1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حضرت ابو ایوب انصاری رحی اللہ عنہ کا قبر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر منہ رکھنا ۔ واقعہ کی تحقیق جلد م

'موضوع ومنکر روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از طالب نور, ‏مارچ 23، 2013۔

  1. ‏مارچ 23، 2013 #1
    طالب نور

    طالب نور رکن مجلس شوریٰ
    جگہ:
    سیالکوٹ، پاکستان۔
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2011
    پیغامات:
    361
    موصول شکریہ جات:
    2,303
    تمغے کے پوائنٹ:
    220

    حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا قبر نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر منہ رکھنا ۔ واقعہ کی تحقیق جلد مطلوب ہے۔

    السلام علیکم،
    اس واقعہ کی جلد تحقیق مطلوب ہے۔

    [​IMG]

    والسلام
     
  2. ‏مارچ 23، 2013 #2
    Muhammad Waqas

    Muhammad Waqas مشہور رکن
    جگہ:
    فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏مارچ 12، 2011
    پیغامات:
    356
    موصول شکریہ جات:
    1,595
    تمغے کے پوائنٹ:
    139

    ماہنامہ السنہ شمارہ نمبر ۴۶،۴۷،۴۸ صفحہ نمبر ۱۱۰ پر اس روایت کی مکمل تحقیق موجود ہے۔
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
     
  3. ‏مارچ 24، 2013 #3
    طالب نور

    طالب نور رکن مجلس شوریٰ
    جگہ:
    سیالکوٹ، پاکستان۔
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2011
    پیغامات:
    361
    موصول شکریہ جات:
    2,303
    تمغے کے پوائنٹ:
    220

    جزاک اللہ وقاص بھائی،
    اس تحقیق میں کچھ اشکال ہے، وہ یہ کہ اس روایت کے راوی داود بن ابی صالح حجازی کو مجہول قرار دے کر ضعیف قرار دیا گیا ہے، جبکہ امام ذہبی کا قول "لایعرف" تو مجہول ہونے پر دلالت کرتا ہے لیکن حافط ابن حجر عسقلانی کا جو قول پیش کیا گیا ہے وہ "مقبول" ہے اور اس کا ترجمہ "یہ مجہول الحال شخص ہے" سے کیا گیا ہے۔ میرے علم کے مطابق تو مقبول کا یہ ترجمہ صحیح نہیں بلکہ شاید یہ توثیق کے الفاظ ہیں۔ باقی اہل علم مزید اس پر روشنی ڈال دیں تو آسانی ہو جائے گی۔
    دوسرا یہ کہ امام ذہبی کا اسی حدیث کو امام حاکم کی تائید میں صحیح قرار دینا اس حدیث کے تمام راویوں کی توثیق ہے۔ اب ان کا پہلا قول مجہول والا اس توثیق سے ٹکرا کر ٹوٹ گیا اور امام حاکم کی توثیق باقی رہی۔ حافظ ابن حجر عسقلانی کا قول مقبول بھی اگر توثیق سمجھا جائے تو یہ راوی صرف مجہول قرار دے کر ضعیف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
    یہ میرے کوئی بطور تحقیق اعتراضات نہیں بلکہ ذہن میں کم علمی کے باعث پیدا ہونے والے کچھ اشکالات ہیں، امید ہے کہ اہل علم ضرور جواب سے نوازیں گے۔
    ہمارے ایک انتہائی پیارے بھائی اور ساتھی کی جانب سے اس روایت پر یہ اعتراض بھی پیش کیا گیا ہے کہ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور مروان کی ملاقات ہی ثابت نہیں لہٰذا یہ روایت منقطع ہے، اس بات پر بھی اہل علم کی آراء مع دلائل کا انتظار ہے۔ والسلام
     
  4. ‏مارچ 24، 2013 #4
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,765
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    علامہ البانی رحمہ اللہ کی تحقیق کے لئے الضعیفہ رقم 373 دیکھیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 8
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏مارچ 24، 2013 #5
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,765
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    مقبول یہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ کی اپنی اصلاح ہے اور اس سے کیا مراد ہے یہ خود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کردیاہے چنانچہ:
    حافظ ابن حجر رحمه الله (المتوفى852)نے کہا:
    السادسة: من ليس له من الحديث إلا القليل، ولم يثبت فيه ما يترك حديثه من أجله، وإليه الإشارة بلفظ: مقبول، حيث يتابع، وإلا فلين الحديث.[تقريب التهذيب لابن حجر: رقم ص 1]۔
    یعنی حافظ موصوف اس راوی کو مقبول کہتے ہیں جس کی حدیث بہت کم ہو اور اس کی جرح ثابت نہ ہو ، اورمقبول سے مراد ایک مشروط مقبولیت ہے اوروہ یہ کہ اس طرح کے راوی کی اگر متابعت مل گئی تو یہ راوی مقبول ہے ورنہ لین الحدیث شمار ہوگا۔
    معلوم ہواکہ ’’مقبول‘‘ یہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ کی نظر میں توثیق کا صیغہ نہیں ہے۔

