1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ! کی دل کی بات کوئی نہ سمجھ سکا مگر --- !

'سیرت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اپریل 09، 2016۔

  1. ‏اپریل 09، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    12933127_967299873338282_5584302232702827231_n (1).jpg

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ! کی دل کی بات کوئی نہ سمجھ سکا مگر --- !

    أن أبا هريرة كان يقول : آلله الذي لا إله إلا هو ، إن كنت لأعتمد بكبدي على الأرض من الجوع ، وإن كنت لأشد الحجر على بطني من الجوع ، ولقد قعدت يوما على طريقهم الذي يخرجون منه ، فمر أبو بكر ، فسألته عن آية من كتاب الله ، ما سألته إلا ليشبعني ، فمر ولم يفعل ، ثم مر بي عمر ، فسألته عن آية من كتاب الله ، ما سألته إلا ليشبعني ، فمر ولم يفعل ، ثم مر بي أبو القاسم صلى الله عليه وسلم ، فتبسم حين رآني ، وعرف ما في نفسي وما في وجهي ، ثم قال : « يا أبا هر » . قلت : لبيك يا رسول الله ، قال : « الحق » . ومضى فاتبعته ، فدخل ، فاستأذنت ، فأذن لي ، فدخل ، فوجد لبنا في قدح ، فقال : « من أين هذا اللبن » . قالوا : أهداه لك فلان أو فلانة ، قال : « أبا هر » . قلت : لبيك يا رسول الله ، قال : « الحق إلى أهل الصفة فادعهم لي » . قال : وأهل الصفة أضياف الإسلام ، لا يأوون على أهل ولا مال ولا على أحد ، إذا أتته صدقة بعث بها إليهم ولم يتناول منها شيئا ، وإذا أتته هدية أرسل إليهم وأصاب منها وأشركهم فيها ، فساءني ذلك ، فقلت : وما هذا اللبن في أهل الصفة ، كنت أحق أنا أن أصيب من هذا اللبن شربة أتقوى بها ، فإذا جاء أمرني ، فكنت أنا أعطيهم ، وما عسى أن يبلغني من هذا اللبن ، ولم يكن من طاعة الله وطاعة رسوله صلى الله عليه وسلم بد ، فأتيتهم فدعوتهم فأقبلوا ، فاستأذنوا فأذن لهم ، وأخذوا مجالسهم من البيت ، قال : « يا أبا هر » . قلت : لبيك يا رسول الله ، قال : « خذ فأعطهم » . قال : فأخذت القدح ، فجعلت أعطيه الرجل فيشرب حتى يروى ، ثم يرد علي القدح ، فأعطيه الرجل فيشرب حتى يروى ، ثم يرد علي القدح فيشرب حتى يروى ، ثم يرد علي القدح ، حتى انتهيت إلى النبي صلى الله عليه وسلم وقد روي القوم كلهم ، فأخذ القدح فوضعه على يده ، فنظر إلي فتبسم ، فقال : « أبا هر » . قلت : لبيك يا رسول الله ، قال : « بقيت أنا وأنت » . قلت : صدقت يا رسول الله ، قال : « اقعد فاشرب » . فقعدت فشربت ، فقال : « اشرب » . فشربت ، فما زال يقول : « اشرب » . حتى قلت : لا والذي بعثك بالحق ، ما أجد له مسلكا ، قال : « فأرني » . فأعطيته القدح ، فحمد الله وسمى وشرب الفضلة . (صحيح البخاري: 6452)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کیا کہ اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میں (زمانہ نبوی میں) بھوک کے مارے زمین پر اپنے پیٹ کے بل لیٹ جاتا تھا اور کبھی میں بھوک کے مارے اپنے پیٹ پر پتھر باندھا کرتا تھا ۔ ایک دن میں اس راستے پر بیٹھ گیا جس سے صحابہ نکلتے تھے ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گزرے اور میں نے ان سے کتاب اللہ (قرآن) کی ایک آیت کے بارے میں پوچھا ، میرے پوچھنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ (میرا مطلب سمجھ کر) مجھے کچھ کھلا دیں مگر وہ (بتا کر) چلے گئے اور کچھ نہیں کیا ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے ، میں نے ان سے بھی قرآن مجید کی ایک آیت پوچھی اور پوچھنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ (وہ میرا مطلب سمجھ کر) مجھے کچھ کھلا دیں مگر وہ بھی (بتا کر) گزر گئے اور کچھ نہیں کیا ۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مجھے دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دئیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے دل کی بات سمجھ گئے اور میرے چہرے کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ لیا ۔ پھر آپ نے فرمایا اباہر ! میں نے عرض کیا لبیک ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا میرے ساتھ آ جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلنے لگے ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل دیا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اندر گھر میں تشریف لے گئے ۔ پھر میں نے اجازت چاہی اور مجھے اجازت ملی ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے تو ایک پیالے دودھ ملا ۔ دریافت فرمایا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا ہے ؟ کہا فلاں یا فلانی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تحفہ میں بھیجا ہے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اباہر ! میں نے عرض کیا لبیک ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا ، اہل صفہ کے پاس جاؤ اور انہیں بھی میرے پاس بلا لاؤ ۔ کہا کہ اہل صفہ اسلام کے مہمان ہیں ، وہ نہ کسی کے گھر پناہ ڈھونڈھتے ، نہ کسی کے مال میں اور نہ کسی کے پاس ! جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ آتا تو اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کے پاس بھیج دیتے اور خود اس میں سے کچھ نہ رکھتے ۔ البتہ جب آپ کے پاس تحفہ آتا تو انہیں بلا بھیجتے اور خود بھی اس میں سے کچھ کھاتے اور انہیں بھی شریک کرتے ۔ چنانچہ مجھے یہ بات ناگوار گزری اور میں نے سوچا کہ یہ دودھ ہے ہی کتنا کہ سارے صفہ والوں میں تقسیم ہو ، اس کا حقدار میں تھا کہ اسے پی کر کچھ قوت حاصل کرتا ۔ جب صفہ والے آئیں گے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے فرمائیں گے اور میں انہیں اسے دے دوں گا ۔ مجھے تو شاید اس دودھ میں سے کچھ بھی نہیں ملے گا لیکن اللہ اور اس کے رسول کی حکم برداری میرے لئے لازم و ضروری تھی ۔ چنانچہ میں ان کے پاس آیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پہنچائی ، وہ آ گئے اور اجازت چاہی ۔ انہیں اجازت مل گئی پھر وہ گھر میں اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اباہر ! میں نے عرض کیا لبیک ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا لواور اسے ان سب حاضرین کو دے دو ۔ بیان کیا کہ پھر میں نے پیالہ پکڑ لیا اور ایک ایک کو دینے لگا ۔ ایک شخص دودھ پی کر جب سیراب ہو جاتا تو مجھے پیالہ واپس کر دیتا پھر دوسرے شخص کو دیتا وہ بھی سیراب ہو کر پیتا پھر پیالہ مجھ کو واپس کر دیتا اور اسی طرح تیسرا پی کر پھر مجھے پیالہ واپس کر دیتا ۔ اس طرح میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا لوگ پی کر سیراب ہو چکے تھے ۔ آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ پکڑا اور اپنے ہاتھ پر رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور مسکرا کر فرمایا ، اباہر ! میں نے عرض کیا ، لبیک ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا ، اب میں اور تم باقی رہ گئے ہیں ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے سچ فرمایا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بیٹھ جاؤ اور پیو ۔ میں بیٹھ گیا اور میں نے دودھ پیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم برابر فرماتے رہے کہ اور پیو آخر مجھے کہنا پڑا ، نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ، اب بالکل گنجائش نہیں ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر مجھے دے دو ، میں نے پیالہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد بیان کی اور بسم اللہ پڑھ کر بچا ہوا خود پی لیا

    ---------------------------------------------
    صحيح البخاري ، كتاب الرقاق : 6452
    المستدرك للحاكم : 3/552
    ترمذي : 2477
    صحيح ابن حبان :6535

    فداه أبي وأمي صلى الله عليه وآله وسلم
    أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. محمد طلحہ اہل حدیث
    جوابات:
    52
    مناظر:
    387
  2. afrozsaddam350
    جوابات:
    2
    مناظر:
    143
  3. علی عمران
    جوابات:
    1
    مناظر:
    346
  4. اسحاق سلفی
    جوابات:
    6
    مناظر:
    263
  5. علی عمران
    جوابات:
    2
    مناظر:
    215

اس صفحے کو مشتہر کریں