوائے عاصم بن کلیب کے شیخین (بخاری و مسلم) کے راوی ہیں۔
عاصم بن کلیب صحیح مسلم کا راوی ہے۔
ہاں تو میں نے کب کہا ہے کہ اس کے راوی ضعیف ہیں۔

کمال کرتے ہو جناب

روایت صحیح یا ضعیف ہونا محض اس کے راوی کے ثقہ ہونے پر ہے کیا؟؟؟؟؟

یہ اصول کدھر پڑھ لئے آپ؟؟؟

Sent from my SM-J510F using Tapatalk
 
Top