    حافظ ابن حجررحمہ اللہ کی اپنی اصلاح سے متعلق خود اپنی وضاحت سامنے آنے کے بعد عصرحاضرکے ان مقالات کی کوئی حیثیت نہیں ہے جن میں مقبول کو ثقہ کے معنی میں لیا گیا ہے ، اصولی طور پر کسی بھی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کے قائل کی مراد کے خلاف اس کے قول کی تشریح کرے اہل علم میں یہ قاعدہ عام ہے لایجوز تفسیرالقول بمالایرضی بہ القائل۔

    رہی یہ بات کہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے بہت سے مقامات پر اپنی جانب سے مقبول قراردیے گئے رواۃ کی احادیث کو حسن قرار دیا ہے تو عرض ہے کہ ٹھیک اسی طرح حافظ ان حجررحمہ اللہ نے بہت سے مقامات پر اپنی طرف سے ضعیف قراردیے گئے رواۃ کی احادیث کو بھی حسن کہا ہے تو کیا یہ کہہ دیا جائے کہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ کی نظر میں ضعیف ثقہ کے معنی میں ہے؟؟؟؟؟؟


    امام حاکم کی جو توثیق باقی رہی یہ ضمنی توثیق ہے اور اس کا دارومدار ان کی تصحیح پر ہے اورآپ تصحیح میں متساہل ہیں لہٰذا تساہل کے باب سے آنے والے ان کی یہ منفرد توثیق غیرمسموع ہے۔

    اگریہ بات کسی ناقد امام سے ثابت ہوجائے تو روایت مذکورہ موضوع وباطل ٹہرے گی ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏مارچ 24، 2013 #6
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,765
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    کثیر بن زید سے نچلے طبقہ کی کسی بھی راوی پر جرح بے سود ہے کیونکہ امام ابن ابی خیثمہ نے اپنی جس سند سے اسی روایت کو كثير بن زيد کے طریق سے نقل کیا ہے وہ سند كثير بن زيد تک صحیح لہٰذا كثير بن زيد سے اوپر جو علتیں ہیں انہیں کی بنیاد پر اس روایت کو ضعیف قراردیاجائے۔
     
  7. ‏مارچ 24، 2013 #7
    طالب نور

    طالب نور رکن مجلس شوریٰ
    جگہ:
    سیالکوٹ، پاکستان۔
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2011
    پیغامات:
    361
    موصول شکریہ جات:
    2,303
    تمغے کے پوائنٹ:
    220

    جزاک اللہ کفایت اللہ بھائی،
    اس صورت میں کیا یہ کہنا صحیح ہے کہ یہ راوی مجہول الحال ہے اور اس کی سوائے امام حاکم کے کسی نے توثیق نہیں کی جبکہ ان کی توثیق ان کے متساہل ہونے کی وجہ سے کمزور ہے۔ لہٰذا اس کی روایت ضیعف ہے۔
     
  8. ‏مارچ 24، 2013 #8
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,765
    موصول شکریہ جات:
    9,778
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    اس راوی کو مجہول الحال ہی نہیں بلکہ مجہول العین بھی کہنا چاہئے یعنی آپ اسے مطلق مجہول کہیں کیونکہ جہالت عین کے ازالہ کے لئے کم از کم راوی کے دو شاگرد ہونے ضروری ہیں اوراس راوی کا یہ معاملہ نہیں ہے اس لئے یہ مطلقا مجہول ہے ۔
    اس لئے اس علت کی بناپر مسند احمدوالی روایت ضعیف ہے۔

    اور ہاں امام حاکم کی یہ توثیق صرف اس لئے رد ہے کیونکہ وہ منفرد ہیں اور ان کے ساتھ اور بھی محدثین نے راوی مذکور کی توثیق کی ہوتی تو امام حاکم کے تساہل کی بات ہم نہ کرتے ۔

    واضح رہے کہ یہ علت صرف مسند احمد والی سند میں ہے لیکن یہ روایت متن کی تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ تاریخ ابن ابی خیثمہ میں بھی ہے اور ابن ابی خیثمہ والی سند میں یہ مجہول راوی نہیں ہے لہذا اس سند کے ضعف کے لئے ان علتوں کو بنیاد بنائیں جو كثير بن زيد کے اوپر والے طبقہ میں موجود ہیں جن کاتذکرہ السنہ کے شمارہ میں ہے۔

    بارک اللہ فیک۔
     
  9. ‏جنوری 01، 2017 #9
    احمد پربھنوی

    احمد پربھنوی مبتدی
    جگہ:
    پونہ، مہاراشٹر
    شمولیت:
    ‏دسمبر 17، 2016
    پیغامات:
    97
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    بھائی یہاں پر طالب نور بھائی کہے رہے ہیں امام حاکم کی امام ذهبی نے تائید کی تو امام حاکم منفرد کہاں ہوئے بلکہ ان کے ساتھ امام ذهبی بھی ہیں
    @کفایت اللہ بھائی وضاحت کردیجیے مجھے اصول سمجھنا ہے
    جزاک اللہ خیرا
     
  10. ‏جنوری 01، 2017 #10
    احمد پربھنوی

    احمد پربھنوی مبتدی
    جگہ:
    پونہ، مہاراشٹر
    شمولیت:
    ‏دسمبر 17، 2016
    پیغامات:
    97
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    اس کے تعلق سے سوال کیا ہم نے۔۔ امید ہے جلد ہی جواب ملیگا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں